Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi

Author: Abdul Ahad Butt

Novel code: NovelR50480

" میرے منع کرنے کے باوجود تم باہر کیوں گئی؟؟،،،____" وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی غصیلے انداز میں پوچھتا ہوا بولا،،،_____ " کیا ہو گیا اگر باہر چلی گئی،،__؟؟_____" وہ جانتی تھی کہ اسے سب پتہ چل چکا ہے پھر بھی یہ کہہ گئی اور اس کے اس لہجے اور انداز کو دیکھا تھا پہلی بار،،،___ وہ سہم چکی تھی،،،_____ اور یہ بات زاروان نے بھی نوٹ کی تھی،،،_____ لیکن اس وقت وہ غصے میں تھا،،،___ " کیا ہو گیا !!!_____" اس نے اس کا ہاتھ زور سے تھاما،،،____ " آپ ہوتے کون ہیں !! مجھ پر حق جمانے والے آپ نے میری مدد کی بہت شکریہ آپ کا !! میں آپ کی کوئی غلام نہیں ہوں،،،_____" اس کی یہ بات سن کر زاروان کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی،،،_____ " غلام نہیں !!،،_____" " تو کیا؟؟___" " بیوی،،،_____" اس کے یوں کہنے پر وہ حیران ہوگئی،،،،____ " کیا مطلب،،،______" وہ ابھی بھی نہ سمجھی،،،_____ " مطلب یہ کے تمہی نے کہا نہ کہ میں تمھارا کون ہوں،،،__ تو ٹھیک ہے ہم رشتہ قائم کر لیتے ہیں پھر تو ہوگا نہ حق نکاح کر لیتے ہیں ہم،،،____ اس طرح تمھیں بھی کوئی خطرہ نہیں رہے گا،،،_____" وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے بولا،،،______ لیکن زرمینے کچھ بھی کہنے کی موڈ میں نہیں تھی،،،______ " اچھا مزاق کر لیتے ہیں آپ،،،____" کچھ دیر ساکت رہنے کے بعد وہ بولی،،،_____ " مزاق نہیں کرہا میں،،،___" زاروان نے زور سے اس کا ہاتھ تھاما،،،_____ " میر ہاتھ چھوڑیں !!،،،_____" وہ ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کررہی تھی،،،_____ لیکن گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے اس کے ہاتھ کی کانچ کی چوڑیاں ٹوٹی اور زرمینے کے بازو سے خون بہنے لگا،،،____ " آہ،،،____" یہ دیکھ زاروان کا غصہ اترا اور پاس پڑے ہوئے ٹشو کے ڈبے سے ٹشو نکالے،،،____اور خون صاف کرنے لگا،،،_____ " سو سوری !!_____" اس نے اپنی کی ہوئی غلطی کی معافی مانگی،،،_____ پر زرمینے کی نظریں تو زاروان پر ہی تھی،،،___ وہ بھی شائید اس سے محبت کرنے لگی تھی،،،____ " صبح تیار رہنا نکاح ہو گا،،،_____" جاتے ہوئے اس کے سر پر بم پھوڑ گیا،،،_____ رات کو کب اس کی آنکھ لگی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی،،،____ صبح آنکھ کھلی تو ساجدہ بیگم نکاح کا جوڑا لیے اس کے پاس کھڑی تھی،،،_____ وہ تیار ہوئی اور نیچے کی طرف بڑھی ساجدہ بیگم اس کے ساتھ تھی،،،_____ آخر کار نکاح ہو گیا اور وہ زرمینے درانی سے زرمینے زاروان خان بن گئی،،،_____

Genre | Romantic Fiction, Forced Marriage, Emotional Drama, Social Issues 

Summary

Ishq Per Zor Nahi by Abdulahad Butt is a compelling romantic Urdu novel that explores the emotional journey between a strong heroine and a stubborn, rugged hero entangled in a forced marriage or second-marriage scenario. The story unfolds through dramatic twists, heartfelt moments, and social challenges that test the lovers’ resilience, trust, and emotional depth. With themes of love, conflict, and personal growth, the narrative keeps readers engaged in its blend of romance and emotional drama.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *