Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 21)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 21)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
” صاحب !! آپ سے ہی سب کچھ سیکھا ہے میں نے،،،،،_____” اس کا سکریٹری بولا،،،،_____
” جانتا ہوں !! تو نے ٹھیک کہا ہے کہ مجھے زاروان خان سے بدلہ لینا ہے،،،،،____ اپنے بھائی علی حیدر کا بدلہ لینا ہے مجھے ان دونوں بھائیوں سے انھوں نے میرے بھائی کو مار دیا تھا،،،،____ پر اب باری ان دونوں کی ہے،،،،____”
اس کی آنکھوں میں شہرام اور زاروان کے لیے بدلہ جھلک رہا تھا،،،،_____
” پر سر !! آپ بدلہ تو آسانی سے لے سکتے تھے،،،،،___ پر یہ درگز !!،،،،،_____”
” کر سکتا تھا میں میں چاہتا تھا تو ایک منٹ میں ہی انھیں مار دیتا !! پر بدلے میں اگر آسان موت دے دی جائیں تو ایسے بدلے کا کیا فائدہ میں انھیں تڑپا کر مارنا چاہتا ہوں اور ایسا ہی کروں گا،،،،،______”
اس کے سینے میں لگی دو ماہ سے بدلے کی آگ اب ایک آتش فشاں بن چکی تھی،،،،،___
” پر درگز !!”
” ہاں درگز !! دراصل بات یہ ہے کہ ان دونوں کو مارنا اتنا آسان نہیں ہے،،،،_____ وہ دونوں چالاک ہیں،،،،____ یوں ہی نہیں مر جائیں گے،،،،____ اس لیے یہ ایک میں نے ایک چال چلی ہے،،،،____ وہ اس یونی کو ضرور بچائیں گا اور اپنی موت کے دروازے پر دستک دے گا،،،،،_____”
یہ کہہ کر ایک شیطانی قہقہہ گونجا اس کمرے میں،،،،،______
وہ دونوں گھر میں داخل ہوتے ہی کمرے میں آگئے،،،،،_____
” شہزین !! تمھیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں،،،،،_____ اب سب بالکل ٹھیک ہو چکا ہے،،،،____”
اس کے بازوؤں کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا وہ اسے کہتا ہے،،،،______
” آپ کو میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں بالکل ٹھیک ہوں بس شاکڈ ہوں کہ وہ ماہ جس نے اپنی کوکھ سے ایک بیٹا پیدا کیا ساری عمر اسے پالا اتنا پیار دیا اس کی شادی کی آگے اس کی اولاد کو بھی پالا اور پھر جب وقت آیا تو موقع ملتے ہی اسے مار دیا،،،،____ کیا اس کی روح نہیں تڑپی ہوگی اپنی ہی اولاد کو ہی مار دیا،،،،____ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا،،،،____”
اس یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ اس طرح بھی کر سکتی ہے،،،،____
” دیکھو شہزین !! ایک چیز ہوتی ہے انا اور یہ انا انسان سے کچھ بھی کروا دیتی ہے،،،،،_____”
شہرام نے کہا جس پر شہزین ہلکا سا مسکرائی،،،،،_____
” آپ بالکل ٹھیک کہہ رہیں شہرام ،،،،_____” اس نے بھی جواب دیا،،،،،_____
” میں ہمیشہ تمھارے ساتھ ہوں اور تمھیں کبھی بھی کچھ نہیں ہونے دوں گا،،،،،______”
یہ کہہ کر وہ اسے اپنے سینے میں بھینج گیا،،،،،،______
صبح زاروان یونی کے لیے ریڈی ہوا،،،،____ زرمینے بھی ریڈی ہو رہی تھی،،،،،____
” یہ لو،،،،،_____” ہاتھ میں کافی کے دو کپ لیے وہ کمرے میں داخل ہوا اور زرمینے کے پاس آکر کہا،،،،____
” یہ کیا ہے ؟؟،،،،_____” زرمینے ایک نظر بھی نہ ڈالی اس پر اور کہا،،،،،____ “کافی ہے اور کیا ہے ؟؟،،،،_____” وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولا،،،،______
” آوو اچھا !!”
اس نے اس کے ہاتھ سے ایک کپ پکڑا،،،،،_____
” کیا یہ آپ نے بنائی ہے،،،،،_____” اس نے ایک گھونٹ پیا اور پھر اس سے سوال پوچھا،،،،_____
” ہاں کیا بری بنی ہے،،،،_____” زاروان نے کہا،،،،_____
” بری !!! نہیں یہ بہت ہی اچھی بنی ہے،،،،،______” وہ اس کی کافی کی تعریف کرتے ہوئے بولی،،،،،_____
” تھینکس !!،،،،،______”
” مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ کو کافی بنانا آتی حیر اب سے آپ ہی کافی بنائیں گے،،،،،______” وہ شرارت سے بولی،،،،،،،_____
” جی نہیں !! اس بارے میں بعد میں بات کریں گے ابھی یونیورسٹی چلتے ہیں،،،،،،،________” وہ سر نفی میں ہلاتا ہوا بولا،،،،،______
” اچھا چلیں،،،،،______”
وہ ہلکا سا مسکرائی،،،،،______
