Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 10)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 10)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
امبر یہ سب سنتے ہی ڈر سی گئی،،،___اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں پیسوں کی اتنی پیاسی ہے،،،،___ کہ وہ زرمینے کو بیچنے پر اتر آئی،،،،،____
اس وقت امبر نے کچھ بولنا یا کرنا مناسب نہ سمجھا،،،____ اور چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی،،،،،____
” کیا گھر پر کوئی ہے،،،،_____؟؟” نیلم نے نائلہ سے سوال کیا،،،،،____
” نہیں !! اس وقت کوئی نہیں ہے گھر پر،،،،____سوائے امبر کے اور زرمینے کے وہ دونوں کمرے میں ہیں،،،،____” نائلہ نے کہا،،،___
” تم نہ بس امبر کو سنبھال لینا میں ان لوگوں کو بلا کر آج ہی یہ کام ختم کرتی ہوں،،،،____ ” نیلم نے کہا،،
یہ بات سن کر نائلہ کے دل میں لالچ ٹھاٹھیں مارنے لگا،،،___
” پر میں گھر میں کیا کہوں گی،،،___!!” اس نے سوال کیا،،،،___
” تم !! گھر میں سب سے کہہ دینا کہ وہ بھاگ گئی اپنے عاشق کے ساتھ،،،،_____ اور اس میں تیرا اور تیری ہی بیٹی کا فائدہ ہے،،،،____”
نیلم نے اسے ترکیب دی،،،___
” ہاں !! تم ٹھیک کہہ کر رہی ہوں تم انھیں کہہ دو کہ آجائیں،،،،____” نائلہ نے اس سے کہا،،،___
” چل ٹھیک ہے،،،،___”
” زرمینے !! بیٹا زرا تیار ہو کر نیچے تو آجاؤں ،،،،____”
نائلہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور نہایت ادب سے کہا اور نیچے چلی آئی،،،___ اس کا یہ رویہ دیکھ کر اسے کچھ سمجھ تو نہ آئی پھر بھی وہ تیار ہونے لگی،،،،____ امبر کمرے میں کان پر ہیڈفون لگا کر گانے سننے میں مصروف تھی،،،،___ جس سے باہر کا شوہر اس کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا،،،،،_____
وہ لڑکا پہنچ گیا تھا،،،،____ زرمینے بھی ہلکا سا میک اپ کر کے نیچے آئی،،،___
اس لڑکے نے ایک کڑوڑ سے بھرا بیگ نائلہ کے سامنے رکھا جس سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی،،،،___
لیکن زرمینے نے اس بیگ کی بجائے اس لڑکے کی گندی نگاہوں پر دھیان دیا،،،___ جو اسے دیکھ رہی تھی،،،___
” یہ رہی آپ کی امانت !! ،،،___”
نائلہ اور نیلم صوفے سے کھڑے ہوئے اور زرمینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نائلہ نے کہا،،،،___ تو زرمینے چونک گئی،،،____
” کونسی امانت !! ،،،،_____” اس کے ماتھے پر بل آئے،،،،___
جس کے جواب میں وہ لڑکا اسے دیکھ کر اپنے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لایا،،،___ اور زور سے اس کا بازو تھاما،،،،____
” چھوڑو !! چھوڑو !! ،،،،__ امبر !! امبر !!،،،___”
جب اسے یقین ہوگیا کہ،،،___ یہ سب اس کی چچی کی مرضی سے ہو رہا ہے،،،،___ تو اس نے امبر کو آواز دی ،،،___ لیکن اس تک زرمینے کی آواز نہ پہنچ پائی،،،___
زرمینے نے بہت کوشش کی کے وہ اس سے ہاتھ چھڑوائے پر نہ کر پائی،،،___ اس لڑکے نہ اس کے چہرے پر تھپڑ مارا اور زبردستی گاڑی میں دکھیلا،،،______
•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓
وہ اسے لے کر ہوٹل آیا،،،___ اسی ہوٹل زاروان بھی آیا اپنے دوست سے ملنے کے لیے،،،،____
اس کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت میں بہہ رہے تھے،،،____
پر وہ آج اپنی ہوس مٹانا چاہتا تھا،،،___
اس لڑکے نے اسے کمرے میں بٹھایا اور حود کسی کام سے باہر نکلا کمرے سے،،،،___
لیکن روم لاک کرنا بھول گیا،،،____ زرمینے نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور وہاں سے بھاگنے کی کی،،،____
دو ہی منٹ بعد وہ لڑکا کمرے میں دوبارہ واپس آیا،،،___
لیکن زرمینے کو کمرے میں نہ پاکر وہ سمجھ گیا،،،___ کہ وہ فرار ہو چکی ہے،،،____
وہ اس کے پیچھے گیا،،،____
زرمینے تیز رفتار میں بھاگتے ہوئے کبھی آگے دیکھتے تو کبھی پیچھے،،،____ بھاگتے بھاگتے اس کا سر کسی سخت چیز سے ٹکرایا،،،___ جس سے وہ مکمل طور پر ہل کر رہ گئی،،،___
وہ کوئی سخت چیز نہیں ،،،__ بلکہ زاروان کا چوڑا سینا تھا،،_ جس سے وہ ٹکڑائی،،،___
زاروان اس کی شکل کی طرف ہی دیکھ رہا تھا،،،،،____ لال گلابی چہرہ آنسو سے بھرا جس پر تھپڑ کا نشان،،،___ دیکھ کر اس کے سینے میں آگ لگی،،،___ جب اس نے اس کے چہرے پر غور کیا تو اسے یاد آیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس سے وہ ٹکرایا تھا،،___
” ارے آپ !! یہاں کیسے ؟؟ اور یہ آپ کے چہرے پر نشان،،،____”
زاروان نے ایک ہی جملے میں کافی سوال اس سے پوچھے،،،___
پر وہ بلک بلک کر رو رہی تھی،،،___ اسی پل وہاں وہ لڑکا پہنچا،،،___
” اے !! چل میرے ساتھ،،،___” اس نے اونچی آواز میں کہا،،،____
یہ آواز سنتے ہی زرمینے کے رونگھٹے کھڑے ہوئے اور اس نے اپنے آپ کو زاروان کی پشت کے پیچھے چھپا لیا،،،____
اب زاروان کو ساری کہانی کا علم ہوا،،،____ پر وہ لڑکا اب بھی اس کو لے جانے کے بضد تھا،،،____
” او ہیلو مسٹر !! زرا اس لڑکی کو میرے حوالے کر دیں،،___” وہ زاروان سے مخاطب ہوا،،،___
” کیوں ؟؟ یہ تمھاری کیا لگتی ہے،،،____” زاروان کے ماتھے پر بل آئے،،،،_______
” میری تو پھر بھی کچھ لگتی ہے تو بتا تیری کیا لگتی ہے،،،،،_____”
وہ اب بھی جانے کے لیے تیار نہ تھا،،،____
” بیوی ہے میری !! ،،،____ اب دفع ہو جا یہاں سے،،،،____” زاروان نے اسے جانے کا اشارہ کیا،،،،_____
” بیوی !! ہییییں !! اس کی چچی نے پورا ایک کڑوڑ لیا ہے اس کا مجھ سے،،،،____” اس نے اسے بتایا،،،___ جس پر زرمینے اسے دیکھنے لگی،،،،_____
” تو پھر تم ان سے ہی جا کر بات کرو،،،،____” زاروان نے کہا،،،____
یہ کہہ کر وہ مڑا،،،____ پر پیچھے کھڑا وہ شخص بھی ماننے کو تیار نہ تھا،،،___
اس نے اپنے پاس پڑا ایک دندا اٹھایا،،، ___ اور زاروان کی طرف بڑھا،،،____ لیکن زرمینے کی آنکھ اسے دیکھ چکی تھی،،،____
اس نے فوراً زاروان کو دھکا دیا،،،___
جس سے زاروان کے سر میں لگنے والا دندا زرمینے کے سر میں لگا،،،____ اور اس کے سر سے خون سے بہنے لگا،،،____
وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی،،،،____ اور زمین پر گرنے گی،،،،____ پر زمین پر گرنے کی بجائے زاروان کی باہوں میں جھول گئی،،،____
•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓
نائلہ ہال میں بیٹھ کر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی تھی،،،____
” ارے امی !!! کیا ہوا،،،_____؟” جواد نے آکر ماں سے پوچھا،،___
اس کے بابا بھی وہی موجود تھے،،،،____
” ب بیٹا !! زرمینے ب۔ ب بھاگ گئی،،،____”
” کیا !! امی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں،،،____؟” جواد اس کی بات سن کر حیرانگی سے کھڑا ہوا،،،____
” ہاں میں نے اسے روکنے کی کوشش کی ،،،___ پر وہ نہ رکی،،،___” وہ جھوٹ پر جھوٹ بول رہی تھی،،،____
یہ سب امبر بھی سن چکی تھی۔۔۔
” امی کیوں جھوٹ بول رہی ہیں،،،____ بتائیں نہ سب کو کہ زرمینے کا آپ نے ایک کڑوڑ میں سودا کیا ہے،،،،____”
” یہ سب سنتے ہی وہ تینوں کھڑے ہوئے،،،___اور نائلہ کا دل تھم سا گیا،،،_____
