Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 10)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

امبر یہ سب سنتے ہی ڈر سی گئی،،،___اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس کی ماں پیسوں کی اتنی پیاسی ہے،،،،___ کہ وہ زرمینے کو بیچنے پر اتر آئی،،،،،____

اس وقت امبر نے کچھ بولنا یا کرنا مناسب نہ سمجھا،،،____ اور چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی،،،،،____

” کیا گھر پر کوئی ہے،،،،_____؟؟” نیلم نے نائلہ سے سوال کیا،،،،،____

” نہیں !! اس وقت کوئی نہیں ہے گھر پر،،،،____سوائے امبر کے اور زرمینے کے وہ دونوں کمرے میں ہیں،،،،____” نائلہ نے کہا،،،___

” تم نہ بس امبر کو سنبھال لینا میں ان لوگوں کو بلا کر آج ہی یہ کام ختم کرتی ہوں،،،،____ ” نیلم نے کہا،،

یہ بات سن کر نائلہ کے دل میں لالچ ٹھاٹھیں مارنے لگا،،،___

” پر میں گھر میں کیا کہوں گی،،،___!!” اس نے سوال کیا،،،،___

” تم !! گھر میں سب سے کہہ دینا کہ وہ بھاگ گئی اپنے عاشق کے ساتھ،،،،_____ اور اس میں تیرا اور تیری ہی بیٹی کا فائدہ ہے،،،،____”

نیلم نے اسے ترکیب دی،،،___

” ہاں !! تم ٹھیک کہہ کر رہی ہوں تم انھیں کہہ دو کہ آجائیں،،،،____” نائلہ نے اس سے کہا،،،___

” چل ٹھیک ہے،،،،___”

” زرمینے !! بیٹا زرا تیار ہو کر نیچے تو آجاؤں ،،،،____”

نائلہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی اور نہایت ادب سے کہا اور نیچے چلی آئی،،،___ اس کا یہ رویہ دیکھ کر اسے کچھ سمجھ تو نہ آئی پھر بھی وہ تیار ہونے لگی،،،،____ امبر کمرے میں کان پر ہیڈفون لگا کر گانے سننے میں مصروف تھی،،،،___ جس سے باہر کا شوہر اس کے کانوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا،،،،،_____

وہ لڑکا پہنچ گیا تھا،،،،____ زرمینے بھی ہلکا سا میک اپ کر کے نیچے آئی،،،___

اس لڑکے نے ایک کڑوڑ سے بھرا بیگ نائلہ کے سامنے رکھا جس سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی،،،،___

لیکن زرمینے نے اس بیگ کی بجائے اس لڑکے کی گندی نگاہوں پر دھیان دیا،،،___ جو اسے دیکھ رہی تھی،،،___

” یہ رہی آپ کی امانت !! ،،،___”

نائلہ اور نیلم صوفے سے کھڑے ہوئے اور زرمینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نائلہ نے کہا،،،،___ تو زرمینے چونک گئی،،،____

” کونسی امانت !! ،،،،_____” اس کے ماتھے پر بل آئے،،،،___

جس کے جواب میں وہ لڑکا اسے دیکھ کر اپنے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لایا،،،___ اور زور سے اس کا بازو تھاما،،،،____

” چھوڑو !! چھوڑو !! ،،،،__ امبر !! امبر !!،،،___”

جب اسے یقین ہوگیا کہ،،،___ یہ سب اس کی چچی کی مرضی سے ہو رہا ہے،،،،___ تو اس نے امبر کو آواز دی ،،،___ لیکن اس تک زرمینے کی آواز نہ پہنچ پائی،،،___

زرمینے نے بہت کوشش کی کے وہ اس سے ہاتھ چھڑوائے پر نہ کر پائی،،،___ اس لڑکے نہ اس کے چہرے پر تھپڑ مارا اور زبردستی گاڑی میں دکھیلا،،،______

•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓

وہ اسے لے کر ہوٹل آیا،،،___ اسی ہوٹل زاروان بھی آیا اپنے دوست سے ملنے کے لیے،،،،____

اس کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت میں بہہ رہے تھے،،،____

پر وہ آج اپنی ہوس مٹانا چاہتا تھا،،،___

اس لڑکے نے اسے کمرے میں بٹھایا اور حود کسی کام سے باہر نکلا کمرے سے،،،،___

لیکن روم لاک کرنا بھول گیا،،،____ زرمینے نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور وہاں سے بھاگنے کی کی،،،____

دو ہی منٹ بعد وہ لڑکا کمرے میں دوبارہ واپس آیا،،،___

لیکن زرمینے کو کمرے میں نہ پاکر وہ سمجھ گیا،،،___ کہ وہ فرار ہو چکی ہے،،،____

وہ اس کے پیچھے گیا،،،____

زرمینے تیز رفتار میں بھاگتے ہوئے کبھی آگے دیکھتے تو کبھی پیچھے،،،____ بھاگتے بھاگتے اس کا سر کسی سخت چیز سے ٹکرایا،،،___ جس سے وہ مکمل طور پر ہل کر رہ گئی،،،___

وہ کوئی سخت چیز نہیں ،،،__ بلکہ زاروان کا چوڑا سینا تھا،،_ جس سے وہ ٹکڑائی،،،___

زاروان اس کی شکل کی طرف ہی دیکھ رہا تھا،،،،،____ لال گلابی چہرہ آنسو سے بھرا جس پر تھپڑ کا نشان،،،___ دیکھ کر اس کے سینے میں آگ لگی،،،___ جب اس نے اس کے چہرے پر غور کیا تو اسے یاد آیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جس سے وہ ٹکرایا تھا،،___

” ارے آپ !! یہاں کیسے ؟؟ اور یہ آپ کے چہرے پر نشان،،،____”

زاروان نے ایک ہی جملے میں کافی سوال اس سے پوچھے،،،___

پر وہ بلک بلک کر رو رہی تھی،،،___ اسی پل وہاں وہ لڑکا پہنچا،،،___

” اے !! چل میرے ساتھ،،،___” اس نے اونچی آواز میں کہا،،،____

یہ آواز سنتے ہی زرمینے کے رونگھٹے کھڑے ہوئے اور اس نے اپنے آپ کو زاروان کی پشت کے پیچھے چھپا لیا،،،____

اب زاروان کو ساری کہانی کا علم ہوا،،،____ پر وہ لڑکا اب بھی اس کو لے جانے کے بضد تھا،،،____

” او ہیلو مسٹر !! زرا اس لڑکی کو میرے حوالے کر دیں،،___” وہ زاروان سے مخاطب ہوا،،،___

” کیوں ؟؟ یہ تمھاری کیا لگتی ہے،،،____” زاروان کے ماتھے پر بل آئے،،،،_______

” میری تو پھر بھی کچھ لگتی ہے تو بتا تیری کیا لگتی ہے،،،،،_____”

وہ اب بھی جانے کے لیے تیار نہ تھا،،،____

” بیوی ہے میری !! ،،،____ اب دفع ہو جا یہاں سے،،،،____” زاروان نے اسے جانے کا اشارہ کیا،،،،_____

” بیوی !! ہییییں !! اس کی چچی نے پورا ایک کڑوڑ لیا ہے اس کا مجھ سے،،،،____” اس نے اسے بتایا،،،___ جس پر زرمینے اسے دیکھنے لگی،،،،_____

” تو پھر تم ان سے ہی جا کر بات کرو،،،،____” زاروان نے کہا،،،____

یہ کہہ کر وہ مڑا،،،____ پر پیچھے کھڑا وہ شخص بھی ماننے کو تیار نہ تھا،،،___

اس نے اپنے پاس پڑا ایک دندا اٹھایا،،، ___ اور زاروان کی طرف بڑھا،،،____ لیکن زرمینے کی آنکھ اسے دیکھ چکی تھی،،،____

اس نے فوراً زاروان کو دھکا دیا،،،___

جس سے زاروان کے سر میں لگنے والا دندا زرمینے کے سر میں لگا،،،____ اور اس کے سر سے خون سے بہنے لگا،،،____

وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی،،،،____ اور زمین پر گرنے گی،،،،____ پر زمین پر گرنے کی بجائے زاروان کی باہوں میں جھول گئی،،،____

•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓•°✓

نائلہ ہال میں بیٹھ کر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی تھی،،،____

” ارے امی !!! کیا ہوا،،،_____؟” جواد نے آکر ماں سے پوچھا،،___

اس کے بابا بھی وہی موجود تھے،،،،____

” ب بیٹا !! زرمینے ب۔ ب بھاگ گئی،،،____”

” کیا !! امی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں،،،____؟” جواد اس کی بات سن کر حیرانگی سے کھڑا ہوا،،،____

” ہاں میں نے اسے روکنے کی کوشش کی ،،،___ پر وہ نہ رکی،،،___” وہ جھوٹ پر جھوٹ بول رہی تھی،،،____

یہ سب امبر بھی سن چکی تھی۔۔۔

” امی کیوں جھوٹ بول رہی ہیں،،،____ بتائیں نہ سب کو کہ زرمینے کا آپ نے ایک کڑوڑ میں سودا کیا ہے،،،،____”

” یہ سب سنتے ہی وہ تینوں کھڑے ہوئے،،،___اور نائلہ کا دل تھم سا گیا،،،_____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *