Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 22)

Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt

وہ دونوں یونیورسٹی پہنچ گئے تھے،،،،،____ امبر بھی اسی یونی کی سٹوڈنٹ تھی،،،،____ وہ اور زرمینے ایک ساتھ ہی پڑھتی تھی،،،،،_______

پر بعد میں کیا ہوا وہ سب ہی جانتے تھے،،،،،_____

زرمینے زاروان کے ساتھ کلاس کی طرف بڑھی،،،،،_____

” سنیں !! آپ کلاس میں یا پوری یونیورسٹی میں ہمارے رشتے کے بارے میں بتائیں،،،____ میں نہیں چاہتی کہ یونی میں کسی کو ہمارے رشتے کے بارے میں پتہ چلے،،،،،_____”

وہ کہتی ہوئی آگے بڑھی،،،،____ لیکن ایک جھٹکے سے وہ سنبھل نہ پائی اور زرمینے کا سر زاروان کے سینے سے جا ٹکرایا،،،،،______

” کیا کر رہے ہیں چھوڑے مجھے،،،،،______” وہ مچلتی ہوئی بولی اور خود کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی،،،،،_____

” اگر پتہ چلتا ہے تو چل جائے آخر مسئلہ ہی کیا ہے،،،،،،_______” وہ اسے تنگ کرتا ہوا بولا،،،،،_____

” آپ کو میری بات ماننی ہوگی،،،،،______” وہ غصے میں بولی،،،،،_____

” اچھا !!،،،،،_____” اسے یوں دیکھ وہ سر ہاں میں ہلا گیا،،،،،_____

” اب مجھے چھوڑ بھی دیں،،،،،____ اس سے پہلے کہ کوئی دیکھ لے،،،،___”

جب کچھ دیر تک زاروان کے نے اسے نہ چھوڑا تو وہ بولی،،،،،_____ یہ سن کر وہ پیار سے اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا تھوڑا سا پیچھے ہوا،،،،،_____

” اگر ویسے کوئی دیکھ بھی لیتا تو کیا ہی مسئلہ ہو جاتا اپنے شوہر کو ہلکے میں مت لو،،،،،_____” وہ مسکراتے ہوئے شرارت سے بولا،،،،،____

جس کے جواب میں زرمینے کے طرف سے خاص پیش رفت نہیں کی گئی،،،،،_____

وہ دونوں کلاس میں پہنچے،،،،،_____

زرمینے کی نظر ایک ہی شخص کو ڈھونڈ رہی اور وہ اسے جلد ہی مل گیا،،،،،____

امبر کلاس کے ایک کونے میں بیٹھی کتابوں میں گھسی ہوئی تھی،،،،،____

زرمینے اس کی طرف بڑھی،،،،،_____

جاکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،،،،،____ لیکن امبر نے اسے جھٹک دیا یہ دیکھے بغیر اس کے پیچھے کون ہے،،،،،،،______ زرمینے نے پھر سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،،،،،_____

” کیا بات ہے،،،،_____: زرمینے !! تم “

غصے میں سوال پوچھتی وہ پیچھے مڑی اور زرمینے کو دیکھ اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی،،،،______ وہ فوراً اٹھ کر اس کے گلے لگی،،،،،_____

” زرمینے مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم میرے سامنے کھڑی ہو،،،،،______”

امبر کے چہرے پر اس کی خوشی کے تاثرات صاف ظاہر ہو رہے تھے،،،،،،______

” امید تو مجھے بھی نہیں تھی،،،،،______” زرمینے نے اپنی بات کہی اور وہ دونوں کرسیوں پر بیٹھے،،،،،_____

” پر زرمینے تم اس دن سے کہاں ہو؟؟،،،،،،،______”

امبر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا،،،،،_____

جس کے جواب میں زرمینے نے اس سے جو بھی ہوا سب کچھ اسے بتایا،،،،،__

” ویسے سچ کہوں تو تم لکی ہو کہ تمھیں اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ہے،،،،،_____ اور اس قید خانے سے تمھیں نجات تو ملی،،،،،_____”

امبر مسکراتے ہوئے بولی،،،،،_____

” ویسے وہ ان لکی کون ہے جسے تم ملی ہو؟؟”

وہ شرارت سے بولی جس پر زرمینے بھی مسکرا گئی،،،،،_____

” وہ !!! ہیں !! زاروان کہاں گئے،،،،،___ باہر ہی ہونگے کہیں !! چل تجھے ملواتی ہوں ان سے،،،،،،،_____”

وہ اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگی،،،،،،_____ انھوں نے پورا فلور چیک کیا پر وہ کہیں بھی نہیں تھا،،،،،_____

” زرمینے!! یہ تیرا شوہر ہے کہ جھن غائب ہی ہوگیا ہے،،،،،،______”

امبر تنگ آکر بولی،،،،،،_____

” ادھر ہی ہونگے کہیں،،،،،_____”

” اچھا تم چلو میں اپنا موبائل نیچے ہی بھول آئی ہوں وہ لے آؤ،،،،،،_______”

یہ کہہ امبر کلاس کی طرف بڑھ گئی،،،،،_____

زرمینے کے پوچھنے پر ایک سٹوڈنٹ نے اسے بتایا کہ اس نے زاروان کو نیچے والے فلور پر جاتے دیکھا ہے،،،،،،____

” نیچے !! پر زاروان نیچے کیا کرنے گئے ہیں ؟ نیچے تو کچھ بھی نہیں ہے،،،،،____” وہ نیچے کی طرف بڑھی،،،،،،_____

زاروان نیچے والے فلور کی تلاشی لے رہا تھا،،،،،____ وہ اپنا کام جلد از جلد ختم کرنا چاہتا تاکہ اسے اس یونی والے جھنجھٹ سے چھٹکارا حاصل ہو،،،،،،،،،________

نیچے والے فلور پر کچھ بھی نہیں تھا اور یہ فرسٹ فلور تھا،،،،،____ کلاسز سیکنڈ فلور سے سٹارٹ ہوتی تھی،،،،،_____

وہ یونہی چل رہا تھا کہ ایک نہایت ہی گندی بد بو اس کے پاس سے گزری،،،،،،،____

جس سے وہ سمجھ گیا کہ یونی میں جو بھی درگز سپلائی کر رہا ہے،،،،،____

اس نے اپنا سارا سامان نیچے ہی کہیں رکھا ہے،،،،،____

اس نے ایک ایک کرکے اس فلور کے کمروں کو چیک کرنا سٹارٹ کیا،،،،،_____

آخر کار وہ اس روم میں پہنچ ہی گیا جس میں ڈرگز تھے،،،،،،_____

اب بس اسے یہ پتہ لگانا تھا کہ یہ کام کر کون رہا ہے؟؟؟،،،،،،،_______

اس کا یہ کام بھی آسان ہو گیا،،،،،،_______

” اے یو مسٹر !! دور رہو اس سے،،،،،،_______”

جس پر وہ پیچھے مڑا اور اور مار دینے والے انداز میں انھیں گھورا جسے دیکھ ان دونوں کا سانس سوکھنے لگا،،،،،،______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *