Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 19)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 19)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
زاروان بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا،،،،_____ زرمینے بھی وہی موجود تھی،،،_____
زاروان بیڈ سے کھڑا ہوا اور اس سے مخاطب ہوا،،،،_____
” زرمینے کل سے میں یونی جاؤں گا،،،،_____” اس نے اس کو یہی بتایا کہ وہ یونی کا سٹوڈنٹ ہے،،،،____ وہ اسے اپنے مقصد کے بارے میں نہیں بتانا چاہتا تھا،،،،____ کیونکہ اس سے اس کی جان کو خطرہ تھا،،،،،________
” O!! That’s GrEaT!! I also want to go,,,,______”
زرمینے کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی،،،،____
” کیا مطلب ؟؟،،،،_______” زرمینے کی بات اس کے سر کے اوپر سے گزر کر چلی گئی،،،،_____
” مطلب یہ کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ میری سٹڈیز چل رہی تھی،،،،______ اور پھر کچھ ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ مجھے یونی سے چھٹیاں کرنی پڑی پر اب اگر آپ کر ہی رہے ہیں جوائن تو میں بھی ساتھ کر لیتی ہو جوائن،،،،______” زرمینے نے کہا،،،_____
” اچھا ٹھیک ہے کل سے ڑیدی رہنا،،،،_______” زاروان نے بنا کوئی سوال جواب کیے ہاں کہہ دیا،،،______
” چلیں ٹھیک ہے،،،،_____” اس کے چہرے پر مسکراہٹ ایک بار پھر سے چھائی،،،،_____
زاروان اس کے گلابی نرم و ملائم گال پر بوسہ دے کر چلا گیا،،،____ جب کہ زرمینے کو اس کی امید نہ تھی،،،،_____
ایک طرح سے زاروان زرمینے کو پروٹیکٹ ہی کر رہا تھا،،،،_____ اس کے ساتھ یونی جانے سے وہ اس کے ساتھ ہی رہے گی،،،،____
وہ اس کی ہی کلاس کا سٹوڈنٹ تھا تو وہ اس کی نظروں کے سامنے ہی رہے گی تو اس طرح تو وہ اس پر ایک آنچ بھی نہیں آنے دے گا،،،_____
وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر لائٹ سا میک اپ کر رہی تھی،،،،_____
جو اس کے چہرے پر نہایت ہی خوبصورت لگ رہا تھا،،،____ یا اس کا چہرہ بھی اتنا خوبصورت تھا،،،،،______
شہرام کمرے میں داخل ہوا،،،،_____ اسے دیکھ کر مسکرایا،،،،_____
اس کے پاس جاکر پیچھے سے اپنے حصار میں لیتے ہوئے اس کے چہرے پر اپنے لب رکھے،،،،______
” کیا بات ہے آج بڑا تیار شیار ہوا جا رہا ہے،،،،____” اس کے کانوں کے قریب آکر دھیمے لہجے میں بولا،،،،_______
” کیوں نہیں ہو سکتی ہوں میں تیار !!،،،،،______”
شہزین نے شیشے میں سے اسے گھورتے ہوئے کہا،،،،_____ جس پر شہرام نے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا،،،،____
” کیوں نہیں ہو سکتی !! میں تو یہی چاہتا ہوں کہ ہمیشہ ہوں ہی ہستی مسکراتی رہا کرو،،،،_____” اس کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں لیے وہ نہایت ہی پیار سے بولا،،،،،،_______
” آج تیار بھی موسم بھی کافی پیارا ہے،،،،____ تو کیوں نہ ایک لانگ ڈرائیو پر چلیں،،،،_____”
شہرام نے کہا،،،،_____
” اتنی رات کو ،،،،___!!!” اس نے ٹالنے کی کوشش کی پر وہ شہرام خان تھا،،،،_____
” رات ہے تو کیا ہوا،،،،_____ میں نے کہہ دیا ہے نہ تو اب ہم ضرور جائیں گے،،،،_____”
شہزین کو معلوم تھا کہ وہ اپنی ہی بات منوا کر چھوڑے گا،،،،_____ اس لیے اس نے زیادہ بات کرنے کی کوشش نہ کی اور چلنے کے لیے تیار ہو گئی،،،،_______
” بی جان !! آپ کے لیے ایک گڈ نیوز ہے،،،،،،______” اعظم کے چہرے پر چھائی شیطانی مسکراہٹ کو دیکھ کر بی جان کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی،،،،،،______
” کیا بات ہے اعظم میاں ؟؟؟؟،،،،_______ آج کل بڑی خوشخبریاں سنا رہے ہو،،،،،______”.
” بس کبھی غرور نہیں کیا،،،،،______”
” ویسے بات کیا ہے وہ تو بتاؤں،،،،،_______” بی جان سے اب انتظارِ نہیں ہوتا تھا،،،،______
” ارے آپ سنیں گی تو آپ کا بھی دل خوش ہو جائے گا،،،،،_______”
اعظم نے کہا،،،،،______
” بات بھی بتاؤں گے کہ بس یونہی،،،،،______” اب کی بار ان کے لہجے میں سنجیدگی تھی،،،،،______
بی جان کے لہجے کو دیکھ وہ بھی تھوڑا سنجیدہ ہوا،،،،،،________ اور پھر اپنی بات شروع کی،،،،،______
” یہی سمجھیں کہ شہزین کو واپس لانے کا یہی آخری موقع ہے،،،،،_________” یہ کہہ چہرے پر گھٹیا مسکراہٹ سجائے اس نے اپنا پلان بی جان کو بتایا،،،،،______
بی جان نے بھی خامی بھر لی پر وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ وہ کس سے پنگا لے رہے ہیں،،،،_____ “” شہرام خان “” سے،،،،________
رات کا وقت تھا،،،،،_____ عموماً ساری سڑکیں ہی سنسان تھی،،،،،______
کسی بھی گاڑی کا نام ونشان نہیں تھا،،،،،______
صرف ایک ان دونوں کی ہی گاڑی تھی وہاں،،،،،،،_________ موسم بھی کافی اچھا تھا،،،،،،______
یوں ہی چل رہے تھے دونوں پر اچانک سے ان کے سامنے ایک گاڑی آگئی جس سے وہ بڑی ہی مشکل سے بچے تھے،،،،______
ان کا ایکسیڈینٹ ہوتے ہوتے بچا تھا،،،،،______ شہرام کے کئی ہورن بجانے کے بعد بھی وہ گاڑی اپنی جگہ سے بالکل بھی نہ ہلی،،،،____
شہرام کا تو دل کر رہا تھا کہ اس گاڑی میں جو کوئی بھی ہے،،،،،______ اسے گولیوں سے اڑا دے پر شہزین کا لحاظ کر رہا تھا،،،،،_____
وہ دونوں گاڑی سے نکل کر باہر آئیں،،،،،______ سامنے والی گاڑی سے بھی ایک آدمی باہر نکلا،،،،____ جس کی ان دونوں کی طرف پشت تھی،،،،،______
” اؤ ہیلو !!!! کون ہو تم اور گاڑی کیوں نہیں سائیڈ پر کر رہے،،،،،_______” شہرام کا غصہ سے برا حال ہوگیا تھا،،،،،_____
پر اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہ بولا،،،،_____ کچھ دیر یوں خاموشی قائم رہنے کے بعد آخر کار وہ شخص مڑا اور اس کا چہرہ دیکھ کر شہزین کے زونگٹے کھڑے ہوگئے،،،،،،_____
وہ شہرام کی کمر کے پیچھے خود چھپا گئی،،،،،_____
” ا۔۔ا ۔۔اعظظم !!!” بامشکل ہی اس کی آواز نکلی،،،،،_____ شہرام بھی اسے پہچان گیا تھا،،،،،______
” فکر نہیں کرو شہزین میں تمھیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا،،،،،______”
وہ شہزین کو دلاسا دے کر آگے بڑھا،،،،،_____
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا گاڑی کا دروازہ کھلا اور بزرگ خاتون نکلی وہ کوئی اور نہیں بلکہ بی جان ہی تھی،،،،____
اب وہ دونوں قدم سے قدم ملاتے آگے بڑھے،،،،_____.
” کیا چاہئیے تم لوگوں کو؟؟؟،،،،،_____” وہ شہزین کے سامنے اس کی ڈھال بن کر کھڑا ہوا،،،،،_____
” ہمیں کیا چاہئیے وہ تو تم جانتے ہی ہو،،،،،____ اب اچھے بچو کی طرح دے دو مجھے ورنہ،،،،،_______”
اعظم ابھی کہہ ہی رہا تھا کہ شہرام نے کہا،،،،_____
” ورنہ کیا !!!؟؟ کیا کر لوں گے تم،،،،،______”
” ورنہ میں یہ کر لوں گا،،،،_______” وہ اس کے سر پر بندوق رکھ کر بولا،،،،_____ جس پر بی جان قہقہ لگاتے ہوئے شہزین کی طرف بڑھی،،،،________
” شہرام !!،،،،_____” اس کے سر بندوق دیکھ کر شہزین کے گلے سے بے ساختہ آواز نکلی،،،،،،____ اگر شہرام چاہتا تو وہی اپنی گن نکال کر اعظم کو فائر کر دیتا،،،،،_____ پر ابھی تک وہ صرف شہزین کا لحاظ کر رہا تھا اور اپنا مقصد بھی تو پورا کرنا تھا نہ اسے،،،،،______
” مجھ سے دور میرے ماما بابا کی قاتل ہو تم!!!!!،،،،،________” بی جان کو اپنے پاس آتا دیکھ کر شہزین نے غصے سے کہا،،،،،______
” ہاں وہ میں ہی تھی جس نے تمھارے ماما بابا کا ایکسیڈینٹ کروا دیا تھا اور میں نے ہی انھیں مروایا تھا،،،،،،_______”
بی جان نے آج اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا تھا،،،،،______
” آج تمھاری سزا کا دن ہے شہزین،،،،،_______” یہ سنتے ہی شہزین کے چہرے پر بل آئے،،،،،_____
” سزا اور جزا کا فیصلہ کرنے والا اوپر رب ہے تم کون ہوتی کسی کو سزا دینے والی،،،،،_____؟؟؟” شہزین نے یہ کہا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی،،،،،_____
” ہنس کو جتنا مسکرانا ہے مسکرا لو کیونکہ یہ تمھاری زندگی کی آخری مسکان ہے،،،،______ “
” بی جان اپنے گناہوں کا اعتراف تو کیا آپ نے،،،،،_____”
شہرام کی آواز پر وہ پیچھے مڑی،،،،____ اور جو دیکھا وہ ہوش اڑا دینے والا تھا،،،،_____ شہرام اور شہزین کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی،،،،،________
