Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt NovelR50480 Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 16)
Rate this Novel
Ishq Pr Zor Nahi (Episode - 16)
Ishq Pr Zor Nahi By Abdul Ahad Butt
” موم !! یہ سب کیا ہو رہا ہے،،،،_____؟ ” صاحبہ تم فن ایک کرتے ہوئے نہایت ہی غصے میں ساجدہ کے کمرے میں داخل ہوتی ہوئی اس سے سوال پوچھتی ہے،،،،______
” صاحبہ !! یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا،،،،،،________” اس کا یہ رویہ ساجدہ بیگم کو بالکل بھی پسند نہ آیا،،،،،_______
” سوری موم !! پر بات ہی ایسی ہے،،،،_____؟” وہ پھر وہی بات کرتی لیکن ساجدہ بیگم کو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا،،،،_____
” صاحبہ !! تم کس بارے میں بات کر رہی ہو،،،،_____” ساجدہ کنفیوز ہوتے ہوئے اس سے سوال پوچھتی ہیں،،،،،_____
” موم !! آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ میں کس بارے میں بات کر رہی ہوں!!،،،،،_____”
” نہیں صاحبہ !! مجھے نہیں معلوم ہے میری جان،،،،،،______”
” موم !! میں زاروان کے نکاح کے بارے میں بات کر رہی ہوں آخر چل کیا رہا ہے ایسے جیسے کوئی فلم ،،،___ پہلے شہرام اس لڑکی کیا نام ہے اس کا؟ شہزین اس سے شادی کرکے آگیا،،،،،_____ اور اب یہ میری تو سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ؟،،،،،_______”
وہ نہایت ہی غصے میں اپنی بات پوری کرتی ہے،،،،____
” بیٹا !! زاروان اس لڑکی کو پسند کرتا ہے؟؟ اور اس میں برائی ہی کیا ہے نکاح ایک پاکیزہ رشتہ ہے ،،،_____” ساجدہ بیگم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی،،،،_____
” برائی ؟؟ أر یو سریس !!،،،،_____” وہ آنکھیں بھینجتی بولی،،،،_____
” یس آئم سریس !!،،،،____” ساجدہ بیگم اسے جواب دیتی ہیں،،،،_____
” مما !! آپ کہہ رہی ہیں کہ برائی کیا ہے،،،؟ برائی یہ ہے کہ نہ اس لڑکی شہزین کا پتہ اور نہ اس لڑکی زرمینے کا،،،،_____ “
وہ اپنی بات پر دٹی رہی،،،،____
” صاحبہ !! جن سے ان کی شادی ہوئی وہ جانتے ہیں انھیں اور میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میرے بچے خوش رہیں !!،،،،______”
ساجدہ بیگم اپنا رخ بدل کر کہتی ہیں،،،،_____
” اور میں !! میر کیا ؟؟؟ ،،،،______” وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولی،،،،______
” کیا تمھارا ؟؟؟!!،،،،،___ تمھارے ساتھ اس سب میں کیا ہوا ؟،،،،_____”
ساجدہ کنفیوز ہوتے ہوئے اس سے پوچھتی ہیں !!
” آپ یہ بات اچھے سے جانتی ہیں کہ میں شہرام کو پسند کرتی ہوں بچن سے ہی میں اس کو چاہا ہے،،،،_____ یہ سب جانتے ہوئے بھی آپ نے اس کو کسی اور کا ہونے دیا،،،،_____”
وہ اپنی چاہت کا اعتراف کرتے ہوئے بولی،،،،______”
” ہاں !! کیونکہ شائید میری زبردستی سے تم شہرام سے شادی تو کر لیتی پر کیا خوش رہ پاتی کبھی نہیں تمھاری وجہ سے تین زندگیاں برباد ہو جاتی اور میں ایسا نہیں کرسکتی ،،،،،______”
ساجدہ بیگم اس کے سامنے حقیقت بیان کی،،،،_____
” اور جو میری زندگی برباد ہوئی اس کا کیا ؟؟،،،،______” صاحبہ نے کہا،،،_____
” بیٹا ! تمھارے نصیب میں شہرام نہیں ہے،،،،______ ” وہ اسے بار بار سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی،،،،______
” میرے نصیب میں شہرام ہی ہے،،،،_____ اور آپ اس کام کو چھوڑ دیں،،،،______ یہ میں خودی سنبھال لوں گی،،،،______”
وہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لائے بولی،،،،،_______ اور وہاں سے چلتی بنی،،،،_____
ساجدہ بیگم کو اس کے تیور کچھ ٹھیک نہ لگے،،،،_____ وہ بیڈ کی سائیڈ پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی،،،،______
اس کی بات سنتے ہی وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی،،،،،_____
” محبت کا دعویٰ ہر کوئی کرتا ہے،،،،______ پر نبھاتا کوئی نہیں ہے،،،،_____ آپ بھی یہی کریں گے،،،،______”
زرمینے کی یہ باتیں اس کے دل پر لگ رہی تھی،،،،_____
زرمینے کی آنکھوں میں بہت غم تھا،،،،______
وہ اس کے پاس گیا،،،،______ اس کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا بولا،،،،،،،_______
” میں ان میں سے نہیں ہوں جو پیار کا دعویٰ کرکے مصیبت کے وقت بھاگ جاؤں،،،،،______ میں ان میں سے ہوں جو میدان محبت میں دشمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں،،،____ ٹرسٹ می کبھی بھی تمھیں دکھی نہیں کروں گا،،،____ “
زرمینے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ سکتی تھی،،،،____ آخر وہ بھی اس سے محبت کرنے لگی تھی،،،،،______
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی کہ ایک شدید جھٹکے سے اس کے سینے میں جا ٹکرائی،،،،_____
” آئی لو یو !!،،،،______” زاروان کی زبان یہ لفظ ادا ہوتے ہی اس کا چہرہ لال ہوگیا،،،____ آج تک اس نے یہ الفاظ ناولز میں ہی پڑھے تھے یا ڈراموں میں دیکھے تھے اس کے علاؤہ کہیں بھی نہیں،،،،______
زاروان اس کے چہرے پر چھائے شرم کے تاثرات اچھے طریقے سے جان گیا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا،،،،_____
” چھوڑیں مجھے،،،،،______” وہ اس وقت بھی اس کی باہوں میں تھی،،،،______
” جان زاروان !! دیٹس ناٹ فئیر !! بجائے آئی لو یو ٹو کہنے کی بجائے تم مجھ سے دور جانے کی بات کر رہی ہو،،،،_____”
وہ منھ بناتا ہوا بولا،،،،____
” میں نے کہا چھوڑیں،،،،_____” اس کے یوں کہنے پر اس نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا،،،،_____
” صرف کچھ دیر کے لیے چھوڑ رہا ہوں ویسے تم مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت !!،،،،،_______” وہ مسکراتا ہوا بیڈ پر جا کر لیٹ گیا،،،،______
زرمینے کی جان میں جان آج تو اسے ایسے لگا جیسے وہ اس کی جان ہی لے لیں گا،،،،_______
صبح جب شہرام کی آنکھ کھلی تو شہزین اس کی آغوش میں ہی لیٹی ہوئی تھی،،،،_______ اسے دیکھ وہ مسکرایا اور اس کی خوبصورت گال پر بوسہ دیتی ہوئے بیڈ سے اٹھ کر فریش ہونے چلا گیا،،،،______
اپنی گال پر لمس محسوس کرتے شہزین کسمسائی پر پھر سائیڈ چینج کرکے سو گئی،،،،،______
فریش ہو کر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا اس کی نظر آکر شہزین پر رکی،،،،_____ اسے دیکھ اسے ایک شرارت سوجی،،،____
شہزین کے سامنے والے پردے کو شہرام نے پیچھے کیا سورج کی کرنیں اس کے چہرے پر پڑھ رہی تھی،،،،____ وہ تنگ آکر اٹھی،،،،_____
” کیوں سونے نہیں دے رہے،،،،_____” وہ اٹھ کر غصے سے بولی،،،،___ پر شہرام ابھی بھی اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا،،،،______
” پوری رات سوتی رہی ہو ابھی بھی سونا ہے،،،،_____”
شہرام کے کہنے پر اس نے اسے گھورا،،،،،_____
” جی !!،،،،،_____”
وہ پھر سونے لگی،،،،_______ تو شہرام نے اس کا بازو پکڑ اپنی طرف کھینچا،،،،____” اس شدید جھٹکے سے وہ خود کو سنبھال نہ پائی اور اس کے سینے سے جا ٹکرائی،،،،______
” کیا ہے،،،،_____” وہ شدید غصے سے بولی،،،،______
” پیار !!،،،،،______” نہایت ہی پیار سے کہنے پر شہزین کے چہرے پر بھی مسکراہٹ چھا گئی،،،،_____
آج کئی دنوں بعد پھر وہ تینوں اسی جگہ پر ملے جہاں وہ ملتے تھے،،،،_________
سربراہی کرسی پر ساجدہ بیگم اور ارد گرد شہرام خان اور زاروان خان بیٹھے ہوئے تھے،،،،،،________
” کیا رپورٹ ہے ؟ اس یونیورسٹی کی جس میں ڈرگز سپلائی ہو رہی ہیں !!،،،،_____” شہرام نے اپنی بات ختم کرکے زاروان کو بولنے کا موقع دیا،،،،،_____
” وہاں کام جاری ہے،،،،_____ ابھی پتہ نہیں لگا پائے کہ یہ کام کون کر رہا ہے،،،،____؟ پر جلد ہی ہم پتہ لگا لیں گے،،،،_____” ان الفاظ کے ساتھ زاروان نے اپنی بات مکمل کی،،،،،______
” اس بارے جلد از جلد پتہ لگ جانا چاہئیے،،،،____ اس معاملے اور نہیں لٹکانا چاہئیے،،،،_____” شہرام نے ایک دفعہ پھر کہا،،،،_____
” جی بالکل !! کئی لوگوں کی زندگی رزک پر ہے،،،،____ اس کام کو جلد از جلد ختم کرنے کی کوشش کریں،،،،،_______” ساجدہ بیگم نے آخر میں کہا اور یہ میٹینگ یہی ختم ہوئی،،،،______
