Inteqaam by Mahnoor Shehzad NovelR50602 Last updated: 31 March 2026
Rate this Novel
Inteqaam (Episode 01)Inteqaam (Episode 02)Inteqaam (Episode 03)Inteqaam (Episode 05,06)Inteqaam (Episode 04)Inteqaam (Episode 07)Inteqaam (Episode 09)Inteqaam (Episode 08)Inteqaam (Episode 12)Inteqaam (Episode 10,11)Inteqaam (Episode 13)Inteqaam (Episode 14,15)Inteqaam (Episode 16)Inteqaam (Episode 17)Inteqaam (Episode 18)Inteqaam (Episode 21)Inteqaam (Episode 19,20)Inteqaam (Episode 22)Inteqaam (Episode 24,25)Inteqaam (Episode 23)Inteqaam (Episode 26)Inteqaam (Episode 27)Inteqaam (Episode 28,29)Inteqaam (Episode 30)Inteqaam (Episode 31)Inteqaam (Episode 32,33)Inteqaam (Episode 34)Inteqaam (Episode 35,36)Inteqaam (Episode 37,38)Inteqaam (Episode 39)Inteqaam (Last Episode)
Inteqaam by Mahnoor Shehzad
صبح کے سوا چھ بج رہے تھے ھمیشہ کی طرح وہ فجر کی نماز پڑھ رہی تھی نماز پڑھنے کے بعد وہ دعا مانگ رہی تھی کہ اچا نک آواز آئی
بند کرو لائٹ ساری نیند خراب کر دی ۔نتا شا نے غصہ میں کہا ،اس کی بات سن کے حرین نے جلدی سے جا ئے نماز لپیٹی اور کمرے سے باہر چلی گئی (حجاب کیا ہوا آنکھیں بڑی بڑی دیکھنے میں کسی پری کی طرح لگتی تھی اپنے ماں باپ کی لاڈلی تھی ما ں باپ پیار تو
نتاشا سے بھی کرتے تھے مگر نتاشا کی بد تمیزیوں کی وجہ سے وہ اس سے تھوڑا دور رہتے تھے ) اس نے اپنے لیے چائے بنائے اور کمرے میں آ گئ چا ئے پینے کے بعد وہ لیٹی اور اس کی آنکھ لگ گئ ۔حرین میری جان اٹھ جا۔فاطمہ جی نے کہا ،فاطمہ جی کی آواز سنتے ہی وہ اٹھی اور با تھ روم چلی گئی ۔نتاشا تو بھی اٹھ جا ۔ فاطمہ جی نے نتاشا کو بھی اٹھایا ۔امی اچھا تھوڑی دیر تک اٹھتی ہوں ۔نتاشا نے نیند میں کہا ۔تجھے پتہ ہے تیرے ابو کا پتہ تو ہے کہ وہ کہتے ہے اکھٹے کھانا کھایا کرو۔فاطمہ جی نے کہا ۔اس گھر میں تو سکون سے کوئی سونے بھی نہیں دیتا۔نتاشا نے چلایا۔امی آپ ناشتہ لگا دیں ۔ حرین باتھ روم سے واپس آ کر بولی ۔ہاں میں لگاتی ہوں تو کپڑے پہن کر آ جا۔فاطمہ جی کہتی کمرے سے چلی گئی ۔پتہ نہیں کب اس قید خانہ سے جان چھوٹے گی۔نتاشا کہتی باتھ روم چلی گئ ۔اب سب ناشتے پہ موجود تھے ۔اچھا امی اب میں چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے۔حرین نے پانی پینے کے ساتھ ساتھ بولا۔خیال سے جانا ۔عاقب صاحب نے کہا جو کافی دیر سے خاموش تھے ۔جی ابو ۔حرین نے جواب دیا ۔اللّٰہ حافظ ۔حرین کہتی چلی گئی ۔اللّٰہ حافظ ۔عاقب صاحب اور فاطمہ جی نے کہا ۔تمہیں یہ اتنا تنگ کرتے ہیں تم پھر بھی ان پر غصہ نہیں کرتی۔رائنہ نے کہا۔اتنے کیوٹ ہیں یہ بچے انھیں دیکھ کے ہی چہرے پہ مسکراہٹ آجاتی ہے۔حرین نے مسکراتے ہوئے بتایا۔لگتا ہے تمھیں بچے بہت پسند ہے ۔ رائنہ نے پوچھا ۔بہت پسند ہے ۔ حرین نے بتایا۔(رائنہ حرین کے ساتھ سکول پڑھاتی تھی اور حرین کی صرف اس سے ہی بنتی تھی کیونکہ یہ عادتوں میں حرین کی طرح تھی) مجھے نہيں پتا آپ آج آرہے ہیں آج۔نتاشا نے فون پر کہا۔اچھا میری جان آ جاؤں گا ۔ذیشان نے پیار بھرے لہجے میں بولا۔(قد لمبا ہلکی ہلکی داڑھی گلاسز لگے ہوئے دیکھنے میں کسی ہیرو کی طرح لگتا تھا بہت سی لڑکیاں اس پہ مرتے تھے مگر یہ نتاشا پہ مرتا تھا ) اسلام علیکُم ۔حرین گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔وسلام کیسی ہے میری گڑیا۔شکیلا نے کہا ۔پھوپھو آپ کیسی ہے ۔حرین نے بدلے میں سوال کیا ۔میں ٹھیک ہوں تو بتا کیسی ہے۔شکیلا نے پو چھا۔میں بلکل ٹھیک ہوں ۔ حرین نے کہا ۔اچھا باتیں بعد میں کر لی تیری پھوپھو ابھی بیٹھی تیری جا کے کچن میں کھانا ڈال کے کھا لے۔فاطمہ جی نے کہا ۔جی ۔حرین کہتی کچن کی جانب چلی گئ ۔امی میں ابھی آتا ہوں۔حارث نے کہا۔ اچھا ۔شکیلا نے کہا۔ کیا کر رہی ہوں ۔حارث کچن میں آتا ہوا بولا۔(حارث ذیشان کا چھوٹا بھائی تھا۔یہ کافی ڈاشنگ تھا مگر اپنے بھائی سے کم پرسنالٹی تھی اور یہ حرین سے بہت پیار کرتا تھا ۔) آپ یہاں اگر کسی نے دیکھ لیا آپ جائیں یہاں سے ۔حرین گھبراتے ہوئے بولی۔ کوئی نہیں آتا حرین ۔حارث نے کہا ۔ابو آپ۔حرین نے ڈرتے ہوئے کہا ۔ماموں مر گیا۔
