Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode (Watching)
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
“م میں لا لاتی ہو یوں د دوائی۔۔ تہذیب پریشانی سے اسے دیکھتی آگے بڑھتی اس سے پہلے ہی ہاشم اسے کمر سے پکڑ کر قریب کرتا مسکرا کر دیکھنے لگا
“ختم ہوگیا درد۔۔ہاشم نے کہ کر اسکی پیشانی چومی
“اب ابھی ت تو در درد ت تھ تھا۔۔۔تہذیب اسکے چہرے کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔
“اففف یار مذاق کر رہا تھا وہ میڈم اگر تمہے آنے نہیں دیتی تو۔۔۔ہاشم نے کہ کر دوبارہ اسکی پیشانی چومی
جو اسے گھور رہی تھی۔۔۔
“ذرا پیار سے گھورو۔۔۔۔ ہاشم نے کہ کر جھک کر گردن پر لیب رکھے تہذیب تیزی سے پیچھے ہٹتی باتھروم کی طرف بھاگی
“ج جھ جھوٹے۔۔۔۔ تہذیب کہتے ہی باتھروم میں جاکر اندر سے لاک لگا گئی۔۔۔
“ہاہاہا کہاں جاؤ گی آنا تو یہیں ہے۔۔۔۔ ہاشم ہنس کر کہتا بیڈ پر گرنے کے اندز میں لیٹا۔۔۔۔ جب نظر دائیں وال پر لگی فوٹو فریم پر گئی یَکدم چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔
سوچیں بھٹک کر پانچ مہینے پیچھے چلی گئیں۔۔۔
“پانچ مہینے پہلے:
“ہاشم بھائی کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ہدبر ہاتھ میں فائل تھامے اسکے کمرے کا دروازہ نوک کر کے اندر جھانک کر بولا
جہاں ہاشم کھڑا وال پر کیل ٹھوک رہا تھا جب کے تہذیب ٹانگیں نیچے لٹکائے ہاتھ میں فوٹو فریم لیے بیٹھی مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
جس میں خوبصورت معصوم سے گول مٹول سے بچے کی تصویر تھی۔ ۔۔
“بہت ضروری کام۔۔۔۔ مصروف سا کہ کر ہاشم مسکرایا جب ہدبر مسکراتا ہوا چلتا اندر آکر تہذیب کے ساتھ بیٹھ کر فریم میں بچہ دیکھنے لگا۔۔
“ہاشم بھائی آپ کو نہیں لگتا آپ کو اپنی تصویر لگانی چاہیے تاکہ روز بھابھی آپ کو دیکھیں لیکن شرط یہ اس تصویر میں آپ کے ساتھ میں بھی ہوں تاکہ ہمارا شہزادہ اپنے چاچو کی طرح بھی دیکھے۔۔۔کیوں بھابھی۔۔
ہدبر نے مسکراہٹ دبا کر شرارت سے کہا۔۔ہاشم کیل لگا کر اسکی طرف پلٹا۔۔۔
“تمہاری بھابھی کو تصویر کی ضرورت ہی نہیں ہے محترمہ روز اٹھ کر میرا دیدار کرتی ہیں۔۔
رہے تم تو ہم تینوں بھائیوں میں ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت ملتے ہیں کیوں تہذیب
ہاشم کہتے ہوۓ اسکے ہاتھ سے فریم لے کر لگا کر آنکھوں میں چمک لئے دیکھنے لگا۔۔۔
“مم میں آ آتی ہو ہوں آ آپ دو دونوں کا کام کک کا کریں۔۔۔
تہذیب کہ کہ کر مسکرا کر ہاشم کو دیکھ کر ایک نظر وال کو دیکھ کر کمرے سے نکل گئی۔۔
باتھروم کے لاک کھولنے کی آواز پر ہاشم سوچوں سے باہر نکلا آنکھ کے کنارے کو صاف کرتا آنکھوں پے بازو رکھ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
“یادیں بھی عذاب ہوتی ہیں یہ کلیجہ نوچ لیتی ہیں” (امرحہ)
ہدبر نے اسے لاکر بیڈ پر لیٹایا جو تیزی سے سیدھی ہوکر بیٹھ کر اسے گھورنے میں مصروف تھی
“اتنے پیار سے مت دیکھو کھا جاؤں گا تمہے۔۔۔ ہدبر نے آنکھ دبا کر کہا تعدیل بیڈ پر ہی کھڑی ہوگئی۔۔۔
“یہ کیا طریقہ تھا اگر کوئی دیکھ لیتا تو
“تمہے پتہ ہے ہاشم بھائی۔بھی بھابھی کو اسی طرح اٹھا کر لائے تھے
“کیا سچ میں واؤ سو رومینٹک۔۔ ہدبر کی بات سنتے ہی تعدیل چہک کر دونوں ہاتھوں کی تالی بجا کر دوبارہ نیچے بیٹھی ہدبر تو جل بھن کر رہ گیا۔۔
“اچھا وہ رومینٹک اور میں نے جو اٹھایا تمہے موٹی۔۔۔ہدبر کہتا اٹھ کر دور ہوا۔۔۔
“تعدیل کا حیرت سے منہ کھل گیا۔۔۔”کیا میں موٹی۔۔۔تعدیل صدمے سے کہتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر آیئنے میں خود کو دیکھنے لگی
ڈیپ ریڈ کلر کا شرارہ جیولری پہنے نفاست سے کیا میک اپ دلہن بنی وہ حسین لگ رہی تھی یکدم ہدبر نے صدمے سے کھڑی اپنے آپ کو دیکھتی تعدیل کو اپنے حصار میں لیا۔۔
“چھوڑیں مجھے میں تو موٹی ہوں نا۔۔۔ تعدیل چونک کر مچل کر بولی۔۔
“ہاہاہا موٹی ہو تو کیا ہوا ہو تو اب میری ہی۔۔۔ ہدبر ہنس کر اسے لیتا بیڈ کی طرف بڑھا
“اؤ تمہے کہانی سناتا ہوں۔۔
“جی نہیں مجھے نہیں سننی اور میری منہ دکھائی کا تحفہ دیں چلیں۔۔ہدبر گھبرا کر جلدی سے بولی۔۔
“ہمم اوکے پہلے آنکھیں بند کرو ؟ ہدبر کچھ سوچتا ہوا مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔
تعدیل مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“نہیں ایسے ہی دیں۔۔
“یار عجیب ہو بھروسہ نہیں ہے کیا چلو آنکھیں بند کرو ۔۔۔ہدبر نے پھر کہا تعدیل سوچ میں پڑ گئی
“کرو۔
“ٹھیک ہے لیکن کوئی ایسی ویسی حرکت مت کیجئے گا۔۔ تعدیل ورنہ کرتی آہستگی نے آنکھیں موند گئی ہدبر قریب ہوتا اسے دیکھنے لگا
پھر ہاتھ بڑھا کر اسکا چہرہ تھام کر ماتھے پر پیار کرتے پیچھے ہوا تعدیل نے پٹ سے آنکھیں کھول کر اسے گھورنا چاہا لیکن شرما کر نظریں جھکا گئی۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔حدبر اسکے شرمانے پر ہنس کر اسے دوبارہ حصار میں لے چکا تھا۔۔۔
اگلے دن عاصم صاحب اور بینش بیگم کی فلائٹ تھی۔۔
تہذیب اور تعدیل اپنے والدین کے دور جانے پر اداس تھیں لیکن اس سے کہیں زیادہ خوش تھیں۔۔۔
“ہدبر بیٹا میری بیٹی کا خیال رکھنا کوئی غلطی ہو تو معاف کر دینا بیٹا۔۔۔عاصم صاحب نے گلے لگ کر کہا ۔
“ایسے مت کہیں ابو۔۔۔ہدبر نے مسکرا کر کہا تعدیل بینش بیگم کے ساتھ لگی اسے دیکھنے لگی جو اسکے ماں باپ سے بہت عزت و احترام سے مل رہا تھا۔۔۔
“چلو بھئی جلدی سے اپنے باپ سے ملو۔۔۔ عاصم صاحب نے کہ کر دونوں ہاتھ پھیلائے تہذیب اور تعدیل مسکرا کر اپنے باپ کے سینے سے لگ گئیں۔۔۔
شام کا وقت تھا تہذیب اور تعدیل لان میں بیٹھی نگہت بیگم اور وردہ بیگم کے ساتھ شام کی چاٙئے پیٹیں باتوں میں مصروف تھیں
جب ہاشم اور ہدبر بھی وہیں آگئے ۔۔
“ہاشم بھائی کیا آپ رات کو ہمیں سی ویو لے کر چلیں گے ؟
“ہاں کیوں نہیں میں بھی سوچ رہا تھا بہت ٹائم ہوا کہیں گئے نہیں۔۔۔ہاشم نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
“کیا!!! یہاں گھومنے کے لئے جارہے ہیں ؟ حماد ردا کے ساتھ آتے ہوۓ بولا۔۔
“ہاں رات کو سی ویو کا ویسے بھی سردیوں میں جانے کا اپنا ہی مزہ ہے ۔۔ ہدبر نے مسکرا کر جواب دیا۔۔
یسسس!! حماد اور ردا نےخوش ہوکر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہا سب دونوں کو خوش دیکھ کر مسکرا دیے۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی گیلی ریت پر کھڑی وہ چاند کی روشنی میں سمندر میں شور کرتی لہروں کو اپنی موج میں مست چلتا دیکھ رہی تھی
چاند کی چاندنی نے جیسے سمندر پر اپنی ساری چاندی بکھیر رکھی تھی۔۔۔
ہر طرف لوگوں کا شور تھا لیکن وہ ہر چیز سے جیسے بے بہرا کھڑی تھی جب کے کچھ فاصلے پر ہدبر اور تعدیل ایک دوسرا کا ہاتھ تھامے ہلکی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔
ہاشم چلتا ہوا اسکے ساتھ کھڑا ہوکر اسے دیکھنے لگا وہ جانتا تھا اسکی تہذیب کیوں گم سم ہوگئی تھی۔۔۔۔
آہستہ سے ہاشم نے اسکا ہاتھ تھاما جو برف ہورہا تھا۔۔۔ “کا کاش م میں ن نا ناں جج جاتی کا کاش.
“پلیز تہذیب جو ہوا وہ اسی طرح ہونا تھا۔۔
“ہا ہاشم غ غلط ہو ہوگیا مم۔۔اس سے قبل وہ اور کچھ بولتی ہدبر اور تعدیل دونوں کے قریب آگئے۔۔
دونوں نے جلدی سے اپنی آنکھوں میں آئی نمی صاف کر کے انکی طرف متوجہ ہوئے۔
“بچاؤ آآااا ہاشم بھائی یہ حماد ڈوبا رہا ہے مجھے۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔
یکدم ردا کی آواز پر سب نے دور حماد اور ردا کو دیکھا جو ہاتھ سختی سے پکڑے اسے لکر جا رہا تھا۔۔۔
ہاشم تیزی سے انکی طرف بڑھا۔۔۔
“حماد کیا حرکت ہے اس طرح کے مذاق نہیں کرتے واپس آؤ ۔۔۔ہاشم غصّے سے بولتا آگے بڑھا تہذیب ہنس کر انکے پیچھے گئی جب کے ہدبر تہذیب کو دیکھنے لگا
“بھابھی آپ اور ہاشم بھائی رو رہے تھے ؟ ہدبر کے سوال پر تہذیب گھبرا کر نفی میں سر ہلانے لگی
“نن نہیں تتو۔۔۔اس سے قبل ہدبر کچھ بولتا تعدیل کے پکارنے پر سر جھٹک کر اسکی طرف جانے لگا
کچھ تو ہے جو مجھے نہیں پتہ ہاشم بھائی آپ کی آنکھوں کی سرخی میں نے کہیں بار دیکھی ہے اور اب بھابھی۔۔۔ہدبر خود سے باتیں کرتا سوچتا رہا۔۔۔
“امی خدا کے لئے بس کریں مجھے کچھ نہیں سننا پلیز میرے دل کے ساتھ ایسا ظلم مت کریں میں ہرگز یہ نہیں کرونگا ۔۔۔
ضبط سے اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں آنکھوں میں بےتحاشا پانی جما ہوگیا تھا۔۔ہاشم قابلِ رحم حالت میں اپنی ماں کے سامنے کھڑا تھا
جب کے نگہت بیگم اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی کیا کرتیں ایک ماں اپنی اولاد کی خوشیاں چاہتی ہے جسے ہاشم وقاص کے لئے ماننا ناممکن تھا۔۔
“میں تمہاری خوشیاں چاہتی ہوں ہاشم اس گھر کے بڑے بیٹے ہو کیا تمہے خود سے محسوس نہیں ہوتا کہ آگے چل کر تمہارا نام تمہاری نسل پروان چڑھے اولاد کی تو سب کو خواہش ہوتی ہے عریشہ اچھی بچی ہے تم ہاں کرو تو میں ان سے بات کروں۔۔
نگہت بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔۔وردہ بیگم خاموش کھڑی تھیں گھر میں تہذیب اور تعدیل ردا کے ساتھ پارلر گئی ہوئی تھیں۔۔
نگہت بیگم کی بات پر ہاشم کی برداشت ختم ہوگئی۔
“سوچئے گا بھی مت امی میں تہذیب کی جگہ کسی کو نہیں دونگا کبھی بھی نہیں آپ خود غرض ہورہی ہیں اس معاشرے کی باتوں میں آکر جب وہ آنٹی آپ کو اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مشورہ دے رہی تھیں تب آپ کو ان سے پوچھنا چاہیے تھا کے خود کے بیٹے نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی بیٹے نے انکی خواہشوں کا احترام کیوں نہیں کیا۔۔۔
یا اگر یہی مشورہ انکے داماد کو کوئی دیتا تب کیا جواب دیتیں۔۔۔۔ہاشم پیچھے ہوتا سخت لہجے میں بولا۔۔
ہدبر جو اپنی ماں کے کمرے میں آرہا تھا اندر سے آتی اپنے بھائی کی آواز سن کر ٹھٹھک کر رک گیا۔ ۔
“اور تہذیب کا کیا قصور امی۔۔۔ اسکا کیا قصور ہے اگر وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تو اللہ نہ کرتا اگر میرے ساتھ یہ حادثہ ہوتا اور یہ کمی مجھ میں آجاتی پھر کیا کرتییں۔۔
ہاشم بے ہونٹ دبا کر کہا نگہت بیگم کانپ کر رہ گئیں جب کے باہر کھڑا بدبر لڑکھڑا گیا۔۔
“اللہ نہ کرے ہاشم بیٹا۔۔ نگہت بیگم روتے ہوۓ بولیں ہاشم نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کو گلے لگایا۔
“امی میں بچہ ایڈوپٹ کروں گا چھوٹا سا جو اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتا آپ کے پاس آکر دادی کہ کر آپ سے فرمائشیں کیا کرے گا۔۔۔۔ہاشم نے ہنستے روتے ہوۓ کہا۔۔
نگہت بیگم کے رونے میں شدّت آگئی وردہ بیگم بھی رو دیں کمرے کے باہر کھڑا ہدبر آنکھیں پر ہاتھ رکھ کر ہونٹوں کو سختی سے بھنچے تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ بڑھ گیا۔۔
ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے سب ناشتہ کر رہے تھے ہاشم تھوڑی تھوڑی دیر میں نظر اٹھا کر ہدبر کو دیکھ رہا تھا جو سامنے رکھے چائے کے کپ پے نظریں مرکوز کیے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا
“ہدبر ؟ ہاشم نے پکارا ہدبر پھر بھی متوجہ ناں ہوا
تعدیل جو ساتھ بیٹھی تھی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ہدبر یکدم ہوش میں اکر تعدیل کی طرف دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا
“ہاشم بھائی آواز دے رہے ہیں آپ کہاں کھوئے ہوۓ ہیں۔۔۔تعدیل نے ہاشم کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔۔
“کہیں نہیں۔۔ جی ہاشم بھائی۔۔ہدبر کہ کر ہاشم کی طرف متوجہ ہوا۔۔
“کچھ نہیں ناشتہ کرو کیا سوچنے لگ گئے ہو۔۔ہاشم نے تعدیل کی پلیٹ سے پراٹھا توڑا۔۔۔
“ہدبر جواب دینے کی بجائے رشک سے اپنے بھائی بھابھی کو دیکھنے لگا۔۔۔ ان دو لوگوں کو جو ایک دوسرے کے بنا ادھورے ہیں جانے کیوں سچی محبت کرنے والوں کو آزماتا ہے۔۔
“ج جی کر رہا ہوں۔۔سر جھٹک کر محبت سے اپنے بھائی کو دیکھتے ہدبر نے جواب دیا۔۔۔۔
“آسمان کالے بادلوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔سردی آج زیادہ۔ہو رہی تھی اوپر سے بارش بھی آج برسنے کو تیار تھی
لاؤنج میں ہی گھر کے سب افراد بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے نیلم بیگم مسکرا کر نگہت بیگم کو جواب دے رہی تھیں جب تہذیب کو دیکھ کر اچانک ہلکی آواز میں پوچھا۔۔۔
“تہذیب دوبارہ خوش خبری کب سنا رہی ہو۔۔نیلم بیگم کی بات پر ایک سایہ سا لہرایا۔۔۔ دل میں اٹھتی تکلیف کو تھپتھپتی زبردستی مسکرا کر کچھ کہنے ہی والی تھی
جب نگہت بیگم بول اٹھیں۔۔”جب اللہ کی مرضی بھابھی۔۔۔
“بیشک۔۔۔ یہ تو ہے نیلم بیگم مسکرا کر سر اثباب میں ہلانے لگیں۔۔
تہذیب نے تشکر بھری نظروں سے نگہت بیگم کو دیکھا۔۔
اس سے قبل تہذیب بہانہ کر کے اٹھتی کچن میں پلیٹ گرنے کی آواز آئی ساتھ ہی ملازمہ کے چیخنے کی
یکدم سب نے گھبرا کر کچن کی طرف دوڑ لگادی۔۔
کچن میں زمین پر گری تعدیل کو دیکھ کر تہذیب سکت رہ گئی۔۔
“ڈاکٹر اب کیسی ہے میری بہو؟ نگہت بیگم نے لیڈی ڈاکٹر سے پوچھا تہذب اور نگہت بیگم ہدبر کے ہی کمرے میں تھیں جب کے ہدبر جو ہاشم کے ساتھ عاصم صاحب کے ائیرپورٹ آنے پر سب کو بنا بتائے گئے تھے کیوں وہ سرپرائز دینا چاہتے تھے لیکن آتے ہی جو خبر ملی تو پریشان ہوگئے۔
“گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے ایسی حالت میں ہوجاتا ہے۔۔ ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا
“کیسی حالت۔۔۔۔نگہت بیگم کہتے کہتے رکیں پھر خوشی سے لڑکھڑا کر بولیں۔۔ کیا تعدیل۔۔
“جی بلکل آپ سہی سمجھیں آپ کی بہو ماں بننے والی ہیں۔۔۔۔ڈاکٹر نے پیشہ وارنہ مسکراہٹ سے بتایا۔۔۔ تہذیب کی خوشی سے آنکھوں میں آنسوں آگئے۔۔
نگہت بیگم نے آگے بڑھ کر تعدیل کا سر چوما جو ہوش میں تھی ڈاکٹر کی بات سن کر شرما رہی تھی تہذیب نے تعدیل کو گلے لگایا۔۔
“مم میں بب بہت خو خوش ہو ہوں۔۔بھرائی ہوئی آواز میں تہذیب نے کہا۔۔
تعدیل اپنی بہن کے کندھے پر سر رکھ کر مسکرا دی۔۔
“ہد یدبر آ آؤ۔۔۔تہذیب تعدیل کے پاس سے اٹھ کر مسکرا کر
اسے بولی جو خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھ کر تہذیب کو دیکھنے لگا۔۔۔
اس سے قبل وہ کچھ کہتا عاصم صاحب اور بینش بیگم اندر داخل ہوئیں۔۔
تہذیب اور تعدیل خوشی سے چیختی انکی طرف بڑھیں۔۔۔
“آرام سے لڑکی ہوش کرو۔۔۔ ہدبر بے ساختہ بولا۔۔۔ جو بینش بیگم کے سینے سے لگی ہدبر کی بات پر مسکرا کر زبان چڑھا کر انکی طرف متوجہ ہوگئی ۔
“اب ابّو۔۔۔ تہذیب بھرائی ہوئی آواز میں باپ کے سینے سے لگ کر بنا آواز کے رونے لگی۔۔
“کیسی ہو تہذیب ؟
“ٹھ ٹھیک ہو یوں اب ابو۔۔۔ آ آپ ک کی بہ بہت یا یاد آآ آئی۔ ۔۔
تہذیب نے سر اٹھا کر عاصم صاحب کو دیکھ کر کہا۔۔
“اب تو آگیا ہوں نہ ہمم۔۔۔ عاصم صاحب نے کہ کر تہذیب کی پیشانی چومی۔۔
ہاشم خاموش کھڑا اسے دیکھے جا رہا تھا جو باپ کے سامنے پہلے جیسی تہذیب بن گئی تھی۔۔۔۔
ہم کتنے ہی بڑے ہوجائیں ماں باپ کے لئے بچے ہی رہتے ہیں۔۔
“آپی اتنا تو آپ اپنی رخصتی کے وقت بھی نہیں روئی ہونگی جتنا ابھی رو رہی ہے۔۔ تعدیل نے شرارت سے کہا بینش بیگم ہنس دیں جب کے تہذیب مسکرا بھی نہ سکی۔۔
“آپ خوش ہیں۔۔۔تعدیل ہدبر کے پاس صوفے پر بیٹھ کر اسکے کندھے پر سر رکھ کر بولی جو کسی گہری سوچ میں تھا۔۔۔
تعدیل کی آواز پر چونکہ پھر گہری سانس لیکر اسے اپنے حصار میں لیتا سر پے اپنے لب رکھے۔۔۔
“یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے میں بہت زیادہ خوش ہوں۔۔
“اچھا پھر کیا سوچا جا رہا ہے؟ تعدیل نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا۔۔
“تعدیل اگر میں تمہے بتاؤں تو وعدہ کرو اس کا ذکر کبھی بھی کسی سے نہیں کروگی۔۔ہدبر نے ٹہر ٹہر کر کہا۔
“ایسی بھی کیا بات ہے تعدیل پیچھے ہوکر سیدھی بیٹھتی ہدبر کو دیکھنے لگی۔۔
“ہدبر لمبی سانس لیکر اسے سب بتانے لگا۔۔۔
“ہا ہاشم۔۔۔
“ہممم۔۔۔۔
“مم میں آ آپ س سے بب بہت مم محبت ک کر کرتی ہو ہوں۔۔۔۔ تہذیب نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسکے سینے پر تھوڑی ٹیکا کر کہا ہاشم جو آنکھیں موندے۔ہوۓ تھا۔۔پٹ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا ۔۔
“اور جانتی ہو تم سے زیادہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔ہاشم نے کہ کر انگوٹھے سے اسکا گال سہلایا۔۔
“جا جانتی ہو ہوں ۔۔ تہذیب نے اپنے گال پر رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا پھر لبوں تک لاتی چوم کر ہاتھ کو اسی طرح پکڑے رکھ کر دوبارہ سر سینے پر رکھ کر آنکھیں موند گئی۔۔ ہاشم مسکراتا اسکے سر کو دیکھتا چلا گیا۔۔
نو مہینے بعد:
“اس اسلام ع علیکم آ آپ آگئے۔۔۔۔تہذیب تیزی سے ہاشم کو گاڑی سے اترتا دیکھ کر بھاگی جو آج اکیلے ہی آفس گیا تھا سات بج رہے تھے موسم بھی بہت اچھا تھا
ہاشم اسے دیکھ کر مسکراتا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا خوش لگ رہا تھا تہذیب کو دیکھ کر آگے بڑھ کر سر چومتا سلام کا جواب دیتا تیزی۔سے ہدبر کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔
ہاشم نے جیسے ہی اندر قدم رکھا ہدبر کو دو نننے مہمانوں کو دیکھ کر لمحے بھر کے لئے روکا۔
“السلام علیکم ہاشم بھائی۔۔۔حماد نے دیکھ کر چہک کر سلام کیا۔۔
“وعلیکم اسلام۔۔۔ ہاشم کہ کر ہدبر سے گلے لگا۔۔
“بہت مبارک ہو باپ بن گئے۔۔ ہاشم سے دل سے کہا۔۔
“ہدبر کی آنکھوں میں اچانک آنسوں آگئے۔
“بہت شکریہ ہاشم بھائی۔۔۔ ہدبر کہ کر ہاشم کو بچوں کے قریب لے گیا۔۔
کمبل میں لپٹے دو نننے پھول دیکھ کر ہاشم کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔۔
تہذیب اندر داخل ہوئی ہاشم کو دیکھ کر اسکا دل بھر آیا۔۔
“امی دیکھیں بلکل روئی کے گالے ہیں دونوں۔۔۔ ہاشم آنکھوں میں آنسوں لیے مسکرا کر نگہت بیگم سے بولا جو دکھ سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔۔
“مم میری با باری ا اب تہذیب ضبط کرتی ہاشم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
“تم نے دیکھا نہیں تھا۔۔ہاشم اٹھنے کے بَجآیے سوال کرنے لگا۔
“نہیں ہاشم بھائی بھابھی اپکا انتظار کر رہی تھیں
تہذیب کے جواب دینے سے پہلے ہی ردا بول پڑی
تہذیب نے جھک کر بچہ اٹھایا۔۔
“ما ماشاءالله کک کیا نا نام رک رکھا ہ ہے۔۔۔
تہذیب گال پر نرمی سے چوم کر آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے پوچھنے لگی۔۔
تعدیل اپنی آپی کو دیکھنے لگی پھر اپنے باپ کو دیکھنے لگی جسے حقیقت کا کل ہی پتہ چلا تھا۔
“بھابھی۔۔ہدبر قدم قدم چلتا ہاشم اور تہذیب کے قریب آیا تہذیب نے سر اٹھا کر سوالیہ انداز میں دیکھا۔۔
تعدیل اور میں نے فیصلہ کیا ہے ہدبر نے کہ کر بیڈ پر لیٹا اپنا بیٹا احتیاط سے گود میں اٹھایا جسے تہذیب نے اس کی بات سننے کے لئے واپس لیٹا دیا تھا۔۔
سب ہدبر کو دیکھ رہے تھے۔ جب ہدبر نے اپنا بیٹا تہذیب کی گود میں دیا۔۔
“بھابھی اب سے یہ آپ کا۔۔ ہدبر نے مسکرا کر کہا تہذیب اور ہاشم سن ہوگئے۔۔
جب کے سب کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔
“ہدبر۔۔
“ہاشم بھائی کچھ مت کہیں پلیز۔۔ ہدبر کے کچھ کہنے سے قبل ہی تعدیل مسکرا کر بولی۔۔
“تہذیب اسی طرح کھڑی بچے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“بھابھی اب سے یہ آپ کا۔۔۔ہدبر کی کہیں بات اسکے آس پاس گردش کرنے لگی۔۔
“م میرا مم میرا بببچ بچہ ہا ہا ہاشم ہم ہمارا بچ بچہ۔۔۔مم میرا۔۔
تہذیب نرمی سے بچے کو چھوتی ہاشم سے بولی جو آنکھوں کو رگڑتا ہدبر سے گلے لگ گیا تھا۔۔ تہذیب آنسوں پوچھتی تعدیل کی طرف بڑھ گئی جو مسکرا کر ان سب کو دیکھ رہی تھی۔۔
“مجھے فخر ہے آج اپنے بیٹوں پر نگہت بیگم مسکرا کر بولیں۔۔۔
“تع تعدیل شک۔۔۔
“ہونہہ آپی غیروں کی طرح مت کریں۔۔تعدیل نے بیچ میں ہی ٹوکا۔۔
“تہذیب مسکرا کر بچے کو دیکھنے لگی۔۔
بینش بیگم نے آگے بڑھ کر باری باری دونوں کو سر پر پیار دیا۔۔
“نام سوچا ہے۔۔۔ وردہ بیگم نے مسکرا کر پوچھا۔
“حاذق ۔۔۔ ہاشم جھٹ کہتا تہذیب کے ساتھ بیٹھا
“ماشاءالله بہت پیارا نام ہے اور ہدبر تم نے کیا سوچا ہے۔۔۔ نگہت بیگم کہتں ہدبر کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔
“ہدبر اور تعدیل نے ایک دوسرے کو دیکھا
“حورم ۔۔ ہدبر نے کہ کر مسکرا کر اپنی بیٹی کو دیکھا پھر ہاشم کو جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
ہاشم نے تہذیب کے گرد بازو حائل کیے جو حاذق کو چاہت سے دیکھ رہی تھی۔۔
“ہمارا بیٹا۔۔۔ہاشم نے اسکے قریب سرگوشی کی تہذیب نے اسے دیکھ کر مسکرا کر “ہا ہاں” کہا۔۔
ختم شد!!
