Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21

اگلے دن ہاشم آفس سے آتے وقت ہدبر کے ساتھ تہذیب کو لینے آیا۔۔۔
گاڑی پورج میں روکتے ہی اسے تہذیب لان میں ہی آنکھوں پر ڈوپٹے کو باندھے تعدیل کو پکڑنے کی کوشش میں تھی
جب کے تعدیل لبوں پر ہاتھ رکھے ہنسی روکے اس سے بچنے کے لیے ادھر ادھر ہو رہی تھی۔۔۔
تہذب کو دیکھتے ہی اسکی ساری تھکن اڑان چھو ہوگئی۔۔۔جب کے ہدبر گاڑی سے اتر چکا تھا۔۔۔
“تعدیل کی نظر جیسے ہی ان دونوں پر پڑی جھٹ اشارے سے سلام کرتی دونوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی۔۔
“آپی پکڑ بھی لیں یار۔۔۔۔ تعدیل نے شرارت سے زور سے کہا
تہذیب تیزی سے اسکی آواز پر قریب آنے لگے جب ہاشم جلدی سے اسکے سامنے جا کھڑا ہوا تہذیب نے جلدی سے اسکے گرد بازو پھیلائے
“پک پکڑ ل لیا۔۔۔تہذیب نے چہک کر کہا یکدم خود ہی خاموش ہوگئی۔۔۔۔۔ جب کے تعدیل کا قہقہ چھوٹ گیا۔۔
ہاشم نے مسکرا کر ایک ہاتھ اسکی کمر پر رکھا جب کے دوسرے ہاتھ سے آنکھوں سے ڈوپٹہ اتارا۔۔۔
“اتنی محبت سے پکڑا ہے میں تو اب نہیں چھوڑنے والا۔۔ ہاشم نے ہلکی آواز میں اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہا جو اسے حیرت سے دیکھ کر یکدم مسکرائی تھی۔۔
“آپی میں تو یہاں۔۔۔آ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے آپی ہاشم بھائی۔۔۔۔ میں نے کہا کہاں لیکر جا رہے ہو۔۔۔۔
تعدیل جو چہک کر کہنے لگی تھی ہدبر کے ہاتھ کھینچ کر اندر لیجانے پر چیختی رہ گئی۔۔۔۔
“شرم نہیں آرہی میرے بھائی بھابھی کے بیچ میں کباب میں ہڈی بن رہی ہو چلو اندر تمہاری تو آج شامت لگواتا ہوں۔۔۔
توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے بچیاں بگڑ گئی ہیں . ہدبر اسکی سنے بغیر خود ہی بولے جا رہا تھا۔۔۔۔
ہاشم اور تہذیب دونوں ہنس دیے۔۔۔
“چلو مسز ہاشم گھر تمھارے بغیر چین نہیں آرہا۔۔۔ہاشم نے محبت سے کہتے اسکے ماتھے پر پیار دیا۔۔۔
💗💗💗💗
آدھا راستہ ہی کٹا تھا جب ہدبر نے یکدم ہاشم اور تہذیب کو مخاطب کیا۔۔۔
“کیا کہنا ہے ؟ ہاشم نے اچھنبے میں اسے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
“یار ہاشم بھائی خود تو آپ کی ماشاءالله شادی ہوگئی ہے اب میرا بھی خیال کریں اچھا خاصا خوبرو ہوں کماتا بھی اچھا ہوں ایک عدد بیوی کی ذیمداری اٹھا سکتا ہوں۔۔
ہدبر نے منہ بنا کر اپنا دکھڑا رویا جو کچھ دنوں سے وہ نگہت بیگم کے سامنے رو چکا تھا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا کیوں کے انکا کہنا تھا ابھی ایک بیٹی کو رخصت کیا ہے دوسری کے لئے وقت چاہیے جو ہدبر کو کسی طور منظور نہیں تھا۔۔
“ایک عدد بیوی کے بچے انکل نے منگنی کے لیے ایک مہینے کا وقت مانگا ہے۔۔۔
“کیا ؟ ایک مہینہ اسکے بعد بھی منگنی یہ تو ظلم ہے میں احتجاج کروں گا۔۔۔۔ بھابھی پلیز آپ مدد کریں میری ہاشم بھائی تو ہیں ہی سڑو۔۔۔
ہدبر صدمے سے کہتا پلٹ کر تہذیب سے بولا جو مسکرا رہی تھی۔۔
“ہاشم نے سڑو کہنے پر اسے گھورا۔۔۔
“م میں با بات ک کروں گ گی۔۔تہذیب نے مسکراہٹ روک کر کہا ۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی بات ماننے کی۔۔۔ ہدبر بچوں کی طرح ضد مت کرو جب وقت مانگا ہے تو کسی وجہ سے ہی مانگا ہوگا۔۔
ہاشم نے یکدم سختی سے تہذیب کو جھڑک کر ہدبر کو کہا گاڑی میں یکدم خاموشی چھا گئی جو سارے راستے رہی۔۔۔
گاڑی کے روکتے ہی ہدبر منہ بنا کر اتر کے پچھلا دروازے کھول کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
تہذیب گاڑی سے باہر آئی ہدبر اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر جانے لگا۔۔
“اوئے میری بیوی کو کہاں لیکر جا رہے ہو؟ ہاشم نے اتر کر آواز دی۔۔
“ہم ناراض ہیں بھابھی کے ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری اور آپ نے کتنی بے عزتی سے ڈانٹا ہے میں ابھی سب کو جاکر بتاتا ہوں.
ہدبر نے پلٹ کر جواب دیا ہاشم اور تہذیب نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
“تم بھابھی کی ہمدرد کی گولی۔۔ میں نے بس اسے کہا تھا اور جب تم سے کہ دیا ہے کے ایک مہینے بعد تو کیا جلدی ہے بات تو پکی ہوچکی ہے رہی رسم تو وہ بھی ہوجائے گی۔۔کبھی کبھی صرف اپنا فائدہ نہیں دیکھتے۔۔۔ چلو اب چھوڑو میری بیوی کو
ہاشم نے کہتے ساتھ ہی تہذیب کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
“اوکے جائیں معاف کیا لیکن بھابھی آپ نے معاف نہیں کرنا۔۔۔۔ ہدبر شرارت سے کہتا اندر بڑھا
تہذیب نے مسکرا کر ہاشم کی طرف دیکھا پھر ناک چڑھا کر ہاتھ چھڑوا کر اندر بڑھ گئی۔۔جب کے ہاشم سرد آہ بھر کر رہ گیا۔۔۔
💗💗💗💗
“ک کیا کر ر رہے ہیں۔۔۔تہذیب کھڑی کھولے کھڑی تھی جب ہاشم نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔
“ناراض ہو؟
“ن نہیں۔۔۔تہذب نے کہتے ہی سر گھوما کر اسے دیکھا جو جسکا چہرہ بہت نزدیک تھا.
“پکّا۔۔۔۔ہاشم نے کہتے ہی اسکی ناک کی نوک کو لبوں سے چھوا۔۔۔
“ج جی پ پکا۔۔تہذیب کہ کر مسکرائی۔۔۔
“اچھا تمھارے لئے کچھ لیا تھا۔۔۔ ہاشم کو یکدم یاد آیا۔۔۔
“کک کیا؟
“اس کے لئے تمہے اپنی آنکھیں بند کرنی پڑیں گی چلو جلدی سے آنکھوں بند کرو۔۔۔ ہاشم نے بےصبری سے کہا۔۔
تہذیب نے مسکرا کر آنکھوں پر ہاتھ رکھا ہاشم اسے لیکر ٹیبل کے پاس لیکر آیا۔۔۔
“اب آپ اپنی آنکھیں کھول سکتی ہیں۔۔۔ ہاشم سے کان کے قریب سرگوشی کی۔۔
تہذیب نے مسکرا کر آنکھیں کھولیں سامنے ہی ٹیبل پر کیک کینڈلز اور بوکٹ سے ٹیبل کو خوبصورت سے سجایا ہوا تھا تہذیب ابھیتک حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ہاشم اسے کھڑکی سے باہر دیکھتا خاموشی سے سیٹ کر چکا تھا تہذیب سوچوں میں اتنی محو تھی کے اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔
“ہیپی برتھڈے مسز ہاشم۔۔۔۔ ہاشم نے پیچھے سے اسکے کان میں کہ کر کنپٹی چومی۔۔
تہذیب اسکی طرف گھوم کر ہاشم کے سینے سے لگ گئی۔۔
“تھ تھینک یو س سو مچ ہا ہاشم مم میں ت تو ب بھو بھول ہی گ گئی تھ تھی۔۔۔تہذیب نے خوشی سے کہا۔۔۔
“ِیو ویلکم میری جان۔چلو کیک کاٹو ۔۔ہاشم مسکرا کر اس سے پیچھے ہوا۔۔۔
تہذیب نے کیک کٹ کر کے ہاشم کو کھلایا جب دروازے پر یکدم دستک ہوئی ۔۔
ہاشم نے زور سے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔۔۔”اف میں تو بھول ہی گیا۔۔
تہذیب نے انگلی پر لگے کیک کو صاف کیا پھر آگے بڑھ کر جیسے ہی دروازہ کھولا غباروں اور اسنو کے ساتھ گھر کے سب فرد زور و شور سے ہیپی برتھڈے گاتے ہوۓ اندر آئے۔۔
نگہت بیگم نے دعا دے کر گلے لگایا۔۔۔
حماد جو سب کے گفٹس پکڑے ٹیبل پر رکھنے لگا تھا کٹے ہوۓ کیک کو دیکھ کر صدمے میں چلا گیا۔۔۔
ہاشم اپنی شامت آنے سے پہلے ہی باتھروم کی طرف بھاگ کر لاک لگا چکا تھا۔
“کیا ہوا رکھ دو گفٹس۔۔۔نگہت بیگم سب کے ساتھ قریب آکر بولییں۔۔
“ہدبر بھائی ہاشم بھائی نے چیٹنگ کی ہے کیک کاٹ بھی لیا اوپر سے میں نے کہا بھی تھا کے یہ سائیڈ میری ہے۔۔۔
حماد رو دینے کو تھا تہذیب کو شدت سے ہنسی آئی لیکن ضبط کیے کھڑی رہی۔۔
“کوئی بات نہیں حماد چلو آؤ تہذیب کیک کاٹو۔۔نگہت بیگم نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔
“لیکن ۔۔۔ . حماد نے پھر کچھ کہنا چاہا۔۔
“کچھ لیکن ویکن نہیں ہاشم بھائی کا پہلے حق ہے اب تم کیک کا کوئی اور حصہ کھا لینا۔۔۔ردا یکدم اسے گھورتے ہوۓ بولی۔۔
“کیا میں بھی آجاؤں؟ ہاشم نے باتھروم سے جھانک کر کہا۔۔۔
ہاشم کے بیچارگی سے کہنے پر سب نے قہقہ لگایا جب کے حماد اب تک کیک کے حصّے کو صدمے سے دیکھ رہا تھا۔
جاری ہے
💗💗💗💗

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *