Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25

تقریب اپنے عروج پر تھی تعدیل بار بار تہذیب کو دیکھنے کے لئے پورے لان میں نظر گھوما رہی تھی لیکن وہ اسے کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی۔۔
“اہم اہم تم کسے ڈھونڈ رہی ہو میں تو یہاں بیٹھا ہوں۔۔
ہدبر نے گلا کھنکھار کر ہلکی آواز میں اسے چھیڑا جو جھنجھلا کر اسے گھورنے لگی۔۔
“اوکے اوکے مت دیکھو لیکن اس طرح سے مت گھورو ایسا لگ رہا ہے کھا جاؤ گی مجھے۔۔۔
ہدبر اسکے گھورنے پر دونوں ہاتھ اٹھا کر سیدھا بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔
“یہ آپی کہاں چلی گئی ہیں۔۔۔ تعدیل سوچ کر رہ گئی۔۔
💗💗💗💗
“ہاشم بھائی میں نے کہا تھا میں چلتا ہوں ساتھ لیکن مجھے روک دیا آپ کی قسم ۔۔۔
حماد ہاشم کے ساتھ گیٹ سے تیز تیز چلتا گاڑی کی طرف آرہا تھا۔۔
حماد نے منمنا کر اپنی صفائی پیش کرنا چاہی جو اسے گھورے جارہا تھا۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے قسمیں نہیں کھاتے۔۔۔۔افف ایک تو محترمہ کو پتہ نہیں کام کا کونسا دوہرا پڑا ہے سامنے تو آئے میرے بچے کو سنسان۔۔۔۔۔۔
ہاشم جھنجھلاہٹ سے کہتے گاڑی کے قریب پہنچا لیکن نیم بیہوش سر سے خون بہتے تہذیب کے وجود کو دیکھ کر اسکے پیروں سے زمین نکل گئی۔۔۔
جب کے آدھی بات بھی حلق میں کہیں دب گئی ہو۔۔۔
“بھابھی!! حماد کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی یکدم ہی اسکی چیخ نکل گئی
ہاشم چیخ کی آواز پر جیسے ہوش میں آیا آگے بڑھ کر لڑکھڑا کر اسکے قریب گرنے کے انداز میں بیٹھا
تہذیب کے سفید لباس پر خون کے دھبّے دیکھ کر اسے لگا جیسے دل کسی نے مٹھی میں جکڑ کر مسل ڈالا ہو۔۔
تت تہذیب۔۔۔ ہاشم کے ہونٹ ہلے کانپتے سرد ہوتے ہاتھوں سے ہاشم نے اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر دوبارہ پکارنے لگا۔۔۔
“بلی او اوئے تت تہذیب لڑکھڑاتی زبان میں بولتے اچانک اسے بچے کا خیال آیا۔۔
مم میرا میرا بچہ۔۔۔تہذیب۔۔تہذیب ۔۔ہم ہمارا بچہ۔۔۔تہزبیب۔۔ پلیز
ہاشم کی آنکھیں سے لگاتار آنسوں گر رہے تھے۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا دماغ سن ہورہا تھا۔۔۔۔
اسے یہ تک پتہ نہیں چلا کے حماد تیزی سے گھر کی طرف بتانے بھاگا ہے۔۔
“ہم ہمارا بچہ تت تہذیب۔۔۔ ہاشم نے ہچکی لیتے اسکے پیٹ پر نرمی سے ہاتھ رکھا پھر جھک کر اپنے لبوں سے پیٹ کو چومتا شدّت سے بچوں کی طرح رونے لگا۔۔۔
“ہدبر گاڑی چلاتا تیزی سے انکی طرف آیا دیکھتے ہی دیکھتے سب ان دونوں کی طرف پہنچ چکے تھے۔۔۔
تہذیب کو اس حالت میں دیکھ کر ایک کہرام برپا ہوگیا تھا۔۔۔ تعدیل زور زور سے رو رہی تھی کے سمبھالنا مشکل ہوگیا۔۔۔
عاصم صاحب کو احمد صاحب نے سمبھالا۔۔۔
“ہاشم بھائی سمبھالیں خود کو پلیز بھابھی کو علاج کی ضرورت ہے۔۔۔
ہدبر بہتے آنسوؤں کے ساتھ ہاشم کو ہٹاتا تہذیب کو اٹھانے لگا۔۔۔
“ن نہیں ہدبر میں اٹھاتا ہوں جانتے ہوں ورنہ بعد میں مجھ سے ناراض ہوجائے گی۔۔
ہاشم اسے کہتے تہذیب کو گود میں اٹھا کر گاڑی کی پچھلی طرف لیٹاتا خود بھی بیٹھ گیا۔۔
💗💗💗💗
ہسپتال پہنچتے ہی تہذیب کو اسٹریچر پر لیتا کر تیزی سے آپریشن تھیٹر کی طرف لے جانے لگے۔
“ت تہذیب کک کچھ کچھ نہیں ہوگا تمہے۔۔۔۔ ہاشم بار بار یہی الفاظ دوہرا رہا تھا
ہر ایک فرد رو رہا تھا جہاں کچھ گھنٹے پہلے خوشیاں قہقہے تھے وہاں چیخیں اور آنسوؤں کا سیلاب اُمنڈ آیا تھا
(اللّه کسی کو ایسا وقت نہ دیکھائے)
عاصم صاحب جو پہلے ہی اتنے کمزور ہو رہے تھے بیٹی کو اس طرح دیکھ کر بلکل ڈھ گئے۔۔
“یا اللّه جانے کس کی نظروں نے کھا لیا میرے گھر کو۔۔۔۔۔ یا اللّه یہ کیا ہوگیا۔۔۔۔
نگہت بیگم زاروقطار روتے ہوۓ بول رہی تھیں
جب کے ہاشم چپ چاپ آپریشن تھیٹر کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
💗💗💗💗
طویل جان لیوا انتظار کے بعد ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آئیں۔۔
ہاشم جو دیوار کے ساتھ ہی نیچے بیٹھ کر چہرے پر ہاتھ رکھے بیٹھا تھا۔۔تیزی سے اٹھا۔۔
“کسی ہے میری تہذیب ٹھیک ہے ناں کیا میں اس سے مل سکتا ہوں۔۔۔۔
ہاشم نے ایک ہی سانس میں سب کہ دیا۔۔۔ جب عاصم صاحب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“صبر بیٹا انہیں بولنے تو دو۔۔۔ مردہ سی آواز میں کہتے وہ ڈاکٹر کو دیکھنے لگے۔۔۔۔جو ترحم بھری نظروں
سے انھیں دیکھ رہی تھییں جس
میں رشک بھی تھا اور افسوس بھی۔۔
“سر سے خون زیادہ بہہ گیا تھا لیکن اللّه کا شکر ہے اب وہ ٹھیک اور خطرے سے باہر ہیں۔
گرنے کی وجہ سے ہاتھ پیر چھل گئے ہیں۔۔۔
“بچہ میرا بچہ۔۔۔ ہاشم نے اللّه کا شکر کرتے یکدم تیزی سے پوچھنے لگا۔
سب ڈاکٹر کو امید سے دیکھنے لگے
“سوری بچہ ایکسپائرڈ تھا۔۔۔۔ڈاکٹر تھوڑا ہچکچائی۔۔۔
یکدم ہر چیز جیسے ساکت ہوگئ جب کے ہاشم سفید پڑھنے لگا کیا کچھ نہیں یاد آگیا۔۔
کیلنڈر پر روز ایک ایک دن مارک کرنا کتنی بےصبری تھی روز کپڑے کھلونے لانا۔۔۔۔ سب جیسے چکنا چور ہوکر رہ گیا۔۔۔ڈاکٹر کہ کر آگے بڑھ گئی۔
💗💗💗💗
اگلی صبح تہذیب کو روم میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔۔
سب تہذیب سے مل کر اسے حوصلہ دیتے رہے جب کے ہاشم ابھی تک تہذیب کے پاس نہیں گیا تھا
ڈاکٹر نے صبح ہی ہاشم کو اپنے آفس میں بلا کر جو خبر سنائی تھی وہ کتنے گھنٹے ہسپتال سے نکل کر گاڑی میں بیٹھا ہچکیوں سے روتا رہا تھا۔۔۔۔
جب کے دوسری طرح تہذیب کو صرف اسکا انتظار تھا۔۔۔
💗💗💗💗
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *