Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01

اندر داخل ہوتے ہی وہ سارے گھر میں بھاگ بھاگ کر اپنے نئے گھر کو دیکھ رہی تھی خوشی سے چہرہ کھل اٹھا تھا۔۔۔۔ جب کے عاصم صاحب صوفے پر بیٹھتے اپنی نو سالہ بیٹی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔۔۔
“تہذیب !! عاصم صاحب کی آواز پر تہذیب جس رفتار سے کمرے میں گئی تھی اسی رفتار سے پلٹ کر اپنے باپ کے پاس آئی تھی۔۔۔”جج جی ا اب ابو؟
“گھر اچھا لگا؟ عاصم صاحب نے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ بیٹھاتے ہوۓ پوچھا جس نے اسی پرجوش میں زور زور سے سر اثباب میں ہلایا۔۔۔
“ا اب ابو کک کیا ام امی۔۔۔
“ہاں تمہاری امی اور چھوٹی بہن بھی ہمارے ساتھ رہیں گے۔۔۔۔۔عاصم صاحب اسکی بات مکمل ہونے سے قبل ہی بول پڑے۔۔
“اچھا چلو تمہارا کمرہ دکھاتا ہوں جب تک آرام کرلو پھر شام کو تمہاری امی اور بہن کو لینے چلیں گے۔۔۔
عاصم صاحب کہتے ہوۓ اٹھ کر اسے ساتھ لئے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
“بینش تم میری بات سمجھ رہی ہو یا نہیں ؟ شمائلہ بیگم نے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
“امی میں ابھی کچھ نہیں کر سکتی عاصم کو کہا تھا اسے بورڈنگ بھیج دیں لیکن نہیں اپنی محبوب بیوی کی نشانی کو ہمارے سر پر بیٹھا کر جو نچانا ہے پہلے اس عورت نے میرے شوہر کو پھنسایا کتنا تڑپی تھی میں عاصم کے لئے لیکن وہ اس آرزو کے دیوانے تھے اور اب اپنی اس ہلکلی بیٹی کو پیدا کر کے خود تو مر گئی۔۔۔ آپ دیکھئے گا میں اپنی تعدیل کا حق اس لڑکی سے چھینے نہیں دونگی ۔۔میرے ساتھ جو حق تلفی شروع سے ہوئی آ رہی ہے وہ میں اپنی بیٹی کے ساتھ ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔۔۔بینش بیگم نے زہر خند لہجے میں کہا۔۔
“خیر اب ایسا کچھ مت کرنا اسی لڑکی کی وجہ سے ہی اس نے تم سے شادی کی ہے۔۔۔
“مجبوری میں وہ ابھی بھی اس عورت کو بھولے نہیں ہیں۔۔بینش بیگم نے اپنی ماں کی بات پر غصّے سے کہا۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے لیکن اب وہ نہیں ہے صرف تم ہو اسکی بیوی۔۔۔ تہذیب اٹھارہ سال کی ہوجائے تو بیاہ دینا کسی دوسرے شہر تاکہ آنا جانا نا ہونے کے برابر ہو جائے۔۔۔ شمائلہ بیگم نے لاپرواہی سے کہتے ہوۓ کہا۔ ۔
“ہنہہ اس سے شادی کرے گا کون نہ تو اتنی گوری ہے نہ ہی قد کاتھ ہے ماشاءالله میری بچی کو دیکھیں ابھی سے ہیرا لگتی ہے۔۔۔ بینش بیگم نے نحوست سے کہا۔۔
“ابھی چھوٹی ہے گوری نہ سہی لیکن کالی بھی نہیں ہے خوبصورت نین نقش ہیں۔ شمائلہ بیگم نہ چاہتے ہوۓ بھی تہذیب کی طرف داری کر گئیں بینش بیگم کی بات انہیں ہضم نہیں ہوئی تھی۔۔
اس سے پہلے بینش بیگم کوئی جواب دیتیں تعدیل دروازہ کھولتی اپنی ماں کی طرف آائی
“بینش بیگم نے محبت سے اپنی چھ سالہ بیٹی کا ہاتھ تھاما جو اپنے باپ کے انے کا بتا کر ہاتھ چھڑواتی واپس بھاگ گئی۔۔
“چلیں امی آگئے یہ۔۔۔بینش بیگم کہتی اٹھ کر کمرے سے نکل گئیں۔۔۔۔
⭐⭐⭐
ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے وہ چار نفوس ناشتہ کرنے میں مشغول تھے جب کوئی سیڑیوں سے اترتا۔تیزی سے نیچے آیا۔۔۔۔
“گڈ مارننگ!! ہاشم زور سے کہتا کرسی کھنچ کر بیٹھا۔۔۔
“ہاشم بھائی آپ کو پتہ ہے ابّو ہم تینوں بھائیوں کو امریکا بھیج رہے ہیں پڑھنے کے لئے۔۔۔۔ وہاں ہم پھوپھو کے گھر پر رہیں گے۔۔۔۔
حدبر نے اپنے بڑے بھائی کو دیکھتے ہی پرجوش ہوکر بتایا۔۔۔ جس نے سن کر اپنے ماں باپ کی طرف دیکھا۔۔
“کیا ہوا خوشی نہیں ہوئی سن کر ؟ نگہت بیگم نے اپنے اکھڑ مزاج بیٹے کو دیکھ کر پوچھا جس نے کندھے اچکا کر اپنے باپ کو دیکھا۔۔
“ابّو میں کہیں نہیں جاؤں گا یہیں پڑھونگا اپنے ملک میں۔۔۔۔ سنجیدگی سے کہتے ہاشم نے آملیٹ کھانا شروع کیا۔۔۔
حدبر اور حماد نے حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھا جب کے وقاص صاحب نے ” اوکے ” کہ کر دوبارہ ناشتے کی جانب متوجہ ہوگئے۔۔۔
“لیکن ابّو ہاشم بھائی کو جانا چاہیے۔ آپ فورا مان گئے۔۔ حماد نے اسی حیرت سے کہا۔۔۔
“بیٹا یہ تم دونوں کا فیصلہ ہے امریکا جانے کا ورنہ یہاں بھی تعلیم حاصل کر سکتے ہو ہم نے بھی اپنے پاکستان میں ہی پڑھا ہے۔۔۔اور ہاشم کل ایڈمشن کے لئے چلیں گے ابھی میری امپورٹنٹ میٹنگ ہے جلدی جانا ہے اوکے۔۔۔۔وقاص صاحب کہتے اٹھ کر چلے گئے۔۔۔
ہاشم اوکے کہتا کندھے اچکا کر پلیٹ پیچھے کرتا اٹھ گیا۔۔۔
“امی ہاشم بھائی پاگل ہیں ۔۔۔حماد نے اسکے جاتے ہی کہا۔۔
“حماد ایسے نہیں کہتے۔۔نگہت بیگم نے ٹوکا۔۔
“ہاہاہا ! ہاشم بھائی نے اگر سن لیا نا تو اچھی خاصی مار پڑ جائے گی۔۔۔حدبر نے ہنستے ہوۓ کہا نگہت بیگم دونوں بیٹوں کو گھورتے ہوۓ اٹھ گئیں۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
“میں پوچھتی ہوں کیا ضرورت تھی اتنے مہنگے اسکول میں ایڈمیشن کروانے کی۔۔۔ وہ کیسے امیر بچوں میں گھل مل سکے گی۔۔۔۔
بینش بیگم تہذیب کے ایڈمشن کا سنتے ہی آپے سے باہر ہوتی عاصم صاحب کے سامنے جا کر چختے ہوۓ بولیں
عاصم صاحب جو تہذیب اور تعدیل کے ساتھ بیٹھے دونوں کا کورس دیکھ رہے تھے ناگواری سے اپنی بیوی کو گھورنے لگے تہذیب اور تعدیل نے بھی حیرت سے اپنی ماں کو دیکھا جو جاہل عورتوں کی طرح اپنے شوہر سے لڑنے کے لیے کھڑی تھیں۔۔۔
“آ امی ک ۔۔۔۔
“تہذیب آپ خاموش رہیں بیٹا۔۔۔ اور تم بینش بیگم جاؤ یہاں سے آتا ہوں میں۔۔۔عاصم صاحب تہذیب کو ٹوک کر غصّے کو ضبط کرتے ہوۓ بولے۔۔۔
“کیوں جاؤں میں آپ کو نہیں پتہ وہ بیچاری سہی سے بات نہیں کر پاتی۔۔۔بینش بیگم عاصم صاحب کے غصّے کو دیکھتے ہی دھیمی پَڑیں۔۔۔
“کیا بچکانہ بات ہے مجھے ایک پڑھی لکھی عورت سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی۔۔۔ تہذیب ایک زہین بچی ہے اسکا زبان سے ہکلانا کوئی ایسی بھی بڑی بات نہیں ہے جس کو لیکر تم اتنا چلا رہی ہو۔۔عاصم صاحب غصّے سے کہ کر اٹھ کر کمرے سے نکل گئے۔۔
جب کے بینش بیگم اندر ہی اندر سلگ کر رہ گی
⭐⭐⭐
“ہاشم بھائی ماموں لوگ آئے ہیں۔۔۔۔ حماد تیزی سے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولتے ہوۓ اندر آیا۔۔۔۔
ہاشم اور ہدبر نے بیک وقت پلٹ کر دیکھا۔۔۔ہاشم کو دیکھ کر حماد نے تیزی سے ایک قدم پیچھے لیا جو اسے گھور رہا تھا۔ ۔
“حماد کان پکڑو اور سوری کرو۔۔۔۔ہدبر نے بڑے بھائی کو کن اکھیوں سے دیکھتے چھوٹے بھائی سے کہا جس نے جھٹ اسکی بات سن کر عمل کیا۔۔
“سوری ہاشم بھائی۔۔حماد نے کان پکڑ کر معصومیت سے کہا۔۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔تم دونوں چلو اتا ہوں میں ۔۔ ہاشم کہ کر اپنے بیگ کی زپ بند کرتا باتھ روم چلا گیا۔۔۔
“اوئے ارتضیٰ اور عریشہ آئے ہیں کیا۔۔۔ہدبر ہاشم کے جاتے ہی رازداری سے پوچھنے لگا۔۔۔
“عریشہ آئی ہے۔۔۔ مامی کہ رہی تھییں ارتضیٰ بھائی اپنے دوست کے گھر گئے ہوۓ ہیں برتھڈے پارٹی پر۔۔۔ دونوں باتیں کرتے کمرے سے نکل گئے.
اب کسے پتہ ارتضیٰ احمد واقعی دوست کی طرف گیا تھا یا یہ صرف نہ آنے کا بہانہ گڑھا تھا۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
ارتضیٰ تم اپنے کزنز کو پسند نہیں کرتے ؟ شمائل نے ٹیبل سے جوس کا گلاس اٹھا کر سپ لیتے ہوۓ ارتضیٰ سے کہا جو ٹی وی پر ریسلینگ دیکھ رہا تھا۔۔
شمائل اسکا دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا پڑوسی بھی تھا دونوں اس وقت ارتضیٰ کے کمرے میں تھے۔۔
“ہاں نہیں کرتا بلکے میں پھوپھو کی فیملی کو بھی پسند نہیں کرتا اور وہ ہاشم اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے امیر اور خوبصورت ہونے کا گھمنڈ ہے۔۔۔ارتضیٰ جلتے ہوۓ بولا۔۔۔
“تم دونوں تو ہم عمر ہو مجھے لگا تمہاری اس سے اچھی دوستی ہوگی۔۔۔میں نے اس دن دیکھا تھا اسے ہمارے اسکول آیا تھا دیکھنے میں بھی بہت اچھا ہے۔۔شمائل کہ رہا تھا جب کے ارتضیٰ نے ٹی وی سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا۔۔۔
“کیا وہ ہمارے اسکول میں کیا کرنے آگیا ؟
“ایڈمشن لینے۔۔۔ شمائل نے کندھے اچکا کر کہتے خالی گلاس میں دوبارہ جوس بھرنے لگا
“ہنہہ کیوں وہ تو اور بڑے اسکول میں جا سکتا تھا ضرور مجھ سے مقابلہ کرنے کے لئے میرے اسکول میں آیا ہے پر میں اسے دیکھ لونگا۔۔۔۔
ارتضیٰ حسد کی آگ میں جلتا اٹھ کر کمرے سے نکل گیا پیچھے شمائل افسوس سے اپنے دوست کو جاتا دیکھنے لگا۔۔۔
“نہ شکرا
⭐⭐⭐⭐
تہذیب تیار کھڑی اپنے سر پر اسکارف باندھ رہی تھی۔ چھوٹی سی عمر سے ہی اسے سر پر دوپٹہ لینے کا شوق تھا۔۔۔
“تہذیب جلدی آؤ وین آجائے گی۔۔۔بینش بیگم کہتی ہوئی اندر داخل ہوئیں لیکن تہذیب کو تیار دیکھ کر دوبارہ غصّہ انے لگا۔۔۔
“بال بنا لئے ؟ بینش بیگم نے آتے ہی اسکا اسکارف کھنچا۔۔۔
“آ ام امی ب۔۔۔
“بس بس سمجھ گئی لیکن اسکارف کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بال کیسے بنائے ہیں پیچھے گھومو میں سہی سے بناتی ہوں۔۔۔
بینش بیگم نے بدتمیزی سے اسکی بات کاٹ کر اسکی سلیقے سے بندھی چٹیا کو کھولنے لگیں۔۔۔
تہذیب آنکھوں میں تیرتی نمی کو اندر اتارتی خاموشی کھڑی رہی یکدم بینش بیگم نے اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں لے کر دو تین بار جھٹکا دیا۔۔۔۔ ہلکی سی چیخ تہذیب کے منہ سے نکلی۔۔۔
“افففف کتنے گندے بال ہیں تمھارے خود بناؤ اور آجاؤ ورنہ وین آگئی تو ناشتے کے بغیر جانا پڑ جائے گا۔۔۔ بینش بیگم اسکے گھنے خوبصورت بالوں کو چھوڑتی اسے کہ کر تن فن کرتیں کمرے سے نکل گئیں۔۔
تہذیب آنکھوں کو رگڑتی برش اٹھا کر دوبارہ اپنے بال باندھنے لگی۔۔۔
ابھی اسکارف ہاتھ میں لیکر سوچ ہی رہی تھی جب آندھی طوفان کی طرح تعدیل اندر آئی۔۔
“آپی یہ لیں ایپل اور دودھ مضبوطی سے ٹرے کو پکڑ کر تعدیل اندر اکر بولتی ٹرے کو ٹیبل پے رکھنے لگی۔۔
تہذیب اسے دیکھ کر مسکرائی۔۔
“ت تھ تھینکس۔۔۔۔۔ا ام امی نن نے ک کہا؟ تہذیب جلدی سے اسکارف لپیٹ کر اسکے قریب آکر دودھ اٹھا کر سپ لیتے ہوۓ بولی
“نہیں آپی امی تو ابو کے پاس کمرے میں گئی ہیں یہ میں خود لیکر آگئی جلدی سے دونوں۔ چیزیں فنش کریں۔۔۔تعدیل اسے دیکھتے ہوئے بتا رہی تھی جو گلاس کو گھور رہی تھی
“تہذیب اپنے لئے بہن کی فکر دیکھ کر مسکرا دی ۔۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
جاری ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *