Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22
سب کے کمرے سے جاتے ہی ہاشم نے اسکے ہاتھ میں گولڈ کا بریسلٹ پہنایا۔۔ یکدم اسے سونے کی چین یاد آئی جو کل بھی وہ ہاتھ میں پکڑے پکڑے سوگیا تھا۔
“بب بہت خو خوبصورت ہے۔۔۔ تہذیب نے مسکرا کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“ہاشم بھائی میں آجاؤں؟ اچانک حماد نے دروازہ پر دستک دے کر باہر سے پوچھا۔۔
“سوتے وتے نہیں ہو تم۔۔ہاشم نے دروازہ کھول کر سامنے کھڑے حماد کو گھورا
“میں نے کیا کیا یہ ہدبر بھائی آئے۔۔۔ حماد نے کہتے ہی اپنے بائیں طرف اشارہ کیا۔۔
“کہاں ہے؟ ہاشم نے تعجب سے خالی جگہ کو دیکھا۔۔
“یہ۔۔۔ حماد نے کہتے ہی گردن گھوما کر دیکھا
“یہ یہیں تو تھے ہاشم بھائی سچ میں۔۔۔ حماد نے روہانسی ہوکر کہتے ہی سر جھکا لیا۔۔
“ک کوئی بب بات ن نہیں آ آجاؤ ان اندر۔۔۔تہذیب ہاشم کے پیچھے سے آتے ہوۓ بولی۔۔
“ہاشم جو مسکرا رہا تھا تہذیب کی بات پر اسے گھورنے لگا۔۔۔
“نہیں بھابھی میں جا رہا ہوں۔۔۔حماد منہ لٹکا کر کہتا جانے لگا ہاشم نے جلدی سے اسکی گدی پکڑی۔۔
“آآ ہاشم بھائی۔۔۔
“ادھر آؤ بھائی کی چھوٹی سے جان۔۔۔ ہاشم نے اسے اپنے سامنے کر کے سینے سے لگایا۔۔۔ حماد نے دونوں ہاتھ اسکے گرد حائل کیے۔۔
“آئی لو یو ہاشم بھائی۔۔۔ یکدم حماد کی روندھی ہوئی آواز انکے کانوں میں پڑی۔۔ہدبر جو چھپ گیا تھا چلتا ہوا دونوں کے قریب اکر خود بھی لپٹ گیا۔۔۔
“یار آئی لو یو تھری .۔ہدبر نے ہاشم کو آنکھ مار کر کہا۔۔
تہذیب خاموش کھڑی تینوں بھائیوں کو رشک سے دیکھتی انکی محبت کو تاعمر اسی طرح رہنے کی دعا کرنے لگی کے آج کل بہت کم ایسے رشتے ہوتے ہیں جو بے گرز ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔
ایک مہینے بعد :
صبح سے ہی گھر بھر میں خوشی کا سماء تھا۔۔۔جب کے ہاشم کی تو خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔۔
ہاشم خوش کیوں نہ ہوتا۔۔ دوست سے محبوب۔۔۔محبوب سے شوہر اور اب شوہر سے باپ بننے والا تھا۔۔۔
تہذیب شرمائی شرمائی سی نگہت بیگم کے ساتھ کچن میں تھی۔۔۔
“بھابھی آپ کے گھر والے آئے ہیں۔۔۔ ردا بتا کر واپس چلی گئی۔۔۔
تہذیب کھلتے چہرے کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوئی لیکن اپنی فیملی کی جگہ احمد صاحب کو دیکھ کر سر پر لئے ڈوپٹے کو دوبارہ سہی کرتی سلام کر کے نیلم بیگم کی طرف گھومی۔۔
“اس السلام عل علیکم۔۔۔
“وعلیکم اسلام لڑکی تمہاری ساس کہاں ہیں بلاو جاکر۔۔۔ نیلم بیگم نے نحوست سے کہا۔۔
“ج جی بب۔۔
“افف جب تک تم بات کرو گی تب تک بلا کر لے آؤ گی اب جاؤ۔۔۔ نیلم بیگم نے چڑ کر بدتمیزی سے اسکی بات کاٹ کر اپنے موبائل کو دیکھنے لگیں
تہذیب سر ہلا کر بھاری دل سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
“نیلم یہ کیا جہالت ہے اس طرح بچی کو کہنا۔۔۔۔۔ مانا اسکی فمیلی نے رشتہ قبول نہیں کیا لکین اس کا مطلب یہ نہیں تم اپنا رویہ اس طرح کرلو
میرے بھانجے کی بیوی ہے۔۔۔احمد صاحب نے نیچی آواز میں سمجھانا چاہا۔۔
“ہونہہ! ہمارے بھانجے کو کیا نظر آگیا اس میں یہ نا ہو آگے اولاد بھی بیچارے کی ہکلی ہو۔۔
“ممانی!! ہاشم کی آواز پر نیلم بیگم بری طرح چونکی ہاشم ضبط کیے کھڑا تھا ہدبر اور حماد بھی ناگواری سے اپنی ممانی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اس سے قبل وہ کچھ کہتا نگہت بیگم کو آتے دیکھ کر ہونٹ بھنچ کر رہ گیا۔۔
“تہذیب!! ہاشم کی آواز پر تیزی سے اسنے اپنی دونوں آنکھوں کو رگڑا۔۔۔
“جج جی ۔۔۔ جلدی سے بولنے کے چکّر میں زبان لڑکھڑا گئی۔۔۔
ہاشم چلتا ہوا اس کے سامنے آیا تہذیب نے سر جھکا لیا اسے ابھی تک رونا آرہا تھا۔۔۔
“مم میرے بب بس م م مم۔۔
“بول لیا۔۔۔ہاشم نے اچانک کہا۔۔تہذیب خاموش ہوگئ۔۔۔
“کبھی امی پھوپھو ہدبر حماد ردا یا میں نے تمھارے ہکلانے پر کبھی ٹوکا یا مذاق اڑایا۔۔۔ ہاشم نے سنجیدگی سے کہا تہذیب نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
“پھر کوئی کچھ بھی کہتا رہے تمہے فرق نہیں پڑھنا چاہیے۔ ہاشم نے کہ کر اسے سر کو چوم کر سینے سے لگایا۔۔۔
“جانتی ہو بلی تمہارا اٹک اٹک کر بولنا مجھے تم سے اور قریب کرتا ہے۔۔۔۔ہاشم نے سرگوشی کی تہذیب نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔
کچھ ہی دیر بعد تہذیب ہاشم کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی جب کے احمد صاحب اور نیکم بیگم تھوڑیدیربیٹھ کر چلے گئے
نیلم بیگم نے بھی زیادہ اسرار نہیں کیا وہ اپنے بیٹوں کے تیور دیکھ رہی تھیں جو منہ بنا کر مجبوراً نیلم بیگم کو جواب دے رہے تھے جب کے ماموں سے سہی سے بات کر رہے تھے۔۔۔
“تہذیب باپ کو سلام کرتی انکے سینے میں منہ چھپا کر کتنی ہی دیر آنکھیں موندے اپنے باپ کی خوشبو محسوس کرتی رہی۔۔۔
عاصم صاحب نے پریشانی سے سب کی طرف دیکھا۔۔
“تہذیب کیا ہوا میرا بچہ
“ک کچھ ن نہیں اب ابو آ آپ ات اتنے دن دنوں ب بعد آ ائے۔۔تہذیب خود کو سمبھالتی عاصم صاحب کے پریشان زدہ چہرے کو دیکھ کر مسکرا کر بولی۔۔
“میں تو کہ رہی تھی چلیں لیکن آفس کے کام ہی ختم نہیں ہوتے ۔۔۔بینش بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔
تہذیب ناراض نظروں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی جو ہنس دئے تھے۔۔
“آپی میں خالہ بننے والی ہوں اففف کتنا مزہ آئے گا نا تعدیل تہذیب کے ساتھ کچن میں رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔
“تمہے کس خوشی میں مزہ آئے گا وہ تو ہمارے پاس رہے گا۔۔۔۔۔ ویسے ایک حل ہے اگر تم یہاں آجاؤ ہمیشہ کے لئے تو ہم اپنے گھر کے نننے مہمان سے ملوانے کا شرف بخش سکتے ہیں کیوں بھابھی۔۔ ہدبر کہتے ہوۓ اندر آیا۔۔۔
تعدیل اسکی بات پر گھور کر رہ گئی جب پیچھے سے سر پر ہدبر کے چپت رسید کی گئی۔۔
“کون ہے۔۔۔ہدبر غصّے سے پلٹا لیکن سامنے ہی ہاشم کو دیکھ کر سارا غصّہ اڑان چھو ہوگیا۔۔۔
تہذیب اور تعدیل ہنس دیں
“ہاں کیا کہ رہے تھے ذرا پھر سے دوہراؤ گے؟ ہاشم اپنے کالے کرتے کے آستینوں کو سہی کرتے ہوۓ بولا۔
“وہ میں تو کہ رہا تھا میں چاچو بننے والا ہوں اور آپ ابّو ماشاءالله کتنی خوشی کی بات ہے نہ روکیں میں ذرا چاچو بننے کی خوشی میں صدقہ دے کر آتا ہوں۔۔۔
ہدبر دونوں ہاتھوں کو اسکے بازؤں پر ررکھ کر خوشی سے ایک ہی سانس میں کہتا تیزی سے بھاگا۔۔۔
“اسکی تو۔۔۔ ہاشم تپ کر اسکے پیچھے گیا جب کے تہذیب اور تعدیل نے اس بار قہقہ لگایا
گر پتہ ہو خوشیوں کو نظر لگتی ہے تو یوں سب کے سامنے کبھی اپنی خوشیوں کا اعلان نہ کرتے۔۔۔۔(امرحہ)
جاری ہے۔۔
