Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28
“احمد بھائی مجبوری نہ ہوتی تو کبھی آپ سے اس طرح کی بات نہیں کرتی صرف نکاح بلکل سادگی سے کرنا ہے گھر کے فرد ہی ہونگے۔۔۔
نگہت بیگم صوفے پر بیٹھیں ہچکچا کر کہ کر سامنے بیٹھے احمد صاحب اور نیلم بیگم کو دیکھنے لگیں۔۔۔
“جیسی آپ کی مرضی یہ سب تو ایسے ہی ہونا تھا جانے والا چلا گیا . .
احمد صاحب کہتے ہوۓ باہر نکل گئے۔۔۔ نگہت بیگم گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں
“مجھے یہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی بھابھی
“کوئی بات نہیں ان لوگوں کی مجبوری ہے ہم آجائیں گے۔۔۔ اب چلتی ہوں عریشہ گھر پر ہی ہے۔ نیلم بیگم کہ کر لاؤنج عبور کر گئیں
“نیلم بھابھی سب ٹھیک ہوجائے گا ہاہ اولاد کا غم ماں باپ کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔۔۔
وردہ بیگم کندھے کو تھپتھپا کر لان کی جانب بڑھ گئیں
جہاں سے ردا اور حماد کی بحث کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔
“دیکھو گندی حرکتیں مت کرو ورنہ ابھی میں تمہے گنجا کردوں گا پھر کرتی رہنا خارش۔۔۔حماد نے دوبارہ گھور کر کہا
جو کرسی پر بیٹھ کر دوبار اپنے سر میں خارش کر رہی تھی۔۔۔
“شٹ اپ میں تمہے نہ کردوں یہ جو تمہارا اتنا بڑا سر ہے نہ اس میں کیڑے پڑے ہوۓ ہیں ضرور کوئی پُھدک کر میرے صاف ستھرے خوشبودار بالوں میں اکر بھنگڑے کرنے لگ گیا ہے اففف۔۔۔
ردا تپ کر سر میں خارش کرتے ہوۓ بول رہی تھی جب پیچھے سے وردہ بیگم نے اسکے چپت لگائی۔۔۔
“کیا حرکتیں کر رہی ہو اٹھو جا کر کنگی اور تیل لاؤ ورنہ صرف قینچی تاکہ قصہ ہی مکا دوں۔۔ گندی اولاد۔۔۔
وردہ بیگم دور سے ہی اسکی حرکت دیکھتیں غصّے میں اگئیں تھیں۔۔۔
“ہاہاہا پھوپھو یہ نیک کام میں کر دیتا ہوں ابھی لایا قینچی۔۔۔ حماد ہنس کر اندر کی طرف بھاگا جب کے ردا کا خون کھول گیا تیزی سے اسے مارنے دوڑیں۔۔
“پتہ نہیں کیا بنے گا اس لڑکی کا۔۔وردہ بیگم سر جھٹک کر وہیں بیٹھ گئیں۔۔۔
ہاشم آفس سے آیا کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکے قدم ٹھر گئی۔۔
سامنے ہی تہذیب بیڈ پر سارا سامنے پھیلائی بڑے سے سوٹ کیس میں نرمی سے ہر ایک چیز کو چھو کر دیکھتی بیگ میں رکھ رہی تھی۔۔۔
ہاشم گہری سانس لے کر چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اسکی طرف بڑھا تہذیب نے یکدم روک کر ہاشم کی طرف دیکھا۔
“اس اسلام ع علیکم ۔۔
“وعلیکم اسلام یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ہاشم نے مسکرا کر جواب دے کر بیڈ پر سے شوز اٹھایا۔۔۔
تہذیب نے جھٹ اسکے ہاتھ سے کھینچ کر بیگ میں رکھا۔۔
“م میں ی یہ سس سب بن بند کر کے رک رکھ ر رہی ہو ہوں ان انشاء اللہ ہد ہدبر او اور تع تعدیل ک کو دد دیں گے۔ ۔۔
تہذیب اب تیزی سے سامان بیگ میں۔ رکھتی بند کرنے لگی۔۔ ہاشم ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“سوٹ کیس کو بند کرتے اٹھانے ہی لگی تھی جب ہاشم نے سپاٹ چہرے کے ساتھ خود اٹھاتا ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔
تہذیب اسی طرح کھڑی رہی پھر گہری سانس لیتی کمرے سے نکل گئی ۔۔
رات کا پہر تھا تہذیب کھڑکی کھولے کھڑی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔
ہاشم نے دروازہ بند کر کے اسکی طرف قدم نڑھائے پشت پر روک کر اسے حصار میں لیا جو بری طرح چونک گئی تھی۔۔
“کیا سوچ رہی تھی۔۔۔
“کچ کچھ ب بھی ن نہیں۔۔
“یہ کونسی سوچ ہے کچھ نہیں والی؟ ہاشم نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا تہذیب نے اسے گھورا۔۔
“ہاہاہا مذاق کر رہا ہوں یار چلو اب سونے لیٹو کل مجھے آفس جلدی جانا ہے ۔۔۔ ہاشم اچانک اسے کھڑکی سے ہٹاتا بیڈ کی طرف بڑھا۔۔۔
“مج مجھے۔۔۔
“ہاں جانتا ہوں تمہے بھی بہت نیند آرہی ہے چلو آجاؤ۔۔ہاشم اسکی بات شروع ہونے سے پہلے ہی کاٹ کر لائیٹ بند کرنے لگا۔۔
تہذیب اسکی پشت کو گھور کر جھنجھلا کر جلدی سے لیٹ کر سر تا پیر رضائی اڑھ کر لیٹ گئی۔۔
ہاشم نے اسکے دیکھا اچانک تہذیب ڈر کر اٹھ کر بیٹھنے لگی جب ہاشم جو جان بوجھ کر زور سے گرنے کے انداز میں لیٹا تھا تہذیب کو پکڑ کر اپنے حصار میں لے چکا تھا۔۔۔
“آ آپ ب بہت۔۔۔
“ہاں جانتا ہوں میری جان تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو لیکن میں تم سے زیادہ۔۔۔
ہاشم نے ہمیشہ کی طرح اسکی بات کو بیچ میں ہک اچک لیا۔۔
“جا جان جانتی ہو ہوں۔۔۔دھیمی آواز میں کہ کر ایک ہاتھ اسکے گال پر رکھا تہذیب کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے تو خود ہی نزدیک ہوکر اسکے سینے سے لگ کر آنکھیں موند گئیی
ہاشم جانتا تھا وہ رو رہی ہے رو تو وہ خود بھی رہا تھا۔۔۔
“سو گئی؟ آنسوں کو ضبط کرتے ہاشم نے پوچھا کچھ دیر اسکے جواب کا انتظار کرتا رہا جو روتے روتے اسکے سینے پر سر رکھے ہی سو گئی تھی۔۔۔
خود بھی وہ سوچتے سوچتے نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
