Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29

تیری آرزو بن جاوں تیرا جنون بن جاؤں
سوچے جو تو کسی بارے میں کبھی
ترے خیال کی تصویر بن جاؤں
نگاہوں کا تیری سرور ہوں
دل کی مراد بن جاؤں
تو شاعر ہو محبتوں کا
اور میں تیری غزل بن جاوں
تو خاموش رہ کر مجھے دیکھتا رہے
میں تیرے ان کہے الفاظ بن جاؤں
تو ہمیشہ خوش رہے شاد رہے
میں تیرے مسکرانے کا سبب بن جاؤں
اداس جو ہو تو کسی شام کو
میں تیرے لیے ایک خوب صورت رات بن جاؤں
تو چاند کی طرح چمکتا رہے
اور میں تیری دیوانگی میں چاندنی بن جاؤں
کھلی آنکھوں سے تو مجھے دیکھے
بند ہو تیری آنکھیں تو تیرا خواب بن جاؤں
ہے بس اتنی سی آرزو
میں تیرے نام سے جانی جاؤں
اور تیری پہچان میں بن جاؤں
(شفق)
🌷🌷🌷🌷
زندگی
ایک ایسا سفر ہے
جو کسی کے لئے نہیں روکتا
سپاٹ سا ایک راستہ ہے
جہاں زندگی کا سفر اپنی منزل (آخرت ) تک اِس سفر کےساتھ بہتے پانی کی طرح تیز رفتار سے چل رہا ہے
اور انسان جو اس سفر کے مسافر ہیں رسی تھامے اسی رفتار سے چلتے جا رہے ہیں۔۔۔(امرحہ)
🌷🌷🌷🌷
ارتضیٰ احمد کی وفات کو تین ہفتے گزر گئے نیلم بیگم اکلوتے بیٹے کے غم میں بلکل بدل کر رہ گئیں۔۔۔
سچ ہے اولاد کا غم ماں باپ کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔۔۔
ان تین ہفتوں میں کہیں حد تک احمد صاحب نے بھی خود کو سمبھال لیا لیکن بیٹے کی یاد جب رات کی تنہائی میں زور آور ہوتی تو دل کو ہاتھ پڑجاتا۔۔۔
🌷🌷🌷🌷
ماموں کل نکاح ہے آپ نے ضرور آنا ہے۔۔۔ہدبر نے احمد
صاحب کو مسکرا کر کہا۔۔۔ ہاشم خاموش بیٹھا تھا۔۔۔۔
تینوں اس وقت آفس میں صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔
احمد صاحب لمبی سانس لیکر مسکرا کر سر ہلا کر جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔
ابھی لاک پر ہاتھ رکھا ہی تھا جب ہاشم کی آواز پر روک کے پلٹے
“ماموں آپ جو کہنے آئے تھے وہ بات تو کی ہی نہیں لیکن میں چاہتا ہوں ہم دوبارہ ساتھ میں کام کریں۔۔۔
جو گزر گیا اسے اپنی مٹھی میں پکڑے رکھنے سے بہتر ہے مٹھی کھول کر اسے آزاد کر دیا جائے۔۔۔۔ ماضی کے جو گھاؤ ہیں مستقبل میں جینے نہیں دیں گے
ہاشم دھیمی آواز میں بولتے بولتے احمد صاحب کے سامنے اپنی ہتھیلی کر کے انہیں دیکھنے لگا ۔۔۔
دونوں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی چمک رہی تھی ۔۔۔
“بدنصیب تھا یا پھر عقل سے اندھا جو تم سے خودساختہ دشمنی پالے اپنی آخرت کو تباہ کر کے ہمیں تنہا کر کے چلا گیا۔۔۔
واقعی تمھارے ماں باپ کی ہی تربیت ہے جو تمھارے ساتھ اتنا غلط کر کے حرام موت کو گلے لگا کر چلا گیا پھر بھی تم سب بھول کر آگے بڑھنے کا حوصلہ خود کو اور مجھے دے رہے ہو۔۔
احمد صاحب نے بھرائی آواز میں کہ کر اسکا کندھا تھپتھپایا ہاشم ہونٹ بھنچے احمد صاحب کے گلے لگ گیا۔۔
“آپ ایسا مت سوچیں ارتضیٰ نہ سہی ہم ہیں آپ کے بیٹے۔۔۔ ہاشم نے کہا احمد صاحب کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے۔۔
ہدبر دونوں کو دیکھتا اپنی آنکھیں رگڑ کر آنسوں ضبط کرتا انکی جانب بڑھ گیا۔۔۔
🌷🌷🌷🌷
آیئنے کے سامنے کھڑی وہ اپنے بال بنا رہی تھی گرے کلر کی شلوار قمیض کے ساتھ نیٹ کا ہم رنگ ڈوپٹہ جس پر ڈسکو چمک رہی تھی۔۔۔
ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے میک اپ سے پاک چہرہ۔،۔جب
ڈریسنگ روم سے خوشبو بکھیرتا ہاشم سیاہ شلوار قمیض زیب تن کیے آیا۔۔
“تہذیب اسے دیکھنے لگی جسے ایک نظر دیکھ کر نظر ٹھر جاتی ہے
ہاں اسکا ہاشم ایسا ہی تھا جس کا ظاہری دلکش ہونے کے ساتھ اسکا باطن بھی حوبصورت تھا۔۔۔
ہاشم جیسے مرد قسمت والوں کو ملتے ہیں لیکن شاید اسے پانے کے بعد وہ اسے کھو کر اپنی قسمت خود اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
ہئیر برش رکھ کر یہی سب سوچتی وہ آگے بڑھی ہاشم جو موبائل پر ہدبر سے مولوی صاحب کے مطالق کوئی بات کرنے کے لئے کال ملا کر کان سے لگا چکا تھا۔۔
تہذیب کے سینے سے لگنے پر حیران ہوتا جلدی سے بات کر کے اسکی طرف متوجہ ہوا جو آنکھیں موندے سر رکھے اسے محسوس کر رہی تھی۔۔
“مجھے پتہ ہوتا تم میرے تیار ہونے پر یوں میرے سینے سے لگو گی تو اٹھتے ہی تیار ہوکر تمھارے سامنے کھڑا ہوجاتا۔۔۔
ہاشم نے شرارت سے کہ کر جھک کر اسکی گردن پر لب رکھے۔
“ہاہ ہاشم۔۔۔
“ہمم۔۔۔۔
“ای ایک با بات پو پوچھوں ۔۔۔۔تہذیب سینے سے لگے ہوۓ ہی بولی ۔۔
ہاشم جو اسکے سر پر تھوڑی ٹیکا کر اسکی بات مکمّل ہونے کا سکون سے انتظار کر رہا تھا مسکرا کر بولا۔۔
“ایک کیوں تم مجھ سے ڈھیر ساری باتیں پوچھو۔۔۔ ہاشم نے مسکرا کر کہا تہذیب اس سے الگ ہوتی نظریں جھکا کر ابگلیاں مڑوڑنے لگی…
ہاشم اسکی ہچکچاہٹ دیکھ کر یکدم گہری سانس لیکر رہ گیا۔۔
“دیکھو تہذیب اگر تم کوئی الٹی سیدھی بات کرنے والی ہو تو چپ ہی رہنا۔۔۔
“ن نن نہیں م مج مجھے ب بس یہ یہ پو پوچھ پوچھنا ت تھا مم مجھ مجھے آ آپ کب کبھی چھ
“شیٹ ! میں جانتا تھا تم ضرور فضول بکواس کرو گی۔۔دیکھو تہذیب میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی شریکِ حیات کو اس لئے چھوڑ دیں جن میں انکی غلطی نہ ہو۔۔۔ یہ ہمارے تمھارے کسی کے بس میں نہیں ہے۔۔۔ تم میری ہو اور میں صرف تمہارا
میری محبت وقت حالات کے ساتھ نہیں بدلتی اور جو ان سب کے ساتھ سفر کرتی ہے وہ محبت نہیں وقتی ضرورت یا عادت ہوتی ہے ہمم۔۔۔۔
ہاشم اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر بولتا ماتھے کو چومتا کمرے سے نکل گیا جہاں ہدبر اسے آوازیں دے رہا تھا۔۔
🌷🌷🌷🌷
“گھور کیوں رہے ہو ؟ ردا نے حماد کو دیکھ کر پوچھا جو اسکے لان میں آتے ہی گھورے جا رہا تھا۔۔
“تو پھر تعریف کروں؟۔۔ جاکر شیشہ دیکھو اتنا میک اپ کر کے آگئی ہو۔۔۔ ماموں ممانی کیا سوچیں گے۔۔
“ہیں اوہ ہیلو میں نے صرف لپسٹک کاجل لائنر مسکارا ہی لگایا ہے۔۔۔۔
“جی بلکل لیکن بندا تمیز والا میک اپ بھی کرتا ہے یہ لمبی لمبی لکیریں کھینچنے کی کیا ضرورت پڑی ہے بُرا مت ماننا لیکن ڈائن لگ رہی ہو ۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔
حماد کہتا ہنستے ہوۓ تیزی سے بھاگا۔۔۔۔
ردا جل کر پیر میں پہنی سینڈل اتار کر پیچھے بھاگی۔۔
“حماد کے بچے روک جاؤ آج تم قتل ہوجاؤ گے ڈائن تمہاری گرل فرینڈ۔۔۔
“تم کب ملی اپنی ہمشکل سہیلی سے۔۔۔ حماد سن کر زور سے بولتا اپنے کمرے کی طرف بھاگا اس سے قبل ردا پہنچتی سامنے سے آتی اپنی ماں کو دیکھ کر روک کر الٹے قدموں نیچے بھاگ گئی ۔۔
🌷🌷🌷🌷
“تعدیل میری جان چپ بھی کر جاؤ کب سے روۓ جا رہی ہو ہم آجائیں گے واپس پھر تہذیب ہے پھر سب سے اہم بات ہدبر ہے۔۔۔
بینش بیگم اسے سمجھانے میں لگی ہوئی تھیں جو انکی گود میں سر رکھے سوں سوں کر رہی تھی۔۔۔
اس سے پہلے تعدیل کچھ کہتی تہذیب اور نگہت بیگم کے ساتھ نیلم بیگم وغیرہ بھی اندر داخل ہوئیں۔۔
“مولوی صاحب آرہے ہیں۔۔۔۔نگہت بیگم مسکرا کر بولتیں آگے بڑھیں تعدیل جھٹ اٹھ کر بیٹھتی ڈوپٹہ سہی کر کے آنسوں صاف کرنے لگی۔
“ک کو کوئی ر رو رہا ہ ہے۔۔۔ تہذیب شرارت سے بول کر مسکرائی سا نے حیران ہوکر تہذیب کو دیکھا جو آج مسکرا کر بات کر رہی تھی ورنہ چپ چپ ہوگئی تھی۔۔۔
“نہیں میں رو نہیں رہی تھی یہ تو خوشی کے آنسوں ہیں آپ کے پاس جو آرہی ہوں۔۔۔تعدیل کے کہنے پر سب ہنس دیے۔۔
کچھ ہی دیر میں ہدبر اور تعدیل کا نکاح ہوگیا۔۔۔مبارک سلامت کے بعد تعدیل ماں باپ کے گلے لگتی زاروقطار رو رہی تھی۔۔
“بھابھی اسے اتنا غم کیوں ہو رہا ہے۔۔۔ہدبر جو صوفے پر بیٹھا تھا تہذیب کے کان میں سرگوشی کرنے لگا جب ہاشم صوفے کے پیچھے کھڑا ہوکر دونوں کی طرف جھکا۔۔
“میرا خیال ہے وہ تمہاری وجہ سے ڈر رہی ہے۔۔۔ اس لئے گھورنا بند کرو اسے اور اٹھو ذرا یہاں سے مجھے اپنی بیوی سے باتیں کرنی ہیں۔۔۔
ہاشم نے تھوڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔تہذیب ہنس دی جب کے ہدبر اپنے بڑے بھائی کو گھور کر رہ گیا۔۔۔
“بے عزتی کرنے کی کیا ضرورت ہے سیدھا کہ دیتے کے اٹھ جاؤ۔۔۔ہدبر نے ناراضگی سے کہا۔۔۔۔
“ہمم سمجھدار ہو جاؤ ادھر بیٹھو ۔۔ ہاشم چڑھانے والی مسکراہٹ سے اسے بولا۔۔۔ہدبر منہ پھولا کر اٹھ گیا۔۔
رات بارہ بجے تک سب گھر پہنچے ہدبر ساتھ بیٹھی تعدیل کو گھور کر گاڑی سے اترا جو سارے راستے تہذیب کے کندھے پر سر رکھے اسکا ہاتھ تھام کر چپک کر بیٹھی تھی۔۔
“بیگم جی اپنے مبارک قدموں سے گاڑی سے اتر کر ذرا اپنے سسرال کو رونق بخش دیں۔۔۔ہدبر ہلکی آواز میں جل کر کہتا دروازہ کھول کر کھڑا ہوگیا
تعدیل آنسوں پوچھتی مسکراتی ہوئی تہذیب کے گال پر پیار کرتی نیچے اتر گئی۔
تعدیل کا استقبال سب نے بہت اچھے سے کیا۔ ۔
ایک دو رسموں کے بعد تہذیب تعدیل کو ہدبر کے کمرے کی طرف لیکر جانے لگی۔۔
“ہاشم بھائی بھابھی کو روکیں ورنہ ان محترمہ سے کوئی بعید نہیں یہ بھابھی کو کمرے میں روک کر مجھے کمرے سے نکال دے گی۔۔۔ہدبر نے دونوں کو جاتا دیکھ کر جلدی سے ہاشم سے سرگوشی کی۔۔
“ہاں یقیناً ایسا ہو بھی سکتا ہے۔۔۔۔ ہاشم کہتا تیزی سے سیڑیاں چڑھتا پیچھے گیا اس سے قبل دونوں کمرے میں جاتیں ہاشم کے کھانسنے پر روک کر اسکی طرف متوجہ ہوئیں۔
“ہاشم بھائی کیا ہوا۔۔۔۔ تعدیل نے اسے دیکھ کر پوچھا جو پیٹ پکڑ کر چہرے پر تاثرات بھی ایسے لایا جیسے بہت درد ہو۔۔
“ہاہ۔ہاشم.۔۔ تہذیب گھبرا کر اسکے قریب گئی۔۔
“یار چلو جلدی کمرے میں بہت درد ہو رہا ہے پیٹ میں کوئی میڈیسن دے دو چلو۔۔
“پ پر۔۔
“یار چلو پر کو مارو گولی۔۔۔ہاشم اسکی بات مکمّل کرنے سے پہلے ہی ہاتھ کھیچ کر زبردستی لے گیا۔۔۔۔
تعدیل اسی طرح کھڑی رہی جب ہدبر نے آکر اسے گود میں اٹھایا تعدیل ڈر کے چیخی ۔۔
“کیا ہوا۔۔۔۔ حماد کی لاؤنج سے آواز آئی
“کچھ نہیں سو جاؤ۔۔۔ہدبر۔تیز آواز میں جواب دیتا گھورتی ہوئی تعدیل کو کمرے میں لے گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔
🌷🌷🌷

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *