Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20

صبح اسکی آنکھ الارم کی آواز پر کھلی۔۔۔تہذیب نے کسمسا کر کروٹ بدلی ہاتھ ساتھ سوئے ہوۓ ہاشم کے سینے پر رکھا ۔
یکدم ہاشم کی آنکھ کھلی مندی موندی آنکھیں کھولتے اس نے سینے پے دھرے تہذیب کے ہاتھ کو دیکھا پھر نظروں کا زاویہ اسکی طرف گھوما کر سوئی ہوئی تہذیب کو دیکھ کر ہاتھ بڑھا کر مسکراتے ہوۓ اسکے چہرے پر آئی چند لٹوں کو نرمی سے کان کے پیچھے کرتا اسکے سر پر پیار کیا جب دروازہ نوک ہوا۔۔۔
ہاشم نے سر گھوما کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔تہذیب چونک کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی
چہرہ گھوما کر دیوار گھیر گھڑی پے وقت دیکھا جہاں نو بج رہے تھے۔۔رات کو سونے سے پہلے اسی نے الارم سیٹ کیا تھا تاکہ جلدی آنکھ کھلے
“میں دیکھتا ہوں۔
“ن نہ نہیں م میں دیک دیکھتی ہو ہوں۔۔۔ تہذیب اسے کہتی خود اٹھ کر دروازہ کھولنے چلی گئی جب کے ہاشم مسکرا کر سر میں ہاتھ پھیرتا اٹھ کر باتھ روم چلا گیا ۔۔۔
ہاشم گیلے بالوں میں تولیہ رگڑتا باہر نکلا جب سامنے سے صوفے اور فلور کشن رکھے بیٹھے تھے ٹیبل پر ناشتہ رکھا ہوا تھا۔۔۔
ہاشم مسکراتا بالکنی میں نکل گیا۔۔۔ کچھ ہی لمحے میں وہ دوبارہ آیا جب ردا سے مسکرا کر گڈ مارننگ کہا۔۔
ہاشم نے سر ہلایا
“امی ابو نے ناشتہ۔۔۔۔مطلب امی نے ناشتہ کر لیا جو تم سب کمرے میں جمع ہو۔۔۔ ہاشم کہتے کہتے رک کے تصحیح کرتے ہوئے بولا
ایک پل کے لئے چہرے پر کرب پھیلا لیکن اگلے ہی لمحے خود کو سمبھالتا نارمل لہجے میں بولا۔۔
“ام امی ن نے ک کر لیا ہے نا ناشتہ پھ پھوپھو کک کے سا ساتھ۔۔
تہذیب ہاشم کے لیے کپ میں چائے نکالتے ہوۓ بولی۔۔ہاشم لمبی سانس بھرتا مسکرا کر اسکے ساتھ بیٹھا۔۔
“ہاشم بھائی آپ کو پتہ ہے ردا کل سے ناراض ہے مجھ سے حلانکہ آپ نے کہا تھا ردا فوراً ناراضگی ختم کرلے گی۔۔
حماد نے افسردہ لہجے میں ہاشم سے کہا۔۔
ہاشم چائے کا گھونٹ بھرتا کپ کو ٹیبل پر رکھتے ردا کو دیکھنے لگا جو سر جھکا کر ایسے ناشتہ کر رہی تھی جیسے یہاں کسی اور ردا کا ذکر کیا گیا ہو۔۔۔
“ردا۔۔۔ ہاشم نے اسے متوجہ کیا
“ہاشم بھائی میں کوئی ناراض نہیں ہوں اس سے ایویں فضول میں بول رہا ہے۔۔۔ردا سر اٹھا کر سنجیدگی سے کہتی دوبارہ سر جھکا کر ناشتہ کرنے لگی۔۔
تہذیب اور ہدبر نے ناسمجھی سے انھیں دیکھا۔۔۔
“حماد کیا ہوا ہے تم دونوں کی کوئی لڑائی ہوئی ہے ؟ ہدبر نے حماد سے پوچھا جس کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات پھیلے۔۔
“نہیں ہدبر بھائی میں لڑائی نہیں کرتی اور میں تم سے ناراض نہیں ہوں فضول اپنی چونچ کیا چلاؤ۔۔۔
ردا ہدبر کو جواب دیتی حماد کو گھورتے ہوۓ بولی۔۔۔
“تم تو جیسے اپنی زبان کو تہ خانے میں بند کر کے آتی ہو ناں۔۔۔حماد نے بھی دوبدو چڑ کر جواب دیا۔۔۔
ہاشم نے سکون بھری سانس لی۔۔۔
“حماد میری بہن سے مت لڑو سمجھے ورنہ تمہاری پاکٹ منی بند سمجھو۔۔۔
“ہاشم ایک دم بیچ میں بولا۔۔۔
ردا کل سے اب پہلی دفع کھول کر مسکرائی
“سنا تم نے اب زیادہ فری مت ہو میرے بھائی بٹہے ہیں یہاں۔۔۔ردا نے فخر سے گردن اکڑا کر کہا۔۔
“ہم او اور مم میں بھ بھی ہوں پٹ پٹو گ گے۔۔۔
تہذیب نے ہاشم کو سلائس دیتے مسکراہٹ دبا کر کہا.
تہذیب کے اس طرح کہنے پر یکدم کمرے میں قہقہے گونجے۔۔۔
ہاشم نے بے ساختہ اسکا گال کھنچا۔۔۔تہذیب شرم سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اسے گھور کر رہ گئی جو دوبارہ کپ اٹھا چکا تھا جب کے سب نے ایک بار پھر قہقہ لگایا۔۔
💗💗💗💗
شام کا وقت تھا تعدیل لان میں کرسی پر بیٹھی ہاتھ میں پکڑے موبائل پر فیس بک یوز کر رہی تھی جب بیرونی گیٹ سے بی ایم ڈبلیو اندر داخل ہوئی ۔۔۔
تعدیل جھٹ کرسی سے کھڑی ہوتے بھاگی۔۔۔
“السلام علیکم آپی، السلام علیکم ہاشم بھائی میں کب سے انتظار کر رہی تھی آپ دونوں کا۔۔۔۔ تدیرل دونوں کو سلام کرتی تہذیب کے گلے لگی۔۔۔
“وعلیکم اسلام ہم جلدی آجاتے لیکن آج آپ کی بہن صاحبہ کی تیاری ہی ختم نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
ہاشم نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔۔
تعدیل ہنس دل جاب کے تہذیب گھور کر رہ گئی۔۔
“ہائے ظالما ایسے نت دیکھو۔۔۔
ہاشم اندر کی طرف بڑھتا کندھے سے کندھا ٹکراتے ہوئے بولا۔۔
دونوں لاؤنج میں داخل ہوۓ عاصم صاحب وہیں بیٹھے تھے اٹھ کر دونوں کو گلے لگا کر ملے۔۔
تہذیب عاصم صاحب کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔
رات آٹھ بجے تک کھانا لگ گیا سب کھانا کھا رہے تھے یکدم تعدیل نے تہذیب کو اشارہ کیا جو ہاشم کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی جب کے وہ کھانا کھانے کے ساتھ عاصم صاحب کے ساتھ باتیں بھی کر رہا تھا۔۔
“ت تم پ پو پوچھ لو۔۔۔ تہذیب نے سرگوشی کی۔۔۔
“اف آپی آپ پوچھیں نہ خود کیا آپ ہاشم بھائی سے ڈر رہی ہیں کہیں ہاشم بھائی غصّے تو نہیں کرتے چھوٹی چھوٹی بات پر۔۔۔
“نہیں میرا دماغی توازن بلکل ٹھیک ہے مجھے دوہرے نہیں پڑھتے۔۔۔۔ تعدیل جو تہذیب کو سرگوشی میں کہ رہی تھی ہاشم نے بخوبی سنا تہذیب کے کچھ بولنے سے پہلے ہی ہاشم نے تھوڑا جھک کر اسے جواب دیا۔۔۔
“ن نہیں ہاشم بھائی وہ تو میں ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔۔ تعدیل نے سٹپٹا کر جواب دیا۔۔۔
ہاشم اور تہذیب دونوں مسکرا دیے۔۔
“ہاشم تہذیب تو آج رکے گی نا۔۔ شادی کے بعد پہلی دفع آئی ہے۔۔۔بینش بیگم نے اچانک کہا۔۔۔
ہاشم کچھ دیر دیکھتا رہا پھر کندھے اچکا کر “جی ” کہ کر تہذیب کو دیکھ کر مسکرایا۔۔۔۔ وہ انھیں منا نہیں کر سکا۔۔
💗💗💗💗
سب سے مل کر ہاشم گاڑی مِیں بیٹھنے لگا جب پلٹ کر تہذیب کو دیکھ کر مسکرایا تعدیل جو تہذیب کے گرد حصار کیے کھڑی تھی
ہاشم کے دیکھنے پر جوش سے ہاتھ ہلا کر بائے کرنے لگی۔۔ ہاشم نے دانت پیس کر خود بھی ہاتھ ہلایا۔۔”کباب میں ہڈی “، کہتے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گیٹ سے نکل گیا۔۔۔
ہاشم کے جاتے ہی عاصم صاحب اور بینش بیگم اندر چلی گئیں جب کے تعدیل تہذیب کے ساتھ لان میں ہی بیٹھ گئی۔۔۔
💗💗💗💗
ارتضیٰ کہاں جا رہے ہو ؟ نیلم بیگم اسے نک سک سا تیار ہوکر دیکھتے ہوۓ پوچھنے لگی جو یکدم چڑ کر روکا اسے اس وقت ڈرگز چاہیے تھے۔۔۔
“آپ کو کیا کام ہے ؟ ارتضیٰ نے آنکھیں گھوما کر پوچھا۔۔
“کام تو کوئی نہیں لیکن عریشہ پر نظر رکھو آج کل یونی سے بہت دیر سے آنے لگی ہے۔۔۔
“سو واٹ ؟ آپ بھی تو کہیں دفع اپنی پارٹیز سے دیر سے آتی ہیں اور میں کوئی اسکا نوکر نہیں ہوں نہ ہی وہ اب بچی رہی ہے میرا دماغ خراب مت کریں اب
ارتضیٰ پھاڑ کہنے والے انداز میں کہتے تیزی سے لاؤنج عبور کر گیا۔۔
جب کے نیلم بیگم ہکا بکا کھڑی رہ گئیں۔۔۔
💗💗💗💗
رات کے دو بج رہے تھے ہاشم بیزار سا ایل ای ڈی پر چنیل بدلے جا رہا تھا جب موبائل پر میسج آیا۔۔۔ ہاشم نے ریموٹ بیڈ پر پٹخ کر موبائل اٹھایا نام دیکھتے ہی اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔
“سوئی نہیں ابھی تک؟ میسج ٹائپ کر کے سینڈ کیا۔۔
“نہیں نیند نہیں آرہی۔۔۔ تہذیب نے مسکرا کر ٹائپ کر کی بھیجا تہذیب بالکنی میں سوئنگ چئیر پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
“مجھے بھی نہیں آرہی یار آجاؤں کیا۔۔۔ ہاشم نے شرارت سے کہا۔۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے سو جائیں۔۔۔تہذیب نے مسکرا کر ٹائپ کیا.
“مسسز بڑی ظالمانہ بات کر دی ہے تہذیب نے میسج پڑھا جب دل والے ایموجی دیکھ کر شرما گئی۔۔۔
“شرماؤ مت میں سامنے تھوڑی ہوں۔۔۔ یکدم ہاشم کا اگلا میسج پڑھ کر تہذیب سٹپٹا کر اردگرد دیکھنے لگی۔۔
“آپ کو کس نے کہا میں شرما رہی ہوں۔۔۔
“میرے دل نے۔۔۔فوراً جواب آیا۔۔۔
“میں سو رہی ہوں گڈنائیٹ۔۔۔ تہذیب نے نم ہوتی ہتھلیوں سے ٹائپ کر کی بھیجا۔۔۔
“ہاشم کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔۔۔
“اوکے مسسز آئی لو یو ٹو۔۔۔ آگے دل اور کس والے ایموجی بھیج کر ہنسنے لگا جانتا تھا شرم سے لال ٹماٹر ہوجائے گی۔۔اور ہوا بھی یہی تہذیب پڑھتے ہی شرما گئی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *