Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18

ٹھک ٹھک ٹھک !!!
گیارہ بجے کا وقت تھا جب کمرے کا دروازہ نوک ہوا۔۔۔
تہذیب جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی پلٹ کر ایک نظر ہاشم کو دیکھا جو گہری نیند میں سو رہا تھا
مسکرا کر تہذیب نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا جہاں نگہت بیگم کھڑی تھیں۔
“صب صبح ب بخیر۔۔۔م میں آ آ ر رہی ت تھی۔۔۔ تہذیب انھیں دیکھ کر شرمندہ ہوئی جو دیر تک سوتی رہی تھی جانے کیا سوچ رہی ہونگی۔۔۔۔تہذیب .سوچ کر رہ گئی۔۔
“کوئی بات نہیں ہاشم اٹھ گیا۔۔۔نگہت بیگم نے اسکے امی کہنے پر نہال ہوکر آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم کر کہا
“ن نہیں س سو ر رہے ہ ہیں۔۔۔تہذیب کہ کر نگہت بیگم کو اندر انے کے لئے سائیڈ پر ہوئی۔۔۔
“تم اٹھا دو میں بس تم دونوں کو دیکھنے آئی تھی ہمم۔۔۔نگہت بیگم مسکرا کر کہتیں چلی گئیں۔۔۔
تہذیب دروازہ بند کر کے پالٹی ہی تھی جب ہاشم نے دونوں ہاتھ دروازے پر رکھ کر اسے اپنے حصار میں لیا
تہذیب جلدی سے پیچھے ہوتی دروازے سے ٹکرا گئی جانے وہ کب اٹھا تھا۔۔۔
“ہا۔۔۔
“شش !! ہاشم کی بلی۔۔۔تہذیب کچھ بول پاتی اس سے قبل ہی ہاشم اسکے کان کے قریب جھکتا سرگوشی میں کہتے ہوئے ایک ہاتھ اسکے لبوں پر رکھ کر دیکھنے لگا
تہذیب کے دل کی دھڑکن اسکی قربت سے تیز ہونے لگی۔۔۔
سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ تہذیب شرمانے کے ساتھ ہی اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔۔۔
تہذیب کے شرمانے پر ہاشم قہقہ لگا کر ہنس دیا ۔۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ ویسے میں کب سے انتظار کر رہا تھا تم کب آکر جگاؤ گی لیکن آپ کی یہ حسین نم زلفیں۔۔۔۔
ہاشم کان میں سرگوشی کرتے دونوں ہاتھوں سے زور سے اسے خود سے لگاتا اتنا ہی کہ کر جھکا۔۔۔
تہذیب جو پہلے ہی شرم سے چہرا چپائے ہوۓ تھی اب تو بولتی بھی بند ہو چکی تھی۔۔
💗💗💗💗
ڈریسنگ کے سامنے کھڑا وہ خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا جب کے تہذیب ابھی کمرے سے نکل کر نیچے گئی تھی۔۔
ہاشم جو نیچے جانے کے لئے کمرے سے نکل رہا تھا حماد کو آتے دیکھ کر روک گیا۔۔۔ جو منہ بنا کر فلور کشن پر جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔
“کیا ہوا تمہے؟ ہاشم مسکراہٹ لبوں میں دبا کر سنجیدگی سے بولا۔۔
“ہاشم بھائی میں آپ سے بہت ہی سخت قسم کا ناراض ہوں آپ نے ہدبر بھائی اور ردا دونوں کو پیسے دیے ہیں کل۔۔ اور وہ ردا کی بچی بھابھی کی بہن کے سامنے زبان چڑھا رہی تھی۔۔۔ابّو ہوتے تو سب سے پہلے مجھے دیتے۔۔۔ لیکن آپ ابّو تھوڑی ہیں جو خیال کریں گے اور وہ کیا آپ کی بہن ہے ہم ۔۔۔۔۔۔
حماد غصّے سے بنا سوچے سمجھے بولتا چلا گیا یہ سوچے بغیر کے سامنے کھڑے شخص کے دل کو کتنی ٹھیس پہنچی ہوگی اسکی بات سے
ہاشم کے چہرے کی مسکراہٹ ایسے غائب ہوئی جیسے کسی نے نوچ لی ہو۔۔۔ ہاں اپنوں کے لفظوں میں ہی اتنی طاقت ہوتی ہے کے وہ انسان کی خوشیان کھا لیتی ہیں۔۔۔
حماد جو دروازے پر نظر پڑھتے ہی خاموش ہوا تھا ہونٹ بھنج کر نظریں جھکا گیا
اس سے پہلے ہاشم کچھ کہنے کی ہمت کرتا ردا تیزی سے قدم اٹھاتی انسوں ضبط کیے سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ اسکے سامنے آئی حماد جلدی سے کھڑا ہوا۔۔
“ردا سوری۔۔۔
“نہیں سہی کہا میں بہن نہیں ہوں اور صرف تم نے ہی نہیں میں نے بھی اپنے ابّو کو کھویا ہے۔۔۔۔۔تیمور تو ہم سے بھی چھوٹا ہے وہ بھی ابّو کو یاد کرتا ہے لیکن کبھی اس نے یہ نہیں کہا کے اگر ابو ہوتے تو ایسا کرتے جو تم لوگ نہیں کر رہے کیوں کے باپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا کبھی بھی۔۔۔۔لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کے ہاشم بھائی اور ہدبر بھائی کی بھی کوئی جگہ نہیں لے سکتا۔۔۔۔ میں نہیں ہوں بہن سہی کہا میں کزن ہوں۔۔۔یہ یہ لو یہ صرف تمہارا حق ہے۔۔۔
ردا کی آواز روندھ گئی وہ جو پیسے ہاتھ میں پکڑے اسے دوبارہ جلانے کے گرز سے آئی تھی حماد کی بات سنتے ہی چوکھٹ پر ہی روک گئی تھی۔۔
روتے ہوۓ ردا نے حماد کی ہتھیلی پے پیسے رکھ کر اس نے کمرے سے دوڑ لگا دی
“ہاشم بھائی سوری میں غصّے میں غلط بول گیا۔۔۔حماد نادم سا بول کر سر جھکا گیا۔۔۔
“کوئی کوئی بات نہیں ہوجاتا ہے۔۔۔ ہاشم خود کو بولنے کے قابل کرتا کہ کر سائیڈ ٹیبل سے والٹ اٹھا کر اس میں سے پیسے نکال کر اسکے قریب آیا۔۔۔جو ابھی تک سر جھکا کر کھڑا تھا۔۔
ہاشم نے بنا کچھ بولے اسکے ہاتھ سے پیسے لیے پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے اسے دے کر جانے لگا۔۔
“ہاشم بھائی سوری پلیز مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا م۔۔۔۔۔
“ارے کوئی بات نہیں غصّے میں ہوجاتا ہے۔۔ ابو کی جگہ واقعی کوئی نہیں لے سکتا حماد خیر چلو اب جاؤ سوری کرلو ردا سے اور یہ میں دے دونگا۔۔۔ ۔ہاشم نے زبردستی مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔پھر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا کمرے se نکل گیا ۔
بولنا کتنا آسان ہوتا ہے ناں۔۔۔لیکن اسے سن کر سہہ جانا بہت مشکل” یہی حال اس وقت حماد کا تھا۔۔۔
💗💗💗💗
“یہ ہاشم کہاں ہے ؟ بینش بیگم نے اچانک تہذیب سے پوچھا جو لاؤنج میں ہی بیٹھی تھی۔ ۔
“ا آ رہے ہ ہوں گ گے م میں دی دیکھتی ہ ہوں۔۔۔۔ تہذیب کہ کر اٹھ کر جانے لگی یکدم ہاشم کو نیچے اتے دیکھ کر وہیں روک گئی۔۔۔۔
ہاشم اسے مسکرا کر دیکھتا سب سے ملنے لگا جب کے تہذیب اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
صبح خوش پاش سے ہاشم کے چہرے پر افسردگی چھائی ہوئی تھی اور یہی بات تہذیب کو پریشان کرنے کا باعث بنی۔۔۔
تہذیب سوچتے ہوۓ اسکے ساتھ صوفے پر آکر بیٹھی جو عاصم صاحب سے بات کر رہا تھا۔۔۔
“آپی ردا کہاں ہے؟ تعدیل نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
ہاشم نے گہری سانس بھری جب کے تہذیب نے کندھے اچکائے۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے سب ناشتہ کر رہے تھے ۔۔۔۔
ہاشم جو ناشتہ کرتے ساتھ عاصم صاحب سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہا تھا کمر کی طرف سے شرٹ کو کھچتا محسوس کرتے ہی حیرت سے نظر گھوما کر دیکھا تہذیب اسکی شرٹ کو چٹکی میں بھر کر ہلکے ہلکے کھنچ رہی تھی۔۔۔
تہذیب کی حرکت پر ہاشم کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی۔۔۔ نامحسوس انداز میں ہاشم نے اسکے ہاتھ کو ٹیبل کے نیچے ہی تھام لیا۔۔
“چھ چھوڑیں۔۔۔
“ہمم کیا ہوا ناشتہ کرو ۔۔۔ ہاشم نے انجان بن کر کہتے اسکا ہاتھ دبایا اس سے پہلے تہذیب کچھ بولتی نگہت بیگم بول پڑیں۔۔
“کیا ہوا بیٹی ناشتہ کیوں نہیں کر رہی۔۔۔
“ج جی ک کر ر رہی ہو ہوں۔۔۔۔بیچارگی سے کہ کر تہذیب کن اکھیوں سے اسے دیکھنے لگی جس نے آنکھ مار کر اس کے ہاتھ کو آزاد کیا۔۔
💗💗💗💗
ولیمے کی تقریب رات کو تھی ہاشم تہذیب وغیرہ کو پارلر چھوڑ کر واپس آنے لگا تعدیل بھی انکے ساتھ ہی تھی
“جب راستے میں ہی اسے سگنل پر ارتضیٰ دکھا جو کسی لڑکی کے ساتھ بیک سیٹ بیٹھا تھا۔۔۔۔فرنٹ پر دو انجان لوگ تھے جب کے ارتضیٰ لوگوں کی پرواہ کیے بغیر اس لڑکی کے ساتھ فاصلے ختم کیے کان کے نزدیک جھکا ایک ہاتھ سے اس لڑکی کا گال سہلا رہا تھا جو تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہنس رہی تھی
ہاشم کے چہرے پر دونوں کو دیکھ کر سخت ناگواری پھیلی جو کہنے کو تو مسلمان ہیں لیکن حرکتیں شرمناک کر رہے تھے ذرا بھی احساس نہیں تھا کے آگے پیچھے لوگوں کی نظریں انہی پر مرکوز تھی۔۔۔۔
کیسے نہ ہوتیں دن دھاڑے انھیں گند دیکھنے کو مل رہا تھا ہاں اسے لوگ گند ہی پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ۔
ہاشم نے اس پل شدت سے اللّه کا شکر ادا کیا تھا کے تعدیل کی زندگی بچ گئی۔۔۔
سگنل چھتتے ہی ہاشم سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔۔۔
💗💗💗💗
“ماشاءالله آپی آج تو آپ کل سے بھی زیادہ پیاری لگ رہک ہیں۔۔۔تعدیل جو اپنی تیاری مکمل ہونے کے بعد اسکی طرف آئی تھی۔
اسے دیکھتے ہی بے ساختہ بول پڑی
تعدیل جو پرپل کلر کی میکسی میں میک اپ اور جیولری پہنے تیار تھی تعدیل کے کہنے پر مسکرا دی۔۔
“آپ ماشاءالله خود بھی بہت پیاری ہیں۔۔پاس ہی کھڑی
پارلر والی نے پیشہ وارنہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اسکی تعریف کرنا ضروری سمجھا۔۔۔
“تھ تھیک ی یو۔۔۔۔تہذیب نے دھیمی آواز میں اسکا شکریہ کیا جب پیچھے بیٹھی ایک لڑکی زور سے ہنسی۔۔۔
“ہاہاہا واؤ موم آپ نے سنا کیسے بولتی ہے یہ ہاہاہا سوری یار لیکن تمھارے بولنے سے مجھے ایک دوست یاد آگئی وہ بھی ہکلا کر بات کرتی ہے
ایک سال پہلے میں اسکی شادی میں گئی تھی لیکن ایک ہفتہ پہلے اسکے اپنے گھر گئی بیچاری کو طلاق ہوگئی کے اسکی وجہ سے اسکے ہسبنڈ کا سب مذاق اڑاتے تھے۔۔
“رباب اسٹاپ اٹ۔۔۔۔اس سے قبل وہ لڑکی اور کچھ کہتی ساتھ بیٹھی اسکی ماں نے گھور کر اسے ٹوکا۔۔۔
“تعدیل غصے میں اسے کچھ کہنے لگی تھی جب تہذیب نے اسکا ہاتھ تھام کر کچھ بھی کہنے سے روکا۔۔۔
💗💗💗💗
“آپی آپ نے روک دیا ورنہ سناتی اسے ہونہہ اسکے فضول سے ہسبنڈ نے اسے چھوڑ دیا تو ہمیں کیا اس سے۔۔ بیوقوف کہیں کی جانے کتنے لوگوں کو اپنی دوست کا بتاتی پھرتی ہوگی اور دیکھا تھا کیسے ہنس رہی تھی
ایسے لوگ سامنے ہمدرد بنتے ہیں پھر پیٹ پیچھے ہنس ہنس کر مذاق اڑاتے ہیں بے حس لوگ۔۔۔۔۔تعدیل اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھی دھیمی آواز میں بولتی رہی۔۔
جب کے تہذیب اس لڑکی کی کہی باتیں سوچنے لگی۔۔۔کیا کوئی صرف لوگوں کے مذاق اڑانے سے اپنی شریکِ حیات کو چھوڑ دیتے ہیں ؟ اس میں اس لڑکی کا کیا قصور بھلا ؟ کیا لوگوں نے زندگی بھر اسکے ساتھ اکر گھر میں رہنا تھا ؟ کیا لوگوں نے اسکے سکھ دکھ میں اسکے ہمقدم چلنا تھا ؟
جب شادی کرلی اسکے بعد ہی کیوں اسے شرمندگی ہوئی ؟ سرخ جوڑے میں پہلو میں بیٹھی زندگی کے حسین خواب دیکھتی اس لڑکی کے خوابوں کو لوگوں کے مذاق نے کیونکر نوچ لیا ؟
خامیاں تو ہر کسی میں ہوسکتی ہیں کیا اس مرد کا اتنا ہی ظرف تھا یا لوگ ہی کمظرف ہوچکے ہیں کے اپنا درد اپنی تکلیف اپنی مجبوریاں اپنے خواب اپنی حسرتیں اپنی محبت اپنی نفرت ہی نظر و سمجھ آتی ہے ایسا کیوں ہے آخر
بہت سے سوال اسکے دماغ میں گردش کرنے لگے جب گاڑی روکی۔۔۔ زور سے سر کو جھٹک کر تہذیب نیچے اترنے لگی۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی کے منفی سوچوں میں گھیر کر وہ خود میں احساسِ کمتری کو خود پر حاوی ہونے دے۔۔۔
وہ ہاشم کے ساتھ زندگی بھر کا سفر ساتھ میں تہہ کرنا چاہتی ہے۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *