Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19

ولیمے کی تقریب اپنے عروج پر تھی ہاشم اور تہذیب ساتھ کھڑے سب کی نگاہوں کا مرکز بنے ہوۓ تھے…دونوں لگ بھی تو بہت پیارے رہے تھے۔۔۔
کسی کی نگاہوں میں رشک تھا تو انہی میں ایک انسان ایسا بھی موجود تھا جس کی نگاہوں میں نفرت جلن جانے کتنے ہی جذبے دونوں کو مسکراتے ہوۓ دیکھ کر دل و دماغ میں ابھرے تھے۔۔۔۔۔
ارتضیٰ احمد جسے بچپن سے ہی ہاشم وقاص سے خدا واسطے کا بیر تھا وہ کیسے اسے خوش ہوتے دیکھ سکتا تھا
ایسا کیا ہے ہاشم میں جو آج ہر وہ چیز پا گیا۔۔۔جب کے ارتضیٰ احمد آج اس سے ایک قدم پیچھے ہی کھڑا ہے۔۔۔
“ہاشم وقاص میں تم دونوں کی یہ مسکراہٹ چھین لونگا ایسا وار کروں گا کے ہنسنا تو دور مسکراہٹ کیا چیز ہوتی ہے وہ تک بھول جاؤ گے۔۔۔
دونوں پے نظریں مرکوز کیے وہ خود ہی جل بھون کر نفرت سے سوچتا سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔۔۔
اسے اب تعدیل سے کوئی سروکار ہی نا رہا ہو جیسے دل و دماغ پر ہاشم کی نفرت نے نئے سرے سے سر اٹھایا تھا۔۔۔
💗💗💗💗
ہاشم نے کن اکھیوں سے ساتھ بیٹھی تہذیب کو دیکھا جو ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہدبر کی طرف متوجہ تھی۔۔۔
جب کے ہدبر تہذیب سے ساتھ بیٹھتا موبائل کا فرنٹ کیمرہ اوپن کرتا اپنی اور اسکی سیلفی لینے لگا۔۔۔
“چلو یہ پھر شروع ہوگیا۔۔۔۔اٹھو ہدبر کھانا کھول رہا ہے جاؤ عاصم بھائی کے پاس ایک تو یہ ارتضیٰ بھی پتہ نہیں کہاں غائب ہے۔۔۔ نگہت بیگم قریب آتے ہی اسے کہ کر ساتھ ہی اسٹیج سے اتر گئیں۔۔۔
کھانا کھل گیا تھا مہمان کھانے کی طرح متوجہ ہوگے تھے ہاشم اور تہذیب اسٹیج پر اکیلے تھے۔۔۔
ہاشم نے موقع غنیمت جان کر تہذیب کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
تہذیب نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
“کیا سوچ رہی ہو؟
“ک کچھ کچھ ن نہیں۔۔ تہذیب نے کہ کر نظریں جھکا کر اپنے ہاتھ کو دیکھا جو ہاشم کے ہاتھ میں دبا تھا۔
ہاشم اسے غور سے دیکھنے لگا۔۔۔
“کسی نے کچھ کہا ہے تم سے؟ یکدم ہاشم نے سنجیدگی سے کہا تہذیب نے حیرت سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ ۔
“ا آپ ک کو ا اے ایسا کک کیوں لا لگا۔۔۔۔۔
“میجک سے اچھا بتاؤ کس بے کہا میں ابھی ٹھیک کرتا ہوں۔۔۔ہاشم سنجیدگی میں کہتا ہلکے سے مسکرایا ۔
“بھابھی جان۔۔۔۔۔۔اس سے قبل تہذیب جواب میں کچھ کہتی ارتضیٰ کی آواز پر دونوں بری طرح چونکَے۔۔۔
ہاشم سے ساتھ کھڑی اس لڑکی کو دیکھا جسے وہ ارتضیٰ کے ساتھ کار میں دیکھ چکا تھا جب کے ارتضیٰ کے بچپن کے دوست کے ساتھ کھڑا وہ لڑکا بھی دیکھ چکا تھا۔۔۔
ہاشم دیکھنے کے باوجود خاموش ہی رہا جب کے لبنیٰ اور سعد دونوں کھڑے مسکرا رہے تھے۔۔
“یہ میرے دوست ہیں۔۔۔۔ ارتضیٰ نے انکے متوجہ ہونے پر کہا۔۔۔
“اس السلام ع علیکم!! تہذیب نے آہستہ سے سلام کیا . ۔
لبنیٰ اور سعد دونوں کے چہرے پر تمسخرانہ پھیلا لیکن ہاشم کے سامنے کچھ کہ کر وہ تماشا نہیں کروانا چاہتے تھے۔۔۔
“وعلیکم اسلام بھابھی شادی بہت بہت مبارک آپ دونوں کو۔۔۔سعد نے چہرے پر سنجیدگی لاکر کہا۔۔۔
“تھینک یو مسٹر آپ شادی میں آئے۔۔۔ کھانا کھا کر جائے گا۔۔۔۔۔۔
تہذیب کا ہاتھ پکڑ کر ہاشم جلدی سے بولا۔۔۔انکے چہروں سے صاف لگ رہا تھا وہ تہذیب کے ہکلا کر کہنے پر مسکرا رہے۔۔۔
“اوہ یور ویلکم۔۔۔ سعد زبردستی مسکرا کر کہ کے تپ گیا۔۔
“چلو یہاں سے۔۔۔۔ارتضیٰ گھورتا ہوا کہ کر سب کے ساتھ تیزی سے اسٹیج سے اتر گیا ہاشم ابھی تک انکی پشت دیکھ رہا تھا
جب کے تہذیب آنکھوں میں محبت لئے اسے جس نے اسکا مذاق بننے سے پہلے ہی سب کو اپنے لہجے سے باور کروا گیا تھا۔۔۔
💗💗💗💗
تہذیب ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی جب ہاشم کمرے میں آتا کوٹ کو اتار کر ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا اسے دیکھنے لگا پھر چلتا ہوا اسکے گرد بازو پھیلا کا اپنے حصار میں لیتا تھوڑی اسکے کندھے پر ٹیکا کر آئینے سے دونوں کے عکس کو دیکھنے لگا۔۔
“بہت اچھی لگ رہی ہو مسسز ہاشم۔۔۔۔ہاشم نے مسکراتے ہوئے اسے کہا۔۔
“ا آپ ب بھی بب بہت اچ اچھے ل لگ ر رہے ہ ہیں۔۔۔تہذیب نے بھی مسکرا کر کہا۔۔
“ہاشم نے مسکرا کر اسے اپنی طرف گھومایا تہذیب نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
“ہا ہاشم آ آپ کب کبھی مج مجھے چھو چھوڑیں گ گے ت تو ن نہیں۔۔۔ یکدم تہذیب نے دونوں ہاتھ سینے پے رکھ کر کہا۔۔
ہاشم جو مسکرا کر اسکے گال پر جھک رہا تھا یکدم روک کر پیچھے ہوا۔۔
“چھوڑنے کی وجہ بتاؤ گی ؟ ہاشم نے سپاٹ لہجے میں کہا تہذیب ہونٹ بھینچ گئی اسے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔
تہذیب جلدی سے اسکے سینے سے لگ گئی۔۔
س سوری م مجھ مجھے یہ نن نہیں پ پوچھنا چ چاہیے ت تھا۔۔۔س سوری۔۔۔
تہذیب بے دونوں ہاتھ اسکے گرد سختی سے حائل کر کے سہمے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔۔
“ہاشم نے کچھ بھی کہیں بغیر ہونٹ اسکے سر پر رکھ دئے۔۔۔۔
“ِہا ہاشم۔۔۔
“ششش!! کسی کی فضول باتوں کو دماغ میں جگہ مت دو تہذیب۔۔۔ ہاشم وقاص بچپن سے تمھارے ساتھ کا خواہشمند رہا ہے اگر چھوڑنا ہی ہوتا تو تمہے اپنی زندگی میں کبھی شامل نا کرتا ۔۔۔ہاشم اس سے پیچھے ہوتا اسکے چہرے کو تھام کر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر محبت سے بولا تہذیب کی آنکھوں سے موتیوں کی طرح آنسوں گالوں پر لڑکھنے لگے۔۔۔
“م مجھ۔۔
“چھوڑو ان باتوں کو اور یہ رونا بند کرو دیکھو میک اپ خراب ہو رہا ہے بلکل چڑیلوں جیسے روپ دھار رہی ہو ۔۔۔
ہاشم اسے کہتے ہوۓ اسکے آنسو پوچھے جو چڑیل کہنے پر اسے گھور کر پیچھے ہٹنے لگی۔۔
“ب بہت۔۔۔
“ہاں ہاں جانتا ہوں میری جان تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو لیکن سب سے زیادہ میں تم سے کرتا ہوں۔۔۔۔ہاشم نے اسکی بات اچک کر اسکی پیشانی چوم کر اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔
💗💗💗💗
“ہاشم کتنا خوبرہ شخص ہے اس لڑکی میں ایسا کیا دیکھ لیا جو اس سے شادی کرلی ہنہہ ہکلی کہیں کی۔۔۔اگر میں ہاشم ہوتی تو شادی تو دور اس سے دوستی تک نہیں کرتی۔۔۔
مطلب بندا جب تک اپنی بات پوری کرلے گی وہ تو ج جی و وہ ایسے ہی کرتی رہ جائے گی۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔
لبنیٰ خود ہی کہتی قہقہ لگا کر ہنسی ارتضیٰ جو اسکی گود میں سر رکھے لیٹا اس کا ہاتھ اپنے لبوں پر رکھے ہوۓ تھا اسکی بات سن کر ہنسنے لگا۔۔۔
“اچھا میں چلتا ہوں امی انتظار کر رہی ہونگی جب تک گھر نہیں جاؤں گا وہ جاگتی رہیں گیں۔ کہتا بھی ہوں سوجایا کریں لیکن سننتی ہی نہیں ہیں۔۔۔۔
ارتضیٰ اٹھ کر اسکا گال چوم کر بیڈ سے اتر کر اپنی جیکٹ صوفے سے اٹھا کر پہنتا کمرے سے نکل کر فلیٹ کا دروازہ عبور کرتا گھر کی جانب روانہ ہوگیا۔۔۔
بہت کچھ اسکے شیطانی دماغ میں چل رہا تھا وہ سوچ چکا تھا اسے کیا کرنا ہے بس اسے صرف موقعے کی تلاش تھی۔۔۔
💗💗💗💗
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *