Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14

عاصم صاحب لان میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے جب گارڈ کی آواز پر نظر ہٹا کر اسے دیکھا جو کسی کی آمد کا بتا رہا تھا ۔۔
عاصم صاحب اندر بھیجنے کا کہتے خود کرسی سے اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔
“کیا بات ہے آپ اس طرح کیوں کھڑے ہیں؟ بینش بیگم انکی طرف آتے ہوۓ بولیں۔۔۔
“عاصم صاحب نے چونک کر دیکھا۔۔
اس سے قبل کچھ بولتے احمد صاحب اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ اندر اتے ہوۓ دیکھے ۔۔
“یہ کون ہیں ؟ بینش بیگم نے حیران ہوکر پوچھا
“پتہ نہیں چلو۔۔عاصم صاحب کندھے اچکاتے ہوۓ آگے بڑھ گئے۔۔۔
احمد صاحب سے مل کر وہ ان لوگوں کو ڈرائنگ روم میں لے آئے۔۔۔
ارتضیٰ خاموشی سے ہاتھ باندھ کر ان سب کے پیچھے چلنے لگا لیکن نظریں متلاشی انداز میں تعدیل کو ڈھونڈھ رہی تھی۔۔۔
💗💗💗💗
“بینش بیگم دروازہ نوک کر کے اندر داخل ہوئی جہاں تہذیب اور تعدیل شادی کے جوڑے بیگ میں رکھ رہی تھیں۔۔۔
“اچھا تو یہ کام تھا جو محترمہ نے تہذیب کو بھی سہی سے ناشتہ نہیں کرنے دیا تھا۔۔۔۔
بینش بیگم کی آواز پر دونوں نے دروازے کی طرف دیکھ جہاں بینش بیگم کھڑی مسکرا رہی تھیں۔۔
“م میں ن نن نے کا کہا ب بھی اب ابھی پا پانچ د دن ہ ہیں رخ رخصتی میں۔۔۔تہذیب نے مسکراہٹ دبا کر اپنی ماں کو بتایا۔۔۔
“آپی۔۔۔۔
“اچھا بھئی اب شروع مت ہوجانا۔۔۔ اور تعدیل تم جاؤ حلیہ درست کر کے آؤ۔۔۔بینش بیگم کہتے ہوۓ جانے لگیں۔۔
“ک کیوں کک کہاں ج جا جارہی ہیں۔۔۔تہذیب نے حیرت سے پوچھا۔
“شاپنگ پر جا رہے ہیں یس۔۔ بینش بیگم کے بولنے سے پہلے ہی تعدیل نے خوش ہو کر کہا۔۔۔
“جی نہیں۔۔۔آپ کے رشتے کے لئے آئے ہیں پڑوسی ہیں تمہے دیکھا ہے ایک بار اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے پسند کیا ہے ۔۔۔ بینش بیگم نے ماتھا پیٹ کر کہا۔۔
“کیا! امی یہ یہ کیا کہ رہی ہیں اور مجھے کہاں سے دیکھ لیا اس جن کے بچے نے۔۔۔۔
“تعدیل یہ کس طرح کی زبان استعمال کر رہی ہو بےشرم کہیں کی۔ اور دیکھنے کی بھی خوب کہی یہ جو تم جاسوسی ناولز پڑھ کر جاسوسی کرنے ادھر ادھ پھدکتی ہو نہ وہیں اس جن کو ہمارا مینڈک پسند آگیا اب منہ بند کر کے نیچے آؤ۔۔
بینش بیگم گھور کر کہتیں کمرے سے نکل گئیں جب کے تہذیب چپ بیٹھی اس دن کو سوچنے لگی جب ہاشم اور اسکی فیملی کے ساتھ اتنا برا برتاؤ کیا گیا تھا۔۔۔۔
“جن کو مینڈک کیوں پسند آیا اپنے ہی جیسی چڑیل کیوں نہ پسند آگئی ہنہہ آپی میں ابو کو بتا دونگی میں اس سے شادی وادی نہیں کرونگی۔۔۔ تعدیل کہ کے باتھ روم چلی گئی فلحال اپنی ماں کی بات پر عمل جو کرنا تھا۔۔۔
تہذیب ابھی بھی اسی طرح بیٹھی تھی جب اسکے موبائل پر رنگ ہوا ۔۔
“چونک کر نام پڑھا جہاں “ہاشم کالنگ ” آرہا تھا لمبی سانس لیکر ریسیو کرتی بالکنی میں چلی گئی۔۔۔
💗💗💗💗
آ آپ ک کہاں ہیں۔۔۔۔تہذیب نے مدھم آواز میں پوچھا جس نے اسکے آپ کہنے پر موبائل کان سے ہٹا کر حیرت سے اسکرین کو دیکھا۔۔
“تہذیب طبیعت ٹھیک ہے نہ یہ میں ہوں ہاشم
“ج جان جانتی ہو ہوں تا تنگ م مت کا کریں ہم ھمہاری شا شادی ہو ہو ر رہی ہے اب رش رشتہ بد بدل ر رہا ہے۔۔۔۔
تہذیب نے سنجیدگی سے جواب دیا ہاشم کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔۔۔
“ہم چلو اچھا ہے ویسے کیا بات ہے کافی سنجیدہ لگ رہی ہو؟ وہ اسکا ہاشم تھا کیسے نا اسکے لہجے کو محسوس نا کرتا۔۔۔
“وہ تع تعدیل کے ل لیے رش رشتہ ا آیا ہے۔۔۔
“ارے یہ تو بہت اچھی خبر سنائی تمہے تو خوش ہونا چاہیے . ۔ہاشم اپنی سیٹ پر ٹیک لگاتے ہوۓ خوش ہوکر بولا جب ہدبر شیشے کا بھاری دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔۔۔
“ل لیکن ہا ہاشم وہ ہم ہمارے پا پڑوسی ہ ہیں او اور آ آپ اچ اچھی ط طرح وا واقف ہیں ک کے ہم ہمارے س ساتھ ایک ہ ہی بن بنگلو ہے۔۔۔
تہذیب نے پریشانی سے ہکلا کر اپنی بات مکمّل کی ہاشم جھٹکے سے اپنی کرسی سے کھڑا ہوگیا ہدبر نے حیرت سے اسے دیکھا جو اسکے سامنے اکر بیٹھا تھا۔۔
“میں رات میں آتا ہوں۔۔۔ہاشم نے کہتے ہی کال ڈسکنیکٹ کی یکدم ہی اسکا دماغ گھوم گیا تھا۔۔۔
“کیا ہوا ہاشم بھائی؟
“ماموں تہذیب کے گھر پر ہیں ارتضیٰ اور ممانی بھی ساتھ ہیں۔۔۔ہاشم کہ کر ہونٹ بھینچ کر دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا جب کے ہدبر ابھی بھی ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“وہ کیا کر رہے ہیں وہاں کہیں امی تو نہیں لیکر گئیں۔۔ہدبر خود سے اندازے لگانے لگا
“نہیں وہ لوگ وہاں ارتضیٰ کا رشتہ لیکر گئے ہیں تعدیل کے لئے۔۔۔
“ہدبر سنتے ہی ہاشم کی طرح اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“یہ کیا کہ رہے ہیں ہاشم بھائی آپ جانتے ہیں میں نے آج ہی امی نے اسکے لئے کتنی ہمت جما کر کے بات کی ہے یہ ارتضیٰ بھائی کہاں سے ظالم سماج بن گئے۔۔۔ ہدبر حیرت و بے بسی سے بولا۔۔ہاشم نے کندھے اچکائے۔
“میں نے کہا ہے ہم رات میں آئیں گے فکر مت کرو وہ صرف ابھی بات کرنے آئے ہیں ہاشم کہ کر فائل پر جھک گیا۔۔
“میں جا رہا ہوں جانے لگیں تو بتا دیے گا۔۔ میں تو کھانے پینے آیا تھا سارا موڈ ہی غرق کر دیا۔۔ہدبر منہ بنا کر کہتا بڑبڑاتے ہوۓ چلا گیا۔۔۔
ہاشم اسکے جاتے ہی فائل بند کرتا سوچ میں پڑ گیا۔۔۔
ارتضیٰ احمد وہ بھی شادی۔۔
💗💗💗💗
“ہمیں آپ کی بیٹی بہت پسند آئی ہے امید کرتے ہیں جواب ہاں میں دیں گے۔۔۔نیلم بیگم مسکراتے ہوۓ بینش بیگم اور عاصم صاحب سے بولیں۔۔
“ان شاء اللّه۔۔۔عاصم صاحب نے بھی جواباً نسکرا کر کہا
ارتضیٰ تعدیل کو کن اکھیوں سے بیٹھا کب سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جب کے تعدیل منہ پھولا کر بیٹھی تھی نیلم بیگم کو دیکھ کر اسے چڑ ہوئی۔۔۔
“انکل اگر آپ اجازت دیں تو کیا میں ان سے بات کر سکتا ہوں۔۔۔ارتضی نے یکدم عاصم صاحب سے کہا تہذیب جو ابھی اندر آئی تھی اپنے باپ کو دیکھنے لگی جب عاصم صاحب نے سوچنے کے بعد اجازت دے دی۔۔۔
“ا ٹھیک ہے بیٹا جاؤ تعدیل بیٹی۔۔۔ عاصم صاحب نے اجازت دیکر تعدیل سے کہا جو اندر ہی اندر اسکو برا بھلا کہتی سر ہلا کر اٹھ گئی۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *