Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23

ہیلو۔۔۔
“کہاں ہیں ؟
“کب تک پہچیں گے؟
“نہیں آپ بس جلدی سے آجائیں۔۔
“جی رنگیں ہاتھوں پکڑلیں آکر
“ٹھیک ہے بائے۔۔
حماد نے کال کاٹتے ہی ردا کو دیکھا۔۔۔”آ رہے ہیں۔حماد نے آنکھوں میں چمک لئے کہا
“گڈ! بھابھی کی اب آئے گی شامت۔۔۔ردا کے کہنے پر دونوں نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہ لگایا۔۔۔
💗💗💗💗
“ت تم دو دونوں اے ایسے کک کیا دیک دیکھ ر رہے ہو؟
فل سائز سرف کا تھیلا پکڑے تہذیب واشنگ مشین کے پاس کھڑی ان دونوں سے بولی جو کرسی پر بیٹھ کر ہاتھ میں جوس کا گلاس اور چپس لیکر ابھی اکر بیٹھے تھے
“کچھ نہیں بھابھی ہم تو آپ کو کمپنی دینے آئے ہیں مدد تو آپ لے نہیں رہیں۔۔۔حماد نے چپس کھاتے ہوۓ کہا۔۔
تہذیب اسکی بات پر مسکرا کر واشنگ مشین کی طرف رخ کیے کھڑی ہوئی ہی تھی۔۔۔ جب یکدم کسی نے تیزی سے اسکا رخ اپنی جانب کر کے اسے گود میں اٹھا لیا تھا۔۔
آاا۔ ۔۔تہذیب ڈر کر زور سے چیخی ہاتھ میں پکڑا صرف کا تھیلا بھی فرش پر جاگرا۔۔
تھری پیس سوٹ پہنے ہاشم تیزی سے بچوں کی طرح اسے اٹھائے کمرے کی طرف بڑھا
حماد ردا ہنستے ہوے اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔۔
“یہ ک کک کیا ک کر ر رہے ہ ہیں ات اتاریں۔۔ تہذیب کوٹ کو مٹھی میں جکڑے گھبراتے ہوۓ بولی۔۔۔ جو ان سنی کرتا سیڑیاں چڑھ رہا تھا۔۔۔
نگہت بیگم جو کچن سے نکل رہی تھیں ہاشم کو تہذیب کو لیکر جاتے حیران ہوئی۔۔
“ہاشم کیا ہوا؟ نگہت بیگم نے سینے پے ہاتھ رکھ کر انکی طرف قدم بڑھائے لیکن اسکی بات سن کر ماتھا پیٹ کر رہ گئیں۔۔۔
“اس کا علاج کرنے جتنا اسے منا کیا جا رہا ہے کاموں سے یہ ڈھیٹوں کی طرح وہی کر رہی ہے۔۔۔۔
ہاشم انہیں کہتا کمرے کے دروازہ کے عین سامنے آیا۔۔
“اندر کمرے میں سکون سے بیٹھ کر اچھے سے دیدار کر لینا پہلے لاک گھوماؤ ۔
“ن نہیں ات اتا اتاریں۔ ۔۔تہذیب اسکے کہنے پر مچلی۔۔
“ہاشم بھائی میں مدد کروں۔۔۔ہدبر جو اپنے کمرے سے ابھی کپڑے بدل کر نیچے جا رہا تھا شرارت سے گدی سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔
“تہذیب تو شرم سے لال ٹماٹر ہوتی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں میچ کر رہ گئی۔۔۔
ہدبر قدم قدم چلتا لاک گھما کر کھولتا پوری بتیسی نکال کر ہاشم کو دیکھ کر سیڑیوں کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
ہاشم نے اندر جاتے ہی ایک گٹھنا بیڈ پر رکھ کر اسے بیڈ پر بٹھایا۔۔۔۔جس نے بیٹھتے ہی ہاتھ ہٹا کر پاس رکھا تکیہ اٹھا کر اس پر پھینکا
جسے ہاشم نے آرام سے کیچ کر کے دوبارہ رکھا۔۔
“جاہلوں والی حرکتیں مت کرو چھوٹی بلی اور تمہے کتنی بار منا کیا ہے کے اس کنڈیشن میں کام نہیں کرو گی لیکن تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہی ہو۔۔۔
وہ تو اچھا ہوا حماد نے کال کر کے بتادیا۔ ہاشم نے سنجیدگی سے ڈانٹتے ہوئے اسے گھورا جو منہ پھیر کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“ہاشم کہ کر اسے دیکھتا رہا پھر لمبی سانس بھرتا اسکے ساتھ بیٹھ کر اسکے کندھے پر بازو پھیلائے۔۔
“میں ہمارے بچے کے لئے ہی کہ رہا ہوں گھر میں ملازمہ ہے اور پھر باقی سب بھی تو ہیں۔۔۔۔۔کیا تمہے امی نے کچھ کہا ہے ؟
ہاشم نے ذرا سی گردن جھکا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔
تہذیب نے جھٹ نفی میں سر ہلا کر اسے دیکھا ۔۔
“ن نہیں و وہ تت تو خو خود من منا کر کرتی ہ ہیں۔۔۔۔
“ہممم پر تم نے سننا ہی کب ہے۔۔۔ خیر کھانا کھایا تم نے؟ ہاشم نے بات پلٹتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
ج جی۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے پھر تم ریسٹ کرو۔۔۔
ہاشم کہ کر ٹائی کو گلے سے اتار کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
تہذیب کافی دیر بند دروازے کو مسکرا کر دیکھتی رہی۔۔
💗💗💗💗
“تعدیل۔۔۔۔تعدیل۔۔ افف کہاں رہ گئی ہو جلدی نیچے آؤ۔۔
تمہاری ساس اور بہن منگنی کا جوڑا لیکر آچکی ہیں۔۔۔
بینش بیگم کمرے میں آئیں تعدیل کو کمرے میں نہ پاکر باتھروم کی طرف بڑھیں۔۔۔
“آپ چلیں میں آرہی ہوں امی۔۔۔
تعدیل نے اندر سے ہی جواب دیا بینش بیگم جلدی آنے کی تاکید کرتیں کمرے سے نکل گئیں۔۔
ہدر اور تعدیل کی کل منگنی تھی اسلئے ہاشم نگہت بیگم وردہ پھوپھو ردا اور تہذیب کو باہر سے ڈراپ کر کے چلا گیا۔۔۔
💗💗💗💗
“ت تم تمہے پس پسند آ آیا ؟
تہذیب تعدیل کو دیکھ کر مسکر کر پوچھنے لگی جو اپنی منگنی کے جوڑے کو نظروں میں ستائش لیے دیکھ رہی تھی۔۔
“بلکل آپی بہت خوبصورت ہے یہ تعدیل سے سچائی سے کہا۔۔۔
“ش شک شکر پس پسند آ آگیا۔۔۔ہا ہاشم او اور ہد ہدبر دو دونوں نے خ خد پس پسند ک کیا ہے۔۔۔
“واہ یہ تو کمال ہی ہوگیا۔۔تہذیب کی بات پر تہذیب چہک کر کہتی وردہ پھوپھو کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔۔
💗💗💗💗
رات کو سب دیر سے گھر واپس آئے تبھی سیدھا اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔۔
تہذیب نے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا
اندر کا منظر دیکھ کر اگلا قدم نا بڑھا سکی
گلابی اور نیلے رنگ کے غباروں سے کمرہ سجا ہوا تھا لیکن اسکے شاک ہونے کی وجہ چھوٹے بچے کے کاٹ کھلونے کپڑے گرز ہر چیز کاٹ کے ساتھ ہی رکھی گئی تھی
ہر چیز دو تھی۔۔۔تہذیب کی آنکھوں میں پانی جما ہونے لگا جب کسی نے پیچھے سے اسے حصار میں لیا۔۔
“کیسا لگا سرپرائز؟ ہاشم نے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
تہذیب اسکے حصار میں ہی گھوم کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ ہاشم جو محبت سے اسے دیکھ رہا تھا اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر پریشان ہوگیا۔۔
“کیا ہوا تہذیب اچھا نہیں لگا۔۔۔
“ب بب بہت بہت اچ اچھا لگ لگا۔۔۔ تہذیب آنکھوں کو رگڑ کر کہتی مسکرائی۔۔۔
“پھر رونے والی کیا بات ہے ہمم۔۔ہاشم کہتے اسکے گال کو چوم کر تہذیب کو دیکھنے لگا۔۔
“ِ یہ تت تو خو خوشی ک کے آن آنسو ہ ہیں۔۔۔ تہذیب مسکرا کر کہتی چیزوں کی طرف بڑھی
ایک ایک چیز کو چھو کر چاہت سے دیکھنے کے بعد ہاشم کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
جو چھوٹی سی فراک کو ہاتھ میں پکڑے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔۔۔
“آ آپ اب ابھی س سے ل لے آ آئے تت تین ما مہینے ہی ہو ہوئے ہیں ابھی ص صرف۔۔
“تو کیا ہوا اور یہ تو کم ہے ان شاءالله ہمارے نننہ مہمان آنے سے پہلے ہی میں کمرہ بھی سیٹ کرونگا خود اپنے ہاتھوں سے اور پھر ہدبر اور حماد ہیں
آج دونوں مار کھانے والے تھے یہیں ساتھ تھے کچھ رکھنے ہی نہیں دے رہے تھے۔۔۔ اور ہدبر اف ہاہاہا پاگل۔۔۔
ہاشم گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہنس دیا جب کے تہذیب اسے دیکھتی چلی گئی کتنا خوش و مطمئن ہے وہ۔۔۔۔
“ہا ہاشم آ آپ کک کو ب بیٹا چا چاہیے ہا بب بیٹی؟ تہذیب نے یکدم پوچھا۔۔۔
ہاشم نے فراک کو رکھ کر اسکی طرف دیکھا۔۔
“مجھے اولاد چاہیے تہذیب بیٹا ہو یا بیٹی یہ اللّه سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔۔۔۔۔۔جسے چاہے اس نعمت سے نوازے۔۔۔ وہ دے کر بھی آزماتا ہے اور لیکر بھی۔۔۔ہم بہتر کی خواہش کرتے ہیں اور وہ اپنے بندوں کے لئے بہترین۔۔۔
اس لئے فضول سوال کر کے میرا موڈ خراب مت کرو۔۔۔ہاشم نے سنجیدگی سے کہ کر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے
تہذیب کے کانوں میں ابھی تک ہاشم کے کہے لفظوں کی بازگشت ہو رہی تھی۔۔۔۔
“ہا ہاشم آ آپ ب بہت۔۔
“جانتا ہوں میری جان تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو۔۔۔ہاشم نے ہمیشہ کی طرح اسکی بات کاٹ کے شرارت سے کہا
تہذیب مسکرا کر اثباب میں سر ہلا کر سینے سے لگ کر چہرہ چھپا گئی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *