Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09

“آپی کتنے پیارے تھے نہ؟
“ک کک کون؟ تہذیب نے پلٹ کر پوچھا جو شب خوابی کے لباس میں کھڑی بالوں کو سلجھا رہی تھی۔۔
“ارے وہی جنہوں نے ہمیں لفٹ دی ہے افف آپی اتنی جلدی بھول گئیں۔۔تعدیل اٹھ کر بیٹھتی حیران ہوتے ہوۓ بولی۔۔
“نن نہیں یا یاد ہ ہے۔۔۔
“شکر ہے ورنہ مجھے لگا تھا پھر سے یاد کروانا پڑے گا ویسے آپی وہ میرڈ تو نہیں لگ رہے تھے۔۔۔۔تعدیل گھٹنوں پر تھوڑی ٹیکاتے ہوۓ پر سوچ انداز میں بولی
“اف تا تعدیل ف فض فضول م مت بو بولنا ش شر شروع ہو ہوجا نن نا۔۔۔تہذیب نے گھورتے ہوئے وارن کیا۔۔۔
“نہیں میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی مجھے کیا لیکن اگر وہ سنگل ہوۓ تو۔۔۔۔
“ت تت تو ان انگیجڈ ہ ہو سک سکتے ہیں۔۔۔تہذیب نے صوفے سے کشن اٹھا کر اسے مارا اور باتھ روم گھس گئی تعدیل کے فضول سولوں سے بچنے کا ایک ہی راستہ تھا۔۔
💗💗💗💗
ہاشم ابھی تک جاگ رہے ہو۔۔۔ نگہت بیگم کی آواز پر اسنے ہاتھ میں پکڑی سونے کی چین کو جلدی سے اپنی مٹھی میں دبایا ۔۔
“ابھی سونے ہی لیٹ رہا تھا۔۔۔۔ہاشم نے پلٹ کر جواب دیا۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔نگہت بیگم کہ کر جانے لگیں جب ہاشم نے روکا۔۔
“آپ کو کوئی کام تھا؟ ہاشم کی بات پر نگہت بیگم نے اسے دیکھا۔۔
“ہاں وہ دراصل تمھارے ماموں کا فون آیا تھا وہ کہ رہے تھے پارٹنرشپ ختم کرنا چاہتے ہیں..نگہت بیگم نے ہچکچا کر کہا ہاشم کو جھٹکا لگا۔۔
“پر ماموں تو آج آفس آئے تھے انہوں نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی۔۔۔۔ہاشم حیران ہوتے ہوۓ بولا …
“شاید تم سے کہنا اچھا نہ لگ رہا ہو۔۔۔
“کیا مطلب ہے امی کہنا اچھا نہ لگ رہا ہو لیکن وہ جو کر رہے ہیں وہ اچھا لگ رہا ہوگا۔۔ ہاشم چڑا۔۔۔
“یہ بھی مشورہ بھابھی اور میرے بھتیجے نے ہی دیا ہوگا خیر اچھا ہے ایسے رشتوں سے بہتر ہے بندا خاموشی سے کنارہ کشی کر لے۔۔۔
نگہت بیگم نے سر جھٹک کر کہا جب کے ہاشم انھیں دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
“چپ ہوں گر تو نہ سمجھ کے غافل ہوں میں،
اپنوں کے رویوں سے بخوبی واقف ہوں میں!! (امرحہ)
💗💗💗💗
“تعدیل چھت سے نیچے اؤ۔۔۔ پتہ نہیں یہ لڑکی اتنی دھوپ میں کیا کرنے پہنچ گئی ہے پھر آکر کچھ ٹھنڈا پینا ہے کا شور مچاتی ہے جس میں سادا پانی تو ہرگز ہوتا ہی نہیں ہے تہذیب ذرا کان کھینچ کر لیکر اؤ۔۔
بینش بیگم بولتی ہوئی کچن میں داخل ہوئیں۔۔۔
“امی کان کہھچوانے کی زحمت مت کریں میں خود آگئی آپی پلیز شربت کولڈ ڈرنک شیک کچھ بھی دے دیں گرمی لگ گئی مجھے تو۔۔۔۔تعدیل ماتھے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی۔
“لو سنو۔۔۔۔بینش بیگم کہتیں کچن سے نکل گئیں جب تعدیل تہذیب کے قریب آئی۔
“آپی ہمارے برابر والے بنگلے میں نئے لوگ آئے ہیں ایک لڑکی بھی ہے میری عمر کی۔۔۔ تعدیل نے رازداری سے بتایا تہذیب نے مسکرا کر اس کے سر پر چپت لگا دی۔۔
“ج جا جاسوسی م مت مت کرو ور ورنہ م امی ک کو ب بتا دوں گ گی ۔۔۔تہذیب مصنوعی گھوری سے بولی۔۔۔
تعدیل منہ پھولا کر کچن سے نکل کر لان میں نکل گئی۔۔
💗💗💗💗
“ہاشم تم کہاں چلے گئے ؟ کیوں چلے گئے۔۔۔۔کیا تم کبھی نہیں ملو گے۔۔۔۔۔جانتے ہو سب نے کہا تم ملک سے چلے گئے کبھی نہیں اؤ گے اور میں کتنی دیر یقینی و بے یقینی کی دہلیز پر کھڑی رہی۔۔۔۔۔شاید مجھ سے مذاق کیا گیا ہو مگر نہیں میں تو سب کے لئے ایک اینٹرٹینمینٹ تھی جس کا دل کرتا میرے ہکلانے کا مذاق اڑا کر سب کے ساتھ مل کر قہقہے لگاتا۔ تم نہیں تھے وہاں میرے لئے لڑنے والے تمھارے جانے کے بعد سب نے بات کرنا چھوڑ دی۔۔۔۔میں اکیلی رہ گئی۔۔
آج پھر تم یاد آرہے ہو دیکھو کیسی بیوقوفی ہے میں آج تک اسی امید میں ہوں کے کبھی تم ملو گے۔۔ مجھے دیکھ کر مسکراؤ گے۔۔۔۔۔کتنی کوشش کی تمہے بھولنے کی کے وہ تو ہمارا بچپن تھا لیکن بچپن بھی بھلا کوئی بھول سکتا ہے
جیسے آج بھی وہ رات جب یاد آتی ہے تو اپنی چیخیں بےبسی کانوں سے لہو ٹپکانے لگتی ہے۔۔۔
کوئی اس قدر سفاک کیسے ہو سکتا ہے ہاشم؟ سب کو لگتا ہے عمر کے ساتھ میں سب بھول گئی۔۔۔لیکن میں کچھ بھی نہیں بھولی اپنی بےبسی کیسے بھول سکتی ہوں ؟
ہاں میں بہت بےبس ہوگئی تھی اللّه سے دعا ہے کوئی معذور پیدا نہ ہو کے اس دنیا کے لوگ بڑے ظالم ہیں۔۔
“تہذیب !! باپ کی آواز سنتے ہی تہذیب نے صفہ پلٹا قلم رکھ کر اپنے باپ کو دیکھا۔۔۔
“جج جی۔۔۔
“کیا بات ہے سوئی نہیں ابھی تک ؟ عاصم صاحب ہمیشہ کی طرح رات میں اپنی بیٹیوں کو دیکھنے ضرور اتے تھے۔۔
“سس سو ر رہی ہوں بب بس۔۔۔ تہذیب مسکرا کر کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
عاصم صاحب نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا کر سر پر پیار کیا۔۔
“چلو سو جاؤ۔۔۔۔ اسے دیکھو کیسے سو رہی ہے۔۔۔ عاصم صاحب ہنس کر بولتے کمرے سے نکل گئے۔۔
تہذیب نے تعدیل کو دیکھا جو پورے بستر پر پھیل کر لیٹی ہوئی تھی منہ تھوڑا سا کھولا ہوا تھا۔۔ تہذیب کو ہنسی آنے لگی۔۔۔
آگے بڑھ کر اسے ٹھیک کیا رضائی اڑائی پھر چلتی ہوئی اسٹڈی ٹیبل کے پاس آئی اور ہمیشہ کی طرح صفے کو پھاڑ کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
💗💗💗💗
“ہاشم بھائی آپ کو پتہ ہے ماموں لوگوں نے گھر بدل لیا ہے۔۔۔ہدبر نے ہاشم کے بیٹھتے ہی اسے بتایا
“جانتا ہوں یہیں آگے لیا ہے۔۔۔ہاشم نے نارمل انداز میں ناشتہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
“پارٹی دی ہے دوستوں اور دور پرے کے رشتے دار بھی آئیں گے۔۔نگہت بیگم نے سلائس پر مکھن لگاتے ہوۓ بتایا ہاشم کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“ہنہہ پارٹی آپ کو نہیں لگتا میلاد اور قرآن خوانی کروانی چاہیے تھی۔۔۔وردہ بیگم یکدم بول ُاٹھیں۔۔۔
“پھوپھو ہوتے ہیں کچھ لوگ جو دنیا میں کھو کر دین کو بھلائے بیٹھے ہیں لیکن دوسروں کے سامنے ان سے زیادہ دین دار کوئی نہیں ہوتا اور امی آپ لوگ چلے جائیے گا میری طرف سے معذرت۔۔۔۔ہاشم کہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“ناشتہ تو پورا کرو۔۔۔
“کر لیا امی چلتا ہوں اللّه حافظ۔۔۔ہاشم کہتا لاونج عبور کرتا چلا گیا۔۔۔
💗💗💗💗
“کیسا لگا ہمارا بنگلہ ؟ نیلم بیگم اپنی سلک کی ساڑی کا پلو ٹھیک کرتے گردن اکڑا کر پوچھنے لگیں جی کا گلہ آگے پہچے سے گہرا تھا سلیولس پہنے بے جھجک کھڑی تھیں۔۔
“ماشاءالله بہت خوبصورت ہے۔۔ نگہت بیگم نے مسکرا کر نرم لہجے میں کہا۔۔۔
“ٹھینک یو نگہت باجی۔۔۔آپ یہ دیکھیں نیلکلس ڈائمنڈ کا ہے احمد نے آج ہی گفٹ کیا ہے اور خود پیار سے مجھے پہنایا ہے۔۔۔نیلم نے پھر اترا کر بتایا۔۔۔۔
ان سے کچھ ہی فاصلے پر ردا اور حماد اپنے قہقہے روک رہے تھے۔۔۔۔
“حماد یہ کیا ہے۔۔۔ ردا سرگوشی میں بولی ۔۔۔
“یہ ہماری تازی تازی امیر ممانی ہاہاہا۔۔۔۔حماد کہ کر ہنسا جب کسی نے اسکا کان پکڑا۔۔
“کون ہے۔۔۔حماد بری طرح چونکہ
“تمہارا بھائی اب چلو یہاں سے دونوں ہاشم بھائی آئے ہیں۔۔۔
“کیا لیکن وہ تو نہیں آرہے تھے نہ ؟ حماد حیران ہوکر پوچھنے لگا۔۔۔
“ہاں شاید ماموں نے کال کی تھی اب چلو۔۔۔ہدبر نے کہتے ہوۓ چلنے کو کہا۔۔
“اچھا امی کو تو بتا دوں روکیں۔۔۔حماد کہتا نگہت بیگم کی طرف بڑھ گیا جب کے ہدبر “عجیب ” بولتا ردا کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔۔
💗💗💗💗
“اس حلیے میں آنے کا مقصد ؟ کیا دکھانا چاہتے ہو کے بہت زیمدار انسان ہو ؟ ہاشم جو تھکن کے باوجود اپنے ماموں کے کہنے پر آفس سے سیدھا یہیں آگیا تھا ارتضیٰ کے کہنے پر ضبط کر کے رہ گیا۔۔
“ارتضیٰ احمد کبھی کبھی تم مجھے ذہنی بیمار لگتے ہو اسلئے مجھ سے جتنا ہو سکے دور رہا کرو یہ نا ہو تمہاری بیماری کا لہٰذ کیے بغیر میرا ہاتھ اٹھ جائے۔۔۔۔
ہاشم اسکے گریبان کو ٹھیک کرتے بوے سرد لہجے میں بولا
اس سے پہلے ارتضیٰ غصّے میں پاگل ہوتا ریحان اور لبنیٰ بیچ میں آگئے۔”ریلکیس گائیزز کیوں لڑ رہے ہو؟
“اپنے دوست کا علاج کرواؤ یا مجھے ماموں سے کہنا ہوگا۔۔۔ ہاشم نے ریحان کو دیکھ کر کہا ارتضیٰ غصّے سے کانپنے لگا.
“یو باسٹرڈ……
💗💗💗💗
“آپی چلیں۔۔۔تعدیل لان سے دوڑتی ہوئی تہذیب اور اپنے مشترکہ کمرے میں میں داخل ہوئی۔۔
“ک کہاں ؟
“چلیں تو بتاتی ہوں۔۔۔ تعدیل جلدی میں اسکا ہاتھ تھام کر لان کی دیوار کی طرف لے گئی جہاں دوسرے بنگلے کا بیرونی گیٹ اور لان نظر آرہا تھا۔۔۔
تعدیل کرسی رکھ کر چڑھی۔۔۔تہذیب نے بھی اسکی پیروی کی۔۔
چونکہ تہذیب کا قد پانچ دو تھا تبھی اسے پنجھے کے بل کھڑا ہونا پڑا۔۔۔
“ارے آپی یہاں تو جنگ چل رہی ہے ابھی تو سب ٹھیک ہے آپ کو پتہ ہے کل جس نے لفٹ دی وہ بھی ہیں یہاں۔۔۔
“ت تم ن نے یہ ہر حرکتیں ک کہاں۔۔۔۔
“اف آپی بعد میں ڈانٹیے گا اوہ کیا پنچ مارا ہے۔۔۔تعدیل اسکی بات کاٹ کر پرجوش سی بولی
جہاں ہاشم نے ارتضیٰ کے منہ پر پنچ مارا تھا اس سے قبل لڑائی طویل ہوجاتی ہدبر حماد نے اپنے بھائی کو پکڑ لیا.
“ہاشم بھائی چھوڑیں۔۔۔۔ہدبر زور سے چیخا تہذیب جو انہی کی طرف متوجہ ہوچکی تھی ہاشم نام سن کر ساکت رہ گئی۔۔۔
“ہا ہاشم نن ہا ہاشم کک کسی او اور کا نا نام بب بھی ہو سا سک سکتا ہے۔۔۔ تہذیب بڑبڑانے لگی
جب نگہت بیگم کو دیکھ کر پہچانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
زیادہ فاصلہ نہ ہونے کی وجہ سے صاف دیکھ رہا تھا۔۔۔
“ہا ہاشم۔۔۔۔سرگوشی میں کہتی وہ کرسی سے جلدی اترنے کے چکر میں گھاس پے قدم رکھتے ہی یکدم گری۔۔۔
“آپی۔۔۔ تعدیل جو دوسری طرف ہوتی لڑائی سے لطف اندوز ہورہی تھی دھپ کی آواز پر پیچھے دیکھا جہاں گھاس پر تہذیب گری ہوئی تھی۔۔
“ہاہاہا آپی آپ کیوں گر گئیں آپ کو پنچ تھوڑی مارا ہے۔۔۔۔تعدیل زور سے ہنس کر بولی۔۔۔
تہذیب اسے گھورتے ہوۓ اپنے پاؤں کی پرواہ کیے بغیر دوبارہ کرسی پر کھڑی ہوکر ہاشم کو دیکھنے لگی ۔۔
💗💗💗💗
“تمہاری جرّت کیسے ہوئی ہمارے ہی گھر میں کھڑے ہوکر ہمارے ہی بیٹے پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔نیلم بیگم غصّے سے ہاشم کے مقابل کھڑے ہوکر چیختے ہوۓ بولیں۔۔۔
ہاشم کے ساتھ نگہت بیگم وغیرہ بھی شوکڈ رہ گئے۔۔۔
“نیلم۔۔۔نگہت بیگم کی آواز حلق میں دب کر ررہ گئی زندگی میں پہلی بار نیلم کا اس طرح کرنا ان سب کو حیران کر گیا تھا۔۔
“کیا نیلم ہاں اپنے بیٹے کو تمیز سکھائیں کے دوسروں کے گھروں میں اکر اس طرح اپنی اوقات نہیں دکھائی جاتی۔۔۔
“نیلم بس بہت ہوگیا ہمارا تماشا مت بناؤ اور ہم “کسی” نہیں ہیں میرے بھائی کا گھر ہے آپ۔۔۔
“بھائی کا “تھا”ہے نہیں جیسے رخصت ہوکر آپ اپنے شوہر کے گھر گئی ہیں نہ جو اب اس دنیا میں بھی نہیں ہیں ویسے ہی اب یہ گھر میرے شوہر کا ہے وہ تو شکر ہے بروقت احمد نے اپنا کاروبار الگ کر لیا
ورنہ جسے تمیز نہیں ہے وہ کیا کاروبار چلائے گا۔۔۔ نیلم بیگم نگہت بیگم کی بات کاٹ کر زہر اگل رہی تھیں یکدم ہاشم کی برداشت ختم ہوگئی۔۔
“بس بہت بول چکیں آپ اور بہت سن لیا ہم نے آپ ہماری اوقات کی بات کر رہی ہیں جب کے آپ خود۔۔۔”چتاخ”
اچانک زور دار تھپڑ گال پے لگنے سے ہاشم چپ ہوگیا ایک سکوت تھا جو ہر جانب پھیل گیا تھا۔۔۔
“دیوار کے ساتھ جو تعدیل اور تہذیب کھڑی تھیں وہیں سن رہ گئیں یکدم تعدیل کرسی سے اتر کر کرسی پر بیٹھ گئی۔۔
“آپی میں اندر جا رہی ہوں۔۔۔ تعدیل اسے کہ کر اندر کی طرف بڑھ گئی کے وہ اتنے ہینڈسم بھائی کو پیٹتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
“تہذیب کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا اسے تکلیف ہورہی تھی ہاشم کے لئے لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔
ہاشم گال پے ہاتھ رکھے اپنی ماں کو دیکھنے لگا جس نے پہلی دفع اسے مارا تھا ہاشم کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا
ماں کا دل کتنا نرم تھا کے مار کر خود بھی آنسوں بہا رہی تھی۔۔۔ہاشم کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔۔
“چلو اپنے گھر۔۔۔نگہت بیگم بہت مشکل سے بول پائیں۔۔
احمد صاحب سر جھکا کر کھڑے تھے جب کے ارتضیٰ اپنے دوستوں کے ساتھ دور کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔
“تہذیب ہاشم اور اسکی فیملی کو جاتا دیکھتی بنا کچھ سوچے سمجھے بھاگتی ہوئی گیٹ سے باہر نکلی۔۔۔
ہاشم تیزی سے گاڑی کی طرح بڑھتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تہذیب ڈوپٹہ سر پر لیتی نگہت بیگم کی طرف بڑھی
جو خاموش آنسوں بہاتیں وردہ بیگم کا ہاتھ پکڑے گاڑی میں بیٹھنے لگی تھیں۔۔
“آ آن آنٹی۔۔۔ تہذیب کی آواز پر نگہت بیگم نے پلٹ کر دیکھا جہاں ایک لڑکی آنسوؤں سے تر چہرہ لئے انھیں دیکھ رہی تھی۔۔
“بھائی یہ کون ہے۔۔۔ہدبر نے اچھنبے میں اپنی ماں کے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا ہدبر کے کہتے ہی سب نے گردن گھوما کر دیکھا۔۔
ہاشم جو رونے سے خود کو روک رہا تھا اسے دیکھتے ہی دروازے کھول کر باہر نکلا۔۔
“کیا ہوا بیٹی ؟ کون ہو۔۔۔نگہت بیگم آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولیں وہ اسے پہچانی نہیں تھیں یکدم کیسے پہچان جاتیں اس وقت نو سال کی بیچی کو دیکھا تھا۔۔۔
ہاشم کے گاڑی سے اترنے پر تہذیب نے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“امی آپ بیٹھیں ہاشم نے اپنی ماں کو دیکھ کر کہا نگہت بیگم اسے دیکھتیں گاڑی میں بیٹھ گئیں جب ہاشم اسکی طرف پلٹا
“کیا بات ہے آپ کیوں اس طرح با۔۔۔۔
“ہا ہاشم۔۔۔۔یکدم تہذیب اسکے بیچ میں بول پڑِی۔۔
“ہا ہاشم ت تم آ آگئے وا واپس۔۔۔تہذیب روتے ہوۓ ہکلا کر بولی جب کے ہاشم سن رہ گیا تہذیب ہاں وہ اسکی تہذیب تھی جسے وہ کبھی بھولا نہیں تھا۔۔۔
اس سے قبل ہاشم کچھ کہتا پیچھے سے گارڈ آگیا۔
“میڈم جی اندر چلیں عاصم صاحب نے آپ کو باہر نکلتے دیکھ لیا ہے مجھے ڈانٹ رہے ہیں۔۔۔
“آ آتی ہو ہوں۔۔۔ تہذیب آنسوں پوچھتی ہاشم کو یکھ کر مسکرائی ہاشم جو ایک قدم آگے بڑھنے لگا تھا ہارن کی آواز پر روکا۔۔
“میڈم۔۔۔گارڈ نے دوبارہ بیزار لہجے میں کہا اسے ابھی صرف سونا تھا۔۔
“جاؤ تہذیب۔۔۔ ہاشم خود پر قابو پاتے مسکرا کے کہتا گاڑی میں بیٹھا۔۔۔
تہذیب نے پلٹ کر گارڈ کو گھورا ایک بار پھر پلٹ کر اسے دیکھا جو گاڑی اسٹارٹ کرتا اسے ہی دیکھ رہا تھا
تہذیب کے دیکھتے ہی گاڑی زن سے لے گیا. .
جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *