Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16

وہ ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھیں جب بینش بیگم نے تعدیل کو بلانے بھیجا۔۔۔
“تعدیل جاؤ بیٹا بلا کر لاؤ بچے تھکے ہوۓ آئے ہیں اور تمھارے ابو نے لگا لیا ہوگا باتوں میں۔۔۔۔ بینش بیگم کہ کر کچن کی طرف بڑھیں۔۔۔
ملازمہ صرف گھر کی صفائی کے لئے رکھی تھی جب کے کچن کا سارا کام وہ خود کرتی تھیں۔۔۔
تعدیل تہذیب کو مسکرا کر دیکھتی ڈرائنگ روم کی طرف جانے لگی لیکن تینوں کو ساتھ آتا دیکھ کر وہیں روک گئی۔۔
“آجاؤ بیٹھو ہاشم ہدبر ۔۔ عاصم صاحب نے دونوں کو مسکرا کر کہا۔۔
“انکل واشروم . ۔
“ہاں ہاں جاؤ تہذیب میرا کمرہ دکھا دو۔۔۔۔ ہاشم جو تھوڑا جھجھک رہا تھا عاصم صاحب نے اسکی بات بچ سے ہی اُچک لی۔۔
“ہاشم بھائی میں بھی آرہا ہوں۔۔۔۔ہدبر دونوں کو جاتے دیکھ کر بولتا ہوا انکے پیچھے گیا۔۔ تعدیل کیسے پیچھے رہتی جھٹ پیچھے گئی۔۔
“تم کیا کرنے آئے ہو ؟ ہاشم جو تہذیب کا ہاتھ پکڑنے لگا تھا ہدبر کو گھور کر بولا۔۔
“میں واشروم جانے کے لئے آیا ہوں
“تو جاؤ وہ رہا واشروم۔۔۔ہاشم کہ کر پیچھے آتی تعدیل کو دیکھ کر سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں ؟ تعدیل نے قریب آکر مسکرا کر کہا
“تم کباب میں ہڈی بن گئی ہو۔۔۔۔ اس سے زیادہ اور کیا ہوگا اب دونوں کے جواب دینے سے قبل ہی ہدبر بول پڑا۔
“میں کب کباب میں ہڈی بنی جب ہڈا پہلے سے ہی ان کے بیچ میں اکر پھنس گیا ہے ۔۔ تعدیل نے دونوں ہاتھ کمر پر ٹیکا کر جواب دیا۔۔۔
“تہذیب کو ہنسی آنے لگے جب کے ہاشم سینے پے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔
“ہاشم بھائی سن رہے ہیں مجھے ہڈا کہا جا رہا ہے اور وہ جو آج آیا تھا رشتہ لے کر وہ تو کانٹا تھا۔۔۔ہدبر بے گھور کر اسے کہا۔
“بھاڑ میں گیا وہ اور تمہے کیا جیلسی ہو رہی ہے اچھا تھا ویسے میں تو ہاں۔۔۔آہ یو کاکرواچ ۔۔۔۔
اس سے قبل وہ اسے جل کر بولتی جاتی ہدبر اسکا گال زور سے کھینچ کر بھاگا۔۔
“تہذیب کے ساتھ ہاشم بھی زور سے ہنس دیا۔۔
“انکل سے بات ہوچکی ہے کزن ضرور ہے لیکن تعدیل کے لئے وہ بہتر نہیں ہے۔۔۔ ہاشم نے یکدم کہا تہذیب جو ہنس رہی تھی روک کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“م میں نن نے ب بھی ما مانا کر کر د دیا ۔۔۔ تہذیب نے
منہ بنا کر کہا۔۔
“بہت عظیم کام کیا ہے مس تہذب آپ نے۔۔۔ہاشم نے اسے کندھے سے تھام کے اسکے سر سے سر ٹکرا کر کہا پھر واشروم چلا گیا جب کے تہذیب اپنے ماتھے کو چھوتی مسکرا دی۔۔۔
💗💗💗💗
اگلے دن بینش بیگم نے کال کر کے رشتے سے معذرت کرلی۔۔۔۔
کچھ روز سب بھول بھال کر ہاشم اور تہذیب کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے۔۔۔
چونکَہ شادی سے ایک دن پہلے قرآن خوانی اور میلاد ہونا تھا تبھی آج گھر میں صبح سے ہی مہمانوں کی آمد جاری تھی
تہذیب ترو تازہ سی گلابی شلوار قمیض میں ملبوس دونوں ہاتھوں میں گلابی چوڑیاں بھر بھر کر پہنے مہمانوں کے ساتھ بیٹھی تھی
جب تعدیل نے آکر بینش بیگم کو ہاشم کے گھر والوں کے آنے کی اطلاع دی۔۔۔
“بینش بیگم جیسے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں تو حیران رہ گئیں ٹیبل پر پھلوں اور مٹھایوں کی ٹوکریاں رکھی ہوئی تھییں
جب کے ہاشم کی ساری فیملی بھی وہیں تھی۔۔
“السلام علیکم۔۔۔باآواز بلند سلام کرتیں بینش بیگم سب سے ملنے لگیں۔۔۔
عاصم صاحب کے دروینگ روم میں اتے ہی نگہت بیگم نے بات شروع کی۔
“مجھے کچھ بات کرنی تھی ہاشم نے بتایا کے میرے بھائی اور بھابھی آئے تھے رشتے کے لئے اگر پہلے پتا ہوتا تو ان کی آمد سے پہلے ہی میں بات کر لیتی۔۔۔۔
نگہت بیگم مسکرا کر بات کر رہی تھیں جب عاصم صاحب نے انکی بات کاٹی۔۔
“ہم نے انھیں جواب دے دیا ہے ہاشم بیٹا اس دن آیا تھا میں نے اپنا فیصلہ بتایا تھا۔۔۔
“جی ہاشم نے بتایا دراصل میں اپنے دوسرے بیٹے کے لئے آپ کی چھوٹی بیٹی کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں یہ ہم سب کی مشترکہ خواھش ہے اگر آپ سب مناسب سمجھیں۔۔۔
نگہت بیگم نے بات مکمل کر کے انھیں دیکھا جو شاید حیران ہوۓ تھے۔۔۔
تعدیل جو اندر آرہی تھی بات سن کر پہلے حیران ہوئی پھر شرما کر کچن کی طرح بڑھ گئی۔۔
💗💗💗💗
“اتنی جلدی نہیں ہے آپ آرام سے اپنا فیصلہ بتا سکتے ہیں ۔۔نگہت بیگم سوچوں میں گم دیکھ کر بولیں۔۔۔
ہدبر نے بیچارگی سے اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔
“کچھ دن کہنے کی کیا ضرورت تھی ہدبر سوچ کر رہ گیا۔۔۔
جب عاصم صاحب نے مسکرا کر اپنی بیوی کو دیکھا۔۔
“اپکا کیا خیال ہے ؟
“نیک خیال ہے پر ایک بار تعدیل سے پوچھ لیں پھر ان شاء اللّه کل تک جواب دیتے ہیں کیا خیال ہے۔۔۔
“سہی ہے آپ کو جو بہتر لگے۔۔۔نگہت بیگم نے مسکرا کر جواب دیا ہدبر نے ساتھ بیٹھے ہاشم کے کندھے پر سر گرا لیا . ۔
جب کے ہاشم لبوں پر ہاتھ کی مٹھی بنا کر رکھتا اپنے قہقہے کو ضبط کرنے لگا۔۔۔
💗💗💗💗
تہذیب کچن میں تھی جب کچن کے جالی کا دروازہ بجا جو لان کی طرف کھولتا تھا۔۔۔ تہذیب نے تعجب سے دروازے کو دیکھا جب دروازہ کھول کر ہاشم نظر دوڑاتا اندر داخل ہوا تہذیب کی آنکھیں پوری کھول گئیں
“ا آپ ک۔۔۔۔۔تہذیب اور کچھ کہتی ہاشم اسے دیکھتے ہی تیزی سے آگے بڑھتا اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ کر کمر کے گرد ہاتھ لپیٹ کر کان کے قریب جھکا۔۔۔
“ششش ! تم سے ملنے آیا ہوں۔۔۔اچھی لگ رہی ہو گلابو۔۔۔ہاشم نے کہ کر نامحسوس طریقے سے اسکے کان کو لبوں سے چھوا۔۔۔ تہذیب خود میں سمٹ سی گئی۔۔
“بے بےشرمی م مت ک کریں۔۔۔
تہذیب نے گھور کر پیچھے ہوتے ہوۓ کہاں ہاشم نے ہنستے ہوۓ اسکا گال کھینچا۔۔
“سوری میری گلابو ویسے جانتی ہو امی کیا مانگنے آئی ہیں۔۔۔
ہاشم اسے چھوڑ کر سلیپ سے ٹیک لگا کر اسے دیکھتے ہوۓ بولا جس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
“ہاشم نے دوبارہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔۔۔
“ہدبر کے لئے تعدیل کا رشتہ ہاشم نے بتا کر اسے دیکھا جو سن کر خوش گوار حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“سس سچ۔۔
“مم مچ۔۔۔ ہاشم اسی کی طرح کہتا سر پر پیار کرتے بجلی کی سی تیزی سے جہاں سے آیا تھا وہیں سے غائب ہوگیا جب کے تہذیب ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔
💗💗💗💗
“تہذیب ابھی سونے کے لئے لیٹی ہی تھی صبح فیشل وغیرہ کے لئے پارلر جانا تھا۔۔۔۔
اچانک تعدیل نے اسکے گرد ہاتھ ہاتھ پھیلایا۔۔۔تہذیب نے چونک کر اسے دیکھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“آپی میں نے نہ امی ابو کا ہاں کہ دیا ہے ہم دونوں اب ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔۔۔۔
“م میری وج وجہ س سے ت تو نن نہیں کی کیا تا تعدیل ش شادی کک کا ف فیصلہ سو سوچ سا سمجھ کا کر کرو کیا ہد ہدبر تم تمہے پا پسند ہ ہے۔۔۔ تہذیب نے اسکی بات سن کر اسکے گال پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔۔
“اففف آپی آپ بھی ناں اچھا ہے دیکھنے میں بھی اور شاید مجھے پسند ہے میں تو آپ کو اس لئے کہ رہی ہوں کیوں کے میں بہت خوش ہوں ہم ایک گھر میں ہمیشہ ساتھ رہیں گی۔۔۔تعدیل نے مسکرا کر کہتے اسکے گال کو چوما۔۔۔
“اچھا سو جائیں صبح ٹائم پر پارلر پہنچنا ہے۔۔۔
“ا اوکے م میری م ماں۔۔۔۔تہذیب مسکرا کر کہتی آنکھیں موند گئی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *