Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10
گھر پہنچتے ہی سب لاؤنج میں ہی بیٹھ گئے۔۔۔۔ہر کوئی اپنی اپنی سوچوں میں الجھا تھا۔۔ یکدم نگہت بیگم نے رونا شروع کر دیا
ہاشم نے اپنی ماں کو دیکھ کر ہونٹ بھینچ لیے جس کا آخری رشتہ بھی آج ختم ہو گیا
“نگہت چپ ہوجاؤ ایسے بے حس لوگوں کے لئے رویا نہیں جاتا۔۔۔ وردہ بیگم نے ردا سے پانی کا گلاس لے کر انھیں تھماتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
“میں کیوں رووؑں گی ان کے لئے جن لوگوں نے ایک دم ہمیں دو کوڑی کا کر دیا وردہ۔۔۔۔ آج تک میرے بیٹوں نے اپنے ماں باپ سے بدتمیزی نہیں کی اور یوں بھری محفل میں میری اور میری اولاد کی اس قدر توہین۔۔۔۔
اور میرا بھائی چپ کھڑا تھا جس کے ہر دکھ سکھ میں میں اسکی باجی اسکے ساتھ کھڑی رہی آج اپنی بیوی کو خاموش نہ کروا سکا نا اپنے بیٹے کو کچھ کہنے کی ہمت پڑی ہاہ کیسے پڑتی کے وہ اسکی اولاد تھی۔۔۔۔
میرا تو شوہر بھی نہیں رہا چلا گیا مجھے تنہا کر گیا کاش میں بھی اسکے ساتھ ہی چلی جاتی۔۔۔نگہت بیگم ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہتی روٹی چلیں گئیں۔۔۔
“امی پلیز اللّه نہ کرے اپکا سایا ہمیشہ ہم پر سلامت رہے ہم ہیں نا آپ کے بیٹے۔۔۔ہاشم نگہت بیگم کے سامنے گھٹوں کے بل بیٹھتا دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولا۔۔۔
“اور میں بھی تو ہوں۔۔۔ردا بھی جھٹ بولی۔
“ردا کی بچی میں اور ہدبر بھائی بھی ہیں۔۔۔۔حماد جو صوفے سے اٹھ کر نگہت بیگم کے پاس جاکر کہنے والا تھا یکدم ردا کے بولنے پر چڑا۔ ۔
“میں خود بول سکتا ہوں۔۔۔ہدبر نے حماد کو گھورتے ہوۓ کہا۔۔
“ہاں تو میں نے بول دیا نا۔۔ حماد کندھے اچکا کر بولا
نگہت بیگم آنسوں صاف کرتی ہنس دیں۔۔ نگہت بیگم کو ہنستا دیکھ کر سب نے سکون بھاری سانس لی۔۔۔
ہاشم بیڈ پر چت لیٹا ہاتھ میں پکڑی سونے کی چین کو دیکھ رہا تھا یکدم تہذیب کا سراپا آنکھوں میں لہرایا۔ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔
تہذیب۔۔۔۔ہلکے سے اسکا نام لیتے اسنے سونے کی چین کو اپنے لبوں سے چھوا۔۔۔
جب دروازہ نوک ہوا۔۔۔ تیزی سے اٹھ کر چین کو اسکی جگہ پر رکھا۔۔۔
“کون ہے؟
“ہاشم بھائی میں۔۔۔ہدبر نے دروازہ سے اندر جھانکتے پوری بتیسی نکال کر کہا
“کیا ہوا مسکرا کیوں رہے ہو۔۔۔ ہاشم نے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
“بس ماشاءالله ہنس مکھ بھائی ہے اپکا۔۔۔ہدبر کہتا اسکے بیڈ پر لیٹا۔۔۔
“اچھا تو ہنس مکھ بھائی آپ یہاں کیا کرنے آگئے ہیں جاکر آرام فرمائیں کل میرے ساتھ آفس چلنا ہے۔۔۔۔
ہاشم کہ کر اسکے چہرے کو دیکھنے لگا کیوں کے ہاشم نے یہ فیصلہ خود سے کیا تھا کے اب خود ہی مل کر اپنے باپ کے بزنس کو پروان چڑھانا ہے۔۔۔
“ہدبر یکدم سنجیدہ ہوا۔۔۔
“میں بھی آپ سے یہی کہنے والا تھا ویسے بھی پڑھائی کے بعد ابّو کا بزنس ہی سمبھلنا تھا. ہدبر ہونٹ کاٹتے ہوۓ سر جھکا کر بولا۔۔۔
“جھوٹ بلکل اچھا نہیں بولتے تم۔۔۔۔میں اکیلا ہوں اور مجھے تمہاری ضرورت ہے حماد کی پڑھائی ابھی رہتی ہے ورنہ شاید میں اسے کہتا میں جانتا ہوں تمہیں ابھی ان سب جھمیلوں میں نہیں پڑھنا تھا ابّو کے بقول تم ابھی چھوٹے ہو پہلے میرا نمبر ہے۔۔ ہاشم کہتے ہوۓ ہنسا ہدبر مسکرا کر اپنے بھائی کے گلے لگ گیا۔۔
“اچھا ہاشم بھائی ایک بات تو بتائیں وہ لڑکی کون تھی ؟ ہدبر الگ ہوتا شرارت سے بولا۔۔
“کون سی لڑکی ؟ ہاشم نے انجان بنتے ہوئے کہا
“ہاشم بھائی بنیں مت وہ جو آپ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور کتنی حسین مسکراہٹ۔۔۔اچھا اچھا گھوریں مت ایز آ بہن کہ رہا ہوں.
ہدبر اسکے گھورنے پر بات بدل کر کہتا کھڑا ہوگیا۔۔۔
“مار کھاؤ گے چلو نکلو اب۔۔۔ ہاشم اپنا قہقہہ ضبط کرتے ہوۓ مصنوعی روعب سے بولا۔۔
“اچھا جا رہا ہوں لیکن اگر ایسا سین ہے تو ابھی بتا سکتے ہیں۔۔۔ہدبر کہتے ہی تیزی سے کمرے سے نکلا ہاشم مسکراتا بیڈ پر لیٹا۔۔
“تم سے کیسے ملا جائے معصوم بلی۔۔۔ ہاشم بڑبڑاتے ہوۓ سوچنے لگا ۔۔۔
“آپی۔۔۔تعدیل تہذیب کے پاس بیٹھتے ہوۓ مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔
“ہمم ک کک کیا ہو ہوا۔۔۔
“کل سے آپ اکیلے اکیلے مسکرا رہی ہیں کیا بات ہے کہیں جن کا سایا تو نہیں ہوگیا۔۔۔۔تعدیل نے آنکھیں پھیلا کر تہذیب سے کہا جو اسکی بات پر پھر مسکرا دی۔۔۔
“ہیں کہیں سچ میں تو جن نہیں چمڑ گیا۔۔۔ رکیں ذرا تعدیل فکرمندی سے کہتی سر پر ڈوپٹہ اوڑھ کر اس پر دم کرنے لگی جو اسے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔
“پپ پاگل ک کک کچھ نن نہیں ہو ہوا مم م مجھے۔۔۔تہذیب نے اسکے بازو پر چپت لگا کر کہا۔۔
“سچ میں نہ آپی۔۔۔۔
“ہا ہاں۔۔۔تہذیب نچلا ہونٹ دبا کر بولی۔۔جب بادلوں کی گڑگڑاہٹ پر دونوں لان کی طرف دوڑیں بارش کی دونوں ہی دیوانی تھیں۔۔۔
“ابے یار یہ بارش کہاں سے شروع ہوگئی۔۔۔ ارتضیٰ جو لان میں ریحان کے ساتھ بیٹھا تھا جھنجھلا کر اندر کی طرف بڑھنے لگا جب کھلکھلانے کی ہلکی آواز اسکے کان میں پڑی۔۔۔
“کیا ہوا روک کیوں گیا۔۔۔ ریحان نے پلٹ کر اسے کہا۔۔۔
“تو چل میں آیا۔۔۔ارتضیٰ نے ڈرائنگ روم کی طرف اشارہ کیا ریحان کندھے اچکا کر اندر بڑھ گیا۔۔۔
ارتضیٰ اسکے جاتے ہی دیوار سے پار دیکھنے کی کوشش کرنے لگا پھر چڑ کر چھوٹے سے اسٹول پر کھڑا ہوتا چھپ کر دیکھنے لگا جہاں دو لڑکیاں بارش میں کھڑی ہنس رہی تھیں۔۔۔
ارتضیٰ کی نظر جسے ہی تعدیل پر پڑی اسکی نظریں تعدیل کے سراپے میں ہی اٹک کر رہ گئی
ارتضیٰ احمد جو بچپن سے ہی خوبصورت چیزوں کو پسند کرتا تھا اور جب دل بھر جاتا یا تو پھینک دیتا یا چھوڑ دیتا۔۔۔
تعدیل اس سے پانچ سال چھوٹی تھی لیکن ارتضیٰ کو اس سے کوئی گرز نہیں تھا۔۔۔
جتنی دیر وہ دونوں لان میں رہیں اتنی ہی دیر ارتضیٰ چھپ کر آنکھوں میں حوس لئے اسے دیکھتا رہا اسے یہ بھی بھول گیا کے اپنی طرح کا ہی دوست اسکے گھر اسکے ہی ڈرائنگ روم میں موجود ہے۔۔۔
“ہاشم بھائی کیا ضرورت تھی بارش میں آفس جانے کی موسم انجوئے بھی نہیں کیا اب تو روک بھی گئی۔۔۔۔
ہدبر جو پورے راستے بارش کے روک جانے کا اور اپنے آفس جانے کا افسوس کر رہا تھا ہاشم کے گاڑی روکنے پر پہلے اسے دیکھا پھر باہر۔۔۔
“ہاشم بھائی ماموں کے گھر کے پاس کیوں روکی گاڑی ۔۔۔
ہدبر نے پریشانی سے اپنے بھائی سے پوچھا جو گاڑی سے اتر کر اسی طرف آیا۔۔۔
“اترو۔۔۔۔۔
“ہیں پر آپ ماموں۔۔۔ہدبر اور زیادہ حیران ہوا۔۔
“افففف یار میں وہاں نہیں جا رہا تم اترو اور بلکل چپ کر کے چلو اور خبردار بیچ میں بولے۔۔۔
ہاشم اسے ہدایت دیتا عاصم صاحب کے گھر کی طرف بڑھا یکدم ہدبر چونکا۔۔۔
“اوہ اب سمجھا۔۔۔۔ہدبر پرجوش ہوکر بولا جب ہاشم نے اسے گھورا۔۔۔
“اچھا نہیں سمجھا ویسے کون ہیں یہ لوگ ؟ ہدبر پرسوچ انداز میں ایکٹنگ کرتے ہوۓ بولا
ہاشم اسکے کندھے پر زور سے پنچ مارتا گیٹ کی جانب بڑھ گیا.
“آپ دونوں بیٹھیں صاحب آتے ہیں۔۔۔ملازمہ ہاشم اور ہدبر کو ڈرائنگ میں بیٹھا کر چلی گئیں
“ہاشم بھائی ہم یہاں کیوں آئے ہیں اور ہم دو ہٹتے کٹٹے مسٹنڈو کو اس گارڈ نے کیسے اندر آنے دیا۔۔۔ ہدبر نے بے صبری اور حیرت سے پوچھا۔۔
“شش ! چپ نہیں رہ سکتے تم بعد میں بتاتا ہوں۔ ہاشم ابھی بات ہی کر رہا تھا جب عاصم صاحب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے۔۔۔دونوں احترماً صوفے سے کھڑا ہوگئے۔
“السلام علیکم انکل۔۔۔۔ہاشم نے جلدی سے سلام کیا۔۔
“وعلیکم اسلام۔۔۔بیٹھو بچوں
“جی شکریہ وہ ایکچولی انکل ہم وقاص شیخ کے بیٹے ہیں؟ آپ کے دوست جو امریکا شفٹ ہوگئے تھے آپ سے چار پانچ دفع باہر ملاقات بھی ہوئی تھی۔۔۔ہاشم انھیں تفصلاً بتانے لگا جو یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔
“وقاص۔۔۔عاصم صاحب نام دوہراتے ہوۓ سوچنے لگے ۔۔۔
“آپ کو یاد نہیں آرہا انکل جب آپ کی بیٹی دکان نہیں بیک مطلب بیکری جا رہی تھی۔۔۔
ہاشم غور سے عاصم صاحب کو دیکھتا یاد کروانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا جب کے ہدبر تھوڑی کے نیچے ہاتھ ٹیکائے کبھی اپنے بڑے بھائی کو دیکھتا جو ضرورت سے زیادہ بولتا نہیں تھا لیکن اب۔۔
یا کبھی انکل کو دیکھتا جو بھرپور طریقے سے ایسے یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے جیسے امتحاں کا پرچہ کرنے بیٹھے ہوں۔۔۔
“اففف کیسے یاد کرواؤں تہذیب کا نام لیا تو کہیں کچھ غلط سمجھ کر گھر سے ہی نہ نکلوا دیں…
.ہاشم ابھی سوچ ہی رہا تھا جب اچانک عاصم صاحب خوش ہوتے ہوۓ پرجوش لہجے میں بولے ۔۔۔
“اچھا اچھا یاد آگیا وقاص انھیں کیسے بھول سکتا ہوں میری بیٹی کی حفاظت کی تھی ورنہ جانے کہاں چلی جاتی۔۔۔عاصم صاحب خوش ہوتے ہوۓ بولے
“ماشاءالله کتنے وقت بعد دیکھا ہے جوان ہوگئے۔۔
“جی انکل بلکل عمر تو بڑھتی ہی ہے ویسے یہ ہاشم بھائی ہیں بڑے اور پھر میں ہوں ہدبر نام ہے میرا ایک اور بھائی بھی ہے مجھ سے چھوٹا حماد نام ہے۔۔۔
آپ کبھی آئیں نا گھر یا ہم آتے جاتے رہیں گے آپ کے بیٹوں جیسے ہیں کیوں ہاشم بھائی۔۔۔
اس سے قبل ہاشم کچھ بول پاتا ہدبر جھٹ آگے کو ہوتا نان اسٹوپ بولتا چلا گیا۔۔پھر چپ ہوا تو ہاشم کو دیکھا جو صبر کے گھونٹ بھر کے رہ گیا تھا
“ماشاءالله ماشاءالله اور تمھارے ابّو نہیں آئے بیٹا۔۔۔ عاصم صاحب نرم لہجے میں مسکراتے ہوۓ ہاشم سے پوچھنے لگے عاصم صاحب کو وہ دونوں بہت پسند آئے۔۔۔
“عاصم صاحب کے پوچھنے پر ہاشم کے چہرے پر سایہ سا لہرایا دونوں نے ہی نظریں جھکا لیں تھیں۔۔۔
“ا وہ انکل ابّو کا دو مہینے پہلے ہی روڈ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا۔۔۔ہاشم ضبط سے بتا کر سر جھکا کر بیٹھ گیا جب کے عاصم صاحب کے چہرے سے یکدم مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔
عاصم صاحب نے اٹھ کر ہاشم کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔انھیں حقیقتاً سن کر دکھ پوھنچا تھا۔۔
“بس بیٹا صبر ہی کر سکتے ہیں ہم انسان۔۔۔۔ زندگی اور موت سب اللّه کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔
اچھا تم دونوں آرام سے بیٹھو میں تمہاری آنٹی کو بلا کر لاتا ہوں۔۔۔عاصم صاحب کہتے ہی ڈرائنگ روم نکل گئے۔۔۔
“عاصم صاحب کے نکلتے ہی تعدیل جو اندر آتے ہوۓ دونوں کو دیکھ کر تجسس میں لگ گئی تھی سر پر ڈوپٹہ لیتے ہوۓ دروازے سے اندر جھانکنے لگی۔
“اسلام علیکم ہاشم بھائی۔۔۔۔تعدیل آہستہ آواز میں بنا اندر داخل ہوۓ ہی بولی۔۔۔
ہاشم اور ہدبر دونوں نے چونک کر دیکھا۔۔۔
“وعلیکم اسلام۔۔۔ہاشم بولتے ہوۓ کھڑا ہوا
“تم کون ہو ؟ ہدبر نے جواب دینے کے بجائے دلچسپی سے اسے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
تعدیل کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
“کیوں بتاؤں ؟ اور ہاشم بھائی کل وہ۔۔۔
“ایک سیکنڈ کل کیا ہاں کہیں تم وہیں تو نہیں تھی لیکن تمہے تو میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔۔تعدیل کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ہدبر نے پھر کہا جب کے ہاشم دونوں کو ہی گھور کر رہ گیا۔۔۔۔
“بس ہدبر چپ رہو اور تم۔۔ ہاشم یکدم سوچنے لگا اسکا نام۔
“ہاشم بھائی میں اپنا نام کسی ایرے غیرے کے سامنے نہیں بتاؤں۔۔۔
“تعدیل تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔اچانک بینش بیگم کی آواز پر تعدیل زبان دانتوں میں دبا گئی ہدبر مصنوعی کھانسی کھانسنے لگا جب کے تعدیل جل بھون گئی۔
“امی وہ یہ وہی ہیں اس دن جنہوں نے ہمیں لفٹ دی تھی اچھا میں آتی ہوں شاید آپی بلا رہی ہیں۔۔تعدیل بوکھلا کر کہ کر تیزی سے بھاگی ۔۔
اگلے کچھ دن تہذیب اور ہاشم کے دن بے چینی میں گزرے
جب کے دوسری طرح ارتضیٰ کسی طرح تعدیل کو اپنے جال میں پھنسانے کا سوچ رہا تھا۔۔۔
جب کے ہدبر کے خیالوں میں اپنی اور تعدیل کی پہلی ملاقات نہیں بھول رہی تھی۔۔۔۔شاید وہ اسے اچھی لگی تھی۔۔۔
“کیا بات ہے آج کل لبنیٰ سے نہیں مل رہا کہیں دل تو نہیں بھر گیا۔۔۔ سعد سگریٹ کا کش لگاتا کمینگی سے بولا ۔۔
“ہاں۔۔۔۔ کیوں کے اس سے بھی دلکش چیز ملی ہے لیکن ابھی تک میری بات بھی نہیں ہوئی تم کوئی آئیڈیا دو
ارتضیٰ اسے دیکھتے ہوۓ بے چینی سے بولا۔۔۔
“ہاہاہاہا واہ یار میں تو سمجھا تھا تیرے لئے لڑکی کو پھنسانا کوئی مشکل نہیں ہوگا پر یہ میں کیا سن رہا ہوں۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ سعد قہقہے لگا تھا مذاق اڑانے لگا ارتضیٰ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔۔
“اتنا بھی مشکل نہیں ہے میں تو صرف بتا رہا تھا دیکھ لینا کچھ ہی دنوں میں میری باہوں میں ہوگی اسکے لئے جو بھی کرنا پڑا نا ارتضیٰ احمد وہ بھی کر گزر جائے گا۔۔۔
ارتضیٰ غصّے سے انگلی اٹھا کر بولتا لمبے لمبے ڈاگ بھرتا فلیٹ سے نکل گیا۔۔۔
“ہنہ سالے کو بڑی اکڑ ہے دیکھنا اپنی اس انا اور جوش میں پٹے گا بری طرح۔۔۔ سعد جل کر سامنے بیٹھی لڑکی سے بولا۔۔۔
شام کا وقت تھا جب ہاشم اور ہدبر آفس سے آئے تھے۔
ابھی گاڑی سے اترے ہی تھے کے لان کی کرسی پر بیٹھی ردا نے زور سے آواز دی۔۔۔
“ہاشم کا موڈ بلکل ٹھیک نہیں تھا تبھی بنا متوجہ ہوۓ اندر جانے لگا یکدم تعدیل کی آواز پر قدم جیسے وہیں رہ گئے۔۔
“پلٹ کر لان کی طرف دیکھا جہاں ردا حماد کے ساتھ تعدیل اور تہذیب کرسیوں پر بیٹھی تھیں کتنے ہی لمحے اسے یقین کرنے میں لگے جب یقین آیا تو کھل کا مسکراتا انکی طرف آیا۔۔۔
“السلام علیکم ہاشم بھائی ہوگئے نہ شاک ۔ تعدیل مسکرا کر بولی۔۔۔
“وعلیکم السلام۔۔۔ہاشم تہذیب کو کن اکھیوں سے دیکھتا تعدیل کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا
“وعلیکم اسلام کیسی ہو؟ ہدبر نے اسکو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے زور سے کہا۔۔۔
“جی ٹھیک ہوں۔۔۔تعدیل بے ناک چڑھا کر کہا جب تہذیب نے ہاشم کو سلام کیا۔۔۔
“ہاشم اسے جواب دیتا اسے ہی دیکھنے لگا۔۔۔
“ہاشم بھائی امی ابو بھی آئے ہیں اندر ہیں۔۔۔تعدیل نے مسکرا کر بتایا۔۔
“اوہ اچھا ٹھیک ہے میں مل کر آتا ہوں۔۔۔۔ہاشم کہتے ہوۓ اندر جانے لگا۔۔۔
“تہذیب آپی چلیں آپ لوگوں کو میں اپنا روم دکھاتی ہوں۔۔ ردا کہ کر دونوں کو لیجنے لگی
جب دروازے کے قریب ہاشم روک کر انکے قریب انے کا انتظار کرنے لگا۔۔
تہذیب کے گزرنے پر ہاشم نے جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر چھوڑ کر جاتے جاتے پلٹ کر شرارت سے مسکرایا جو اسکی حرکت پر گھبرا گئی تھی۔۔۔
پھر مسکرا کر اپنے ہاتھ کو چھو کر اسکا لمس محسوس کرتی جلدی سے سیڑیوں کی طرف بڑھی جہاں دونوں باتیں کرتے ہوۓ جا رہی تھیں۔۔
جاری ہے
