Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12

لان میں ادھر سے ادھر ٹہلتے وہ اپنی سوچوں میں غرک تھا۔۔۔۔
رات کا وقت ہونے کی وجہ سے ہر طرف خاموشی کا رآج تھا ایسے میں ساتھ والے بنگلے میں ہونے والی گفتگو اور قہقے اسکے کانوں میں پڑے۔۔
روک کر اندھیرے میں چھپ کر اس نے دوسری طرف دیکھا دیکھا جہاں اسکے کزنز کرسیوں پر بیٹھے تھے
جب تعدیل اور تہذیب کو انکے قریب آتے دیکھا ہاشم کے چہرے کی گہری ہوتی مسکراہٹ اسے لان میں جلتی لائیٹ میں صاف دکھائی دے رہی تھی
جانے کیوں اسے دیکھ کر وہ احساس ِکمتری میں چلا جاتا تھا اور یہی احساس کمتری وقت کے ساتھ کچھ اور ہی رنگ لے آئی تھی
ارتضیٰ احمد ایسے لوگوں میں سے تھا جنہیں کچھ لوگوں سے خدا واسطے کا بیر ہوتا۔۔ جنہیں اپنے سخت ناپسندیدہ لوگوں کی خوشیاں برداشت ہی نہیں ہوتی تھیں۔۔۔
ہاشم کی نظروں کے تعاقب میں اس نے تہذیب کے چہرے کو دیکھا جو اسکے دیکھنے پر بلش ہو رہی تھی۔۔۔
اپنی خود ساختہ نفرت میں وہ تعدیل کو جیسے دیکھنا ہی بھول گیا اور پھر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا گاڑی میں بیٹھتے ہی زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔
💗💗💗💗
“ہاشم بھائی ہماری ہونے والی بھابھی کا منہ تو میٹھا کرواتے۔۔۔ ہدبر نے اسکے قریب جھک کر سرگوشی میں
شرارت سے کہا۔۔۔
“تمہاری زبان زیادہ نہیں چل رہی ہے ؟ ہاشم نے مصنوعی گھوری سے اسے دیکھا جو ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا سیدھا ہوکر بیٹھ گیا تھا
جب نظر تہذیب کے ساتھ بیٹھی تعدیل پر پڑی جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“ہدبر اسے دیکھتے کھول کر مسکرایا تعدیل ناک چڑھا کر حماد کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔۔
“نک چڑی چڑیلنی۔۔۔ ہدبر چڑ کر کرسی سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔
ہدبر کے اٹھ کر جاتے ہی ہاشم نے اپنا بازو پھیلا کر کرسی پر رکھ کر تہذیب کو آئی برو اچکا کر اپنے بربر میں اکر بیٹھنے کے لئے اشارہ کرنے لگا۔۔
“تہذیب نفی میں سر ہلا کر مسکرانے لگی
ہاشم اشارے میں ہی منت کرنے لگا جب کے تہذیب بار بار آہستگی سے سر نفی میں ہلاتی مسکراہٹ دبا رہی تھی۔۔۔
دونوں ایک دوسرے سے دور بیٹھے بھی اشاروں میں لگے ہوۓ تھے یہ جانے بغیر کے تعدیل ردا کے ساتھ حماد اور ہدبر(جو ہاتھ میں پیپسی سے بھرا گلاس تھامے آگیا تھا ) دونوں کو دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔۔
“اہم ارے حماد ذرا بات سننا۔۔۔
“جی کہیں۔۔۔حماد نے سر اٹھا کر پیچھے کھڑے ہدبر کو
دیکھ کر کہا جو اشارے کرتے اندر کی طرف جا رہا تھا۔۔
حماد مسکراتے ہوۓ اٹھ کر اسکے پیچھے گیا ردا اور تعدیل بھی خاموشی سے اٹھ کر اندر کی طرف تیزی سے جانے لگی۔۔۔
جب دروازے کے پاس ہی ہدبر اور حماد نے روک لیا۔۔۔
💗💗💗💗
تہذیب نے نظر دائیں طرف گھومائی اور گھبرا کر کھڑی ہوتی لان میں چاروں طرف دیکھنے لگی
“یہ یہ س سب کک کہاں چا چلے گئے۔۔۔تہذیب نے کہتے ہی قدم بڑھائے جب ہاشم نے جلدی سے اسکی کلائی پکڑی۔۔
تہذیب کے دل کی کی دھڑکن یکدم تیز ہوئی۔۔۔
“ہدبر نے پاس کھڑی ردا اور تعدیل کو دیکھا جو بنا آنکھیں جپھکائے لان میں ہاشم اور تہذیب کو دیکھ رہی تھییں
ہدبر نے گلاس حماد کو دیا پھر آگے بڑھ کر دونوں کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
“ردا اور تعدیل دونوں ہی نے گھبرا کر ہاتھ ہٹا کر پلٹ کر دیکھا۔۔
“کیا بدتمیزی ہے۔۔۔تعدیل نے گھورا۔۔
“شرم کرو بچی ہوکر دوسری بچی کو کیا سیکھا رہی ہو ۔۔۔
ہدبر نے کہتے ہی دوڑ لگائی جو اسکی بات پر حماد کے ہاتھ سے ادھا بھرا کولڈ ڈرنک کا گلاس اس پر پھینکنے والی تھی
لیکن اسکے بھاگتے ہی روک کر اسکے پیچھے بھاگی۔
ہاشم نے کلائی پکڑے ہی اسے اپنے قریب کیا۔۔
“یہ تم کل سے کس لئے ناراض تھی۔۔
“م میری مر مرضی ۔۔تہذیب اپنی کلائی چھڑواتے نیچے نظریں کے بولی
“ہاہ!!! یہ میری تیری مرضی ہمارے بیچ میں کہاں سے آگئی سیدھے سے بتاؤ کیوں ناراض تھی۔۔۔ہاشم نے جان پوچھ کر گھورتے ہوۓ سپاٹ لہجے میں کہا
“زز زبردستی۔۔۔۔
“ہاں ہے زبردستی جلدی سے بتاؤ ورنہ یہی سے اٹھا کر لیجاؤں گا۔ ہاشم نے ہونٹ دبا کر ہنسی ضبط کرتے ہوۓ اسے کہا
تہذیب اسے حیرت سے دیکھنے لگی جس نے ابھی تک اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔
“ہاشم اسکی حیرت بھری نظروں میں جھانکتا اسکے ہاتھ کو اپنے دل کے مقام پے رکھتا اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹیکاتا دیکھتا رہا
جسے اپنی ہتھیلی پر ہاشم کے دل کی دھک دھک واضح محسوس ہورہی تھی۔۔
تہذیب اتنی قربت سے سانس نہیں لے پا رہی تھی۔۔۔
“آئی لو یو معصوم بلی۔۔۔۔سرگوشی میں کہتا وہ مسکرا کر اس کا ہاتھ چھوڑ کر دو قدم پیچھے ہوا ۔۔۔
تہذیب ابھی تک اسکے اظہارِ محبت پر ساکت کھڑی تھی۔۔۔
“جب پیچھے سے چیخنے کی آواز پر ہوش میں واپس آئی لمبی سانس لیتی تہذیب پلٹ کر دیکھنے لگ
جہاں تعدیل ابھی تک ہاتھ میں گلاس لئے اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔۔
حماد ردا دونوں ہنس رہے تھے جب کے ہاشم مسکراتے ہوۓ اسکے پاس نے گزرتا دھیرے سے ہاتھ کو چھوتا اندر بڑھ گیا۔۔
“تہذیب سرخ ہوتی اپنی بہن کو دیکھنے لگی جو ہدبر کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہلکان ہونے لگی تھی۔۔۔تہذیب کو اسکی حالت دیکھ کر ہنسی آگئی۔
💗💗💗💗
“امی میری غلطی نہیں ہے وہ خود۔۔
“چپ رہو شرم نہیں آتی گھر آئے بچے پر کولڈ ڈرنک پھینکتے ،ہوئے۔۔۔ بینش بیگم نے اسکی بات کاٹ کر ڈانٹا وہ جو لان میں شور سن کر آئیں تھیں
اپنی بیٹی کو ہدبر پر کولڈ ڈرنک پھنکے دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئیں۔۔۔
“بچہ ؟ امی یہ۔۔۔۔تعدیل حیرت سے آنکھیں پوری کھولے اپنے بائیں طرف کھڑے ہدبر کی جانب ارشارہ کر کے بولی
جو حماد اور ردا کے ساتھ کھڑا مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔
“چپ !! چلو میرے ساتھ کچن میں۔۔۔بینش بیگم نے دوبارہ ٹوکا۔۔۔
“تعدیل آگے بڑھتی ہدبر کو منہ چڑھاتی اندر کی طرح بڑھ گئی ردا بھی اسکے پیچھے ہی گئی۔۔۔
“سوری بیٹا۔۔۔
“ارے آنٹی کوئی بات نہیں ویسے بھی آج جوگنگ نہیں کی تھی دس منٹ دوڑیا ۔۔ ہدبر ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔ بینش بیگم مسکراتی ہوئی اندر چلی گئیں۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *