Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08
“ہاشم بھائی آپ آفس جا رہے ہیں؟ ہدبر ہاشم کو دیکھتا تیزی سے اپنے بھائی کی طرف بڑھا جو تھری پیس سوٹ میں تیار گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔۔۔
دراز قد سرخ و سفید ہینڈسم ہاشم وقاص جسے دیکھتے ہی لمحے بھر کے لئے نظر ٹہر جاتی تھی
روک کر اپنے بھائی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔تینوں بھائی ہینڈسم تھے ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے حماد جو دونوں بھائیوں سے عمر میں چھوٹا تھا باپ کی ڈیتھ کے بعد بہت حساس ہوگیا تھا۔۔
لیکن کہتے ہیں۔۔۔قسمت۔۔۔ پریشانیاں۔۔۔ بے سکونی۔۔۔۔ نا ذات دیکھتی ہے نا ہی رنگ روپ۔۔۔
ہاشم وقاص جو بچپن سے ہی سنجیدہ اور اکھڑ مزاج کا تھا اب بھی ویسے ہی تھا۔۔۔
“ہاں کیوں کوئی کام ہے ؟ سنجیدگی سے کہتا دروازہ واپس بند کرتا اسکے قریب بڑھا۔۔۔
“جی وہ حماد کہ رہا ہے کے ہمیں سی ویو جانا ہے پھر وہیں سے مکڈونلڈس جائیں گے ضد کر رہا ہے۔۔۔ہدبر ہچکچا کر اتنا ہی بولا۔۔
“ٹھیک ہے تم بھی چلے جاؤ پر خیال رکھنا۔۔۔۔ ہاشم نے کہتے ہوۓ والٹ نکال کر پیسے دیے۔۔
“میں کچھ دنوں میں تم چاروں کا اکاؤنٹ بنواتا ہوں تاکہ مسلئہ نہ ہو۔۔۔۔ہاشم خود ہی اسکا گال تھپتھپا کر کہتا گاڑی میں بیٹھنے لگا۔۔۔
“ہاشم بھائی اسکی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے آپ ہیں نا۔۔۔ ہدبر یکدم بولا۔۔
“ابھی نہیں ہے لیکن بعد میں ہوسکتا ہے شاید مجھ سے مانگنا پسند نا آئے۔۔ہاشم کہتا گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا
ہدبر کافی دیر بیرونی گیٹ کو دیکھتا رہا۔۔
ٹھک ٹھک ٹھک !!
ہاشم جو فائل کو پڑھنے میں مصروف تھا دروازے کی دستک پر “یس” کہ کر سر اٹھایا
جہاں احمد صاحب اور ارتضیٰ دونوں اندر داخل ہورہے تھے۔۔۔
ہاشم اپنے ماموں کے احترام میں فائل بند کر کے کھڑا ہوگیا۔۔۔
“السلام عليكم ماموں بیٹھیں۔۔
“وعلیکم اسلام برخوردار کیسے ہو؟ اور نگہت باجی ٹھیک ہیں نا۔۔۔احمد صاحب اسے دیکھتے ہوۓ مسکراتے ہوۓ پوچھنے لگے
جب کے ارتضیٰ اسے دیکھ کر اندر اندر حسد کی آگ میں جل رہا تھا۔۔ بچپن کی حسد کینہ آج بھی قائم تھی بلکہ آج اتنے سالوں بعد اسے دیکھ کر حسد سے بڑھ کر کچھ اور محسوس ہو رہا تھا
نفرت ہاں نفرت اسکے وجود سے اسکے چہرے سے۔۔۔
یکدم ہی ارتضیٰ ان دونوں کے بیچ میں بول اٹھا۔۔
“تمہاری تو قسمت چمک گئی پڑھائی مکمّل کرتے ہی سیدھا پھوپھا کی سیٹ پر بیٹھ گئے زبردست کیوں ابّو۔۔۔۔۔
احمد صاحب کو گھورتا پاکر ارتضیٰ سر جھٹک کر چپ ہوگیا۔۔۔
ہاشم نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں۔بہت مشکل سے غصّے پر وہ قابو پا سکا۔۔۔
“دیکھ لو پھر قسمت ہاشم نے دانت پیستے اسی کی طرح طنز کیا۔۔۔
“ہونہہ! ارتضیٰ ہنکار بھرتا تیزی سے کرسی سے اٹھ کر لمبے لمبے ڈاگ بھرتا شیشے کا بھاری دروازہ کھولتا باہر نکل گیا۔۔
ارتضیٰ کے نکلتے ہی بہت دیر آفس میں خاموشی رہی۔۔
آپی چلیں آئیس کریم کھا کر اتے ہیں میں ابو سے اجازت لے کر اگئی ہوں۔۔۔ چلیں چلیں چلیں۔۔۔۔
تعدیل تیزی سے کچن میں آتی تہذیب کا ہاتھ کھینچ کر لے جانے لگی۔۔۔
“ا اب ابھی نا نہیں۔۔۔تہذیب ہاتھ میں پکڑے ٹماٹر کو رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
بینش بیگم شام کی چائے بناتے ہوۓ اپنی دونوں بیٹیوں کو دیکھ کر مسکرانے لگیں۔۔۔
“کتنی مشکل سے تہذیب کو وہ پھر سے نارمل کر پائیں تھیں۔۔۔۔
“کوئی نہیں وہی نہیں ابّو نے کہ دیا ہے چلیں ڈرائیور انکل گاڑی اسٹارٹ کر چکے ہیں اے سی بھی چلا چکے ہیں چلیں نا میرا بہت دل کر رہا ہے۔۔۔۔تعدیل کے اس طرح کہنے پر تہذیب اور بینش بیگم ہنس دی۔۔۔
“ہاہاہا جاؤ چلی جاؤ ورنہ جان نہیں چھوڑے گی یہ۔۔۔ بینش بیگم نے ہنس کر کہا تہذیب ٹھیک ہے کہتی اسکے ساتھ کچن سے نکل گئی۔۔۔
“ہیلو ریحان
“ابھی میں بلکل ٹھیک نہیں ہوں فلیٹ آرہا ہوں
“کیا وہیں ہو ؟ ٹھیک ہے پہنچ رہا ہوں۔۔۔ اوکے۔۔۔ ارتضیٰ غصّے میں کانپتا کال ڈسکنیکٹ کرتے سعد کے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
“سعد بگڑا ہوا امیر زادہ جس کا کام لڑکیوں اور ہر طرح کا نشہ کرنا تھا۔۔۔جو اب ارتضیٰ بھی کرنے لگا تھا یہی وجہ تھی کے غصّہ کم نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
ایک سال پہلے ہی ان سب کی یونیورسٹی میں دوستی ہوئی تھی۔۔۔۔
اسی نے ارتضیٰ کے دماغ میں لبنیٰ کے لئے گند بھرا تھا اور ارتضیٰ احمد اسکے کہے پر عمل کرتا لبنیٰ کو استعمال کر رہا تھا۔۔۔
برائی کی طرف کھنچ کر لانا نہیں پڑتا اسکے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔۔۔
“آپی گھوریں تو نہیں مجھے تھوڑی پتہ تھا بیچ راستے میں گاڑی خراب ہوجائے گا۔۔۔۔
تعدیل تہذیب کے گھورنے پر کندھے اچکا کر کہتی دروازہ کھول کر باہر نکلی۔۔۔
تہذیب بھی اپنی طرف کے دروازے سے اتری۔۔۔
“ک کہا کہاں جج جا رہ رہی ہو۔۔۔تہذیب ہکلا کر کیتی اسے دیکھنے لگی جو روڈ کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
“ک کیا دد دیکھ ر رہی ہو۔۔
“کوئی گاڑی تاکہ ہم ان سے مدد لے سکیں یا تو ہمیں گھر تک لفٹ دے دیں یا ہماری گاڑی کو ٹھیک کر دیں۔۔۔
تعدیل مزے سے کہتی ارد گرد دیکھنے لگی جب کے تہذیب سر جھٹک کر رہ گئی۔۔۔
پانچ منٹ ہی گزرے تھے جب دور سے گاڑی کی ہیڈ لائیٹس دیکھ کر تعدیل چہکی۔۔۔
ڈرائیور انکل کوئی گاڑی آرہی ہے آپ روکیں۔۔۔
“جی ٹھیک ہے آپ دونوں گاڑی میں بیٹھ جائیں۔۔۔ڈرائیور کے کہنے پر دونوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھیں۔۔۔
“ہاشم جو گاڑی چلاتے اپنی کنپٹی کو ہلکے ہلکے دو انگلیوں سے دبا رہا تھا کسی شخص کو روڈ کے کنارے لفٹ مانگتے دیکھ کر اپنی گاڑی روکی۔۔
ہاشم کے گاڑی روکتے ہی ڈرائیور اسکے پاس گیا۔۔۔
کالے شیشے ہونے کی وجہ سے تہذیب اندر بیٹھے شخص کو نہیں دیکھ سکی۔۔۔
جب ڈرائیور نے آکر شیشہ بجایا۔۔۔
“ک کک کیا ہو ہوا۔۔ تہذیب نے ہکلا کر پوچھا۔۔
“بیٹی وہ کہ رہے ہیں کے ڈیفنس کے علاقے میں اس وقت کوئی مکینک نہیں ملے گا اگر مناسب لگے تو لفٹ دے دیتے ہیں وہ بھی اسی علاقے میں رہائش ہیں۔۔۔۔
ڈرائیور نے تصیلاً بتایا۔۔۔
“ٹھیک ہے چلیں۔۔۔۔ تعدیل کہتے ہی گاڑی سے اتری۔۔۔ تہذیب گھبرا گئی۔۔۔
“تا تا تعدیل نن نہیں جا جانے ک کک کون ہو۔۔۔
“آپی ڈرین مت ڈرائیور انکل ہیں نہ ساتھ اور اس سنسان سڑک سے اچھا ہے نہ اب چلیں۔۔۔
ہاشم نے فرنٹ شیشے سے پیچھے دیکھا جہاں دو لڑکیاں خاموش سے بیٹھی تھیں۔۔۔۔
ڈرائیور نے بیٹھتے ہی اسے ایڈریس سمجھا دیا تھا۔۔۔
پورے راستے گاڑی میں خاموشی چھائی رہی تہذیب نے سختی سے تعدیل کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔۔۔
یکدم گاڑی رکی تہذیب کانپ گئی سر اٹھا کر دیکھا تو پرسکون سانس خارج کی۔۔
ہاشم جو اسے دیکھ رہا تھا اسکی حرکت پر آہستگی سے مسکرا دیا.۔۔۔
“بہت بہت شکریہ بیٹا آپ کا۔۔۔ڈرائیور کہتا گاڑی سے اترا۔۔۔
تعدیل اتر کر کھڑکی کی طرف آئی۔۔
“تھینک یو بھائی۔۔۔
“یور ویلکم۔۔۔ہاشم نے مسکرا کر تعدیل کو جواب دیا۔
تہذیب جو جلدی سے اتر رہی تھی گھبراہٹ میں دروازے کے ساتھ ڈوپٹے کا کنارہ بھی پھنسا لیا۔۔۔
“تعدیل جو کہتے گیٹ کی طرف بڑھ گئی تھی تہذیب بھی اسکے پیچھے تیزی سے جانے لگی لیکن ڈوپٹے کی وجہ سے لڑکھڑا کر رکنا پڑا۔
“ہاشم گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا ہی تھا۔۔۔ تہذیب ڈر گئی۔۔۔
“ر رر روکیں۔۔۔۔تہذیب نے ہکلا کر زور سے کہا ہاشم نے روک کر اسے دیکھا پھر اسکے ڈوپٹے کو۔۔
تہذیب اسے دیکھنے لگی جو اسی کو دیکھ رہا تھا پھر اتر کر گاڑی کے دروازے سے ڈوپٹہ آزاد کروایا۔۔
“تھ تھینک ی یو۔ ۔۔۔ تہذیب شکریہ کہتی جلدی سے بھاگی جیسے وہ ابھی اسے پکڑ لے گا۔۔۔
جب کے ہاشم کی نظروں میں چھم سے کسی کا عکس لہرایا۔۔۔۔
جاری ہے
