Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02

ارتضیٰ !!!!!
ارتضیٰ کو آتا دیکھ کر شمائل نے زور سے آواز دی جو اپنے اور اسکے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تہذیب کا مذاق بنا رہا تھا۔۔۔
“ہائے ایوری ون تم سب گراؤنڈ میں کیوں بیٹھے ہو چلو کلاس میں۔۔۔ارتضیٰ کہتے ہی لبنیٰ کے ساتھ بیٹھا۔۔۔۔۔
لبنیٰ اسے پسند تھی وہ زہین ہونے کے ساتھ انتہائی حسین تھی اور ارتضیٰ احمد کو خوبصورت چیزیں ہمیشہ سے پسند تھی چاہیے وہ بے جان چیز ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
“ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے جانتے ہو آج دو نیو اسٹوڈنٹس آئے ایک کو دیکھا نہیں ابھی لیکن ایک لڑکی ہے جس کے گلے میں بریک فٹ ہوے ہیں ہاہاہا پوری نمونہ ہے۔۔۔
لبنیٰ نے مزے سے ہنستے ہوۓ اسے بتایا جس کی بات سنتے ہی سب قہقہ لگا کر ہنسنے لگے۔۔۔۔
“ہاہاہا کیا سچ میں چلو مجھے بھی ملواؤ۔۔۔ ارتضیٰ اشتیاق سے بولا۔۔۔
“یار پڑھاکو اور کچھ بدھو ہے سیدھا کلاس میں گئی ہے جیسے ابھی سب پڑھ کر ٹاپ کرے گی۔۔۔ریحان نے ناک چڑھا کر بتایا جب ٹیچر نے اکر سب کو کلاس میں جانے کو کہا ۔۔۔
“چلو بریک میں دکھاتی ہوں تمہے نمونہ۔۔۔۔لبنیٰ اپنی پونی تیل کو کستی ارتضیٰ کا ہاتھ پکڑ کر کہتی کلاس کی طرح بڑھ گئی۔۔۔
جو ہنستے ہوۓ “اوکے” کہتا اسکے ساتھ آگے چل دیا۔۔۔۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
تہذیب کلاس میں داخل ہوتی بیٹھنے کے لئے جگہ دیکھنے لگی۔۔۔
جب آگے کی ڈیسک سے ایک ڈیسک پیچھے ہاشم بیٹھا بیزار بیٹھا انگلیوں میں پین کو دبائے گھوما رہا تھا
تہذیب چلتی ہوئی اسکے ساتھ آکر بیٹھی جس نے اسکے بیٹھنے پر ناگواری سے اسے دیکھا
“کیا تم دوسری بینچ پر جاکر نہیں بیٹھ سکتی۔۔۔۔ہاشم نے اپنے لہجے کو نارمل رکھتے ہوۓ اسے کہا۔۔
تہذیب نے اسکی بات سن کر اسے دیکھا۔۔۔۔ک کک کیوں؟
تہذیب نے حیران ہوتے ہوۓ اسے کہا ہاشم کا اس طرح کہنا اسے سمجھ نہیں آیا
“کیوں کے میں کسی کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔۔۔ہاشم نے چبا کر کہا۔۔۔
“ٰعج عجیب بب بات ۔۔۔
اسٙٹاپ اٹ! میں نے صرف جگہ بدلنے کے لئے کہا ہے ہکلانے کی ضرورت نہیں ہے اب اٹھو۔۔۔۔ہاشم منہ بنا کے کہتا ٹیچر کو اتا دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
تہذیب بھی ہڑبڑا کر کھڑی ہوئی۔۔۔ٹیچر “سٹ ڈاؤن” کہتیں بلیک بورڈ کی طرف بڑھیں جب نظر ہاشم اور تہذیب پر پڑی۔۔
” نیو ایڈمشن۔۔ ٹیچر نے سوال انداز میں پوچھا
“یس میم۔۔۔ہاشم نے جھٹ جواب دیا۔۔۔
“ٹھیک ہے پھر کلاس شروع کرنے سے پہلے آپ دونوں اکر اپنا تعارف کروائیں۔۔۔۔۔ٹیچر کہ کر سائیڈ پر کھڑی ہوگئیں۔۔
ہاشم نے ایک نظر اسے دیکھا جس کے چہرے پر گھبراہٹ کے تاثرات وہ بخوبی دیکھ سکتا تھا۔۔۔
ہاشم سر جھٹکتا اٹھ کر سامنے جاکر کھڑا ہوگیا۔۔
“میرا نام ہاشم وقاص ہے۔۔۔اتنا کہ کر ہاشم نے ٹیچر کی طرف دیکھا جیسے جانے کی اجازت مانگ رہا ہو۔۔۔
“اور کچھ نہیں بتائیں گے ۔۔۔ ٹیچر نے مسکرا کر پوچھا
ہاشم نے کندھے اچکائے۔۔۔۔
“اوکے ٹیک آ سیٹ
ٹیچر اسے کہتیں تہذیب کی طرف متوجہ ہوئی جو خود کو کافی حد تک سمبھال چکی تھی اپنی جگہ سے اٹھتی مضبوط قدموں سے چلتی کھڑی ہوکر ایک نظر پوری کلاس کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
م مم میرا نن نن۔.۔۔۔۔
“نام!! کلاس سے کسی لڑکے کی آواز گونجی۔۔۔تہذیب جو گھبراہٹ اور اداسی میں ہکلاہٹ پر قابو نہیں پاتی تھی چپ سی ہوگئی۔۔۔
پوری کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آواز گونجھی۔۔۔
“سائلنس! ٹیچر نے زور سے کہا پھر تہذیب کو دیکھ کر مسکرائیں۔۔۔تہذیب ہمت کرتی پھر بولنا شروع ہوئی۔
“تت۔۔۔
طوبیٰ! . تہذیب نے اتنا ہی کہا جب کسی لڑکی کی آواز
گونجی اور اس بار پوری کلاس قہقہ لگا کر ہنس دی سوائے ٹیچر اور اسکے جو تہذیب کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ ۔۔۔۔۔ ٹیچر نے غصّے سے کہتے ٹیبل پر ہاتھ مارا یکدم کلاس میں خاموشی چھائی۔۔۔
تہذیب نے ہونٹ بھینچ کر اپنے آؤنسوں کو بہنے سے روکا اور چلتی ہوئی بورڈ مارکر اٹھا کر کپکپاتے ہاتھوں سے اپنا نام لکھنے لگی ٹی ہی لکھا تھا جب کسی نے ہاتھ سے مارکر کھنچا۔۔۔۔
تہذیب نے ڈر کر برابر میں دیکھا جہاں سپاٹ چہرہ لئے ہاشم کھڑا تھا۔۔۔
“گونگی ہو ؟ ہاشم اتنا کہ کر مارکر رکھ کر اپنی جگہ پر جانے لگا لیکن جاتے جاتے لبنیٰ اور ارتضیٰ کو گھورنا نہیں بھولا جو جان کر اسکا مذاق اڑا رہے تھے۔۔۔
ہاشم کے اس طرح دیکھنے پر ارتضیٰ نے بھی جواباً گھورا۔۔
⭐⭐⭐⭐
بریک ٹائم پر تہذیب بیٹھی اپنا لنچ باکس نکال کر لنچ کرنے لگی عاصم صاحب نے شروع سے ہی بینش بیگم کو سختی سے یہ حکم دیا ہوا تھا تبھی کبھی اس نے کینٹین سے کچھ نہیں لیتی تھی نہ ہی اسکے پاس پیسے ہوتے تھے۔۔
تہذیب خاموشی سے سینڈوچ کھا رہی تھی جب ہاشم آکر اپنی جگہ پر بیٹھتا کینٹین سے لایا سموسہ کھانے لگا۔۔۔
“ی یہ ن نہیں ک کک کھاؤ۔۔۔ تہذیب نے اسے سموسہ کھاتے دیکھا تو بے ساختہ ہکلانے کے باوجود بول گئی۔۔۔
لیکن ہاشم اسے جواب دیے بغیر سموسہ ختم کرتا اٹھ کر کلاس سے نکل گیا تہذیب کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
ب بب بد تت تمیز۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
تم سب یہاں ہو چلو وہ ہکلن اکیلی ہے کلاس میں۔۔۔۔ ریحان نے رازداری اور کچھ جوش میں کہا۔۔۔
“دفع کرو اسے عجیب سی ہے۔۔۔۔ارتضیٰ نے کہتے لبنیٰ کے ہاتھ سے سموسہ لیا۔۔۔۔
“ہیں ؟ تو ہم کون سا رشتہ لیکر جا رہے ہیں تنگ کرتے ہیں۔۔۔ریحان نے کہتے ہی سب کی جانب دیکھا۔۔۔
“ٹھیک ہے چلو۔۔۔ارتضیٰ نے ہاشم کو جاتا دیکھا تو جھٹ کھڑا ہوگیا.۔۔۔
لیکن کلاس کے دروازے پر روک کر ان دونوں کو دیکھنے لگا کلاس میں وہ دونوں ہی تھے ہاشم اپنے بیگ سے بک نکال کر بیٹھ گیا جب کے تہذیب اسے دیکھنے لگی اور یہی چیز ارتضیٰ کو زہر لگی ایسا کیا ہے ہاشم میں جو سب اسکے اکھڑ مزاج ہونے کے باوجود اسے دیکھتے ہیں اس سے بات کرنا چاھتے ہیں.
“چلو یہاں سے۔۔ارتضیٰ غصّہ ضبط کرتے انھیں کہتا تیز تیز قدم اٹھاتا گراؤنڈ کی طرف جانے لگا مجبوراً ان سب کو بھی اسکے پیچھے جانا پڑا۔ ۔۔
⭐⭐⭐⭐
شام کا وقت تھا تہذیب جو اسکول سے آنے کے بعد سو رہی تھی کسی کے بے دردی سے رضائی کھنچنے پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔
“یہ کون سا وقت ہے سونے کا اٹھو اور یہ پیسے لو کولڈ ڈرنک بسکٹس اور اسنیکس لاکر دو نانی آئی ہوئی ہیں چلو۔۔۔
بینش بیگم پیسے اسکے ہاتھ میں دیتیں جاتے جاتے پلٹیں جو آنکھوں میں نیند لیے اپنی ماں کا حکم سن کر آنکھیں مسلنے لگی
“سنو باپ کو مت بتانا کے باہر بھیجا تھا تمہے اور پیسے گم مت کرنا جاؤ اب۔۔۔مفت خور آخری بات منہ میں ہی بڑبڑائیں۔۔۔
بینش بیگم کے جاتے ہی تہذیب جمائ لیتے ہوۓ اٹھ کر باتھ روم چلی گئی۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
“ہاشم بیٹا کیا ہوا بھائیوں کے جانے سے اداس ہو۔۔۔ نگہت بیگم نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ پوچھا جو انکے بیٹھتے ہی اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا
“ہمم تھوڑا پر وہ پڑھنے جا رہے ہیں اسلئے انکے سامنے روئے گا مت ورنہ دونوں جائیں گے نہیں حماد کا پتہ نہیں پر ہدبر لازمی میرے اسکول میں ایڈمیشن لے لے گا۔۔۔پھر آپ جانتی ہیں کیا کرے گا وہ۔۔۔
“ہاہاہا! اچھا نہیں رو رہی اب تم اٹھو جاؤ شاباش نہا لو پھر جانا بھی ہے۔۔۔ نگہت بیگم ہنس کر کہ کر بولیں۔۔۔
“ٹھیک ہے لیکن آپ کو پتہ ہے آج میری طرح کسی لڑکی کا بھی پہلا دن تھا۔۔۔ہاشم بتاتے ہوۓ اٹھ کر بیٹھا۔۔۔
“ہممم تو دوستی ہوئی۔۔۔۔نگہت بیگم نے شرارت سے اسے چھیڑا جانتی تھیں لڑکیوں سے وہ دور بھاگتا تھا تبھی سب اسے سڑو مغرور جانے کیا کچھ کہتی ہیں۔۔۔
“امی دوست نہیں ہے لیکن آپ کو پتہ ہے وہ بہت پیارا بولتی ہے جب بات کرتی ہے تو بہت کیوٹ لگتی ہے ۔۔۔
ہاشم کی بات پر نگہت بیگم سلو موشن میں ہاتھ لے جاکر اسکا ماتھا چھونے لگیں۔۔۔ ہاشم نے اچھنبے میں اپنی ماں کو دیکھا۔۔
“کیا ہوا آپ کو۔۔۔۔
“بیٹا طبیعت ٹھیک ہے نہ۔۔ نگہت بیگم نے ہاتھ ہٹا کر اس سے پوچھا جو انکی بات پر آنکھیں چھوٹی کرتا انہہں دیکھنے لگا۔۔
“آئی ایم فائن امی۔۔۔اور آپ ایسے ایکٹ مت کریں۔۔۔ ہاشم نے ناراضگی سے کہا جب دروازے پے دستک ہوئی.
ہاشم موقع غنیمت جان کر باہر بھاگ گیا۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
گیٹ سے باہر نکلتے ہی تہذیب نے گردن گھوما کر دائیں بائیں دیکھا ڈیفینس کا علاقہ جہاں سناٹوں کا راج ہوتا ہے کبھی کوئی گاڑی یا ایک دو لوگ چلتے نظر آجاتے تھے۔۔۔
تہذیب سوچ میں پڑ گئی اسے تو یہاں کے راستوں کا بھی علم نہیں تھا۔۔لیکن بینش بیگم کے غصّے کا سوچتے ہی اللّه کا نام لیتی چلنے لگی۔۔۔
دس منٹ سے چلتی وہ بیکری تلاش کر رہی تھی لیکن بنگلو کے علاوہ اور کچھ تھا ہی نہیں۔۔۔ تہذیب یکدم رکی مغرب کی اذان بلند ہوئیں ساتھ ہی اندھیرا چھانے لگا
تہذیب گھبرا کر پیچھے کی طرف بھاگی اسی چکّر میں سامنے سے آتی گاڑی کو نہ دیکھ سکی۔۔۔
وقاص صاحب جو اپنی فیملی کے ساتھ ائیرپورٹ جارہے تھے حماد اور ہدبر کو چھوڑنے سامنے کسی کے آنے سے بروقت بریک لگائی۔۔۔
“اوہ شٹ۔۔۔ وقاص صاحب گھبرا کر باہر نکلے ساتھ ہی سب بھی گاڑی سے اترے۔۔
ہاشم کی نظر جیسے ہی تہذیب پر پڑی وہ روک کر اسے دیکھنے لگا جو دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے بری طرح کاپ رہی تھی چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔۔
“بیٹا آپ ٹھیک ہو۔۔۔ وقاص صاحب اسکے سامنےدو زانو بیٹھتے پریشانی سے بولے۔۔۔
تہذیب نے آواز پر آنکھیں کھول کر اپنے سامنے لمبے چھوڑے گریس فل شخص کو دیکھا۔۔۔
“بتاؤ بیٹی۔۔نگہت بیگم نے قریب اتے ہوۓ پوچھا۔۔
تہذیب پرسکون سانس لیتی نگہت بیگم کو دیکھنے لگی جب ہاشم پر نظر پڑی۔۔۔
“مم می میں ڈڈ ڈر گ گئی تھ تھی۔۔۔تہذیب ہکلاتے ہوۓ بولی۔۔۔
“ڈرو مت ابّو ڈانٹیں گے نہیں۔۔۔۔ ہدبر اسکے سامنے آکر بولا۔۔ اسے لگا شاید وہ ڈر کر ہکلا رہی ہے۔۔۔۔
“ن نہیں مم۔۔۔۔۔
“ابو وہ ہکلاتی ہے۔۔اور تم اکیلے کیا کر رہی ہو یہاں؟ اس سے قبل تہذیب اپنی بات مکمل کرتی ہاشم اپنے ابو کو کہتا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔
سب نے حیرت سے ہاشم کی طرف جو سنجیدگی سے اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔
“وو وہ م مم میں بے بیک بیکری جا رر رہی تت تھی ۔۔۔ تہذیب منمنا کر کہتی سر جھکا کر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
“بیکری وہ بھی پیدل؟ وقاص صاحب نے حیران ہوتے ہویے کہا حیران تو وہ سب بھی تھے۔۔۔
“ہاہاہا یہاں پر بیکری کہاں ہے پاگل۔۔۔ ہدبر نے ہنس کر بولا۔۔
“ہونہہ!! بڑی ہے نا تم سے۔۔۔۔۔نگہت بیگم نے ٹوکا وہ آٹھ دس سال کی کیوٹ بچی انھیں بہت اچھی لگی۔۔۔۔۔
“بیٹا اپنا گھر بتاؤ تاکہ تمہے وہاں چھوڑ دیں یہاں قریب کوئی دکان نہیں ہے ۔۔۔۔ وقاص صاحب نے کہا
اتنے میں کوئی گاڑی آکر رکی ڈرائیونگ سیٹ سے تیزی سے عاصم صاحب نکلے تہذیب کو وہ وہ کپڑوں اور اسکارف سے پہچانے۔۔
⭐⭐⭐⭐
“تہذیب!! باپ کی آواز سنتے ہی تہذیب سمیت سب نے عاصم صاحب کو دیکھا جو پریشان سے کھڑے اسے ہی دیکھ رہے تھے.
“ا اب ابّو!!! تہذیب کہتے ہی عاصم صاحب کی طرف لپکی۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہی ہو وہ بھی گھر سے اتنا دور امی کہاں ہیں ؟
“و۔۔ “تہذیب کی سمجھ نہیں آیا کے بتائے یا نہیں جب
وقاص صاحب نے بیکری والی بات بتادی۔۔۔
عاصم صاحب ہونٹ بھینچ کر رہ گئے۔۔۔
“آپ کا شکریہ ورنہ جانے کہاں چلی جاتی دراصل ہم لوگ یہاں نئے شفٹ ہوۓ ہیں۔۔۔ عاصم صاحب نے مسکراتے ہوۓ بتایا۔۔۔
وقاص صاحب سر ہلاتے مسکرا کر انھیں اپنے بیٹوں سے ملوانے لگے۔۔۔
تہذیب سر جھکائے کھڑی انے والے وقت کا سوچ رہی تھی۔۔۔
⭐⭐⭐⭐⭐
جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *