Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11
ہاشم واش روم سے نکلتا تولئے سے اپنے گیلے بال رگڑتا ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوکر بالوں کو ہاتھ سے ہی سیٹ کرنے کے بعد پرفیوم لگانے لگا
بلیک شرٹ کے آستین کو کہنوں تک فولڈ کرتے اپنی مکمل تیاری کا جائزہ لے رہا تھا
جب ردا کی باتوں کی آواز آئی شاید وہ نیچے جا رہی تھیں۔۔
“چھت پر چلتے ہیں بادل آئے ہوۓ ہیں لگتا ہے بارش ہوگی۔۔ردا تیز تیز دونوں کو بول کر سیڑیوں کی جانب جا رہی تھی۔۔
تہذیب جو خاموشی سے دونوں کے پیچھے خاموشی سے جا رہی تھی جب اچانک کسی نے اسکے ہونٹوں پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھ کر کمرے میں کھنچا۔۔۔
ہاشم کی حرکت پر تہذیب تھرا کر رہ گئی آنکھوں کے ساتھ سوچیں کہیں پیچھے چلیں گئیں۔۔۔
یہی تو ہوا تھا اسکے ساتھ سختی سے لبوں کو دباتے اسے بسٹر پر بے دردی سے پھینکا تھا جیسے وہ کوئی بے جان کھلونا ہو۔۔۔
آنکھوں کو سختی سے میچے آنسوں لڑیوں کی طرح گالوں پر لڑھک گئے ہاشم جو اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا تھا
ہاتھ پر نمی محسوس کرتے حیران ہوا۔۔۔ہاتھ اسکے لبوں سے ہٹا کر چلتا اسکے سامنے آیا جو ہونٹ بھنجے رو رہی تھی ۔
ہاشم کتنی دیر اسے دیکھتا رہا چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے لے لی۔۔۔
ہاتھ بڑھا کر باری باری دونوں گالوں پے بہتے آنسوں صاف کرنے لگا۔۔۔تہذیب نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اپنے اتنے قریب ہاشم کو دیکھ کر رونے میں شدّت آئی۔۔۔
ہاتھ ہٹا کر ہاشم نے گہری سانس لی۔۔۔۔”سوری مجھے نہیں پتہ تھا تم میرے اس عمل سے ہرٹ ہو
“نن نہیں م میں ت تم تم تمہاری و وجہ س سے ن نہیں رو را رہی۔۔۔ تہذیب یکدم بیچ میں بولتی بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کر سکی کے رونے کی وجہ سے ہکلاہٹ پر قابو نہیں ہوپاتا
جب کے ہاشم سکون سے اسکی بات سن رہا تھا۔۔اسکا یوں اٹک اٹک کر بولنا کبھی بھی اسے اسکا مذاق بنانے یا اڑانے کا باعث نہیں بنا۔۔۔وہ اسے ایسے ہی پسند کرتا تھا جانے یہ پسند محبت میں بدلی پتہ ہی نہیں چلا لیکن اتنا ضرور تھا اسکے بعد اسے کوئی دوسری لڑکی پسند نہیں آئی۔۔۔
ہوتے ہیں کچھ ایسی محبت کرنے والے۔۔۔۔۔
کوئی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا اور جو یہ سمجھتے ہیں وہ بیوقوف۔۔۔ غرور و تکبّر میں جی رہے ہوتے ہیں۔۔۔
“اے متی کے بندے تیرا اور میرا رب ایک ہی ہے”
“ہمم پھر اس طرح رونے کا مطلب مجھے لگا ابھی مجھے تھپڑ پر جائے گا۔۔۔ہاشم کہ کر ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
“ا ایک با بات پو پوچھوں ؟ تہذیب اسکی بات پر ہلکا سا مسکراتی آنسوں پوچھتے ہوۓ بولی۔۔
“ایک کیوں جتنی دل کرے پوچھ سکتی ہو میں اب کہیں نہیں جانے والا۔۔۔ہاشم نے کہتے آہستہ سے اسکا ہاتھ تھاما ۔۔
“مج مجھے با بنا ب بتائے ا امریکہ چا چلے گ گئے م میں ن نے ک کت کتنا س سب سب سے پوچھا ک کوئی ما مذاق کر رہا ہ ہو او اور وہ ار ارتضیٰ جو د دوست۔۔۔
“ششش ! سب کو چھوڑو اور ارتضیٰ وہ میرے ماموں زاد ہے وہ مجھے پسند نہیں کرتا اور رہا سوال تمہے بتائے بنا جانے کا تو اس میں غلطی تمہاری بھی ہے تم آئی ہی نہیں
کتنا انتظار کیا سوچا تھا کسی طرح ملوں لیکن وقت جیسے ریت کی طرح پھسلتا چلا گیا۔۔۔
“ہاشم اسکے لبوں پر انگلی رکھتا جھک کر اسکی انکھوں میں دیکھتا بتانے لگا کے تہذیب بمشکل ہی اسکے کندھے تک تھی۔۔۔تہذیب خاموش ہی رہی کیا بتاتی۔۔۔
ہاشم پھر کچھ کہتا اس سے قبل ہی ہدبر دروازہ پورا کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔
تہذیب نے گھبرا کر تیزی سے ہاشم کا ہاتھ چھوڑا جس نے دوبارہ پکڑ کر پیچھے کر اسکے آگے آگیا۔۔
“چھ چھو۔۔چھوڑو ۔۔۔۔تہذیب نظریں جھکائے ہلکے سے بولی
“اوہ وہ ہاشم بھائی میں آپ کو ہی بلانے آیا تھا بوندا باندی ہو رہی ہے۔۔ہدبر بتیسی نکل کر کہتا شرارت سے دونوں کو دیکھنے لگا تہذیب اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش میں لگی بوئی تھی۔۔
“اچھا تو ؟
“تو لان میں ہیں سب میں جا رہا ہوں آجائیں۔۔۔ ہدبر شرارت سے کہتے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
ہدبر کے کمرے سے نکلتے ہی تہذیب نے غصّے سے ہاشم کے ہاتھ کو کاٹا ۔ ہاشم چیخ مارتا اسکا ہاتھ چھوڑ کر اپنے ہاتھ کو سہلانے لگا ۔۔
“بڑی ہی خطرناک ہو یار۔۔۔ہاشم آنکھیں میں شرارتی چمک لئے مسکرا کر بولا۔۔
“بے بے ش شرم ۔۔۔ تہذیب کہتی دروازے کی طرح بڑھی ہاشم کا قہقہ بے ساختہ نکل گیا۔.
“ہاہاہا اچھا روکو تو اوئے بلی۔۔۔
ہاشم اسکے پیچھے جاتے ہوۓ بولا لیکن تہذیب تیزی سے لان کی طرف چلی گئی۔۔۔۔
اگلے کہیں دن ہاشم آفس میں کام کی وجہ سے مصروف رہا ہدبر بھی اسکے ساتھ ہی ہوتا تھا۔۔۔۔۔
دوسری طرف بینش بیگم اور نگہت بیگم کا فون یا کبھی ایک دوسرے کی طرف آنا جانا ہونے لگا۔
تعدیل کی ردا کے ساتھ ساتھ حماد سے بھی دوستی ہوگئی یہ اتفاق ہی ہوتا جب کبھی دونوں بینش بیگم کے ساتھ جاتیں وہ دونوں ہی گھر پر موجود نہ ہوتے
اور یہی بات تہذیب کو کبھی کبھی غصّہ دلانے کا باعث بن جاتی۔۔۔
اس دن بھی یہی ہوا تہذیب گھر آتے ہی کمرے میں داخل ہوتی اوندھے منہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹی جب اسکے موبائل پر کال آنے لگی۔۔۔
“ہاشم کالنگ” دیکھ کر ناک چڑھا کر اسنے موبائل واپس بیڈ پر رکھ دیا جب واٹس ایپ پر میسج آیا ۔۔
تہذیب نے لیٹے لیٹے ہی موبائل اٹھا کر میسج اوپن کیا جہاں ہاشم کا ” ہائے بلی” کے آگے دل والے ایموجی بھی تھے
تہذیب نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرا دی یکدم یاد آیا وہ دو گھنٹے پہلے ہی ناراض ہوئی تھی۔۔۔اس لیے بنا رپلائے کیے اس نے موبائل رکھ دیا.
“ہاشم جو آفس سے نکلتا ہدبر کے ساتھ پارکنگ لاٹ کی طرف بڑھتا تہذیب کا سین دیکھ کر بھی نو رپلائی تھا مسکرا دیا۔۔۔
“ناراض بعد میں ہوجانا پہلے میری بات سنو تمھارے لئے گڈ نیوز ہے۔۔۔ہاشم نے ٹائپ کر کے سینڈ کرتا گاڑی میں بیٹھا۔۔
“تہذیب ہاشم کا آیا میسج پڑھ کر تجسس میں آگئی جلدی سے ٹائپنگ کرنے لگی۔۔۔
“کیسی گڈ نیوز ؟ ٹائپ کرتے ہی اسنے سینڈ کیا
ہاشم نے ہنسی دبا کر میسج کیا۔۔
“کل تک کا انتظار کرو۔۔
“ٹھیک ہے پھر میں کل تک کے لئے ناراض ہوں گڈ بائے۔۔۔
تہذیب میسج سینڈ کر کے موبائل رکھ کر کمرے سے نکل گئی جب کے ہاشم اہ بھر کے رہ گیا۔۔۔
“بلی کہیں کی
“ارے واہ آج کوئی آرہا ہے کیا؟ تعدیل کچن میں داخل ہوکر پتیلوں میں جھانکتے ہوۓ بولی۔۔۔
“ہاں تمہاری نگہت آنٹی اپنے بچوں کے ساتھ ڈنر پر آرہی ہیں۔۔۔ بینش بیگم مسکراتے ہوۓ بولیں
تہذیب جو کچن کی طرف آرہی تھی سب کے انے کا سن کر مسکرانے لگی مگر یکدم ہی اسے یاد آیا وہ ناراض ہے اس سے۔۔۔
“کیا واقعی آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا اور یہ ردا کی بچی نے بھی نہیں بتایا ٹہریں ابھی اسکی خبر لیتی ہوں۔۔
تعدیل خوش ہوتی خود سے کہتی کچن سے نکل گئی۔۔۔
تہذیب اپنی الماری کے پٹ کھولے کھڑی سوچنے میں لگی ہوئی تھی جب بینش بیگم اسکے کمرے میں داخل ہوئیں
تہذیب نے پلٹ کر اپنی ماں کو دیکھا جو مسکرا کر اسکے قریب آئیں۔۔۔۔
“میں کچھ بات کرنے آئی تھی تم سے۔۔۔
“ج جی۔۔۔
“وہ دراصل نگہت بہن تمہارا ہاتھ مانگنے آرہی ہیں اپنے بڑے بیٹے کے لی۔۔۔بینش بیگم کچھ ہچکچا کر اسے بتانے لگی جو
انکی بات پر ساکت رہ گئی تھی۔۔۔
“کتنے ہی لمحے وہ یونہی کھڑی رہیں جب کے بینش بیگم اسے بتا کر جا چکی تھی۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب ہاشم لوگوں کی گاڑی بیرونی گیٹ سے اندھر داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔
ارتضیٰ جو نیلم بیگم کے ساتھ مال سے واپس آرہا تھا گاڑی میں اپنی پھوپھو کی فیملی کو دیکھ کر نفرت سے سر جھٹکنے لگا جب اچانک تعدیل کا خیال آیا۔۔۔
“یہ لوگ یہاں کیا کرنے آئے ہیں ۔۔۔۔خود سے ہمکلام ہوتے اپنے گھر کے گیٹ سے اندر بڑھ گیا.۔
جب کے دوسری طرف عاصم صاحب بینش بیگم کے ساتھ انکا استقبال کر رہی تھیں۔.
ہاشم کی خوشی اسکے چہرے سے لگائی جا سکتی تھی جو بات بات پر مسکرائے جا رہا تھا۔۔۔
“آنٹی میں تہذیب آپی اور تعدیل آپی کے پاس جاؤں؟ ردا بینش بیگم کے پاس کھڑی ہوکر پوچھنے لگی۔۔۔۔
بینش بیگم کی اجازت ملتے ہی ردا ملازمہ کے ساتھ ڈرائنگ روم سے نکل گئی۔۔۔
ہاشم بے چینی سے پہلو پر پہلو بدل رہا تھا تہذیب کو دیکھنے کی کوئی ترکیب ابھی سوچ ہی رہا تھا جب ہدبر نے ہاشم کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
“ہاشم بھائی اگر آپ کو ہماری ہونے والی بھابھی سے ملنا ہے تو چلیں۔۔۔
“چلیں کیسے کیا سوچیں گے انکل آنٹی یہی تو مسلئہ ہے۔۔۔ ہاشم نے گھور کر اسے کہا۔۔
“میرے پاس بہت اچھا آئیڈیا ہے۔۔
“اور وہ کیا ہے؟ ہاشم نے ایک آئی اچکائی۔۔
“کان لائیں۔۔۔ ہدبر اسکے کان کے قریب ہی ہوکر بولا
ہاشم اسے گھور کر رہ گیا جب کے ہدبر گدی پے ہاتھ پھیرتا ہنسی دبا گیا۔۔
جاری ہے
