Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05

“آپی آنکھ مجولی کھلیں۔۔۔۔ تعدیل اپنی بہن کو دیکھتے ہوۓ بولی جو لان کی طرف جانے والی سیڑیوں پر نظریں جھکائے بیٹھی تھی
یکدم اپنی بہن کی آواز پر خیالوں سے نکل کر مسکرا کر اثباب میں سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“بینش بیگم دونوں کو دیکھتی سر جھٹک کر کچن میں چلی گئیں جب کچن میں عاصم صاحب کی آواز گونجی
بینش بیگم نے پلٹ کر انھیں دیکھا جو گیسٹ روم صاف کروانے کا کہ رہے تھے بینش بیگم کو حیرت ہوئی لیکن اظہار کے بغیر ہے “اچھا” کہتیں دوبارہ کام کی طرف متوجہ ہوگئیں۔۔۔
عاصم صاحب لان کی طرف آئے جہاں تہذیب اور تعدیل بھاگ رہی تھیں۔۔۔
دونوں بیٹیوں کو دیکھتے وہ کرسی پر ہی بیٹھ گئے۔۔
“پپ پک پکڑ لل لی لیا۔۔۔۔ تہذیب نے تعدیل کو پکڑتے ہی خوش ہوتے ہوۓ کہا۔۔
تعدیل کے ساتھ عاصم صاحب بھی ہنسنے لگے۔۔۔
تہذیب اور تعدیل اپنے باپ کو دیکھتے ہی انکی طرف اکر ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔
“ابو آپ ہنس رہے ہیں۔۔۔۔تعدیل نے مصنوعی منہ پھلا کر کہا۔۔
“ہاہاہا نہیں بلکل نہیں۔۔۔عاصم صاحب نے ہنس کر کہتے اسکے سر پر پیار کریا تہذیب کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی۔۔۔
“ابو آپ آپی کو بتا دیں کے آپ مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔۔۔تعدیل جو ہمیشہ تہذیب کو چڑھانے کے لئے اپنے باپ سے یہی سوال کرتی تھی جھٹ بولی
“عاصم صاحب اسکے سوال پر ہنس دیے۔۔۔”میں اپنی دونوں
بیٹیوں سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔
“نو چیٹنگ ابو سب سے زیادہ۔۔۔۔ تعدیل نے منہ بنا کر کہا۔۔۔
“ہمم سب سے زیادہ میں تعدیل سے پیار کرتا ہوں میری بیٹی بہادر جو ہے۔۔۔عاصم صاحب سوچنے کے انداز میں کہتے مسکرا کر بولے۔۔
تہذیب خاموشی سے صرف مسکرا رہی تھی۔۔۔ تعدیل پرجوش ہوتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر تہذیب کو پیچھے سے اکر گردن کے گرد بازو لپیٹ کر گال کو چوما۔۔۔
“یس سنا آپی میں بہت بہادر ہوں اور ابو میں آپی کا بھی خیال رکھوں گی اگر کسی نے بھی آپی کو تنگ کیا تو اسکا کچرما بنا دوں گی۔۔۔تعدیل نے چہک کر مضبوط لہجے میں کہا
عاصم صاحب کی آنکھوں میں نمی آگئی۔۔۔
“خوش رہو دونوں ہمیشہ اسی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھنا کیوں کے تم دونوں” میری ” بیٹیاں ہو۔۔۔
عاصم صاحب اٹھ کر دونوں کو باری باری پیار کرتے اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
“یہ جو باپ ہوتے ہیں، سب سے خاص ہوتے ہیں” ❤
⭐⭐⭐⭐
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو آپی؟
“تم تو آنا ہی نہیں چاہتے تھے پھر یہ اچانک تین چار دن روکنے کا مطلب۔۔۔ بینش بیگم نے مشکوک نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا۔۔۔
“تم تو ایسے سوال کر رہی ہو جیسے پہلے کبھی روکا نہیں ہوں خیر بہت باتیں ہوگَئیں کچھ کھانے کو تو لادو۔ ۔۔ زبیر کہتا اپنے بیڈ کراؤں سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
“ٹھیک ہے چلو تمہیں کمرہ دکھاؤں ۔۔
“نہیں یہ بھی ٹھیک ہے نرم گرم مزیدار گدا ہے۔۔۔ زبیر تہذیب کو خیالوں میں لاتے ہوۓ شیطانیت سے بولا۔۔۔
“زبیر اٹھو یہاں سے۔۔۔۔۔ بینش بیگم نے سخت لہجے میں کہا زبیر فوراً خود پر قابو پا کر اٹھ کھڑا ہوا اور بینش بیگم سے پہلے کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جب کے بینش بیگم بہت دیر وہیں کھڑی رہیں۔۔۔۔ سوتیلی بیٹی جتنی نا پسند سہی لیکن بیٹی تھی۔۔
⭐⭐⭐⭐
ہائے تہذیب !!! ارتضیٰ اسے اسکول کے گیٹ سے اندر آتے ہوۓ دیکھتا زور سے کہتا اسکے پاس گیا جو ارتضیٰ کو دیکھ کر وہیں روک گئی تھی
“ہا ہائے۔۔
“آج تم ہمارے ساتھ بیٹھوگی نا۔۔۔۔ارتضیٰ نے پوچھا جب ان سے بڑی کلاس کا گروپ دنوں کے قریب آکر روکا۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔۔ ایک لڑکے نے روعب جماتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
“ارتضیٰ کے ماتھے پر بل آئے۔۔ اس گروپ سے انکی نہیں بنتی تھی۔۔۔
“تم سے مطلب؟ ارتضیٰ نے ناک چڑھا کر اسے جواب دیا جب ساتھ کھڑی لڑکی بولی۔۔
“تم سے کسی نے نہیں پوچھا سو اسٹے آوے۔۔۔۔۔ناک چڑھا کر کہتی وہ تہذیب کو دیکھنے لگی جو گھبرا کر بولنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“م مم میں میں و وہ۔۔۔۔۔تہذیب بری طرح ہکلانے لگی جب سب کا چھت پھاڑ قہقہہ اسکی رہی سہی ہمت بھی توڑ گیا۔ ۔
پورے اسکول کو پتہ تھا کے تہذیب ہکلاتی ہے اور جنہیں نا بھی پتہ تھا ارتضیٰ اور اسکے دوَستوں نے سب کے سامنے اسکا مذاق اڑا اڑا کر بتا دیا تھا یہی وجہ تھی جو وہ لوگ بھی اسکا مذاق اڑانے آگئے تھے۔۔۔
“اب اس طرح کے لوگ بھی ہمارے ساتھ پڑھیں گے۔۔
“کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔۔۔ارتضیٰ نے گھورتے ہوۓ اسے کہا۔۔
“اوئے تمیز سے رہو جانتے ہو اسکا باپ کون ہے ڈی ایس پی ویسے تم اسے کہاں سے لائے ہو تمہاری رشتے دار ہے۔
لڑکا تہذیب کو سر تا پیر دیکھتا تمسخرانہ مسکراہٹ چہرے پے لاتے ہوۓ بولا۔۔
“میری دوست ہے اب جانے دو ہمیں۔۔
“ٹھیک ہے اسے کہو خود بولے۔۔اسی لڑکی نے اپنی پونی میں مقید بالوں کو جھٹکا دیتے ہوۓ کہا۔۔
تہذیب نے ایک نظر ساتھ کھڑے ارتضیٰ کو دیکھا پھر سانس کھینچتی ہوئی بولی۔۔
“ہم ہمیں جا جا جانے دد دیں۔۔تہذیب ہکلا کے کہتی سامنے کھڑے ہم عمر لڑکے لڑکیوں کو دیکھنے لگی جو سنتے ہی قہقہ لگانے لگے۔۔
“ہاہاہا پھر سے کہنا۔۔۔کسی لڑکی نے ہنستے ہوا کہا۔۔
“مم مجھے جا جانے۔۔۔
“ایک منٹ ایک منٹ کیا تم ہک ہک ہکلاتی ہو ہاہاہا گروپ سے پھر کسی لڑکی نے مذاق اڑایا۔۔
“تہذیب چلو یہاں سے۔۔ارتضیٰ انکی پرواہ کیے بغیر اسکول کے بیرونی گیٹ سے اسے لیتا نکل گیا۔۔۔
سڑک پے چلتے تہذیب کے آنسوں بہ نکلے۔۔۔
“تہذیب تم روکو میں رکشہ لاتا ہوں۔۔۔
“ن نہیں تت تت تم چچ چلے ج جاؤ او اور ویسے بب بھی سس سس سہی کہ ر رہے تھے مم میں ہک ہکلی ہوں تت تم
مم میری و وجہ سے م مت لڑو جج جاؤ با بابا کو بب بلا د دو بب بس
تہذیب آنسوں پوچھتی سر پے اسکارف اچھی طرح سہی کرتی بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کر سکی۔۔
اس سے پہلے ارتضیٰ کوئی جواب دیتا ہاشم اپنی گاڑی سے اترتا ڈرائیور کو روکنے کا کہتا ان دونوں کی طرف آیا جو سڑک کنارے کھڑے تھے۔۔۔
“تہذیب کیا ہوا۔۔۔۔ ہاشم کی آواز پر جہاں اسکے آنسوں پھر اُمنڈ کر آئے وہیں ارتضیٰ ہاشم کو دیکھ کر تپ کر تہذیب کا ہاتھ تھام گیا۔۔
“کچھ نہیں ہوا تم جاؤ یہاں سے چلو تہذیب۔۔۔تہذیب کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ارتضیٰ کہ کر اسے لئے آگے بڑھنے لگا۔۔۔
“چچ چھ چھو چھوڑو چھوڑو۔۔۔۔تہذیب نے ہکلا کر اپنا ہاتھ کھنچا۔۔۔
ارتضیٰ کا چہرہ سرخ ہوگیا ہاشم کو گھورتا وہ اسکول کی طرف تیز تیز جانے لگا۔۔
“دیکھ لوں گا ہکلی کو۔۔۔ارتضیٰ سلگتا ہوا گیٹ سے اندر جانے لگا جب اسکول کے گارڈ نے روکا۔۔
“وہ میرے ابو آئے تھے۔۔۔ ارتضیٰ گارڈ کو جھوٹ کہتا اندر چلا گیا۔۔۔
“خان بڑا لوک کردو گیٹ ۔۔۔ سر کہتے کلاس کی طرف بڑھ گئے
⭐⭐⭐
“تم باہر کیوں ہو ؟ ہاشم اسکے مقابل آتے ہوۓ بولا جو اپنی ناک کو اوپر سے رگڑ رہی تھی۔۔
“کسی نے کچھ کہا ہے؟ ارتضیٰ اسکے آنسوؤں سے لبریز آنکھوں کو دیکھ کر پریشان سا ہوکر بولا۔۔
“تہذیب نے زور زور سے اثباب میں سر ہلایا۔۔۔۔
“کس نے ؟ ہاشم اسکے چھوٹے بچوں کے انداز میں گردن ہلانے پر مسکراہٹ دباتے ہوۓ پوچھنے لگا۔۔
“و وہ مم مو موٹا س سا لا لڑ لڑکا تھ تھا ا اور پا پت پتلی سی ل لل لڑکی۔
“اچھا اچھا سمجھ گیا موٹا سا لڑکا اور پتلی سی لڑکی ہمم۔۔۔ہاشم نے سنجیدگی سے اسکی بات کاٹ کر سمجھنے والے انداز میں اسے کہا
“اور رنگ کیسا تھا دونوں کا؟ ہاشم سے سینے پے ہاتھ باندھ کر پوچھا۔۔۔
“رر رن رنگ دد دو دونوں۔گ گور گورے تھ تھے۔۔۔۔ تہذیب رونا بھول کر بتانے لگی اندر ہی اندر خوشی ہو رہی تھی کے ہاشم اس سے خود بات کر رہا تھا۔۔۔
“ہممم ٹھیک ہے چلو ابھی ٹھیک کرتا ہوں موٹے اور پتلی انگریزوں کو ہمت کیسے ہوئی تمہارا مذاق اڑانے کی
ہاشم کہتا اسکول کے گیٹ کی طرح بڑھ۔ گیا بہت مشکل سے اس نے اپنا قہقہہ روکا ہوا تھا
تہذیب اپنے بیگ کے اسٹیپ کو پکڑتی اسکے پیچھے ہولی۔۔۔۔لیکن گیٹ کو بند دیکھ کر دونوں وہیں روک گئے
“یہ ت تت تو با بن بند ہ ہے
“دوسرا کھولا ہے چلو اؤ۔۔۔ ہاشم اسے کہتا دروازہ کھولتا اندر کی طرف جانے لگا دونوں جلدی جلدی کلاس کی طرف بڑھ گئے۔
⭐⭐⭐⭐
کیا ہوا ہے تمہے ؟
کچھ نہیں ہوا تم جاؤ اس ہکلی سے دوستی کرو ۔۔۔لبنیٰ منہ تیڑا کر کے بولی۔۔۔
“یار میں دوستی تھوڑی کر رہا ہوں بس میں چاہتا ہوں اس ہاشم کو کوئی پسند نا کرے نا دوستی کرے
سب اسے برا کہیں اور برا سمجھیں لیکن ایسا نہیں ہوتا میرے پیرنٹس اسکی تعریف کرتے ہیں
اور تو اور میری خود کی بہن بھی مجھے کہتی ہے کے مجھے ہاشم بھائی زیادہ اچھے لگتے ہیں کیوں کے وہ ذہین ہیں اور دیکھنے میں لمبا قد اور بہت پیارے ہنہہ
کیا میں پاگل ہوں کندھے تک اتا ہوں اسکے وہ خود ابھی سے لمبا ہے جلتے ہیں مجھ سے ۔۔۔ارتضیٰ جَلن میں بولتا رہا
جب کے لبنیٰ چپ بیٹھی سننے پر مجبور کیوں کے جو ابراھیم کہ رہا تھا وہ سچ تھا لیکن وہ جلن میں جس بات کی نفی کر رہا تھا وہ قطعی سہی نہیں تھا۔۔
“ارتضیٰ چھوڑو اسے تم بے کیوں اسے سر پر سوار کر رکھا ہے۔۔۔
“ایسا کچھ۔۔۔۔ ارتضیٰ کچھ اور کہتا جب تہذیب اور ہاشم کو سیڑیوں پر بیٹھے دیکھا۔۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
کک کھاؤ کھاؤ گ گگ گے۔۔۔۔۔۔تہذیب اپنا لنچ باکس کھول کر اس کے سامنے کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
دونوں اس وقت تہذیب کے بعقول موٹے لڑکے اور پتلی لڑکی کے انتظار میں تھے۔۔
“نو تھینکس۔۔۔ہاشم نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔۔
“جھ جھ جھوٹا نہ نہیں ہ ہے۔۔تہذیب کی بات پر ہاشم نے اسکی طرف دیکھا پھر ہاتھ بڑھا کر سینڈ وچ اٹھا لیا
تہذیب کا چہرہ کھل اٹھا۔۔۔
“ہ ہم د دوست ہ ہے ہیں ا اب۔۔۔۔تہذیب نے خوشی سے چمکتی آنکھوں سے پوچھا ہاشم اسے دیکھ کر پہلی دفع مسکرایا۔۔
تہذیب اسے دیکھتی رہ گئی۔۔ اس سے قبل تہذیب کچھ کہتی اچانک ہاشم کی آواز پر اس نے نظریں جھپکیں
میں کلاس میں جا رہا ہوں مجھے لگتا ہے وہ دونوں ابھی یہاں نہیں آئیں گے۔۔۔ ہاشم کہتا کلاس کی طرف بڑھ گیا۔
تہذیب بھی اس کے پیچھے ہی جانے لگی جب ارتضیٰ کی آواز روکی ارتضیٰ چلتا ہوا اسکے قریب آیا۔۔
کک کیا کیا ہوا؟
وہ تم سے کیا کہ رہا تھا ارتضیٰ نے ہاشم کی طرف اشارہ کر کے پوچھا
“ای ایسے ہی
“میں پانچ منٹ سے تم دونوں کو دیکھ رہا تھا کچھ تو کہ رہا تھا۔۔۔
“مم میں کلاس مم میں جا ر رہی ہو ہوں۔۔
“اچھا نہیں بتانہ تو مت بتاؤ لیکن وہ اچھا لڑکا نہیں ہے i غرور ہے اسے اپنے امیر اور اکلوتے ہونے پر جب دل کرتا ہے کسی سے بھی جان کر پنگے لیتا ہے اور پھر مارتا پیٹتا ہے
اسکول کی سب لڑکیوں سے دوستی ہے اسکی اسلئے دور رہو اس سے ۔۔
ہمم۔۔۔۔ تہذیب سب سن کر اثباب میں سر ہلاکر کلاس کی طرف بڑھ گئی ہاشم اسے بلکل ویسا نہیں لگا جیسے ارتضیٰ بتا رہا تھا
۔
“ج جھ جھوٹا ک کک کون س سی ل لل لڑکی سے د دو دوستی ہ یے اس اسکی۔۔۔ تہذیب بڑبڑاتی کلاس میں داخل ہوئی سامنے ہی ہاشم کے ساتھ وہی “پتلی لڑکی بیٹھی”ہنستے ہوۓ اسے کچھ کہ رہی تھی
بریک ٹائم ابھی ختم نہیں ہوا تھا اسلئے کلاس میں سب مستی مذاق میں لگے ہوۓ تھے۔۔
تہذیب چلتی ہوں دونوں کے سر پر جا کھڑی ہوئی۔۔۔
ہاشم اسے دیکھ کر مسکرایا جب لڑکی بے بھی اپنے قریب کھڑے وجود کو دیکھا پھر شرارت بھری مسکراہٹ سے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑی ہوئی۔۔
“ارے تم۔۔۔اس سے پہلے وہ اور کچھ کہتی تہذیب دھپ سے اپنی جگہ پر بیٹھی۔۔
“بہری بھی ہو کیا ؟ لڑکی اسکی حرکت پر تپ کر بولی۔۔۔
“ہ ہاں۔۔۔۔تہذیب گھور کر اسے کہتی ہاشم کو گھورنے لگی۔۔
“بسمہ تمہے حیدر بلا رہا ہے کلاس میں۔۔۔ اس سے پہلے وہ تہذیب کو کچھ کہتی اسی کی کلاس کی لڑکی نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔
بسمہ “جاہل ” کہ کر پیر پٹختی کلاس سے نکل گئی۔۔
⭐⭐⭐⭐
“ایسے کیوں گھور رہی ہو؟
“و وہ جج جو اب ابھی ب بے بیٹھی تت tھ تھی۔۔۔
“ہاں تو وہ خود ہی آکر بیٹھی تھی۔۔ہاشم نے کندھے اچکائے۔۔
“وو وہ وہ ہی لل لڑ لڑکی تھی۔۔۔ تہذیب ناک پھلا کر بولی۔۔
“وہی پتلی والی۔۔۔۔۔ہاشم نے بے ساختہ پوچھا۔۔۔ تہذیب اثباب میں سر ہلاکر ماتھے پر تیوری چڑھا کر بیٹھ گئی
ہاشم کو دوبارہ اسکے انداز پر ہنسی انے لگی۔۔۔
“ہاشم کو تہذیب بہت پیاری لگتی تھی یہی وجہ تھی اس نے ابھی تک اپنی جگہ تبدیل نہیں کی تھی۔
“اچھا تم ناراض مت ہو یہ لو۔۔۔۔ ہاشم نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے بیگ سے چاکلیٹ نکل کر دی جو وہ راستے سے اسی کے لئے لایا تھا۔۔
“تہذیب چاکلیٹ دیکھ کر ساری ناراضگی بھولائے “تھینکس” کہتی کھول کر کھانے لگی جب کے ہاشم اسکو دیکھنے لگا۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
“تہذیب۔۔۔زوبیر اسکے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تہذیب جو اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھی پڑھ رہی تھی حیرت سے پلٹ کر زوہیب کو دیکھا۔۔۔۔
کھانے کا وقت تھا بینش بیگم کچن میں تھیں جب کے عاصم صاحب ابھی تک گھر نہیں آئے تھے۔۔
“ج جج جی مم ما ماموں۔۔۔ تہزویب جگہ سے کھڑی ہوکر بولی۔
“زوبیر اندر اتا دروازہ لوک کر کے اسکی طرف بڑھنے لگا تہذیب گھبرا گئی۔۔
“دد دا دا داروازہ کک۔۔۔
“ہاہاہا ارے یار ڈرو مت اور زبان کو استعمال مت کرو ویسے ہی ہکالاتی ہو میں تو بس دیکھنے آیا تھا کیا کر رہی ہو تم۔۔۔
زبیر گہری نظروں سے اسے دیکھتا خباثت سے بولتا اسکے نزدیک آیا
پھر ہاتھ کر اسکے گال پے رکھا ہی تھا جب تہذیب سے ہاتھ کو جھٹک کر دروازے کی طرف دوڑ لگائی اب اتنی ناسمجھ نہیں تھی کے کا اس طرح آکر چھونا نہ سمجھے۔۔۔
اس سے پہلے تہذیب دروازہ کھولتی زوہیب نے پیچھے سے پکڑ کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر دبایا۔۔۔
“بڑی تیز ہو ساری طراری نکلتا ہوں۔۔۔۔زبیر نے کہتے ہی نازک سے لڑکی کو اٹھا کر بیڈ پر زور سے پٹخہ۔۔۔۔حیوانیت تھی جو اس کے سر پر سوار تھی۔۔۔۔
“تہذیب تڑپ کر رہ گئی آنسوں لڑیوں کی طرح اسکی آنکھوں سے بہنے لگے۔۔۔
سختی سے اسکا منہ دبائے اسکے کپڑے پھاڑنے لگا تہذیب بری طرح مچل کر رہ گئی اپنی سے دوگنی عمر کا مضبوط مرد اپنی حوس مٹانے کے لئے کسی کی زندگی چھین رہا تھا۔۔۔۔
⭐⭐⭐⭐⭐
امی ماموں کہاں ہیں ؟ تعدیل کچن میں آتے ہوۓ پوچھنے لگی۔۔۔
“کمرے میں ہونگے۔۔۔۔
“نہیں ہیں میں نے باتھ روم میں بھی دیکھا۔۔۔۔ تعدیل نے کہا یکدم بینش بیگم خوف سے لرز گئیں۔۔۔۔
وہ دو دن سے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی جو تہذیب کو عجیب نظروں سے دیکھتا تھا۔۔۔
“ت تم جاؤ م میں ابھی آتی ہوں جاؤ شاباش۔۔۔۔بینش بیگم بیلن اٹھاتی تعدیل کو کہتیں کچن سے نکل گئیں۔۔۔
تعدیل اپنے کمرے میں جانے کے بجائے اپنی ماں کے پیچھے جانے لگی۔۔۔
کمرے کا لاک جو تہذیب نے کھول دیا تھا اس لئے بآسانی بینش بیگم اندر داخل ہوئیں لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔۔۔
تعدیل جو خاموشی سے پیچھے آرہی تھی زور سے چیخ پڑی جہاں بینش بیگم ہوش میں آئیں وہیں زوہیب جو مچلتی تڑپتی تہذیب کو غصّے میں تھپپڑ پے تھپڑ مارے جا رہا تھا
جو قابو نہیں ہو رہی تھی جس نے اسکے چہرے کو ناخنوں سے زخمی کر دیا تھا یکدم چیخنے کی آواز پر تہذیب کو چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *