Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27

“کیسے؟۔۔۔۔کیسے؟۔۔۔ارتضیٰ احمد کیسے مارا؟۔۔۔۔تیرا دل نہیں کانپا میری نفرت میں اتنا آگے بڑھ گیا کے ایک بےبس و زخمی عورت کو اس قدر سفاکی سے مارا۔۔۔ تو۔۔۔تو بچا سکتا تھا میرے بچے کو۔۔۔ماموں یہ بچا سکتا تھا۔۔۔
ہاشم بھرائی ہوئی ہوا میں ارتضیٰ کو کہتا احمد صاحب کو دیکھ کر بولنے لگا۔۔۔
نیلم بیگم کی بھی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔۔۔
جب کے ارتضیٰ چپ کھڑا اسے سن رہا تھا۔
پھر ہاشم اسے دیکھ کر کہنے لگا۔
“تین مہینے۔۔۔ تین مہینے جانتا ہے کیسے ایک ایک دن گن رہا تھا۔۔۔جب وہ آئے گا تو اپنے ہاتھوں سے اسکا سب کام کروں گا۔۔۔ اور جب وہ اپنی توتلی زبان سے ابّو کہے گا۔۔۔لیکن تو کامیاب ہوگیا میری ساری خوشیوں کو کھا گیا ارتضیٰ احمد۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں تجھے کبھی معاف نہیں کرونگا۔۔۔کبھی نہیں
ہاشم روتے روتے کہتا یکدم غصّے سے بولا۔۔۔
“تجھے سزا دلواونگا سلاخوں کے پیچھے۔۔۔۔
“نہیں ہاشم بیٹا ایسا مت کرو میں تمھارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔
نیلم بیگم اسکی بات کاٹ کر تڑپ کر روتے ہوۓ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولیں۔۔
“ہاشم اسی طرح کھڑا رہا جب کے ارتضیٰ اندر سے گھبر گیا تھا لیکن ظاہر نہیں ہونے دے رہا تھا۔۔۔
“ممانی اگر یہی ظلم میں آپ کی بیٹی کے ساتھ کرتا تو کیا کرتیں آپ؟ تب بھی آپ یہی کہتیں ؟ چھوڑ دیتیں؟
ہاشم کی بات پر نیلم بیگم روتے ہوۓ سر جھکا گئیں۔۔
ہاشم ہونٹ بھینچے اپنے ماموں کو دیکھتا رہا جو اولاد کی وجہ سے اسکے سامنے نظر ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔۔
“بہت مشکل ہوتا ہے بہت اذیت ہوتی ہے ممانی مجھ میں اتنا ظرف نہیں ہے لیکن میرے ماں باپ کی تربیت ہے جو ابھی تک میں یہں کھڑا ہوں۔۔۔ میں معاف نہیں کروں گا۔۔۔کبھی بھی
“ہاشم میں تمھارے پیر پکڑتی ہوں ارتضیٰ نے جو تہذیب بیٹی کے ساتھ کیا میں کبھی اس کو معاف نہیں کرونگی لیکن میں ماں ہوں اسے سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔
“بس کردو نیلم۔۔۔ ہاشم تمہے جو سزا دینی ہے دو یہ تمہارا اور تہذیب کا مجرم ہے۔۔۔۔
احمد صاحب نے نیلم بیگم کو ٹوکتے ہوۓ کہا۔۔۔
“ابو میں کبھی یہ نہیں ہونے دونگا یہ۔۔۔ نہیں جیت سکتا۔۔۔۔میں ارتضیٰ احمد ہوں میں کبھی ہاشم وقاص سے نہیں ہاروں گا کبھی نہیں۔۔۔سنا سب نے ارتضیٰ احمد کبھی ہار نہیں سکتا کبھی نہیں
ارتضیٰ یکدم عجیب پاگلوں سے لہجے میں کہتا سیڑیاں چڑھ کر کمرے کی طرف بھاگا۔۔۔یکدم سب اوپر کی طرف بھاگے
کمرے کا دروازہ کھولا ہی تھا جب زور دار آواز گونجی عریشہ اور نیلم بیگم چیخ مارتیں کانوں کو ہاتھ لگا گئیں
جب کے ہاشم اور احمد صاحب آنکھیں پھاڑے قالین پر گرے ارتضیٰ کے سرد پڑے وجود کو دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔جس نے خود کو سر میں گولی مار لی تھی۔۔۔
“حسد کی آگ تھی اور داغ داغ سینہ تھا
دلوں سے دھل نہ سکا وہ غبار کینہ تھا۔” (خلیل تنویر)
💗💗💗
ایک ہفتے بعد:
فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد قران مجید کی تلاوت کر کے قرآن مجید کو چوم کر آنکھوں سے لگا کر احتیاط سے رکھتی وہ بیڈ کی طرف بڑھی
جہاں وہ پرسکوں سو رہا تھا
بال ماتھے پے بکھرے بڑھی ہوئی شیو میں وہ اور بھی پیارا لگ رہا تھا۔۔۔
جھک کر سینے پر پھونک مار کے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے بالوں کو پیشانی سے پیچھے کر کے پیشانی پر لب رکھے۔۔۔
ہاشم نیند میں ہی آہستہ سے مسکرایا۔۔۔
تہذیب سیدھی کھڑی ہوتی مسکرا کر پلٹنے لگی اچانک ہاشم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا۔
“کہاں جا رہی ہو؟ نیند نے خمار لی ہوئی آواز اسکے کانوں میں پڑی
“ن نیچے ک کچن م میں۔۔۔
“چلی جانا ابھی یہاں بیٹھو میرے سامنے۔۔ ہاشم اٹھ کر بیٹھے ہوئے بولا۔۔
تہذیب بیٹھتے ہی آگے بڑھ کر اسکے سینے پر سر رکھ کر بیٹھ گئی۔۔
ہاشم نے مسکرا کر اسکے گرد حصار کیا۔۔۔
“ک کل مم ممانی آ آئیں تھ تھیں ب بہت کم کمزور ہو ہوگئی ہیں۔۔۔
“ہمم رات کو گیا تھا ہدبر کے ساتھ ماموں کی طرف۔۔۔ ہاہ ارتضیٰ نے خود کو مار کر اچھا نہیں کیا میں نے تو کبھی اس سے مقابلہ نہیں کیا کہیں بار سوچا اس سے دوستی کروں کزن تھا میرا بھائیوں کی طرح لیکن وہ ان دیکھی نفرت کو بچپن سے پروان چڑھاتا رہا۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا جب میں ماموں ممانی کو روتے ہوۓ دیکھتا ہوں۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا وہ اتنا سنگین قدم اٹھا لے گا تو میں واپس آجاتا اللّه پر چھوڑ دیتا۔۔۔
تمہاری قسم میں یہی کرنے والا تھا ممانی نے اس کم عقل اندھے انسان کے لئے میرے سامنے ہاتھ جوڑے ۔۔
ہاشم ضبط سے بول رہا تھا تہذیب اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی ۔۔۔۔ اسکے پاس کہنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں۔۔۔
💗💗💗💗
“بھابھی آج پراٹھا ملے گا ؟ حماد کچن میں آتے ہوۓ بولا۔۔
تہذیب نے پلٹ کر مسکرا کر اسے دیکھ کر اثباب میں سر ہلایا۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔ حماد کہتا کچن سے نکل گیا۔۔۔
“تہذیب نے فریج سے آٹا نکالا اچانک نظر نگہت بیگم پر پڑی جو سوچوں میں کھوئی ہوئی تھیں۔۔
ام امی کک کیا ہوا ؟
تہذیب انکے قریب جاکر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولیں۔۔
نگہت بیگم نے چونک کر اسے دیکھا۔
“میں تھوڑی پریشان ہوں تہذیب ہدبر اور تعدیل کی منگنی کے دو ہفتے بعد نکاح ہونا تہہ پایا تھا لیکن اچانک ارتضیٰ بیٹے کی موت ہوگئی ۔۔۔
اب ایسے میں نکاح بمشکل ایک ہفتہ ہوا ہے۔۔۔
“ت تو بب بعد مم میں ہو ہوجا جائے گا ۔۔ تہذیب نے انکی بعد سن کر حل بتایا۔ ۔
“ہوجاتا۔۔۔۔ مسلئہ نہیں تھا مگر تمھارے والدین عمرہ کرنے جا رہے ہیں تمہے پتہ تو ہے اب ایسے میں وہ اس طرح یہاں نہیں چھوڑنا چاہتے اور اس حق میں میں خود بھی نہیں ہوں منگنی ہوئی ہے پھر جوان بچی ہے۔۔۔سو باتیں ہوجاتی ہیں۔۔۔پیشانی مسلتے وہ تہذیب کو دیکھنے لگیں جو خود بھی پریشان ہوگئی تھی۔۔
“امی اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ایک ہفتہ ہے نہ ابھی سادگی سے نکاح ہوجائے گا۔۔۔
ایک دو مہینے بعد اچھی سی دعوت کردیں گے۔۔۔۔ہاشم کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر اسے دیکھا جو جانے کب سے کھڑا تھا۔۔
“سہی ہے پھر ایک بار میں پوچھ لوں ایسے اچھا نہیں لگتا۔۔۔ نگہت بیگم کہ کر پالٹیں انکے پلٹتے ہی ہاشم نے ہاتھ سے اشارہ کر کے کس دے کر آنکھ دبائی تہذیب گھبرا کر گھورتے ہوۓ دوسری طرف پلٹ گئی
جب کے ہاشم مسکرا کر باہر نکل گیا۔۔
💗💗💗💗
گاڑی سے اتر کر وہ چلتا ہوا قبرستان میں داخل ہوا۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم لیکر ایک قبر کے قریب آٹھرا نظر کتبے پر لکھے نام پر پڑی تو زیرِلب پڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔ارتضیٰ احمد
ساتھ کھڑے ہدبر نے ہاشم کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہاشم نے چونک کر آنکھ کا کونہ صاف کرتا فاتحہ پڑھنے کے لئے ہاتھ بلند کیے۔۔۔
چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہاشم قبر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔
“نفرت کرتا ہوں تجھ سے شدید نفرت۔۔۔
ارتضیٰ کے کہے الفظ اسکے کان میں گونجنے لگے۔۔۔
“ہاشم بھائی چلیں۔۔۔ہدبر نے اسے دیکھ کر کہا۔۔
“نہیں کچھ دیر بیٹھتے ہیں۔۔۔ زندہ تھا تو کبھی اتنا خاموش نہیں رہا یہ ورنہ مجھے دیکھتے ہی فضول باتیں کر کے خود تو جلتا تھا اور مجھے بھی غصہ دلاتا تھا۔۔۔
ہاشم مٹّی پر نظریں مرکوز کیے ہی بولا جب کے ہدبر اپنے بھائی کو دیکھ کر رہ گیا۔۔
“اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی ہاشم
بھائی یہاں ہیں اور آپ نے نہ امی کو حقیقت بتائی نہ انکل آنٹی کو کیوں ہاشم بھائی۔۔۔
“تم نے قسم کھائی ہے ہدبر اس بات کا ذکر کبھی نہیں کرو گے۔۔۔ اسلئے نہیں بتایا کے تم بےدھڑک کہتے رہو۔۔۔ہاشم نے گھورتے ہوۓ کہا۔۔
ہاشم کے کہنے کے بعد دوبارہ خاموشی چھائی۔
“میں ارتضیٰ احمد ہوں میں۔۔۔
“سوری بچہ ایکسپائرڈ تھا۔۔
“ہاہ ہاشم ہم ہمارا بچ بچہ۔۔۔
“تمہے میں جیتنے نہیں دونگا۔۔۔
لاتعداد سوچوں نے اسکے دماغ پر حملہ کیا جس میں اذیت ہی اذیت تھی۔۔۔
ہاشم نے زور سے سر جھٹکا۔
“میں تمھارے پاس اس لئے نہیں آتا کے میں نے تمہے معاف کردیا۔۔۔ بلکہ ایک دماغی معذور کو دیکھنے آتا ہوں جو آج مٹّی کی چادر اوڑھے سو رہا ہے جس نے اپنے ماں باپ کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔۔۔۔جو اپنی نفرت حسد میں اس قدر ڈوب چکا تھا کے حلال حرام کا فرق تک بھول گیا۔
ٹھیک کہا تھا ارتضیٰ احمد تم نے۔۔ میری خوشیوں کو چھین لوگے لیکن میں تمہاری طرح بیمار شخص نہیں ہوں۔۔۔
اگر یہ آزمائش ہے تو میں اس میں ضرور کامیاب ہونگا جسکا حوصلہ چٹانوں کی طرح ہو جس کا اللّه کی ذات پر بھروسہ ہو وہ آزمائشوں کو پار کر کے اپنی خوشیوں سے بھری منزلوں تک پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔
ہلکی آواز میں کہتا وہ دوبارہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھا چکا تھا۔۔۔
دس منٹ بعد انکی گاڑی گھر کی طرح گامز تھی۔۔۔
“کون جیتا کون ہارا۔۔۔۔ایک دن سب نے مٹّی میں کھو جانا ہے۔۔۔(امرحہ)
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *