Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13
گیارہ بجے تک وہ لوگ چلے گئے تھے.۔۔۔۔جب کے بہت دیر تک تہذیب عاصم صاحب کے سینے سے لگی بیٹھی ہلکی آواز میں باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔
جب بینش بیگم نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ تعدیل کی شکایت لگانی شروع کی تعدیل جو وہیں آرہی تھی الٹے قدموں چلتی پچھلے دروازہ سے لان میں نکل گئی۔۔۔
دونوں باپ بیٹی جو سنجیدگی سے انکی پوری بات سن رہے تھے انکے چپ ہوتے ہی ہنس دئے۔۔۔
“آپ ہنس رہے ہیں کیا سوچتا ہوگا بچہ کیسی لڑکی ہے۔۔۔
“ہاہاہا! ارے بھئی بچے ہیں کوئی بات نہیں اس میں غصّہ کرنے والی کیا بات ہے۔۔۔عاصم صاحب نے ہنس کر کہا پھر سونے کے لئے اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔۔
تہذیب مسکراتے ہوۓ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
“تع تعدیل ک کہاں چچ چلی گ گئی۔۔۔ تہذیب کمرے میں اسے نہ پا کر بڑبڑائی جب اسکا موبائل رنگ ہوا ۔۔
“ہاشم کالنگ پڑھ کر جھٹ کال ریسیو کرتی وہ بیڈ پر ہی نیم دراز ہوگئی۔۔۔
“تعدیل گھاس پر چہل قدمی کرتی سر جھکائے ہاتھ میں تھامے موبائل پر فیس بک یوز کر رہی تھی۔۔
یکدم اسے کسی کی نظریں خود پر جمی محسوس ہوئیں سر اٹھا کر دائیں طرف دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا کندھے اچکاتی وہ اندر کی طرف بڑھ گئی…
اسکے جاتے ہی ارتضیٰ نے ریحان کو نظروں میں شیطانی چمک لئے دیکھا۔۔۔۔
“”کیا ارادہ ہے ؟
“ایک تیر سے تین شکار۔۔۔
“ناراض تو نہیں ہو اب؟
“ن نہیں۔۔۔تہذیب چہرے سے لٹ کو کان کے پیچھے آڑستی مسکراہٹ دبا کر بولی۔۔۔
“ہمم تو چلو پھر مجھے میری بات کا جواب دو.۔۔۔ہاشم نے شرارت سے کہا۔۔
“ک کس بب بات کا۔۔۔
“ارے اتنی حسین بات بھول گئی؟ ہاشم اٹھ کر بیٹھتا صدمے سے بولا۔۔
“ک کون سی ب بات مج مجھے تو کک کچھ یا یاد ن نہیں۔۔۔۔تہذیب نے جان کر لاعلمی ظاہر کی
ہاشم نے موبائل کان سے ہٹا کر گھورا پھر اسے بولا۔۔
“ٹھیک ہے مت بتاؤ ایک بار شادی ہوکر آؤ روز تم سے پوچھوں گا اگر تم بھاگنے کی کوشش کرو گی تو پھر دیکھنا تمہے کس کے اپنی باہوں میں قید کرلوں گا۔۔۔
وہ جو اس کے عزائم سن رہی تھی آخری بات پر شرم سے لال ٹماٹر ہوگئی۔۔۔
“ب بے۔۔
“بے حد محبت ہے تمہے مجھ سے اہ مجھے بھی یار۔۔۔۔
ہاشم اسکی بات اچکتا نچلے ہونٹ کا کونہ دانتوں میں دبا کر ہنسی ضبط کرتا اسکے دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھا گیا۔۔۔۔
سینے پے ہاتھ رکھتی تہذیب نے کپکپاہٹ پر قابو پاتے جلدی سے کال ڈسکنیکٹ کی ہاشم جو کچھ کہنے والا تھا اسکے کال کاٹنے پر موبائل کی اسکرین کو گھورتا رہ گیا۔۔۔
اگلے کچھ ہی دنوں میں نکاح کے ساتھ ہی رخصتی ہونا تہہ پائی تھی۔۔۔۔ یہ عاصم صاحب کی خوا ہش تھی جس پر بینش بیگم کے ساتھ نگہت بیگم نے بھی اتنی جلدی کی وجہ جاننی چاہی جس پر عاصم صاحب نے اپنی خواہش کہ کر انہیں راضی کیا۔۔۔
آج کل ویسے بھی انکی طبیعت ناساز رہتی تھی لیکن اپنی
بیٹیوں کے سامنے وہ ہمیشہ ہشاش بشاش ررہتے کوشش کرتے تھے
لیکن اس کے باوجود تہذیب اپنے باپ کی گرتی صحت کو دیکھ کر بینش بیگم سے ڈاکٹر کا بولتی رہتی تھی۔۔۔
تہذیب کمرے میں تھی جب تعدیل دوڑتی ہوئی پرجوش انداز میں آ کر اس کے گلے لگی۔۔۔
“ار ارے کک کیا ہو ہو گیا۔۔۔ اچانک نازل ہوئی تعدیل کا اس طرح اکر اس سے لپٹنا اسے حواس باختہ کر گئی تھی۔۔
“ارے آپی بہت اچھی خبر سن کر آرہی ہوں چلیں امی ابو بلا رہے ہیں چلی جلدی۔۔۔
تعدیل الگ ہوکر خوشی سے تیز تیز بولتی تہذیب کو بولنے کا موقع دیے بغیر ہاتھ پکڑ کر کھچتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔
“ا ابّو ات اتنی جا جلدی ک کیا ہ ہے ر رخصتی کک کی م میں نے نن نہیں جا جانا۔۔۔
تعدیل جو تہذیب کو باپ کے کمرے میں لائی تھی رخصتی کا سن کر اپنے باپ کے پاس جا کر سینے سے لگ گئی تھی جو بیڈکراؤں سے ٹیک لگائے خلاء میں نظریں جمائیں جانے کن سوچوں میں ڈوبے ہوۓ تھے۔۔۔
تہذیب کے تیزی سے انکے سینے سے لگنے پر عاصم صاحب نے چونک کر تہذیب کو دیکھتا پھر مسکرا کر اسلے گرد ہاتھ باندھے.
“جانا تو ہے ہی تہذیب آج نہیں تو کل میں اپنی بیٹی کو دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔عاصم صاحب نے نرم لیجے میں سمجھایا۔۔۔
“ل لیکن اب ابو ات اتنی ج جلدی۔۔۔
“ہونہہ پھر وہی بات یہ میری خواہش ہے کیا میری خواہش پوری نہیں کروگی۔۔۔ عاصم صاحب نے ناراضگی سے کہا تہذیب آنسوں پوچھتی نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
“یہ ہوئی نہ بات اب یہ رونا بند کرو رخصتی سے ایک دن پہلے میلاد اور قران خوانی رکھی ہے ۔۔. عاصم صاحب نے مسکرا کر اسکے سر پر پیار کیا۔
بینش بیگم اور تعدیل دونوں مسکرا دیں۔۔۔
ہاشم ابھی باتھ روم سے نکلا ہی تھا جب ہدبر اور حماد کو اپنے کمرے میں دیکھا۔
“کیا بات ہے تم دونوں کے منہ کو کیا ہوا ہے ؟
“ہاشم بھائی نیچے ماموں اپنی فیملی کے ساتھ آئی تھی معافی مانگ نے امی تو اپکا بتانے والی تھیں لیکن میں نے۔ کہ دیا کے آپ نہیں ہیں۔۔۔
“ہدبر نے منہ بنا کر کہا جب کے ہاشم سنتے ہی ہونٹ بھینچ گیا۔۔۔
“امی نے بتایا ہے کے آپ کی شادی ہونے والی ہے۔۔۔حماد نے بھی خاموشی توڑی۔۔
“ہمم اب جیسے بھی ہیں رشتہ تو ہے بتانا تو تھا ہی ورنہ ہماری نئی امیر ممانی کو بہت برُا لگتا۔۔۔ ہدبر نے ناک چڑھا کر کہا ماموں کی فیملی کا آنا اسے بہت ناگوار گزرا تھا سب جانتے تھے جتنی بھی معافیاں مانگ لیکن لیکن فطرت کبھی نہیں بدلے گی۔
“تم دونوں منہ بنانا بند کرو اب چلو۔۔۔۔ہاشم خود کو پرسکون کرتے ہوۓ بولا ویسے ہی ابھی وہ لوگ بنکیوٹ بک کروانے جا رہے تھے۔۔
“تو مسٹر ہاشم وقاص شادی کر رہا ہے۔۔ ہونہہ ارتضیٰ نے سوچتے ہوئے سر جھٹکا پھر چلتا ہوا ڈائننگ ٹیبل پر اکر کرسی کھنچ اکر بیٹھا
“ابو امی مجھے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
“ہمم کرو۔۔۔۔احمد صاحب نے ہاتھ روک کر کہا۔۔
“مجھے ایک لڑکی پسند آئی ہے میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ارتضیٰ نے عام سے لہجے میں کہا پھر پلیٹ میں چاول نکالنے لگا۔۔۔
احمد صاحب اور نیلم بیگم نے حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔۔۔
“کیا تم سنجیدہ ہو ؟
“بلکل۔۔۔۔
“کون ہے وہ لڑکی جلدی سے بتاؤ ہم کل ہی جاییں گے اپنے شہزادے کے لئے۔۔۔نیلم بیگم خوش ہوتے ہوۓ بولیں۔۔۔
“ہمھارے پڑوسی جن کی دو بیٹیاں ہیں۔۔۔ارتضیٰ نے سکون سے کہا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
“انکی بڑی بیٹی کی شادی ہے ہاشم سے ارتضیٰ۔۔۔۔ احمد صاحب نے تھوڑا سختی سے کہا۔۔
“ہمم جانتا ہوں میں تو انکی چھوٹی بیٹی کا کہ رہا ہوں۔۔۔ارتضیٰ نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔
احمد صاحب پرسکون ہوۓ وہ نہیں چاہتے تھے کے دونوں گھروں میں پھر اختلاف بڑہیں۔۔
“ٹھیک ہے پھر ہم کل چلیں گے نیلم بیگم نے بات ختم کی جب عریشہ سیڑیاں اتر کر آگئی۔۔۔
جاری ہے
