Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03

“تہذیب ادھر آکر انکل کا شکریہ کرو۔۔۔۔عاصم صاحب کی آواز پر سوچوں کو جھٹکتی اپنے ابو کے قریب آئی
“آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے۔۔۔۔۔وقاص صاحب نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا
“ابّو بلکل چاکلیٹ ڈول۔۔۔حماد نے کہنا ضروری سمجھا جس پر ہدبر نے گھورا۔۔۔
“چاکلیٹ نہیں صرف ڈول ہے اسٹوپڈ الٹا ہی بولتے ہو ہدبر کی بات سنتے ہی سب مسکرائے سوائے ہاشم کے جو سنجیدگی سے کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“اچھا اب اجازت دیجئے انشاءلله پھر ملاقات ہوگی۔۔۔وقاص صاحب نے مصافہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
“اللّه حافظ ! “چلو تہذیب۔۔ عاصم صاحب کہتے گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔۔
⭐⭐⭐⭐
“اب ابو م مم میں خخ خود د ہی آ آ آگئی تھ تھی۔۔۔گھر کے نزدیک پہنچتے ہی تہذیب نے ہمّت کر کے عاصم صاحب سے کہا جو ہونٹ بھینچے گاڑی ڈرائیو کر رہے تھے۔۔۔۔
“میری بیٹی نے جھوٹ کب سے بولنا شروع کردیا ؟ میں نے تو کبھی اپنی بیٹی کو جھوٹ نہیں سکھایا۔۔عاصم صاحب نے ڈرائیونگ کرتے ہوۓ بولے۔۔۔
تہذیب نے اپنے باپ کی بات سنتے ہی شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
“کچھ ہی دیر میں وہ گاڑی سے اتر کر گھر میں داخل ہورہے تھے
لاونج میں ہی بینش بیگم شمائلہ بیگم کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مشغول تھی۔۔۔
تعدیل اپنے باپ کو دیکھتی چہک کر صوفے سے اٹھ کر انکے قریب آئی بینش بیگم گھبرا کر کھڑی ہوئیں ۔۔
“السلام عليكم امی
“وعلیکم اسلام عاصم بیٹا۔۔۔شمائلہ بیگم مصنوعی مسکراہٹ سے بولیں۔۔
“بینش بیگم کمرے میں آئیں۔۔۔ سرد لہجے میں کہتے عاصم صاحب اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔
“امی اب کیا ہوگا یہ تو بہت غصّے میں لگ رہے ہیں جانے یہ مکّار لڑکی کہاں مل گئی انھیں۔۔۔
بینش بیگم کہتیں تہذیب کی طرف بڑھی جو حیرت سے اپنی ماں کی زبان سے اپنے لئے یہ الفظ سن رہی تھی
بینش بیگم نے سختی سے اسکا بازو پکڑا۔۔۔تہذیب کراہ کر رہ گئی۔۔
“جس کام کے لئے بھیجا تھا وہ کر کے نہیں آئی اوپر سے میرے شوہر کو بھڑکا کر لے آئی روک تجھے تو رات کو سبق سکھاتی ہوں۔۔
بینش بیگم پھنکار کر تن فن کرتی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
“یہ تو اب ہونا ہی ہے محبوبہ کی اولاد کے ساتھ جو ظلم کر دیا۔۔۔ شمائلہ بیگم کہتیں لاؤنج عبور کرتیں باہر نکل گئیں لاؤنج میں صرف تہذیب اور تعدیل کھڑی رہ گئیں
⭐⭐⭐⭐
“اپی لگتا ہے ابو نے ڈانٹا ہے امی کو تبھی غصّے میں ہیں۔۔۔
تعدیل تہذیب کو سرگوشی میں کہ کر اپنی ماں کو آتے دیکھ کر سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔
تہذیب کی نظروں میں کل رات کا منظر گھومنا شروع ہوگیا جب بینش بیگم نے اسکے بازو کو گرم چمٹے سے جلایا تھا اور پھر سختی سے منہ دبا دیا تھا تاکہ اسکی آواز کوئی سن نہ سکے۔
“یہ لو لنچ باکس رکھو بیگ میں۔۔۔ بینش بیگم لنچ باکس اسکے سامنے پٹخ کر تعدیل کے بال بنانے لگیں۔۔۔
تہذیب لمبی سانس لیتی لنچ باکس بیگ میں رکھنے لگی
“امی اپی نے ناشتہ نہیں کیا۔۔۔۔تعدیل نے ماں سے کہا جو اسکے بال باندھ کر اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھیں۔۔
“دوسروں کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں آتی ہوں جب تک لنچ باکس بیگ میں رکھو وین انے والی ہوگی۔۔۔
بینش بیگم جواب دیتیں چلیں گئیں تہذیب آنکھیں رگڑتی بیگ کی زپ بند کرتی لاؤنج سے نکل گئی۔۔فلحال اسکا تعدیل سے بھی بات کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔۔
جب کے تعدیل کو اپنی ماں کا رویہ اچھا نہیں لگا۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
تہذیب بیرونی گیٹ سے اندر داخل ہوتی اپنی کلاس کی طرف جانے لگی جب کسی نے اسکا نام پکارا۔۔
“تہذیب نے یکدم روک کر حیرت سے پلٹ کر دیکھا جہاں ارتضیٰ دوستانہ مسکراہٹ لئے کھڑا اسکے متوجہ ہوتے ہی اسکے مقابل آیا۔۔
“ہائے ابھی آئی؟
تہذیب اسکے سوال پر اسے دیکھنے لگی ارتضیٰ کو ہنسی آنے لگی “کارٹون ہکلن ” ارتضیٰ سوچتا اسکے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔
“ج جج جی۔۔۔۔تہذیب نے سر جھٹک کر اسے جواب دیا ل۔ ۔
“اوہ میرا نام ارتضیٰ احمد ہے اور تمہارا پورا نام کیا ہے ؟ ارتضیٰ نے اپنا ہاتھ ملانے کے لئے بڑھایا
تہذیب اسکے ہاتھ کو دیکھنے لگی پھر جھجھک کر اپنا ہاتھ آگے کرتی اس سے ملایا۔۔
“مم مم میرا ن نن نام تت تت تہ تہذیب آ عاصم۔۔ تہذیب نے ہکلا کر کہا۔
“اوہ گوڈ میں تمہاری ہی کلاس میں ہوں مجھ سے دوستی کرو گی ؟ ارتضیٰ نے ہاتھ چھوڑتے ہوۓ اپنا ہاتھ پیچھے کر کے پینٹ سے ہاتھ صاف کیا۔۔۔
“تہذیب مسکرا کر اثباب میں سر ہلانے لگی۔۔۔ابّو نے ٹھیک کہا تھا سب آہستہ آہستہ دوستی کریں گے۔۔۔
“چلو پھر کلاس میں میں اپنے دوسرے فرینڈز سے ملواتا ہوں۔۔۔ارتضیٰ کہتا اسے اپنے ساتھ کلاس کی طرف بڑھ گیا۔
⭐⭐⭐⭐
تہذیب نے اپنی ڈیسک پر آکر بیگ رکھا پھر نظر اٹھا کر ساتھ خالی جگہ کو دیکھا جہاں ہاشم بیٹھتا تھا۔۔۔
“تہذیب اؤ ہمارے ساتھ بیٹھو۔۔۔ ارتضیٰ نے لبنیٰ کو اشارہ کیا جو مسکراہٹ دباتی زود سے اسے بولی۔۔۔
“ن نن نہیں مم میں یا ۔۔۔
“ارے آجاؤ نا۔۔۔ریحان اسکی بات کاٹتا اسکے قریب آیا اور بیگ اٹھا کر جانے لگا۔۔۔
جب ہاشم اندر اتے ہوئے کسی کو بھی دیکھے بنا بیگ کو ڈیسک پر رکھ کے بیٹھ گیا۔۔
“مم می میرا بب بیگ ؟ تہذیب نے بولتے ریحان سے بیگ لیا جو خاموشی سے اسے دیتا اپنی جگہ پر چلا گیا۔۔
“ارتضیٰ نے کھا جانے والی نظروں سے دونوں کو دیکھا اسکا بس نہیں چلتا تھا ہاشم سے اسکا سب کچھ چھین لے۔۔
⭐⭐⭐⭐
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *