Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07

کچھ سال بعد:
تم نہ ملے،
جانے کہاں چھپ گئے،
جانے کہاں کھو گئے،
آج بھی میں وہیں ہوں پر تم کہیں نہیں،
ہر لمحہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تمہے یاد کیا ہے،
تم سے مل کر جو گزرے سالوں کی داستان سنانی ہے،
تم سے مل کر تمہاری ہی شکایات لگانی ہے،
کے یوں اچانک جانے کہاں چھپ گئے تم،
کے اچانک جانے کہاں کھو گئے تم۔۔۔۔۔۔ (امرحہ)
💗💗💗💗
الارم کی تیز بجتی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔۔
فل سائز کے بیڈ پر درمیان میں پھیل کے الٹا لیٹا وہ خواب خروش کے مزے لوٹ رہا تھا جب الارم نے اسکے مزے کی نیند میں خلل ڈالا۔۔۔
نیند میں ہی اسنے ہاتھ سے آواز کا گلا دبانا چاہا لیکن پہنچ سے دور کیسے اسکے شکنجے میں آتا.۔۔۔
“ردا جو اسے جگانے آئی تھی ہنسی دبا کر سائیڈ ٹیبل تک آتی الارم کلاک اٹھا کر اسکے کان کے قریب لے گئی جسے اس نے فوراً ہی زور سے ہاتھ مارا۔۔۔
“ہاشم بھائی یہ کیا کردیا بیچارا کلاک ٹوٹ گیآ۔ ردا صدمے سے چیخی۔۔۔
ہاشم جو کروٹ کے بل لیٹ رہا تھا آنکھیں کھولتا جھٹکے سے اٹھا بال بکھرے ہوۓ آنکھوں میں نیند بھری وہ اسے گھورنے لگا۔۔۔
اٹھارہ سالہ ردا اپنے پچیس سالہ ماموں زاد بھائی کو گھورتا پا کر کانوں کو پکڑ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
“سوری ہاشم بھائی وہ حماد نے کہا شرط لگا لو ہاشم بھائی گھوڑے گھدے بیچ کر سوتے ہیں نہیں اٹھیں گے اتنی جلدی۔۔۔
ردا جلدی سے کہتی باہر کی طرف بھاگی جب غصے میں حماد پردے کے پیچھے سے نکل کر اسکے پیچھے جانے لگا۔۔
“یکدم ہاشم کی آواز پر حماد گھبرا کر روکا۔۔۔
“تم جانتے ہو مجھے یہ فضول حرکتیں پسند نہیں ہیں اور یہ شرطیں لگانا کہاں سے سیکھی ہیں تم نے ہاں۔۔۔۔
آئیندہ شرطیں لگاتے دیکھا نہ تو ٹانگیں توڑ دوں گا جاؤ اب یہاں سے اور ایک منٹ روکو مجھے سوتے سے اس طرح جگانے کی آئندہ کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا بھاگو اب
ہاشم اچھی خاصی جھاڑ پلا کر دوبارہ اپنے نرم گرم بستر پر لیٹا جب ایک بار پھر حماد کی آواز کانوں میں پڑی۔۔
“مجھے کیوں ڈانٹ رہے ہیں ردا کی بچی نے خود شرط لگائی تھی اور ہاشم بھائی ایک ہفتہ ہوگیا ہے پاکستان واپس آئے آپ ہمیں سی ویو نہیں جانے دے رہے
گھر سے کون سا دور ہے ہم کتنے سالوں بعد واپس اپنے ملک آئے ہیں اور ردا کا تو جائز حق ہے دیکھنے کا وہ تو زندگی میں پہلی بار آئی ہے نا بے فکر رہے وہاں جاکر کوئی ڈوب نہیں جائے گا
ایک ہی سانس میں حماد ناراضگی سے بولا۔۔۔۔
“ہوگیا تمہارا اب جاؤ اور دروازہ بند کر کے جانا۔۔۔۔ہاشم سپاٹ لہجے میں کہتا دوبارہ رضائی لیکر کروٹ بدل گیا۔۔۔
“ابّو زندہ ہوتے تو وہ کبھی ہمیں منا نہیں کرتے۔۔۔حماد افسردگی سے کہتا تیزی سے کمرے سے چلا گیا
جب کے ہاشم آنکھیں کھولے کتنی ہی دیر ساکت پڑا رہا آنکھ کے کنارے سے آنسوں نکل کر کنپٹی پر سے بہتے ہوئے بالوں میں جذب ہونے لگے۔۔۔
جھٹکے سے اٹھتا بیدردی سے اپنی دونوں انکھوں کو رگڑ لیا جیسے سارے آنسوں ختم کر دینا چاہتا ہو۔۔۔
کتنا مشکل تھا اپنے آنسوؤں کو چھپا کر مسکرانا۔۔۔اپنے درد کو اپنے تک ہی محدود رکھنا۔۔۔
دو مہینے ہاں دو مہینے ہی تو گزرے ہیں اپنے باپ کے شفقت انکے محبت بھرے لمس سے محروم ہوۓ
ایک روڈ ایکسیڈنٹ نے باپ اور ردا کے باپ کو نگل لیا۔۔ گھر میں بڑے بیٹے ہونے کی وجہ سے ساری ذیمداری اس پر آگئی کے پھوپھو کا بیٹا پندرہ سال کا ہے۔۔۔
ٹھک ٹھک ٹھک !!
یکدم دروازے کی دستک نے اسے ہوش کی دنیا میں لا پٹخہ چہرے پے ہاتھ پھیرتے وہ جلدی سے اٹھا۔۔۔
نگہت بیگم دروازہ کھولتے مسکراتی ہوئیں اندر داخل ہوتیں اسکے مقابل جا کھڑی ہوئیں۔۔۔
“میں اٹھانے ہی آرہی تھی۔۔۔ نگہت بیگم بولتیں اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگیں۔۔۔
“تم رو رہے تھے؟
“نہیں امی وہ ردا اور حماد نے کچی نیند سے جگا دیا۔۔۔۔
ہاشم آنکھوں کو مسلتے ہوئے کہنے لگا جب نگہت بیگم نے ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔
“ماں کو بنانے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتی ہوں بس تمھارے منہ سے سننا چاہ رہی تھی۔۔۔ نگہت بیگم نے نرم لہجے میں کہا ہاشم نے ضبط کرتے سر جھکا لیا۔۔
“امی ابّو کو اتنی جلدی نہیں جانا چاہیے تھا ابھی تو مجھے انکے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا تھا اور وہ دو گھروں کی ذیمداری میرے کندھوں پر ڈال کر مجھے تنہا چھوڑ گئے
میں میں کیسے کرونگا سب کبھی جو میں خود ٹوٹ گیا کیسے سمبھالوں گا امی۔۔۔ ہاشم کہتا روتے ہوۓ اپنی ماں کے گلے لگ گیا۔۔۔
نگہت بیگم نے سختی سے آنکھیں میچ کر اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکا بیٹے کو حوصلہ و ہمت دینے کے لئے خود کو مضبوط کرنا تھا۔۔۔۔
“صبر کرو بس بیٹا رونے سے تو تم کمزور ہو جاؤ گے اور کس نے کہا تم اکیلے ہو میں ہوں تمھارے بھائی ہیں نہ۔۔۔چلو جاؤ فرہش ہوکر آؤ میں ناشتہ لگاتی ہوں جاؤ۔۔
نگہت بیگم گال تھپتھپا کر کمرے سے چلی گئیں جب کے
ہاشم لمبی سانس لیتا باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
💗💗💗
رات کے دو بجے کا وقت تھا وہ اور اسکے اسکول فرینڈز جن کی دوستی عمر کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی تھی
دائرے کی شکل میں صوفوں پر بیٹھے درمیان میں دو تین شیشے رکھے ان سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔۔
کلب کی نیلی مدھم لائیٹ جس میں ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔۔۔کان پھاڑ دینے والا میوزک بج رہا تھا ڈانس فلور پر ایک طوفانِ بدتمیزی مچی ہوئی تھی۔۔۔
“گھر جانے کا ارادہ ہے یا یہیں پڑے رہنا ہے۔۔۔ریحان منہ سے دھوئیں کو گول دائرے کی شکل میں ہوا میں چھوڑتے ہوۓ ارتضیٰ سے بولا
جو لبنیٰ کے ساتھ چپک کر بیٹھا کان کے قریب جھکا جانے کونسی باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔بدمزہ ہوتا ریحان کی آواز پر اسے دیکھا۔۔۔۔
“نہیں یار ابھی تو رات باقی ہے۔۔۔۔۔ارتضیٰ آنکھ دبا کر کہتا ایک ہاتھ جو لبنیٰ کے پیچھے رکھا تھا اسکا گال سہلانے لگا۔۔۔
“ریحان اور شمائل نے معنی خیز نظروں نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا۔۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے میں تو چلا ورنہ میرے باپ نے گھر میں انٹری بینڈ کر دینی ہے۔۔۔۔ ریحان کہتے ہوۓ اٹھا شمائل بھی اسکے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا۔۔۔
“میں بھی چلتا ہوں کباب میں ہڈی نہیں بننا۔۔۔۔شمائل کہتے ہی ریحان کے ساتھ جانے لگا جب ارتضیٰ نے زور سے کہا بل دیکر جاؤ دونوں اپنا۔۔۔۔
“کبھی خود بھی ہم پر خرچ کر دیا کر ریحان جل کے کہتا پیسوں کو ٹیبل پر پٹخ کر نکل گیا
دونوں کے جاتے ہی ارتضیٰ لبنیٰ کے ساتھ کلب سے نکلتا اسے لئے ہوٹل کی طرف بڑھ گیا۔۔
💗💗💗💗
کمرے کا دروازہ وا کرتی وہ دبے قدموں چلتی بیڈ کی طرف بڑھی لمبے گھنے بال جو کمر سے نیچے تک لہرا رہے تھے
دونوں ہاتھوں میں کالی چوڑیاں پہنے مسکراہٹ دبائے رضائی میں گھسی دنیا و مافیا سے بیگانہ سوتی تعدیل کو دیکھ کر مسکرائیی
پھر جھک کر اسکے ماتھے کو چوما تعدیل کسمسا کر رہ گئی
تہذیب مسکرا کر سیدھی ہوئی ہاتھ بڑھا کا رضائی کو ایک ہی جھٹکے سے اتارا۔
تعدیل زور سے چیخ مارتی حواس باختہ سی اٹھ بیٹھی۔۔۔۔
“آپی آپ نے ڈرا دیا ابھی میرا ہارٹ فائل ہوجاتا اففف اتنا پیارا خواب دیکھ رہی تھی ہائے۔۔۔۔تعدیل منہ بنا کر کہتی آخر میں شرمائی۔۔۔
تہذیب مسکراتی ہوئی اسکے سامنے بیٹھی۔۔
“ا اچ اچھا ک کک کیا دد دی دیکھا۔۔۔
“ہاہ آپ دلہن بنی ہوئی ہیں اور آپ کا حسین شہزادہ دولہا آپ کا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ لیکر جا رہا ہے لیکن آپ کی وجہ سے سب غائب۔۔۔ تعدیل مسکرا کے بولتی منہ پھولا کر اسکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی
جس کے چہرے سے یکدم مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔
“پ پپ پا پاگل ک کک کچ کچھ ب بھی بو بولتی ہو مم مجھ ج جیسی ہک ہکلی س سس سے ک کک کون ش شا شادی کک کر کرے گا۔۔۔
تہذیب اپنا مذاق اڑاتے ہوۓ بولا۔۔
تعدیل جھٹ اٹھی اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر منہ بنا کر بولی۔۔
“ایسے مت کہیں آپ بہت خوبصورت ہیں اور ہکلانا یہ کوئی ایسی بھی بڑی بات نہیں ہے آپ دیکھئے گا آپ کا جب شہزادہ آئے گا نہ وہ آپ اور آپ کے دل سے محبت کرے گا نہ کے آپ کے ہکلانے سے۔۔۔تعدیل پریقین لہجے میں کہتی مسکرا کر اسکے گلے لگ گئی۔۔۔
“بب بہت س سس سمجھ سمجھدار ہو ہوگئی ہو کک کہا کہاں سے سی سیکھیں ی یہ ب با باتیں۔۔۔تہذیب آنکھ کا کونہ صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
“ہاہاہا اپی میں ہوں کیوں کے سمجھدار ۔۔۔تعدیل ہنس کر بولی جس پر تہذیب بھی ہنس دی۔
💗💗💗💗
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *