Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04

Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04

تہذیب جو ہاشم کے ساتھ ہی بیٹھی تھی بار بار کن اکھیوں سے اسے دیکھے جا رہی تھی جو پوری توجہ سے اپنے کام میں مگن تھا۔۔۔
“ت تت تم نن ناراض ہو ؟ تہذیب نے اسے دیکھتے ہوۓ ہلکی آواز میں پوچھا جس نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا پھر دوبارہ صفے پر قلم گھسیٹنے لگا۔۔
“تہذیب کا چہرہ اتر گیا وہ اس سے دوستی کرنا چاہ رہی تھی تاکہ وہ اسکی ہیلپ کر دیا کرے اور شاید وہ اس کے ساتھ کمفرٹیبل رہے گی کیوں کے جب سے اس نے اسکول آنا شروع کیا تھا تب سے اب تک ہاشم نا اس پر ہنسا تھا نا اس نے اسکے ہکلانے پر مذاق اڑایہ تھا۔۔۔۔۔
ارتضیٰ جو کام کرنے کے بجائے ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا اپنے پیچھے کاشف کو آہستہ سے کچھ کہتا پھر سے سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔،
کاشف شیطانی مسکراہٹ لئے اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔
“ٹیچر!!
“یس!! اردو کی ٹیچر جو کافی اسٹریکٹ تهیں اپنے چشمے کو تھوڑا نیچے کر کے کاشف کو دیکھنے لگیں۔۔۔
“وہ ٹیچر تہذیب باتیں کر رہی ہے کب سے۔۔۔ کاشف تھوڑا گھبرا کے بولا
تہذیب نے حیرت سے پیچھے اس لڑکے کو دیکھا جو ٹیچر کی طرف متوجہ تھا۔۔۔
اسٹینڈ اپ۔۔۔۔ٹیچر نے مارکر رکھ کر زور سے کہا۔۔۔انھیں پڑھائی کے دوران اسٹوڈںٹس کا باتیں کرنا بہت ناگوار گزرتا تھا۔
“م مم. تہذیب گھبرا کر کھڑی ہوئی۔۔۔
“کیا باتیں کر رہی تھی ذرا مجھے بھی تو بتاؤ۔۔ٹیچر نے کرخت لہجے میں پوچھا
ہاشم نے پلٹ کر پیچھے دیکھا جہاں ارتضیٰ اور اسکے سب دوست مسکرا رہے تھے پھر اسے دیکھا جو رونے والی ہوگئی تھی۔۔۔
“ٹیچر وہ پین مانگ رہی تھی ۔۔ ہاشم کھڑا ہوتے ٹیچر سے بولا۔۔۔
“اچھا لاؤ اپنا پین دکھاؤ مجھے اس میں کون سی خرابی ہوگئی ہے یا صرف دونوں اب بہانہ بنا رہے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے کہتے دونوں کو گھورا پھر خود ہی اسکا کتاب پے رکھا پین چیک کرنے لگیں۔۔۔
“اب بتاؤ گی تہذیب عاصم ایسی کیا خرابی تھی پین میں تم لوگ پڑھنے آتے ہو یا باتیں کرنے۔۔
“ٹی ٹٹ۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔ایک تو ہکلاتی ہو لیکن پھر بھی زبان بند نہیں ہوتی پتہ نہیں تم جیسے بچوں کو ایڈمشن کون دیتا ہے۔۔۔
“مس شفق۔۔۔۔ اس سے قبل وہ اور کچھ کہتیں مس فاطمہ کی آواز پر پلٹیں۔۔۔۔جو گلاس کی ٹیچر تھیں
“مس فاطمہ تہذب کے قریب اکر اسکے سر پر ہاتھ رکھا بیٹھ جاؤ۔۔۔مس فاطمہ کے کہنے پر سامنے کھڑی ٹیچر کو دیکھا جو خود بھی گھبرا گئی تھیں کیوں کے مس فاطمہ ان سے بڑی تھیں اور پرانی بھی۔۔۔
“میں کیا کہ رہی ہوں آپ کو۔۔۔ مس فاطمہ نے اب روعب سے کہا۔۔ تہذیب فوراً بیٹھ گئی۔۔۔
“آپ چلیں مجھے بات کرنی ہے آپ سے۔۔۔ مس فاطمہ سپاٹ لہجے میں کہتیں کلاس سے باہر نکل گئیں۔۔
⭐⭐⭐⭐
“ٹیچر وہ بچی کلاس میں باتیں کر رہی تھی اور بعد میں جھوٹ بول رہی تھی۔۔
“میں آپ سے اس معاملے میں کوئی سوال نہیں کر رہی ہوں آپ استاد ہونے سے پہلے انسان ہیں اور انسانیت یہ نہیں کے آپ اپنے استاد ہونے کا غلط فائدہ اٹھائیں۔۔۔
بچی کا ہکلانا اسکی ذہانت کو زنگ آلود نہیں کر رہی ہے اور مجھے لگتا ہے اس بات کا اندازہ آپ کو بخوبی ہوگا
آپ نے اسکی رائٹنگ اور ٹیسٹ دیکھیں ہیں؟ بولنے میں وقت لگتا ہے اسے کیوں کے وہ گھبرا کر اپنے بولنے پر قابو نہیں پاتی مس شفق
جتنا وہ آپ سے گھبرائے اور ڈرے گی وہ کبھی آپ کے سامنے بات نہیں کر سکے گی۔۔۔۔
آپ کو یہ زیب نہیں دیتا کے استاد ہوکر آپ جاہلوں والی بات کریں مس شفق۔۔۔
آپ نے خود یہ موقع فراہم کیا ہے اسٹوڈنٹس کو کے وہ اسکا مذاق بنائیں۔۔ افسوس ہوا مجھے آپ کی باتیں سن کر آپ سے اس طرح کی امید ہرگز نہیں تھی مجھے۔۔۔
اب آپ جاسکتی ہیں اسٹوڈنس انتظار کر رہے ہونگے۔۔۔مس فاطمہ ایک ہی سانس میں بولتی آگے بڑھ گئیں
جب کے مس شفق ہونٹ بھنج کر رہ گئی۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
لنچ بریک میں تہذیب نے جیسے ہی لانچ باکس کھولا خالی دبا دیکھ کر اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔۔۔
“شا شاید ام امی بب بھ بھول گ گئیں۔۔۔خود کو جھوٹی تسلی دے کر تہذیب نے باکس کو بیگ میں ڈالا اور گراؤنڈ کی طرف جانے لگی۔۔۔
“اوئے ہکلی آرہی ہے آؤ تنگ کرتے ہیں۔۔۔ریحان کہتا کاشف اور لبنیٰ کے ساتھ چلتا اسکے قریب آکر روکا۔۔۔
“کہاں جا رہی ہو؟ رہحان نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔۔
“کک کہ کہیں نن نہیں ۔۔۔۔تہذیب پلر کے پاس کھڑی اچانک نازل ہونے والی آفت کو دیکھنے لگی۔۔۔
تہذیب کو ان سب دوستوں سے الجھن ہوتی تھی۔۔
“اوہ!!!! اچھا ویسے تم ہم سے دوستی کیوں نہیں کر رہی کیا ہاشم نے منا کیا ہے؟ لبنیٰ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں پٹپٹا کر پوچھا۔۔۔
“ن نن نہیں۔۔تہذیب نے معومیت سے سر کو نفی میں ہلاتے ہوۓ کہا۔۔۔ جب ارتضیٰ ان کو دیکھتا شمائل اور علینا کے ساتھ انکے قریب آگیا۔۔۔
“تہذیب ان سب کو ساتھ دیکھ کر گھبرا رہی تھی سب کے چہروں پر تمسخراہ مسکراہٹ پھیلی دیکھ کر اسے اپنا آپ بیکار لگ رہا تھا
جیسے وہ کوئی نمونہ ہو جسے سب گھیرے کھڑے تھے۔۔۔
“تہذیب ہم تو دوست ہیں نا اور اگر کوئی تنگ کرے تو ہمیں بتانا اوکے۔۔۔۔ ارتضیٰ نے مصنوعی مسکراہٹ سے اسے کہا۔۔۔
“تت ٹھینکس تم تم سس سب بب بہ بہت اچ اچھے اچھے ہو۔۔۔ تہذیب اسکی بات سنتے ہی خوش ہوکے بولی۔۔۔۔
اسکی بات پر سب نے مسکراتی نظروں کا تبادلہ کیا۔۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
“السلام علیکم آپ آگئے اتنی جلدی۔۔۔۔۔۔نگہت بیگم اور بھی کچھ کہنے والی تھی لیکن ہاشم کو دیکھتی جیسے زبان خود با خود تالو سے چپک گئی۔۔۔
ہاشم کی شرٹ پر ہلکے خون کے دھببے دیکھ کر نگہت بیگم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔۔
“ک کیا ہوا ہے ہاشم بیٹا یہ خون کہاں چوٹ لگی ہے بتاؤ ۔ نگہت بیگم اسکے قریب آتی چھوٹے ہوۓ پوچھ رہی تھیں جو نظریں جھکائے کھڑا تھ۔۔۔
“کچھ نہیں ہوا اسے۔۔۔مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا میرا بیٹا اسکول میں مار دھاڑ کر رہا تھا کیا یہ سکھانے کے لئے بھیجا ہے تمہے اگر کچھ ہو جاتا اسے شکر کرو اسکول سے نہیں نکالا لیکن میں وارن کر رہا ہوں ہاشم کان کھول کر سن لو آئیدہ ایسی کوئی حرکت ہوئی تو میں خود تمہے امریکا بھیج دونگا۔۔۔
وقاص صاحب حیران اور کچھ غصّے میں کہتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیے جب کے ہاشم بلکل پرسکون تھا۔۔
“امی بھوک لگ رہی ہے کھانے کو ملے گا۔۔۔ ہاشم نے نگہت بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔
“ہاشم تم کس سے لڑ کر آئے ہو بیٹا تم تو کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کرتے۔۔ نگہت بیگم اسکی بات نظر انداز کرتیں اسے بولیں غصّے کا تیز ضرور تھا لیکن اپنے غصّے پر قابو پانا وہ بخوبی جانتا تھا ہاشم ہر کسی سے فرینک بھی ہونے کی کوشش نہیں کرتا تھا۔۔
“امی کچھ نہیں ہوا آپ جانتی ہیں مجھے جھوٹ بولنے والا سخت ناپسند ہے۔۔۔ ہاشم جھنجھلا کر کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
جب کے نگہت بیگم اسے جاتا دیکھتی رہ گئیں۔۔۔
⭐⭐⭐⭐
“جلے ہوۓ بازو پر ابھی تک جلن ہے۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آیا امی کا رویہ یکدم اتنا کیسے بدل گیا جب دادی کے ساتھ رہتے تھے تب کبھی امی نہ ابّو سے تیز آواز میں بات کرتی تھی نہ لڑتی تھیں لیکن اب پتہ نہیں اتنا غصہ کیوں کرتی ہیں۔۔۔
کل بھی میرا بازو جلایا۔۔۔بہت درد ہورہا تھا۔۔۔۔ اور آج بھی لنچ باکس خالی ہوبے کی وجہ سے میں شام تک بھوکی رہی تھی۔۔۔وہ لڑکا کتنا بدتمیز تھا جھوٹا۔۔۔ہاشم اچھا ہے پر وہ مجھ سے بات نہیں کرتا۔ ۔۔۔میں ہکلاتی ہوں اس لہے لیکن وہ میری مدد کرتا ہے۔۔ آج بھی اس نے اس جھوٹے لڑکے کو مارا میں اسے تھینک یو۔۔۔۔
یکدم عاصم صاحب کی آواز پر تہذیب نے صفہ پلٹا اور ہاتھ میں پکڑا قلم نیچے رکھا پھر پلٹ کر انھیں دیکھا۔۔۔
“پڑھ رہی ہو؟ عاصم صاحب نے قریب آکر پوچھا۔۔
“جج جی۔۔۔
“ہمم باقی کل پڑھ لینا ابھی سوجاؤ میری گڑیا۔ ۔۔۔ عاصم صاحب نے اسکے سر پر پیار دیا۔۔۔
تہذیب کا دل کیا اپنے باپ سے سب کی شکایات لگائے لیکن خود ہی رد کر دیا۔۔
تہذیب سر ہلاتی کتاب کو بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی عاصم صاحب کے کمرے سے نکلتے ہی تہذیب تیزی سے اسٹڈی ٹیبل کے پاس آئی اور کتاب سے صفہ پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرتی کھڑکی سے باہر پھنک کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
“جانتے ہو اذیت کیا ہے، کہنے کو بہت کچھ،
ہونا لیکن، خاموش رہنا!! (اشفاق احمد)
⭐⭐⭐⭐
اتوار کا دن تھا تبھی تہذیب دیر سے صبح جاگی۔۔۔
باتھ روم سے نکلی ہی تھی جب تعدیل کے ساتھ زبیر(سوتیلاماموں) کو کمرے میں بیڈ پر بیٹھے دیکھا۔۔۔
زبیر جو بینش بیگم کا بھائی تھا گندی سوچ کا مالک ایک عیاش آدمی جو خراب دوستوں کی سوبت میں رہ کر ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گیا۔۔۔یہی وجہ تھی کے یوی بھی اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔
عاصم صاحب اپنے سالے کو پسند نہیں کرتے تھے حلانکے وہ کزنس تھے لیکن بیوی کی وجہ سے خاموش تھے اور شاید یہی خاموشی کتنے لوگوں کی ذِندَگِیوں کو اذیت میں مبطلہ کرنے والی تھی۔۔۔۔
“اس السلام عل عليكم مم ما ماوں۔۔۔تہذیب جو نہا کر نکلی تھی ہڑبڑا کر تیزی سے ڈوپٹہ اوڑ کر ہکلا کر بولی
جب کے زبیر جوان ہوتی تہذیب کو دیکھ کر پاگل سا ہوگیا۔۔
“ماموں آپی سلام کہ رہی ہے۔۔۔۔تعدیل نے اسکے کندھے پر
ہاتھ مارتے ہوۓ کہا اسے ماموں کا اس طرح اپنی بہن کو گھورنا بہت برا لگ رہا تھا۔۔
زبیر ہوش میں آتا ہونٹوں پر زبان پھیرتا اٹھ کر اسکے قریب گیا اور کندھے پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا
تہذیب تھرا کر رہ گئی اسے محسوس ہو رہا تھا زبیر اسکے کندھے کو آہستہ سے سہلا رہا تھا
اس سے پہلے زبیر آگے کچھ کرتا دروازہ کھولتے عاصم صاحب اندر آئے زبیر بجلی کی سی تیزی سی تہذیب سے پیچھے ہٹا۔۔۔۔
“اب ابّو۔۔۔تہذیب تیزی سے اپنے باپ کے قریب گئی۔۔۔
“کیا ہوا تہذیب؟ عاصم صاحب ایک دم پریشانی سے بولے پھر زبیر کو دیکھا جو زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا۔۔
“کک کچھ نن نہ نہیں آ آت آتی آتی ہو ہوں چ چچ چلو تع تعدیل ۔۔ تہذیب باپ کو مسکرا کر کہتی تعدیل کو ساتھ لیتی باہر نکل گئی۔۔۔
(لڑکی یہی ایک غلطی کر جاتی ہے۔۔۔جو وہ محسوس کرتی ہے کسی سے کہتی نہیں ہاں تہذیب بھی غلطی کر گئی اور زبیر کو شیر)
جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *