Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24
صبح سے ہی گھر میں افرا تفری کا عالَم تھا۔۔۔۔رات کو تعدیل اور ہدبر کی منگنی کی تقریب تھی
ہاشم استری اسٹینڈ کے ساتھ کھڑا اسے گھورنے میں مصروف تھا جو لبوں پر مسکراہٹ سجائے تقریب میں پہننے کے کپڑے استری کر رہی تھی۔۔
“شوہر کی بات نا ماننے والی عورتوں کا الگ سے حساب ہوگا جانتی ہو۔۔
“ب بل بلکل ا اب جا جائیں۔۔۔۔تہذیب برا مانے بغیر بولی۔
اس سے پہلے وہ جواب دیتا نگہت بیگم دروازہ نوک کر کے اندر داخل ہوئیں۔۔۔
“ہاشم ذرا دیکھنا ہدبر کو جاکر حماد کے ساتھ بحث میں لگا ہوا ہے اگر ایسا ہی رہا تو پہنچ گئے وقت پر ۔۔
“اچھا امی۔۔۔ ہاشم ماں کو جواب دیتا تہذیب کو ناراضگی سے دیکھتا نیچے چلا گیا۔۔
“ہدبر بھائی میں کہ رہا ہوں۔۔۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟ یکدم ہاشم کی آواز پر ہدبر اور حماد نے سر گھوما کر دیکھا۔۔۔
“ہاشم بھائی اچھا ہوا آپ آگئے اپنے اس چھوٹے بھائی کو سمبھالیں کب سے دماغ کا فالودہ کر رہا ہے۔۔۔۔ہدبر نے جھنجھلا کر کہا۔۔
“حماد کیوں فالودہ بنا رہے ہو گولہ گنڈا بناؤ۔۔۔۔ ہاشم نے شرارت سے کہا
جب سے باپ بننے کی خبر ملی ہے تب سے وہ خوش تھا روز آفس سے واپسی پر شاپنگ کر کے لے آتا اور ہدبر بھی ساتھ پرجوش اسکے ساتھ ہوتا۔۔۔
“ہاہاہا۔ ۔۔ اوکے ہاشم بھائی ابھی گولہ گنڈا بنا دیتا ہوں۔۔۔۔ حماد ہنس کر ہدبر کے کندھے پر بازو پھیلا کر بولا
اس سے پہلے ہدبر اسکی گدی دبوچتا حماد تیزی سے بھاگ گیا۔۔
چونکَہ تہذیب کی بہن کی منگنی تھی تبھی وہ دوپہر سے ہی اکیلے وہاں چلی گئی تھی۔۔۔
تہذیب تعدیل کے ساتھ اسکے کمرے میں تیاری میں مدد کروا رہی تھی۔۔۔
تہذیب نے سفید نیٹ کا گھیردار فراک پہنا ہوا تھا جب کے اونچا جوڑا بنائے سر پر ڈوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا۔۔
جب کے تعدیل نے پنک کلر کا اسٹائیلش سی شلوار قمیض زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔
جس میں تعدیل بہت حسین لگ رہی تھی۔۔
آٹھ بجے تک مہمانوں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔۔۔
تہذیب لان میں آتی سب سے ملنے لگی جب ہاشم وغیرہ آگئے۔۔
“سب نے بہت پرجوش اور خوش اخلاقی سے استقبال کیا۔۔۔
ہاشم تہذیب کو دیکھتا رہ گیا جو اپنی امی کے ساتھ کھڑی مل رہی تھی
ہاشم خود بھی آج سفید شلوار قمیض پہنے بے تحاشہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔
جب کے ہدبر نے بھی سفید ہی شلوار قمیض ہوئی تھی۔۔۔
تہذیب جو ہاشم کے قریب جانے لگی تھی نیلم بیگم اور عریشہ کو دیکھ کر روک گئی
جو مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ مل رہی تھیں
کچھ ہی دیر میں منگنی کی رسم کے لئے تعدیل کو لاکر ہدبر کے پہلو میں بٹھایا۔۔۔
سب کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔۔۔
نیلم بیگم منگنی کی رسم کے وقت الگ تھلک ہوکر کھڑی ہوگئیں۔۔
“امی آپ کو مجھے بھی ساتھ لانے کی کیا ضرورت تھی ارتضیٰ تو آیا نہیں اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ گھوم رہا ہے اور آپ نے کہ دیا بخار تھا ہنہہ۔۔۔
عریشہ جل کر کہتی موبائل پر “ریحان کالنگ” دیکھ کر مسکرا کر اپنی ماں کو “آتی ہوں ” کہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
نیلم بیگم اسے جاتے دیکھتی رہیں۔۔۔
تالیوں کی گونج میں ہدبر نے تہذیب کو رنگ پہنائی۔۔۔
تعدیل نظریں جھکائے اسے رنگ پہنانے لگی۔۔۔
جب کے ہاشم تہذیب کے ساتھ اسکا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔۔۔
یکدم تہذیب کو گفت یاد آیا۔۔
“م میں آ آتی ہوں۔۔۔ تہذیب نے ہاشم کو دیکھ کر کہا ہاشم نے ہاتھ دبا کر چھوڑو
“اوکے جلدی آنا۔. ہاشم کان کے قریب جھک کر کان کی لو چومتا پیچھے ہوۓ۔۔
تہذیب اندر جاتے جاتے یکدم روکی۔۔
“اف م میں تت تو گ گفٹ لا لانا ہی ب بھول گ گئی۔۔ اچانک یاد آنے پر اسنے سر پر چپت لگائی۔۔۔
ہاتھ میں دبے موبائل پر ہاشم کو میسج بھیجنے لگی۔۔
“گفت تو گھر پر ہی بھول گئی میں۔۔۔
کچھ ہی لمحے میں ہاشم کا جواب آیا۔۔
“میں لے آیا ہوں محترمہ بیڈ پر ہی بھول کر آگئی تھی۔۔۔ گاڑی میں ہے رکو تم حماد کو کہتا ہوں۔۔
ارتضیٰ کا میسج پڑھ کر تہذیب شکر کا سانس لیتی پلٹنے لگی
جب دور سے ہی ہاشم کو حماد اور کسی لڑکے کے ساتھ کھڑا دیکھا۔۔
حماد منہ لٹکاتا گاڑی کی چابی لئے چلتا آرہا تھا۔۔۔
“حم حماد لا لاؤ مم میں لے لیکر آ آتی ہوں۔۔۔
حماد کے قریب آتے دیکھ کر تہذیب نے اسکے ہاتھ میں پکڑی چابی کو تھام۔ ۔۔
“نہیں بھابھی میں جا رہا ہوں۔۔۔
“ن نہیں د دو ت تم جا جاؤ
“لیکن بھابھی میں۔۔۔۔
“م۔ میں ک کہ رر رہی ہو ہوں نا۔۔تہذیب نے آنکھیں دکھا کر کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے پر۔۔۔حماد ابھی بھی چابی دینے سے کترا رہا تھا وجہ ہاشم سے ڈانٹ پڑنے کی تھی۔۔
تہذیب نے اسکا پر سن کر چابی کھینچی اور گیٹ سے باہر نکل گئی حماد گیٹ کی طرف دیکھنے لگا
اسے پیچھے جانا چاہیے تھا یہی سوچتے ایک قدم اٹھایا ہی تھا جب اسی لڑکے نے پیچھے سے کر آواز دیکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
تہذیب گیٹ سے نکل کر اپنی گاڑی کو دیکھنے لگی تقریب کی وجہ سے گاڑیاں قتار میں کھڑی تھی۔۔۔
ہر طرف سناتا تھا تہذیب چلتی آگے چلنے لگی پارکنگ نا ملنے پر ہاشم کو گاڑی ایک سڑک پار گاڑی پارک کرنی پڑی۔۔
تہذیب نے چلتے چلتے پیچھے مڑ کر دیکھا گیٹ کے پاس گارڈ کی کرسی خالی تھی تہذیب کو یکدم ڈر لگا وہ اس وقت اکیلے تھی ہاشم کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔
تہذیب اللّه کا نام لیکر سڑک پار کرنے ہی لگی جب تیز رفتار گاڑی آرہی تھی
بریک لگاتے لگاتے بھی تہذیب کو ہٹ کر گئی۔۔تہذیب کی خوف سے چیخ بھی نہ نکال سکی۔۔۔
ارتضیٰ جو سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگاتا لال ہوتی آنکھوں کے ساتھ ڈرائیونگ کر رہا تھا ہڑبڑا کر باہر نکلا۔۔۔
سعد بھی تیزی سے نیچے اترا جہاں تہذیب کے زمین پر زور سے گرنے سے سر سے خون بہنے لگا
جب کے اسکے اندر نننہ بڑھتا وجود اسے تڑپا گیا۔
“چل نکل یہاں سے؟ دونوں گھبرا کر دوبارہ گاڑی کی طرف جانے لگے
جب خون لگے ہاتھوں نے اسکی ٹانگ کو پکڑا۔۔
م مر۔۔۔۔۔بچ۔ ۔۔بچچہ۔ ۔۔مم م بچ پ پلیز بچ بچہ مم میرا۔۔۔۔
ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں دھیمی آواز میں آنسوؤں سے بھیگا چہرہ سامنے کھڑے انسان نما شیطان سے خود سے زیادہ اپنے بچے کو بچانے کے لئے بند ہوتی آنکھوں میں بیچارگی سے کہ رہی تھی کے ہر انسان کا دل پسیج جائے لیکن ارتضیٰ احمد جس کا دل صرف ایک لمحے کے لئے پگھلا تھا
پر کہتے ہیں نا انسان کو نفرت غصہ حسد کینہ شک یہ اگر ایک بار دل و دماغ میں اپنے پنجے گاڑھ لے تو انسان جانور سے بھی زیادہ بتر حیوانیت پر اتر آتا ہے ۔۔۔۔
ارتضیٰ احمد تو پھر ان دیکھی نفرت حسد میں دھنسا ہوا اندھا شخص تھا۔۔۔ کے سامنے خون میں پڑی اپنے بچے کو بچانے کے لئے وہ کس قدر تڑپ رہی تھی لیکن اچانک اسے وہ نہیں بلکہ ہاشم کا مسکراتا چہرہ آنکھوں کے آگے گھومتا نظر آیا اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں نفرت اور حسد نے باقی سارے جذبوں کو تھپکی دے کر سلا دیا۔۔۔۔۔
“ارتضیٰ میرے بھائی فیصلہ کر اسے لیکر چل ہسپتال یا پڑے رہنے دیں حادثے تو یہاں ہوتے رہتے ہیں کچھ دن ماتم کریں گے پھر سب بھول جائیں گے۔۔۔
سعد نے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کرتے ہوۓ اردگرد دیکھتے ہوئے کہا جانے کہاں سے سامنے آگئی تھی۔۔۔
“فیصلہ تو ہوچکا میرے یار۔۔۔۔۔ارتضیٰ نے شیطانیت سے کہتے قہقہ لگایا۔۔۔
تہذیب کے ہاتھ کانپ گئے درد سے دوہری ہونے کے باوجود اسے اپنے بچے کی فکر تھی۔۔۔
“مجھے اولاد چاہیے تہذیب بیٹا ہو یا بیٹی۔ ۔۔ ہاشم کے کہے الفاظ اسکے کانوں میں سرگوشی کرنے لگے۔۔۔
“ہا ہاشم بنا آواز کے لب ہلاتی تہذیب کے رونے میں شدّت آگئی پیٹ میں جیسے آگ لگ گئی ہو۔۔۔ یوں جیسے موت ساتھ ہی کھڑی اسکی روح کھینچ رہی ہو۔۔۔
“تو پاگل ہوگیا ہے ہنس کیوں رہا ہے۔۔۔ پیچھے کھڑے سعد نے حیران ہوکر اسے دیکھا جو پاگل لگ رہا تھا۔۔۔
ارتضیٰ ہنسی دباتا اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“بھابھی جان اگر آپ ہاشم کی بیوی نہ ہوتیں تو شاید مجھے رحم آجاتا لیکن تت تت تت آپ بیوی سے زیادہ اسکی محبت ہیں ہائے افسسوس
ُُ
اور ہاں آپ کی وہ بہن جس کی منگنی ہے ہاہ چلیں اسے منگنی کا گفت میری طرف سے دی دیجئے گا
“ن بچ۔
“ہاں ہاں بچہ نا وہ تو مر گیا ہوگا اب تک۔۔۔روکیں چیک کرتے ہیں سانس لے رہا ہے یا نہی۔۔۔۔بے حسی سے کہتا ارتضیٰ مسکرا کر اپنے جوگرز پہنے پیر سے اسکے پیٹ پر ہلکے ہلکے مارنے لگا۔۔۔
تہذیب کی خوف سے آنکھیں پھیل گئیں پیچھے کھڑا سعد ساکت رہ گیا
وہ جتنا برا سہی لیکن اتنا نیچ نہیں تھا۔۔
“ہونہہ پتہ نہیں چل رہا بلکل اپنے گھٹیا باپ پر چلا گیا ہے۔۔۔۔
ارتضیٰ ناک چڑھا کر بدمزہ ہوکر کہتے ایک قدم پیچھے ہوا ۔۔
“نن نا کک بچ بچہ م۔۔۔۔۔ اس سے قبل سعد آگے بڑھتا یا تہذیب کچھ کہتی ارتضیٰ نے پوری قوت سے اسکے پیٹ پر لات ماری
تہذیب کی سانس اٹک کر رہ گئی سعد کے جسم میں کپکپی تاری ہوگی۔۔۔
“یہ اسے باپ کے لیے اور یہ بھابھی جان آپ کی بہن کے انکار کا گفت . ۔۔
ارتضیٰ نے کہتے ایک اور لات ماری۔۔
تہذیب کے منہ سے خون بہنے لگا۔۔۔
“چلو! ارتضیٰ سعد کو کہتا سرشاری سے چلتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔
سعد سن کھڑا دیکھتا رہا جب خاموش فضا میں گیٹ کی آواز پر اپنی جان بچانے کے لئے گاڑی میں بیٹھا اسکے بیٹھتے ہی ارتضیٰ گاڑی زن سے لے گیا۔۔۔
“مجھے اولاد چاہیے تہذیب بیٹا ہو یا بیٹی۔۔۔۔اپنے ہاتھوں سے کمرے سیٹ کرونگا۔۔۔۔۔
آخری سرگوشی کے ساتھ ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔۔۔۔
جاری ہے
