Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15
دونوں آگے پیچھے چلتے لان میں آئے۔۔
“بیٹھیں۔۔ تعدیل نے اپنے لہجے کو نارمل رکھ کر ہی اسے کہا جو اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔تعدیل کو اسکی نظروں سے الجھن سی ہوئی۔۔۔۔
“تھینکس…. ارتضیٰ مسکرا کر بولتا بیٹھ کر سامنے بیٹھی خوبصورت سی لڑکی کو گہری ظروں سے دیکھ رہا تھا
جب کے تعدیل کن اکھیوں سے لاؤنج کے دروازے پر کھڑی
تہذیب کو جو ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
اگر اکیلے میں بات کرنے کا نہیں کہتا تو وہ لازمی دونوں کے ساتھ وہاں ہوتی۔۔۔
“پ پا پتہ ن نہیں ک کون س سی با بات کر کرنی ہے م میری ب بہن س سے۔۔۔تہذیب جھنجھلا کر خود کلامی کرنے لگی ارتضیٰ کا دیکھنا اسے ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا
ہاشم وغیرہ بھی دیکھتے تھے لیکن جانے کیوں ارتضیٰ کا دیکھنا پراسرار سا تھا۔۔۔
لڑکی چھوٹی ہو یا بڑی مرد کے دیکھنے کا انداز خوب سمجھتی ہے۔۔
تہذیب دونوں کی باتیں تو نہیں سن پا رہی تھی لیکن ارتضیٰ کا مسکرانا اور تعدیل کے چہرے پر بیزاریت سے اندازہ لگا سکتی تھی۔۔
کچھ دیر اور گزری تہذیب کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا … تیز تیز قدم اٹھاتی وہ دونوں کے سر پر جا کھڑی ہوئی۔۔۔
“بب باتیں ہو ہو گٙئیں۔۔ تہذیب نے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوۓ کہا۔۔۔
“جی آپی۔۔تعدیل کہتے ہی کھڑی ہوئی۔۔
“ارتضیٰ نے ایک سلگتی ہوئی نظر تہذیب پر ڈالی جس کے چہرے کی ناگوری وہ بھانپ چکا تھا۔۔۔
“ا اچھا چ چلو ان اندر تہذیب کے کہتے ہی تعدیل نے ایک نظر ارتضیٰ کو دیکھا پھر اندر کی جانب قدم بڑھا دیے۔۔
“آ آپ بھ بھی آ آجائیں۔۔۔ ارتضیٰ کو بیٹھا دیکھ کر تہذیب کہ کر پلٹنے لگی جب تیزی سے ارتضیٰ اٹھ کر اسکے مقابل آیا
تہذیب جو قدم بڑھا چکی تھی اسکے اچانک سامنے انے پر سینے سے ٹکرا گئی اس سے پہلے وہ پیچھے ہٹتی ارتضیٰ نے جان کر اسکی کمر کے گرد ہاتھ ڈالا۔۔
اوہ سمبھل کر ابھی گر جاتی۔۔۔۔ ارتضیٰ اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔
“تہذیب تڑپ کر جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔۔۔۔
“گر گرنے د دیتے۔۔۔ تہذیب گھور کر کہتی تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔
“بہت تیکھی ہے چیز ہے ہاہ۔۔۔ارتضیٰ ڈوپٹے سے جھانکتی اسکی لمبی موٹی چٹیا کو دیکھنے لگا۔۔۔
تہذیب کمرے میں آتے ہی کپڑے چینگ کرنے چلی گئی ارتضیٰ کا لمس اسے وحشت زدہ کر رہا تھا ۔۔۔
جب تک تہذیب کپڑے بدل کر منہ ہاتھ دھو کر نیچے آئی احمد صاحب کی فیملی پورج میں کھڑے تھے۔۔۔۔۔
“چلتے ہیں آپ کے ہاں کا انتظار رہے گا۔۔ نیلم بیگم نے بینش بیگم کا ہاتھ دبا کر کہا۔۔۔
نیلم بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کے رشتہ پکّا کروا کر ہی دم لیں آخر اکلوتے لاڈلے بیٹے کی پسند تھی اور نیلم بیگم ہمیشہ اسکی خواہشیں پوری کرتی تھیں ۔۔۔
“جی۔۔ ان شاء اللّه۔۔ بینش بیگم نے مسکرا کر اتنا ہی کہا۔۔
“اب ابّو و وہ ہا ہاشم ا آرہے ہیں را رات ک کو ۔۔۔۔تہذیب نے باپ کو کمرے کی طرف جاتے دیکھ کر کہا۔۔۔
“ارے مجھے تو بتا دیتی کھانے کا انتظام کر لیتی کیا ہاشم اکیلے آرہا ہے۔۔۔عاصم صاحب سے پہلے ہی بینش بیگم نے کہا۔۔۔
آ آفس س سے آ آرہے ہ ہیں ہد ہدبر ب بھی ہو ہوگا۔۔۔تہذیب نے ماں کو جواب دیا تعدیل ہدبر کا نام سنتے ہی اداس ہوگئی۔۔
“اچھا اچھا۔۔۔بینش بیگم کہ کر چلی گئیں جب عاصم صاحب کمرے میں جانے کی بجائے صوفے پر بیٹھ گئے۔۔
“میرے خیال سے ہاشم سے بھی ایک بار اس معملے میں پوچھ لیا جائے احمد صاحب نے بتایا وہ انکی بہن کا بیٹا ہے ۔۔عاصم صاحب کہ رہے تھے تہذیب اور تعدیل نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جب تعدیل نے ہچکچا کر کہا۔۔
“ابّو مجھے نہیں کرنی شادی تعدیل نے کہ کر سر جھکایا
عاصم صاحب غور سے تعدیل کے چہرے کو دیکھنے لگے پھر تہذیب کو دیکھا۔۔۔
“تم کیا کہتی ہو میرا خیال ہے تمہاری ماں کو تعدیل کے لئے مناسب نہیں لگا۔۔۔
“جی سہی اندازہ لگایا آپ نے لڑکا اچھا ہے لیکن ماں بناوٹی لگیں مجھے بار بار ہاتھ پکڑنا یہ خالصتاً دکھاوا لگتا ہے مجھے۔اس سے قبل تہذیب کوئی جواب دیتی بینش بیگم اتے ہوۓ بولیں۔۔۔
“ہمم لیکن فوراً انکار کرنا بھی سہی نہیں ہے جب لڑکا اچھا ہے تو ۔۔عاصم صاحب نے بینش بیگم بیگم کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
“م مجھے ل۔لڑکا اچ اچھا ن نہیں لا لگا اب ابّو آ آپ م منا ک کردیں اس اسے کک کوئی او اور م مل جا جائے گا ۔۔
تہذیب منہ بنا کر کہ کر اٹھ کر چلی گئی۔۔۔عاصم صاحب نے کندھے اچکآئے۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب ہاشم اور ہدبر عاصم صاحب کے گھر پہنچے۔۔
سب سے مل کر عاصم صاحب دونوں کو ساتھ لئے ڈرائنگ روم چلے گئے۔۔
کھانے کا وقت تھا تبھی تہذیب اور تعدیل بینش بیگم کے ساتھ کچن میں چلی گییں۔۔
ہاشم بیٹا تم لوگوں کی فیملی ساتھ والے گھر پر رہتی ہے کبھی بتایا نہیں ؟ عاصم صاحب نے دونوں کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔
“جی انکل بتانے کا کبھی موقع نہیں ملا آپ کو کیسے پتہ چلا۔۔۔۔ہاشم نے کہتے ہی انجان بنتے ہوۓ پوچھا۔۔
“وہ بیٹا آج آپ کے ماموں آئے تھے انہی سے پتہ چلا ۔۔ دراصل اپنے بیٹے کے رشتے کے لئے آئے تھے تمہارا کیا خیال ہے ارتضیٰ اچھا لگا۔۔عاصم صاحب نے بتاتے ہوئے پوچھا .
“ارے انکل میرا کچھ اچھا خیال نہیں ہے۔۔۔ ہدبر تیزی سے بولا ہاشم نے اسکے پیر پر نامحسوس طریقے سے پیر مارا
ہدبر یکدم خاموش ہوتے مسکرا کر کندھے اچکانے لگا۔۔۔
“انکل آپ کو نہیں لگتا ایک بار تعدیل سے بھی پوچھ لیں کیا پتہ اسے اچھا بھی لگا یہ نہیں رہا ماموں زاد بھائی کی شادی کا یہ سب تو نصیبوں کا کھیل ہے۔۔۔ہاشم نے سنجیدگی سے کہا جب عاصم صاحب مسکرائے۔۔
“بیشک ہاشم بیٹا اور فیصلے کا حق میں نے اسے ہی دیا ہے زندگی اس نے ہی گزارنی ہے پر بڑوں کی مرضی بھی لازمی ہونی چاہیے اس سے زندگی بہترین گزرتی ہے ہم نے زندگی کا تجربہ اپنی عمر دے کر کیا ہے
بچے نہیں سمجھ سکتے کیوں کے وہ وہی سمجھتے ہیں جو انہیں وقتی راحت و خوشی دیتا ہے۔۔۔
“سہی کہ رہے ہیں انکل۔۔۔ہدبر نے مسکرا کر کہا۔۔
“تعدیل نے کیا کہا پھر۔۔ہاشم نے عاصم صاحب کو دیکھ کر
سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
“مناسب نہیں لگا تم لوگوں کی آنٹی کو بھی یہی لگا اور تہذیب کو بھی۔۔۔ عاصم صاحب نے تھوڑا ہچکچا کر شرمندگی سے کہا۔۔۔ارتضیٰ انکا کزن تھا۔۔۔
عاصم صاحب کی بات سنتے ہی دونوں نے سکوں بھری سانس لی جب کے ہدبر بتیسی نکال کر مسکرا کر ہاشم کو کندھا مار کر آئی برو اچکانے لگا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
