Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17
عاصم صاحب تہذیب اور تعدیل کو پارلر چھوڑ کر خود ایک دو گھنٹے کے لئے آفس چلے گئے اہم کام نا ہوتا تو نہ جاتے۔۔۔
“السلام علیکم ۔۔۔۔نگہت بیگم کے کال ریسیو کرتے ہی بینش بیگم نے سلامتی بھیجی۔۔
“وعلیکم اسلام میں آپ کی کال کا ہی انتظار کر رہی تھی گھر میں سب خیریت ہے۔۔۔
“جی الحمدلللہ دونوں بچیاں پارلر گئی ہوئی ہیں۔۔۔
“اچھا ماشاءالله۔۔۔نگہت بیگم مسکرا کر اتنا ہی بولیں جب بینش بیگم نے رشتے کی رضامندی دے دی
جسے سنتے ہی خوشی کی لہر ہاشم کے گھر میں پھیل گئی چونکَہ کل شادی تھی انتظامات کی وجہ سے ہاشم آفس نہیں گیا تھا
یہی وجہ تھی کے کچھ ہی لمحوں میں لاؤنج میں سب جما ہدبر سے گلے لگ کر مبارکباد دے رہے تھے جو لڑکیوں کی طرح شرما رہا تھا۔۔۔
“واؤ کتنا مزہ آئے گا نا شادی میں وہ بھی دو دو۔۔۔ردا چہک کر بولی۔۔۔
“ردا کی بچی ابھی ایک ہی شادی ہے اور وہ بھی ہاشم بھائی کی۔۔۔۔۔ کیوں امی ٹھیک کہا ناں۔۔۔
ردا کو جواب دینا حماد کا فرض ہو جیسے جھٹ اسے تیوری چڑھا کر بولا۔۔
“تمہے کس نے کہا ہاں۔۔۔ردا نے پلٹ کر اسے گھورا۔۔۔
“اوہ فو کیا ہوگیا ہے دونوں کو ظاہر ہے کل شادی ہے اب اتنی جلدی تھوڑی ہے کے آج رشتہ پکا اور کل رخصتی۔۔۔ وردہ بیگم اپنی بیٹی کو گھورتے ہوۓ بولیں۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا کر اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
اگلے دن صبح سے ہی افرا تفری کا عالَم تھا۔۔ہدبر کے ساتھ ہاشم بھی گھن چکر بنا پھر رہا تھا۔۔۔
تقریب میں ہی نکاح کی رسم رکھی گئی تھی تبھی سب جلدی جلدی دوسرے کام نبٹا رہے تھے
ہدبر گھر آتے ہی نگہت بیگم کے پیچھے پڑ گیا کے ایک عدد منگنی کروا دیں۔۔
“ہدبر کیا ہوگیا ہے تمہے اتنی جلدی کیا ہے اپنے بھائی کی شادی ہولینے دو پھر منگنی ہوجائے گی جاؤ جاکر اب تیار ہو ٹائم پر پہنچنا ہے ۔۔
نگہت بیگم نے گھور کر اسے ڈانٹے ہوۓ کہا پھر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔۔ ان کے جاتے ہی ہدبر منہ لٹکاتا تیار ہونے چلا گیا۔۔۔
ہاشم ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کر رہا تھا جب نظر کمرے میں پڑی
ایک طائرانہ نظر ڈال کر خوبصورت سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا۔۔
آدھے گھنٹے پہلے ہی تو کمرے کو گلابوں اور کینڈلز سے سجایا گیا تھا اور وہ کتنی ہی بار کمرے پر نظر دوڑا چکا تھا
آج تہذیب اسکی ہوجائے گی ہمیشہ کے لیے جسے کتنے برس دور رہ کر بھی بھولا نہیں سکا تھا۔۔
“ہاشم بھائی تیار ہوگئے تو آجائیں ماموں کی فیملی بھی آئی ہے۔۔۔ حماد کمرے میں جھانکتا اسے اطلاع دیتا واپس چلا گیا .
جب کے ہاشم ماموں کی فیملی کا سن کر چونک گیا۔۔
“امی نے انہیں بھی بلایا ہے۔۔۔خود کلامی کرتا ایک نظر پھر خود کو دیکھ کر کمرے سے نکل گیا۔۔
رات کے آٹھ بجے وہ لوگ بارات لے کر بنکیوٹ پہنچے ۔۔
عاصم صاحب کی فیملی نے پرتاک استقبال کیا آج وہ بے تحاشا خوش تھے اپنی بیٹی کے لئے۔۔۔
تہذیب برائیڈل روم میں تعدیل کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی دلہن کے روپ میں وہ بےتحاشا حسین لگ رہی تھی۔۔۔ جب کے تعدیل بھی آج غضب ڈھا رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر گزری تھی جب روم میں نکاح خواہ کے ساتھ بڑے بزگ بھی داخل ہوۓ۔۔۔
نکاح پڑھواتے ہی سب باہر نکل گئے جب کے تہذیب اپنے باپ کے گلے لگ کر رونے لگی یکدم ہی روم میں تعدیل نے زور و شور سے رونا شروع کیا بینش بیگم اپنا سر پیٹ کر رہ گئیں۔۔
“ت تم تم ک کیا پا پاگ پاگلوں ک کی طرج ر رو رہی ہ ہو رخ رخصتی م میری ہ ہے ہا تم تمہاری ۔۔ تعدیل اسکے گلے لگی جب تہذیب نے اسے جھڑکا۔۔۔
“ارے آپی اس سے آپ رونا بھول کر مجھے چپ کروانے لگ جائیں گی نہ اور دیکھیں آپ رونا بھول کر مجھے گھور رہی ہیں۔۔۔
تعدیل آنسوں پوچھتی سمجھداری سے بولی تہذیب کے ساتھ عاصم صاحب اور بینش بیگم بھی ہنس دیے۔۔
نکاح کے بعد مبارک سلامت کا شور اٹھا۔۔۔ہاشم سب سے اسٹیج پر ہی ملتا مبارکباد وصول کر رہا تھا
جب ارتضیٰ جو ریحان اور شمائل کو بھی ساتھ لایا تھا ہاشم کے مقابل آیا ریحان اور شمائل دونوں نے ہاشم کو مبارکباد دی
جب کے ارتضیٰ اسے دیکھنے لگا اچانک آنکھوں میں کسی خیال کے تحت چمک در آئی۔۔
آواز تھوڑی بلند کرتے ہوۓ کہنے لگا تاکہ اسٹیج پر اسکے آفس کے کولیگ بھی سن لیں
“شادی بہت بہت مبارک ہو ہاشم وقاص لیکن مجھے ایک بات کا افسوس ہے اچھے خاصے ہو ماشاءالله تمہے تو کوئی بھی لڑکی یوں چٹکیوں میں مل جاتی
پھر ایک ہکلی لڑکی سے شادی کرنے کی بیوقوفانہ حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ارتضیٰ چہرے پڑھ تمسخرانہ مسکراہٹ لئے اسے دیکھتے ہوۓ بولا جس کا چہرہ سپاٹ ہوگیا۔۔۔
“کبھی کسی سے بے گرز محبت کی ہے ارتضی احمد ایسی محبت جو ہوس سے پاک ہو۔۔۔ ایسی محبت جسے لفظوں کے سہاروں کی ضرورت نہ پڑی ہو ؟
ہاشم ایک قدم آگے بڑھتا اسکے کندھے سے نادیدہ گرد صاف کرتا ہلکی مگر سرد آواز میں پوچھنے لگا جو اسکی بات پر سلگ کر اسکے ہاتھ کو اپنے کندھے سے جھٹکے سے ہٹا کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے کھڑا رہا ۔۔۔
“اچھے ڈایلوگ ہیں لیکن صرف کہنے اور سننے کے لئے ورنہ یہ جو تم محبت کی بات کر رہے ہو نہ کچھ عرصے بعد سب ختم ہوجائے گی تتت افسوس جب ایک بات پوری سننے کے لئے پانچ منٹ انتظار کرنا پڑے گا۔۔
ارتضیٰ نے اسے غصّہ دلانے کے لئے تہذیب کا مذاق بنانا چاہا لیکن ہاشم کوئی بھی تاثر دیے بغیر اسٹیج سے نیچے اتر کر تہذیب کی طرح بڑھنے لگا
جو دلہن بنی نظریں جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی اسے دیکھتے ہی ہاشم کے چہرے پر گہری مسکراہٹ چھائی۔۔۔
قریب پونچھتے ہی ہاشم بے اسکا ہاتھ تھاما دونوں ہوٹنگ اور مووی بنواتے اسٹیج پر چڑھ کر صوفے پر بیٹھ۔ گئے۔۔
ارتضیٰ پہلے ہی غصّے سے دونوں دوستوں کے ساتھ
اسٹیج سے اتر کر بینکیوٹ سے نکل گیا اسے کوئی پرواہ تھی بھی نہیں اسکی طرف سے سب بھاڑ میں جائیں۔۔۔
امی۔ ۔
کیا ہوا تعدیل بینش بیگم نے پلٹ کر تعدیل کو دیکھا
“آپ ملیں کیا نگہت آنٹی کی بھابھی سے کچھ کہا تو نہیں۔۔ تعدیل نے فکرمندی سے کہا وہ اپنی ماں کو نیلم بیگم کے پاس کھڑا دیکھ چکی تھی۔
“نہیں کچھ نہیں کہاں یہ تو نصیبوں کی باتیں ہیں۔۔۔ اچھا یہ سب چھوڑو جاؤ ذرا تہذیب کے پاس کہیں گھبرا نا رہی ہو۔۔۔بینش بیگم مسکرا کر بتاتیں اسے بولیں جو انکی بات سن کر مسکرا دی تھی۔۔
“امی آپی کے ساتھ اب ہاشم بھائی ہیں نا ابھی میں وہیں سے آرہی ہوں بار بار آپی کو دیکھ کر انکے کان میں کچھ کہ رہے ہیں بیچاری میری آپی شرم سے لال پیلی ہو رہی ہیں ہاہاہا۔۔
“چل شریر
“ہاہاہا ارے سچ کہ رہی ہوں کوئی آرہا ہے تو فاراً سیدھے ہوجاتے ہیں۔۔
تعدیل نے ہنس کر شرارت سے کہا بینش بیگم مسکراہٹ دباتیں گھور کر آگے بڑھ گئیں۔
تعدیل ہنستی ہوئی پیچھے مڑی سامنے ہی ہدبر کھڑا اسے گھور رہا تھا۔
“کیا ہوا ایسے کیوں گھورا جا رہا ہے۔۔ تعدیل نے کمر پر ہاتھ ٹیکا کر کہا۔۔۔
“تمہے ہر کوئی نظر آرہا ہے سوائے میرے
“ہیں ؟ یہ کب ہوا ؟ تعدیل نے اچھنبے سے کہا ہدبر اور تپ گیا۔۔
“جب سے ہم آئے ہیں محترمہ
“اوہ اچھا لیکن مجھے تو آپ بہت اچھے سے نظر آرہے ہیں تعدیل نے مزے سے کہا ہدبر نے گورتے ہوۓ اسکا ہاتھ پکڑا اور چلتا ہوا بیکیوٹ کے دروازے کی طرف آگیا جہاں لوگ نہیں تھے۔۔
رسموں کے ساتھ ہی مووی اور تصویروں کے طویل سلسلے کے بعد کھانے کھل گیا۔۔۔
ساڑے گیارہ بجے تک رخصتی کے لئے سب بینکیوٹ سے نکل کر گاڑی کی طرف بڑھنے لگے. ۔۔۔
تہذیب روتی ہوئی اپنے ماں باپ اور پھر بہن سے ملی۔۔
“میری بیٹی کا ہمیشہ خیال رکھنا کبھی اس سے بدگمان نہ ہونا ہاشم بیٹا۔۔۔ عاصم صاحب اسکے گلے لگتے ہوۓ بولے جسے اپنے باپ کی شدّت سے یاد آئی کاش وہ زندہ ہوتے تو اپنے بیٹے کو دولہا بنتے دیکھتے۔۔۔
“ابو آپ فکر مت کریں۔۔۔ہاشم نے بے ساختہ عاصم صاحب کو کہا جو سنتے ہی خوشی سے آبدیدہ ہوگئے۔۔۔
“خوش رہو۔۔۔۔
سوا بارہ بجے تک وہ لوگ گھر پہنچے جب کے نیلم بیگم راستے سے ہی احمد صاحب کے ساتھ کل انے کا کہ کر اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئے نیلم بیگم کو تہذیب رشتے کے انکار کرنے کے بعد سے ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی نیلم بیگم ان لوگوں میں سے تھیں جو منہ پر اچھی اور دل میں بغض رکھتے ہیں۔۔۔
کچھ رسموں کے بعد تہذیب کو وردہ پھوپھو ہاشم کے روم میں لے گئیں۔۔۔
“امی ابھی میں نے اور تصویریں کھچنی تھیں اپنے ساتھ اپنے بھابھی کو کمرے میں بھیج دیا۔۔۔ ہدبر نے منہ بنا کر کہا۔۔
“اتنی تصویریں تو کھینچی ہیں اور کتنی چاہیے۔۔۔نگہت بیگم نے گھور کر کہا۔۔۔
“امی مجھے پتہ ہے یہ ہماری ہونے والی بھابھی کو تصویریں دیکھا کر جلانا چاہتے ہیں کیوں کے اب بھابھی ہمارے پاس ہیں کیوں ہدبر بھائی ٹھیک کہا نہ۔۔۔
حماد نے شرارت سے کہا ہدبر نے اسے گھورا جب کے سب ہنس دئے ہاشم سب کو باتوں میں لگا دیکھتا نگہت بیگم کے سر پر پیار کرتا تیزی سے سیڑیاں چڑھتا کمرے کی طرف بڑھا جب حماد کی نظر پڑی۔۔
“ہاشم بھائی کو کیا ہوا ایسے بھاگ کیوں رہے ہیں ۔۔ حماد کی بات پر ہدبر اور ردا نے ایک دوسرے کو پھر “پکڑو”کہتے بھاگے۔۔۔
نگہت بیگم اور وردہ بیگم ہنسنے لگیں جب کے حما ابھی بھی ناسمجھی سے بیٹھا رہ گیا۔۔۔
تہذیب سر جھکائے بیٹھی مہندی اور چوڑیوں سے سجے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی دل کی دھک دھک اسے اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی
جب دروازہ کھولتے ہاشم اندر آیا خاموش فضا میں اسکی پھولی سانسیں بخوبی اسکے کانوں میں پڑھ رہی تھی
جب دھڑام کی آواز پر تہذیب نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں ہدبر اور ردا دونوں زمین بوس چکے تھے
جب کے ہاشم انکے آندھی طوفان کی طرح دروازے سے ٹکراتے ہوۓ اندر آکر گرنے پر حیران ہوا
ہاشم جو تھوڑے سے کھولے دروازے کو سانس ہموار کرتا بند کرنے لگا تھا اس طرح آنے سے برق رفتاری سے پیچھے ہٹا تھا ورنہ آج اسکی ناک ضرور ٹوٹتی۔۔
“تہذیب گھبرا کر اپنا بھاری شرارہ سمبھالتی اٹھ کر انکے قریب جانے لگی جو چہرے پر میسنی سی مسکراہٹ سجائے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے اس طرح کمرے میں کون آتا ہے۔۔۔ہاشم جانتا تھا وہ اسی کے پیچھے آئے ہیں لیکن یہاں تک پیچھے آئیں گے یہ تو سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔
“سوری ہاشم بھائی ہم تو نیگ لینے گرے۔۔۔ نہیں مطلب آئے تھے وہ یہ چھوٹا پیس آگے تھا جلدی میں پتہ ہی نہیں چلا ۔۔ہدبر بوکھلا کر بولا ردا نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“ہدبر بھائی۔۔۔ردا نےاحتجاً کہا جو اسکے قد کی وجہ سے اسے چھوٹا پیس کہ رہا تھا۔۔
“تہذیب مسکرانے لگی ہاشم تیزی سے اسکے پیچھے اکر کھڑا ہوگیا۔۔
“اچھا اچھا ٹھیک ہے بھاگو اب۔۔۔۔ہاشم نے دونوں کو کمرے سے نکالنا چاہا جو بنا نیگ لئے ٹلنے والے نہیں تھے جب کے تہذیب ہاشم کے اتنا نزدیک کھڑا ہونے پر نظریں جھکا کر انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔۔
“کتنے تیز ہیں پیسے دیں ورنہ میں یہاں سے نہیں جانے والا۔۔۔ ہدبر کہتا صوفے پر جا بیٹھا۔۔۔
“ابے یار تم بھیگ منگے۔۔۔۔
“ہا ہاشم ا ایسے تت تو م مت کا کہیں۔۔۔تہذیب بے ساختہ پلٹ کر بولی لکین اسے اپنے نزدیک خود کو دیکھتا پکڑ دوبارہ نظریں جھکا گئی۔۔۔
“اوئے ہوئے دیکھا ایسی ہوتی ہیں بھابھی چلیں اب دیں ردا بولو تم۔۔۔۔۔ہدبر خوش ہوکر کہتا ردا سے بولا جو ساتھ ہی ہدبر سے منہ بنائے بیٹھی تھی۔۔۔
“کل لے لینا ابھی جاؤ ورنہ بلاؤں امی کو بلاؤں ۔
“ہاشم بھائی پھلے نیگ پلیز ردا چلتی ہوئی ہاشم کے سامنے آتی ہاتھ آگے کرتی ہوئی بولی۔
ہاشم نے ایک نظر تہذیب کو مسکرا کر دیکھا پھر والٹ سے پانج ہزار کے چار نوٹ نکال کر دو اسکی ہتھیلی پر رکھے۔۔۔
“تھینک یو ہاشم بھائی ردا چہک کر کہتی ہدبر کو زبان چڑھا کر باہر بھاگی ہاشم چلتا ہوا اسکے سامنے جا کھڑا ہوا جو اب منہ پھولا رہا تھا۔
“یہ لو یار زنانہ حرکتیں مت کرو ایک نوٹ حماد کو دینا ہے میں پوچھوں گا۔۔۔ہاشم اسے پیسے دیتا وارن کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
“اسے کیوں بھئی اور اس پدی کو دس ہزار یہ کہاں کا انصاف ہے۔۔۔ہدبر کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔۔
“بہن ہے اور یہ خالصتاً بہنوں کا حق ہے کیوں تہذیب ہاشم نے انکھوں کو چھوٹا کرتے ہوۓ ہدبر کو کہتے تہذیب کو دیکھا جو مسکراہٹ ضبط کرتی سر اثباب میں ہلانے لگی۔۔
“ہمم۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔ فائن۔۔۔ کول۔۔۔ اوکے۔۔۔۔ ہدبر بولتے بولتے
دروازے تک پہچا پھر یکدم “میں پھر بھی نہیں دوں گا ” کہتا بنا پلٹے کمرے سے نکل گیا۔۔
جاری ہے
