Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06
تہذیب روتی بلکتی بستر سے اٹھی جگہ جگہ سے لباس پھٹا ہوا تھا بال بکھرے چہرے پر انگلیوں کے نشان صاف واضع تھے ہونٹ کے کنارے سے خون رس رہا تھا۔۔۔۔
بینش بیگم کا اسے اس حال میں دیکھ کر دل کٹ گیا۔۔۔۔
“تمہے اسکارف کی کیا ضرورت ہے چھوڑو اسے” اپنے کہے الفاظ کسی چابک کی طرح بینش بیگم کے سینے پر کھوپے۔۔
“تعدیل تیزی سے تہذیب کی طرف بھاگی رضائی اٹھا کر اسے اڑا کر لپٹ کر آواز سے رونے لگی ۔۔۔
زبیر جو کھڑا گھبرا رہا تھا کچھ سوچتا ہوا اپنی بہن کی طرف بڑھا۔۔۔
“پاس مت آنا دفع ہوجا۔۔۔بینش بیگم ہلک کے بل چیختی ہاتھ میں پکڑے بیلن کو پوری قوت سے اسکی طرف پھینکا جو بلبلا کر رہ گیا۔۔۔۔۔
“کاش کاش تو میرا بھائی نہ ہوتا کتنا غلیظ ہے تو میری بیٹی میری۔۔۔
“کون سی بیٹی ہاں سوتیلی بیٹی ہے سمجھی یہ اچانک سے میری بیٹی کب سے ہوگئی ایک کام کر آپی اسے مجھے دے دے۔۔۔۔
نہیں نہیں یہ میری آپی ہے میں ابّو کو بتاتی ہوں۔۔۔۔ تعدیل نے تڑپ کر کہا اور بیڈ سے اتر کر باہر کی طرف دوڑ لگا دی
تہذیب خوف سے بیڈ سے اتر کر اپنی بہن کے پیچھے بھاگی
“رو روکو روکو اپنی بیٹی کو۔۔۔۔۔زبیر کی زبان لڑکھڑا کر رہ گئی۔۔
بینش بیگم اسی طرح کھڑی رہیں۔۔۔۔۔زوبیر کو سمجھ نہیں آیا کیا کرے جب اپنی ہی بہن کو دھکّا دیتا باہر کی طرف بھاگا۔۔
بینش بیگم زور سے قالین پر گریں۔۔۔
“نہیں زبیر خدا کا خوف کر زبیر !! بینش بیگم زور سے چیختی اٹھ کر لڑکھڑاتی ہوئی کمرے سے نکلیں۔۔۔۔
ہانپتی کانپتیں لاؤنج میں آئیں جہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔
“یا اللّه تعدیل !!!!۔۔۔۔۔تہذیب !!!۔۔۔۔۔ تعدیل !!!! بینش بیگم زور زور سے چیخ رہی تھیں جب صوفے کے پیچھ تہذیب اور تعدیل کو بیٹھے دیکھا۔۔۔
بینش بیگم تیزی سے ان دونوں کے قریب جاکر بیٹھتیں گلے سے لگا کر رونے لگی۔۔
“امی ماموں کے ہاتھ میں چھرا تھا اس لیے ہم دونوں جلدی سے یہاں چھپ گئیں۔۔۔۔ اور اور وہ بھاگ گئے
امی میں بہادر نہیں ہوں نہ امی۔۔۔۔تعدیل ہچکیوں سے روتی ہوئی کہ رہی تھی جب کے تہذیب گم سم بیٹھی خالی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اسے تو پتہ ہی نہیں تھا وہ انکی بیٹی نہیں ہے ۔۔۔۔
“بینش بیگم تعدیل کو سینے سے لگائے تھپک رہی تھیں جب لاؤنج میں کسی نے قدم رکھا۔۔۔
تینوں نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں عاصم صاحب بریف کیس پکڑے اندر آرہے تھے لیکن صوفے کے پاس اپنی بیوی اور بیٹیوں کو دیکھ کر شوک ہوگئے ہاتھ سے بریف کیس چھوٹ گیا
نظریں جیسے تہذیب کی ابتر ہوئی حالت پر ہی ٹہر گئیں۔۔۔ تہذیب باپ کو دیکھتے ہی کھڑی ہوئی اور شاید یہی ایک غلطی کر بیٹھی جگہ جگہ سے کپڑوں کو پھٹا دیکھ کر عاصم صاحب کے دل میں شدید تکلیف اٹھی۔۔۔
بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کر کتنے ہی لاتعداد بھیانک خیالوں نے مل کر انکے دل کو جاکڑ لیا تھا۔۔۔ یکدم تکلیف برداشت سے باہر ہوئی سینے کو مسلتے عاصم صاحب نیچے گرتے چلے گئے۔۔۔۔
اپنی بیٹیوں کے لئے تو باپ بہت حساس ہوتے ہیں۔۔۔۔۔
“ہاشم بھائی چلیں ہم ساِئیکل پر ریس لگاتے ہیں آج تو ارتضیٰ بھائی بھی آئے ہیں۔۔۔۔۔۔
عریشہ ہاشم کو کمرے میں آکر چہک کر بولی جو کل کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا .
“کل ٹیسٹ ہے عریشہ تبھی میں مل کر آگیا۔۔۔ ہاشم کتاب پر نظر جمائے ہوۓ بولا۔۔
“ہاشم بھائی مجھے پتہ ہے آپ ارتضیٰ بھائی کی وجہ سے کہ رہے ہیں۔۔۔ عریشہ کمرے میں رکھے فلور کشن پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔
“غلط ایسا کچھ نہیں ہے ہوسکتا ہے وہ مجھے پسند نہ کرتا ہو۔۔۔ہاشم نے کتاب بند کر کے اٹھ کر اسی کے سامنے دوسرے فلور کشن پر بیٹھ کر کہا۔۔۔
“ہمم ہوسکتا ہے لیکن کیوں آپ تو بہت اچھے ہیں نا۔۔۔۔عریشہ ایک ہاتھ کو تھوڑی کے نیچے رکھتی الجھتے ہوۓ پوچھنے لگی
جس کا جواب ہاشم کے پاس بھی نہیں تھا
“پتہ نہیں اور ضروری تھوڑی ہے ہر کسی کی پسند ایک جیسی ہو۔۔ہاشم نے کندھے اچکا کر کہا۔۔
جب ملازمہ نوک کرتی کھانے کا کہتی واپس چلی گئی۔۔
“تم چلو عریشہ میں اتا ہوں۔۔۔ ہاشم کہتا دوبارہ اپنی اسٹڈی ٹیبل کے پاس آیا
عریشہ کے جاتے ہی ہاشم نے دراز کھول کر اندر رکھی سونے کی چین کو نکال کر دیکھا جس میں پلیٹ کی طرح کے لاکٹ پر تہذیب کا نام کندہ ہوا تھا دو دن پہلے ہی تو اسے ڈیسک کے پاس پڑا ملا تھا۔۔۔۔
وہ اسے واپس دے سکتا تھا لیکن وہ اسے اپنے ساتھ امریکہ لیکر جائے گا۔۔۔
یکدم دوبارہ دروازہ نوک ہوا ہاشم نے تیزی سے ہاتھ میں پکڑی چین واپس رکھی ۔۔۔
“ہاشم بھائی پھوپھو بلا رہی ہیں۔۔۔
“ہاں چلو۔۔۔ہاشم مسکراتا عریشہ کے ساتھ باہر نکل گیا۔۔
ہسپتال کے کوریڈور میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔۔۔
بینش بیگم شمائلہ بیگم کے کندھے پر سر ٹیکائے ہوۓ تھیں۔۔
جب کے دوسری بینچ پر تہزیب اور تعدیل اپنے باپ کے لئے دعا گو تھیں۔۔۔۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا زوبیر اس حد تک کر سکتا ہے کیسے سامنا کروں گی میں عاصم کا کے میں وہ عورت ہوں جس نے اتنا نیچ بیٹا پیدا کیا ہے جو اپنے ہی نفس کا اس قدر غلام ہو چکا ہے کہ رشتوں کو ہی پامال کرنے لگا۔ میں بہت شرمندہ ہوں بینش ہوسکے تو مجھے معاف کردینا شاید میری تربیت۔۔ شمائلہ بیگم اور کچھ کہتیں اس سے قبل ہی بینش بیگم نے انکی بات کاٹ دی۔۔
“نہیں امی ہر بار وجہ تربیت نہیں ہوتی ہر بار ماں باپ کو قصوروار نہیں ٹہرایا جاتا یہ معاشرہ یہ لوگ ہمارا خود کا اندر برا ہے یا اچھا ؟۔۔۔ ماں باپ تو اولاد کی اچھی تربیت کرتے ہیں۔۔
اور بچے جب بڑے ہوجائیں تو ماں باپ کو ناسمجھ بچہ سمجھنے لگتے ہیں اور پھر بعد میں غلطی کرنے پر ماں باپ کی تربیت کا رونا روتے ہیں کے ہماری تربیت تو ہمارے بڑوں نے کی بیشک بچہ اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتا ہے لیکن وہ بچہ عمر بھر بچہ رہتا ہے ؟ کیا شعور کی منزلوں کو تہہ کرتا اسے اچھے برے کی تمیز کا اندازہ نہیں ہوتا۔۔۔ کیوں ایسا کیوں امی۔۔آپ نے اور ابّو نے زوبیر کو پڑھایا اس کی شادی کروائی اپنی زمیداری اپنا فرض نبھا لیا باقی اب؟ اب جو وہ کر رہا ہے یہ اسکا خود کا فیل ہے۔۔
بینش بیگم بھرائی ہوئی آواز میں کہ رہی تھییں جب ڈاکٹر باہر آئے۔۔۔
“ڈاکٹر کیسے ہیں وہ ؟ کیا ہوا ہے؟ بینش بیگم تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
“ہارٹ اٹیک۔۔۔۔مائینر اٹیک ہے۔۔۔۔ڈاکڑ نے جیسے سب کے سروں پر بم پھوڑا۔۔
“کک۔۔۔بینش بیگم کی آواز جیسے اندر ہی دب کر رہ گئی۔۔۔
“خطرے کی کوئی بات نہیں ان شاء اللّه جلد ہی
صحتیاب ہوجائیں گے کچھ دیر تک روم میں شفٹ کردیں گے پھر مل سکتے ہیں لیکن دیھان رہے ابھی زیادہ بات نا کریں۔۔۔.
ڈاکٹر کہ کے تعدیل کے سر پر ہاتھ رکھتے آگے بڑھ گئے جب کے بینش بیگم وہیں بینچ پر ڈھہ گئیں۔۔
“اللّه تجے سیدھی راہ دیکھائے زبیر شمائلہ بیگم روتے ہوۓ بولیں جب کے تہذیب انھیں دیکھتی رہ گئِی۔۔
“اتنا سڑا ہوا منہ کیوں بنایا ہوا ہے؟ شمائل ارتضیٰ کے ساتھ بینچ پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔
“میری مرضی تجھے کیا ہے ؟ ارتضیٰ نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔۔
“اچھا ٹھیک ہے یار بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں۔۔۔
شمائل کہتے ہوۓ کلاس سے نکل گیا جب کے ارتضیٰ ہاشم کی پشت کو گھورنے لگا پھر اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
بریک ٹائم تھا اور ہاشم ابھی تک یہی سوچ رہا تھا تہذیب آج اسکول کیوں نہیں آئی۔۔۔
“وہ کیوں نہیں آئی آج ؟ پھر اگزیمز شروع ہوجائیں گے مجھے بتانے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔۔
“ہاشم خود سے کہتا نچلا لب کاٹنے لگا۔۔۔
“جانے کہاں ملیں منزلیں۔۔۔۔۔
“کہیں کھو نا جائیں ہمارے راستے۔۔۔۔” (امرحہ)
ایک ہفتے بعد :
کل سے میں دوبارہ آفس جانا شروع کروں گا تم ماں بیٹیوں کی وجہ سے اتنا آرام کرلیا یہی غنیمت جانو۔۔۔
عاصم صاحب نے دودھ کا گلاس لیتے ہوۓ کہاں پھر بینش بیگم کی کلائی تھام لی۔۔۔۔
“بیٹھو۔۔۔۔عاصم صاحب کے کہنے پر بینش بیگم ہچکتاتے ہوۓ بیٹھیں۔۔۔
“کافی دیر دونوں میں خاموشی حائل رہی۔۔۔۔۔۔
جو کچھ ہوا کسی غیر نے نہیں بلکے اپنے نے کیا ہاں پیٹھ پر چھرا کھپا ہے۔۔۔ جس کا زخم ہر بار کریدنے سے تازہ ہوکر انکی روح کو بھی لہو لہان کرے گی۔۔۔۔
“آپ کا قصور نہیں ہے شاید میرا ہے یا شاید سبق کے میں اسے جانتا تھا پھر بھی صرف تمہاری خوشی کے لئے کے وہ تمہارا بھائی ہے اور بچیوں کا ماموں لیکن میں غلط ثابت ہوا وہ میری تہذیب کا ماموں نہیں بن سکا میں نے اپنی بیٹی کو ہماری بیٹی کہ کر تمہاری گود میں ڈالا کے وہ ماں کی ممتا سے محروم نہ رہے لیکن اس شخص کی وجہ سے میری بچی گم سم ہوگئی تم سے ہچکچانے لگی ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں کب تک چھپے گا۔۔۔۔
عاصم صاحب بھرائی ہوئی آواز میں دھیمے لہجے میں بول رہے تھے بینش بیگم آنسوں بہاتیں عاصم صاحب کو دیکھ رہی تھیں جو بیٹی کے غم میں کمزور اور بوڑھے لگ رہے تھے۔۔
اچانک عاصم صاحب نے انکے سامنے ہاتھ جوڑے۔۔
“میری میری تہذیب سے کبھی سوتیلا سلوک مت کرنا اسکا دنیا میں میرے علاوہ کوئی نہیں ہے اگر میں مر گیا۔۔۔۔
“اللّه نا کرے ایسا مت کہیں وہ ہماری بیٹی ہے ہماری بڑی بیٹی میں سمبھال لونگی اسے دیکھئے گا وہ دوبارہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔
بینش بیگم نے یکدم ہی انکے لبوں پر ہاتھ رکھ کر تڑپ کر کہا۔۔۔
“عاصم صاحب نے مطمئن ہوکر اسکے سر پر اپنی تھوڑی ٹیکا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
“تہذیب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لئے اس سال پیپرز نہیں دے سکے گی۔۔۔ عاصم صاحب پرینسل کو کال پر کہ رہے تھے۔۔
تہذیب جو کمرے میں داخل ہو رہی تھی پرسکون سانس لیتی تشکر بھری نظروں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی پھر واپس پلٹ گئی
“ہاں بس بیماریاں بتا کر تھوڑی آتی ہیں یار۔۔۔
“چلو کل ملتے ہیں
“ہاں ہاں ٹھیک ہے عاصم صاحب نے کہ کر کال ڈسکنیکٹ کی۔۔۔ اسکول کا پرنسیپل انکا دوست تھا۔۔۔
“موبائل رکھنے کے بعد دروازے کی طرف دیکھا وہ جانتے تھے کون آیا تھا گہری سانس لیتے بالکنی میں چلے گئے۔۔۔
“اوئے ہوئے آج کس خوشی میں پارٹی دی ہے۔۔۔۔ریحان نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ ارتضیٰ سے کہا جو لبنیٰ سے کچھ کہ رہا تھا۔۔
“ہاہاہا میں بتاتا ہوں کیوں کے آج ارتضیٰ احمد کا اول دشمن ہاشم وقاص اپنی فیملی کے ساتھ امریکا شفٹ ہوگیا کچھ “سالوں” کے لئے بیچارہ جانا نہیں چاہتا تھا پر کیا کر سکتے ہیں
کیوں ارتضیٰ ٹھیک کہا نا۔۔۔اس سے پہلے ارتضیٰ جواب دیتا شمائل کھڑا ہوتا پرجوش انداز میں بولا۔۔۔
“یسسس۔۔۔۔۔ ارتضیٰ نے جوش میں تھمز اپ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
“اوہ بیچاری ہکلی کا دوست چلا گیا۔۔۔ لبنیٰ کو یکدم تہذیب یاد آئی۔۔
“یار لبنیٰ فضول لوگوں کا نام مت لو میرا موڈ آج بہت اچھا ہے اوکے۔۔۔
ارتضیٰ منہ بناتے ہوۓ کہ کر ڈیگ کا والیوم تیز کرتا سب کے ساتھ ناچنے لگا۔۔۔
“آپی کیا ہوا نیند نہیں آرہی ؟ تعدیل جو اس حادثے کے بعد تہذیب کے ساتھ ہی سونے لگی تھی اسے تحفظ محسوس کروانے کے لئے اٹھ اٹھ کر اسے دیکھتی کبھی اسکے گرد ہاتھ رکھ کر لیٹ جاتی۔۔۔۔اٹھ کر بولی۔۔
“نن نہیں۔۔۔
“کیوں کہیں آپ کو سر میں درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔تعدیل فکرمند سی کہتی اٹھ بیٹھی۔۔
نن نہیں ت ت تم س سس سو ج جج جاؤ۔۔۔تہذیب زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہتی کروٹ لیکر آنکھیں موند گئی۔۔
کچھ ہی لمحوں میں تہذیب کی آنکھ کے کنارے سے آنسوں نکل کر تکیے کو بھگانے لگے۔۔۔
ہاشم ہاں وہ ہاشم کے لئے رو رہی تھی جانے کیوں وہ آج یاد آرہا تھا۔۔۔۔
“گم گیا مسافر کچھ خبر ملے نا
کیسا ہے یہ سفر
ہمسفر ملے نا۔۔۔۔” (امرحہ)
جاری ہے۔۔۔
