Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh NovelR50769 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26
No Download Link
891.5K
30
Rate this Novel
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode01 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode02 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode03 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode04 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode05 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode06 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode07 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode08 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode09 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode10 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode11 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode12 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode13 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode14 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode15 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode16 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode17 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode18 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode19 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode20 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode21 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode22 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode23 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode24 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode25 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26 (Watching)Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode27 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode28 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode29 Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Last Episode
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26
Ik Do Qadam Chal Mery Sath Tu by Amrah Sheikh Episode26
“تہذیب میری جان صبر کرو تم ٹھیک ہو یہی ہمارے لئے بہت ہے۔۔۔باقی اس میں بھی اللّه کی کوئی مصلحت ہوگی۔۔۔
بینش بیگم اسکے پاس کرسی پر بیٹھیں ہاتھ پکڑ کر جھک کر تسلی دیتے ہوۓ سمجھا رہی تھیں
جو خالی نظروں سے اپنی ماں کو سن رہی تھی۔۔۔
صبح سے شام۔۔۔شام سے رات ہوگئی تھی لیکن ہاشم ابھی تک اسکے پاس نہیں آیا تھا۔۔۔۔
تہذیب خاموشی سے لیٹی سب کی تسلیاں اور آنسوں دیکھ رہی تھی
خود ایک آنسوں بھی اسکی آنکھ سے نہیں بہا تھا۔۔۔۔
ہاشم کا ابھی تک کمرے میں نا آنا کتنے ہی وہم اسکے اندر پھیلا رہی تھی لیکن وہ چپ تھی۔۔۔
“آپی جلدی سے ٹھیک ہوجائیں پھر میری شادی میں شاپنگ آپ نے ہی کروانی ہے۔۔
تعدیل اس کے ماتھے کو چومتی پیچھے ہوئی جب تہذیب نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔
“ہا ہاشم۔۔۔۔تہذیب نے دھیمی آواز میں کہا۔۔۔ یَکدم دروازہ کھولتا ہاشم اندر آیا۔۔۔
دونوں کی نظر دروازے کی طرف گئیں جہاں ہاشم ہشاش بشاش قریب آرہا تھا ہاتھ میں بڑا سا گلاب کا بوکے اور چاکلیٹ کا ڈبہ تھامے ہوۓ تھا۔۔۔
“لو جی ہاہاہا ہاشم بھائی آپ کیا ڈیٹ پر آئے ہیں۔۔۔
تعدیل ہنس کر شرارت سے کہتی باہر نکل گئی۔۔۔
تعدیل کے جاتے ہی ہاشم اسکی طرف آیا۔۔۔
“کیسی طبیعت ہے میری بلّی۔۔۔۔ہاشم نے بوکے اسکے ہاتھ میں دیتے بیٹھتے ہوئے جھک کر اس کی پیشانی چومی۔۔۔
“ک کہاں تت تھے ص صبح سے ک کتنا ان۔۔۔
“ششش!! پہلے تم صحتیاب ہوجاؤ گھر جاکر آرام سے میری باہوں میں قید ہوکر سوال کرتی رہنا۔۔۔
ہاشم نے یکدم اسکی بات کاٹ کر اسکے چہرے کو ہاتھوں میں تھام کر کہا۔۔۔
“ہا ہاشم ہم ہمارا بچہ۔۔ تہذیب نے کہتے ہی سختی سے آنکھیں میچین تہذیب کی انکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔۔
ہاشم نے ہونٹ بھینچ کر آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو بہنے سے روکا۔۔۔
“تمہاری فیورٹ چاکلیٹس لایا ہوں دیکھو۔۔۔ ہاشم بات بدلنے کے گرز سے کہتا ڈبے کو کھولنے لگا۔۔
“و وہ بچ بچ جا جاتا ہا ہاشم۔۔
“اسکا ٹیسٹ اچھا ہے میں نے ایک نکال کر کھائی تھی۔۔۔ ہاشم اسکی بات ان سنی کرتے ہوۓ بولا
جو بہتے آنسوؤں کے ساتھ اسکی ٹی شرٹ کے کنارے کو پکڑے دھیمی آواز میں کہ رہی تھی۔۔
“ار ارتضیٰ ن نے ہم ہمارے بچ بچے ک کو مار ڈ ڈالا۔۔۔۔
ہاشم کا ریپر کھولتا ہاتھ ساکت ہوگیا ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کے اسکا بچہ تشدد کی وجہ مرا تھا
سب کے سامنے بتانا ڈاکٹر کو مناسب نہیں لگا۔۔۔
بے یقینی سے ہاشم نے اسے دیکھا جو زاروقطار روتے ہوۓ ہاشم کو سب بتاتی جا رہی تھی۔۔
جیسے جیسے وہ بتاتی گئی ہاشم کا
غصّے سے برا حال ہوگیا۔۔
دونوں ہاتھوں کو سختی سے بند کرتا آنکھوں میں سرخی لئے ایک جھٹکے سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔
سامنے ہی احمد صاحب کو دیکھ کر ایک پل کے لئے روکا۔۔۔ پھر باہر نکل گیا۔۔۔
احمد صاحب نے آنکھوں کو میچ کر گہری سانس لیتے سامنے روتی ہوئی تہذیب کو دیکھ کر خود بھی رو دیے۔۔۔
“گھر میں کوئی نہیں ہے کیا؟ ارتضیٰ نے لاؤنج میں داخل ہوتے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھے ہوۓ
ملازمہ سے کہا۔۔۔
جو سرونٹ کواٹر میں ہی رہتی تھی۔۔۔
“صاحب جی سب ہسپتال۔۔۔۔
اس سے قبل وہ بات مکمّل کرتی لاؤنج کا دروازہ دھاڑ سے کھولا۔
ارتضیٰ ہاشم کو دیکھتے ہی غصّے سے کھڑا ہوا۔۔
“یہ کیا طریقہ ہے جاہل۔۔۔ ارتضیٰ کی بات منہ میں ہی رہ گئی
ہاشم نے پوری قوت سے اسکے منہ پر پنچ مارا ارتضیٰ زور سے نیچے گرا ملازمہ چیختی ہوئی باہر کی طرف بھاگی۔۔۔
ہاشم ارتضیٰ کو گریبان سے پکڑ کر مارتا چلا گیا۔۔۔
جب نیلم بیگم کے چیخنے پر اسکا ہاتھ روکا۔۔ ارتضیٰ کی ناک اور منہ پھٹ چکے تھا۔۔۔
“نیلم بیگم ابھی اپنی فیملی کے ساتھ گھر پہنچی تھی جب ملازمہ نے انہیں بتایا۔۔
احمد صاحب خاموش کھڑے تھے
جب نیلم بیگم تن فن کرتیں ارتضیٰ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر غصّے سے بھرے ہاشم کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگیں
یکدم انکا ہاتھ اٹھا اس سے پہلے ہاشم کے گال پر پڑتا کسی نے بیچ میں ہی ہاتھ روک دیا۔۔۔
نیلم بیگم نے حیران ہو کر احمد صاحب کو دیکھا۔۔۔
جب کے ارتضیٰ عریشہ کے ساتھ ہاشم کو بھی حیران کر گئے تھے۔۔۔
احمد صاحب نے ہاتھ کو زور سے جھٹک کر کھنچ کر نیلم بیگم کے گال پر تھپڑ رسید کیا۔۔۔۔
ارتضیٰ سن کھڑا ہوکر اپنے باپ کو دیکھنے لگا جس نے پہلی بار اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایا تھا۔
“یہ تھپڑ تمہے بہت پہلے ہی پڑ جانا چاہیے تھا لیکن میں ہمیشہ تمہاری حرکتوں پر خاموش رہا۔۔۔ میری بہن کو اجنبی لوگوں کے سامنے ذلیل کر کے گھر سے نکالا میں خاموش رہا لیکن آج میں بلکل خاموش تماشائی بنا ایک کونے میں کھڑا نہیں رہوں گا۔۔۔بہت ہوگیا نیلم اسکے لئے تم میرے بھانجے پر ہاتھ اٹھا رہی ہو اس گندی اولاد کے لئے جس کی ہر ایک خواہش پوری کی دن رات محنت کر کے حلال کمائی کھلائی لیکن جانے یہ اتنا بدبخت نکلے گا اتنا گھٹیا۔۔۔
“بسس ابّو بہت بول چکے آپ اس گھٹیا انسان کے لئے آپ نے امی پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔
“ارتضیٰ غصّے سے کانپتا لڑکھڑاتی زبان سے انکی بات کاٹ کر بولا
جب کے نیلم بیگم ابھی تک سن کھڑی تھیں۔۔۔
“کون گھٹیا میں یا تو ہاں میری میری بیوی کو اپنی گاڑی سے کچل نا سکا تو میرے بچے۔۔۔۔میرے بچے کو مار ڈالا۔۔۔
کیوں کیا ایسا بتا کیوں؟۔۔۔۔کیا بگاڑا تھا اس نے تیرا کیوں کیا بتا۔۔۔ ہاشم نے دوبارہ گریبان پکڑ کر دھاڑ کر کہا
نیلم بیگم اور عریشہ منہ پر ہاتھ رکھے اسکی بات پر حیرت زدہ رہ گئیں۔۔۔
“سننا چاہتا ہے نہ تو سن نفرت کرتا ہوں تجھ سے اب سے نہیں بچپن سے تیری خوشی مجھے برداشت نہیں ہوتی تو ہمیشہ مجھ سے دو قدم آگے رہا ہے میں تجھے روتا تڑپتا دیکھنا چاہتا ہوں سنا تو نے شدید نفرت ہے مجھے تجھ سے
دیکھ مجھے قدرت نے خود موقع دیا تیری سب سے قیمتی چیز اپنے جوتے سے مسل کر رکھ دی تت بیچارہ اگلی سانس ہی نہیں لے سکا ہوگا۔۔۔
ارتضیٰ پاگلوں کی طرح بول کر ہنسنے لگا۔۔
نیلم بیگم جو قریب ہی کھڑی تھی
اس کے پاس سے پیچھے ہوئیں۔۔۔
کوئی اس قدر نفرت کیسے کر سکتا ہے۔۔۔
“ہاشم کی آنکھوں میں آنسوں چمکنے لگے۔۔۔
“میرے بچے کو مار دیا ماموں آپ کے۔۔۔۔آپ کے بیٹے نے میرے بچے کو مار دیا۔۔ میری بیوی کو۔۔۔ ہاشم نے کہتے کہتے روک کر چہرے پر ہاتھ پھیر کر ایک قدم پیچھے لیا۔۔
جاری ہے. ۔۔۔
