Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Last Episode)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

جیسے ہی دروازے کا لاک کھولا۔ تیز خوشبو سے اسکا سر چکرا گیا۔ سامنے ہی وہ رخ پھیرے کھڑی تھی۔ پورے کمرے کا نقشہ بگڑا ہوا تھا۔ سب چیزیں بکھری پڑی تھیں۔ بستر کی ہر چیز نیچے تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل سے سب چیزیں۔۔ نیچے تھیں۔ پرفویم کی بوتلز۔۔ نیچے فرش پے گری کرچی کرچی ہو چکی تھیں۔ کچھ تو یواروں پے بھی ماری گٸ تھیں۔ زیشان کو اپنے کمرے کی ایسی حالت دیکھ یقین نہ آیا کہ یہ اسی کا کمرہ ہے۔ زرگل منہ پے ہاتھ رکھے سامنے دلہن بنی کھڑی اس جوالہ مکھی کو دیکھ رہی تھیں۔ جس نے پلٹنا گوارا نہ کیا تھا۔ ملازمہ بھی وہیں دبک کے کھڑی ہو گٸ۔ زیشان نے لب بھینچے ملکہ کی پشت کو دیکھا۔ اور زرگل کو ملازمہ کے ساتھ جانے کا اشارہ کیا۔ زرگل اس کے کندھے پے ہاتھ رکھتے اسے ٹھنڈا رہنے کی ہدایت کرتی ملازمہ کے ساتھ باہر نکلتی چلی گٸیں۔ ان کے جاتے ہی زیشان نے دروازہ لاک کیا۔ اور ملکہ کے قریب آیا۔ جو رخ موڑے کھڑی غصہ سے آنسو بہا رہی تھی۔ بکھری چیزوں سے بچتا بچاتا وہ اس تک پہنچا تھا۔ ابھی وہ اس سے بات کرتا کہ ملکہ نے ہاتھ میں پکصی چھری سے اسے دور رہنے کی تنبیہ کی۔ زیشان اس کی ہمت دیکھ عش عش کر اٹھا۔

خبردار جو میرے قریب بھی آۓ ۔۔ جان سے مار ڈالوں گی۔۔ تمہیں۔۔ میں۔۔۔! ملکہ کی روٸ آنکھیں اور دہکتے گال۔ بکھرا کاجل گہرے سانس بھرتی وہ سیدھا زیشان کے دل میں اترتی جا رہی تھی۔ زیشان کو اپنا آپ ۔۔ اس کے آگے ہار مانتا محسوس ہو رہا تھا۔

ملکہ۔۔۔! لگ جاۓ گی۔۔ اسے مجھے دے دو۔۔ ! اپنی عادت کے برعکس وہ نرمی سے بولا تھا۔

میں نے کہا پاس مت آنا۔۔! ورنہ۔۔۔؟؟؟ ملکہ نے پھر سے وارن کیا۔

زیشان نے نفی میں سر ہلایا۔ دیکھو۔۔ ملکہ۔۔ ! اسے رکھ دو۔۔ آرام سے بات کرتے ہیں۔۔ زیشان نے پھر سے اسے آرام سے سمجھانا چاہا۔

نہیں سننا مجھے کچھ۔۔ بھی۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔ سننا۔۔! کوٸ بھی میرا نہیں۔۔ سب میرے دشمن ہیں۔۔ کسی نے میرا نہیں۔۔ سوچا۔۔ ! روتے ہوۓ گالوں پے آۓ آنسو سختی سے رگڑے۔ جس سے گال مزید لال ہوگۓ۔ زیشان کو اس کا یہ روپ بھی بری طرح گھاٸل کر رہا تھا۔ وہ اسکی تھی۔۔ اس کی ملکیت۔۔ اس کی ملکہ۔۔! لیکن۔۔ اس کا دل۔۔؟؟ اس کے جذبات ۔۔۔کہیں بھی زیشان ارسل نہ تھا۔ اور اس بات کو زیشان اچھے سے جانتا تھا۔

میں ایک قاتل کے ساتھ کبھی نہیں رہوں گی۔۔۔ چاہے۔۔ ؟؟ مجھے تمہیں جان سے ہی کیوں نہ مارنا پڑے۔ ملکہ اس وقت ہوش و حواس میں نہیں لگ رہی تھی۔ چلو۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ ! مجھے مار کے تم بھی قاتل بن جاٶ۔۔ تم بھی قاتل۔۔ میں بھی قاتل۔۔۔ خب گزرے گی۔۔ جب مل بیٹھیں گے قاتل دو۔۔۔ زیشان نے اسے باتوں میں الجھانا چاہا۔

ننن۔۔نہی۔۔ میں۔۔ قاتل نہیں۔۔۔! ملکہ نے پھر سے آنسو پونچھے۔ میں۔۔۔ میں۔۔ تمہیں نہیں مار سکتی۔۔۔ لیکن۔۔ خود کو تو مار سکتی ہوں۔۔ ناں۔۔۔!

پاگل پن مت کرو۔۔ ملکہ۔۔ ! زیشان کو اب کی بار سخت غصہ آیا۔

تمہارے ساتھ رہنے سے بہتر ہے میں مر جاٶں۔۔! سختی سے کہتی اس نے اب کی بات چھری کا رخ اپنے پیٹ کی طرف کیا۔ وہ خود کو مارتی کہ زیشان نے فوراً سے اس کی کلاٸ پکڑ کے اس پے دباٶ ڈالا۔ وہ تڑپ ہی گٸ۔

چھری اس کے ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے گری۔

پاس پڑا دراز پے سے واس اٹھا کے زیشان کے سر پے دے مارا۔ لیکن زیشان بروقت پیچھے تو ہوا۔ لیکن پھر بھی بچتے ہوۓ ماتھے پے چوٹ لے بیٹھا۔ اس کا سر چکرایا تھا۔ اور پلٹ کے حیرت سے ملکہ کو دیکھا۔ جو ابھی بھی بپھری ہوٸ شیرنی بنی ہوٸ تھی۔ زیشان کے غصہ کا گراف مزید بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کی دونوں کلاٸیوں کو غصہ سے پکڑا۔

چچچچھوڑو۔۔ مجھے۔۔۔۔! وہ درد سے بلبلاتے بولی۔

زیشان نے اسے کھینچ کے خود سے قریب کیا۔ بہت شوق ہے ناں۔۔ خود کو مارنے کا۔۔۔! تو یہ کام میں اپنے ہاتھوں سے سر انجام دے دیتا ہوں۔۔ ویسے بھی تمہاری نظر میں میں تو ہوں بھی قاتل۔۔۔ ! تو ایک قتل اور سہی۔۔۔! زیشان کے ماتھے پے بل پڑے۔

تم۔۔۔تم۔۔ مجھے مارو گے۔۔۔؟؟ معصومیت سے پوچھتے وہ زیشان کو پھر سے اپنی طرف اٹریکٹ کر گٸ۔

تم خود ہی تو مرنا چاہتی ہو۔۔۔! اس کے کان کے پاس آتے سرگوشی کی۔

مجھے۔۔ تمہارے۔۔۔ ساتھ نہیں۔۔ رہنا۔۔! روتے ہوۓ بچوں کی طرح ضدی انداز میں کہا۔ زیشان نے اسکے گالوں سے آنسو پونچھے۔

آپ کہہ کے مخاطب کیا کرو مجھے۔۔!زیشان نے پھر سے ٹوکا۔ تو وہ غصہ سے زیشان کو دیکھتے پھر سے کچھ کہنے لگی۔ کہ زیشان نے ہاتھ اٹھاتے کچھ بھی بولنے سے منع کیا۔

کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں۔۔ میں جانتا ہوں۔۔ تمہیں میرے ساتھ نہیں رہنا۔۔ کیونکہ میں ایک قاتل ہوں۔۔ ! زیشان کا لہجہ سپاٹ تھا۔

کچھ دن رک جاٶ۔۔۔ !میں خود۔۔ تمہارے لیے سارے راستے ہموار کر دوں گا۔ جو فیصلہ ہو گا تمہارا۔ وہی ہو گا۔ یہ وعدہ ہے میرا۔ زیشان نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔ اور وہ ہو بھی ہوگٸ۔

تم۔۔ آپ۔۔؟ سچ کہہ رہے ہیں۔۔ناں۔۔؟؟؟ بے یقینی سے پوچھا۔ ہاں۔۔ بلکل سچ۔۔۔! ہمارے بیچ نکاح بچپن میں ہوا تھا۔ بچپن۔۔۔ جب تم۔۔شاید صرف چار سال کی تھی۔۔ اور۔۔۔ خون بہا میں میرے نکاح میں آگٸ۔ میں نے تب بھی اس نکح کو قبول نہیں کیا تھا۔ میرا مقصد صرف۔۔ اور صرف۔ اپنی ماں کے قاتل کو سزا دینی تھی۔۔ میں۔۔ نے اتنے سال انتظار کیا۔۔ شہیر خانزادہ کی واپسی کا۔۔۔! وہ اصل قاتل تھا۔۔۔ ایسا مجھے۔۔ بتایا گیا۔۔۔! زیشان استھزاٸیہ ہنسی ہنسا تھا۔ ملکہ بس اسے دیکھتی رہ گٸ۔

لیکن۔۔ جب حقیقت کھلی۔۔ تو۔۔ پتہ چلا اپنوں نے ہی لوٹا۔۔ غیروں میں کہاں دم تھا۔۔؟؟ ویسٹ پے ہاتھ رکھے وہ ٹوٹے لہجے میں بولا۔

شاید کوٸ اور وقت ہوتا تو وہ ملکہ کو اچھی خاصی سزا دے چکا ہوتا۔ لیکن۔۔ وہ بے قصور تھی۔۔ اسے وہ ان سب میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔

دھیرے سے نکلتا وہ ایک طرف سے ہوتا اپنے بستر پے جا بیٹھا۔ پورے کمرے کی حلت ابتر تھی۔ ملکہکو اب افسوس ہوا۔ زیشان نے اسے ایک لفظ بھی برا بھلا نہیں کہا۔ اور اس نے سارا کمرہ بگاڑ دیا تھا۔

زیشان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود پے ضبط کیا۔ تم۔۔ دوسرے روم میں چلی جاٶ۔۔ میں یہ روم صاف کروادوں گا۔ بہت ہی نرمی سے کہتا وہ ملکہ کو پہلے والا زیشان نہ لگا۔ لب بھینچے کافی دیر وہ یونہی خاموش کھڑی رہی۔ پھر دھیرے سے چلتی اس کے پاس آٸ۔ کہ پرفیوم کی ایک ٹوٹی شیشی پے پاٶں رکھ دیا۔

آٶچ۔۔۔۔۔! اچانک سے وہ گرنے لگی کہ زیشان نے اسے آگے بڑھ کے تھاما۔

تم ٹھیک ہو ناں۔۔؟؟ زیشان اس کے لیے فکر مند ہوا۔ ملکہ اس کے چہرے پے اپنے لیے فکر دیکھ دنگ رہ گٸ۔ کیا یہ شخص دل کا اچھا انسان ہے۔۔؟؟ خود سے سوال کیا۔ جب کہ زیشان اسے بستر پے بٹھاۓ اب اس کا لہنگا پاٶں سے اوپر کیے اس کے پاٶں سے کانچ نکال رہا تھا۔ آہ۔۔۔۔! ملکہ نے سسکی لی۔ اور زیشان کو روکنا چاہا۔ لیکن زیشان نے دھیرے سے اس کے پاٶں سے کانچ نکالا۔ اور اسے بینڈیج کرنے لگا۔ ملکہ اس اکڑ اور مغرور انسان کو دیکھنے لگی۔ وہ اتنا برا تو نہ تھا۔ جتنا۔۔ ملکہ نے اس کے ساتھ برا سلوک کیا۔ ملکہ کی نظر اس کے ماتھے پے دی گٸ چوٹ پے گٸ۔ اس کا ماتھا سرخ ہوا تھا۔ بے اختیار ہی ملکہ کا ہاتھ اس کے ماتھے پے گیا۔ اسے خود پے افسوس ہوا۔ اس نے زیشان کو تکلیف پہنچاٸ جب کہ زیشان اس کی تکلیف پے تڑپ اٹھا تھا۔ ملکہ کی آنکھوں میں آنسو بہہ نکلے۔ زیشان نے سر اٹھا کے اس پاگل لڑکی کو دیکھا۔ اور اس کے آنسو پونچھے۔ اس کے پاس بیٹھتا وہ اس کے ہاتھوں کو تھام گیا۔

میں قاتل نہیں۔۔ ! اور نہ ہی آج تک کسی کا قتل کیا ہے۔۔ اکثر جو دیکھتا ہے وہ ہوتا نہیں۔۔ ! اور جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں۔۔! میں نے آج تک کسی کو صفاٸ نہیں دی۔ میں زیشان ارسل خانزادہ ہوں۔۔ اپنے قول و فعل کا خود زمہ دار ہوں۔۔ لیکن۔۔ ملکہ۔۔۔! میرے پاس ۔۔ پہلے کوٸ رشتہ نہیں تھا۔ اور ۔۔ کسی رشتے کا ہونا اور اسے کھونے کا ڈر کیا ہوتا ہے۔۔؟؟ تمہیں پا کے جانا ہے۔۔! میں۔۔ ہمارا۔۔ رشتہ نبھانا چاہتا ہوں۔۔۔ تمہیں پا کے کھونا نہیں چاہتا۔۔۔! لیکن۔۔۔؟؟؟ زیشان نے توقف کیا۔

لیکن۔۔۔؟؟؟ بے اختیار ملکہ کی زبان سے پھسلا۔ جب کہ وہ اس کی باتوں میں کھو سی گٸ تھی۔ زیشان نے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا۔

لیکن۔۔ تمہاری نظر میں میں ایک قاتل ہوں۔۔ اور تمہیں میرے ساتھ نہیں رہنا۔۔ اور۔۔ میں اتنا خود غرض نہیں۔۔ کہ۔۔ اپنی چاہت کے لیے۔۔ تمہارے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کروں۔۔! ملکہ نے گہرا سانس خارج کرتے اسے دیکھا۔ مجھے۔۔۔ تھوڑا وقت چاہیے۔۔۔! پلیز۔۔۔ ملکہ کا دل بھی پسیج گیا۔ اس کی بات پے زیشان زیرِ لب مسکرایا۔ مجھے اچھا لگا۔۔۔ کچھ عقل باقی ہے تم میں۔۔! خیر۔۔ چینج کر لو۔۔ ساتھ روم میں۔۔ ! مجھے کہیں جانا ہے۔۔! تو۔۔؟؟

کہاں۔۔؟؟؟ ملکہ نے بیویوں کی طرح فوراً تفتیشی انداز میں پوچھا تو زیشان نے پھر سے مسکراہٹ کو ضبط کیا۔ جلدی آجاٶں گا۔۔ ! اسے جواب دیتا وہ اٹھا تو وہ اسے جاتا دیکھتی رہ گٸ۔

کیا واقعی مجھے۔۔ ہمارے رشتے کو موقع دینا چاہیے۔۔؟؟ دل نے فوراً سے ہاں کہا۔ تو وہ دل کو زوروں سے دھڑکتا محسوس کرنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دن بعد۔

جاوید خان کی جان بچ گٸ تھی۔ لیکن وہ وہیل چیٸر پے آچکے تھے۔ زیشان نے انہیں معاف تو کر دیا تھا۔ لیکن اپنی ماں کا قتل بھلا نہیں سکتا تھا۔ جاوید خان بھی شرمندہ تھے۔۔ زرگل ان کا خیال رکھتی تھیں۔ زیشان بھی ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا لیکن ان سے بات نہ کرتا تھا۔ اور یہ بات انہیں اندر ہی اندر تکلیف سے دو چار کر رہی تھی۔

زیشان اور ملکہ کے ولیمہ جاوید خان کے گھر آنے تک ملتوی ہو گیا تھا۔ جو بعد میں منہا اور معاویہ کے سادگی سے نکاح کے ساتھ ہی کر دیا گیا۔۔ تو وہیں ۔۔ دوسری طرف وہاج اور علیزہ کا نکاح بھی کر دیا گیا۔ سبھی خوش تھے۔ معاویہ تو بے انتہا خوش تھا۔ اس کے من کی مراد بر آٸ تھی۔ لیکن منہا کو ایٹی ٹیوڈ لازمی دکھا رہا تھا۔ جو منہا کو ایک اکھ نہ بھا رہا تھا۔

اکیلے پاتے ہی اس کے پاس چلی آٸ۔ بات سنیں۔۔! منہا نے اسے پکارا تو اس کے جاتے قدم رکے۔ پلٹ کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ جو دلہن کے لباس میں اس کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہی تھی۔ ناراض ہیں۔۔؟ انگلیاں چٹخاتے پوچھا۔

کیا نہیں ہونا چاہیے۔۔؟؟ الٹا اس سے سوال کیا۔ تو منہا چپ سی ہو گٸ۔

پلیز۔۔۔ ناراض نہ ہوں۔۔ ! منہا کو اس کا روٹھا روٹھا انداز اچھا نہیں لگا تھا۔

معاویہ اسے یوں دیکھتا گہرا سانس خارج کرتا اس کے قریب آیا۔ اور اس کے دونوں ہاتھ پیار سے تھامے۔

منہا جانتی ہو۔۔ جب میں پاکستان آیا تھا۔۔ تو نہیں جانتا تھا کہ واپس لوٹ سکوں گا۔ یا نہیں۔۔؟؟ لیکن۔۔ ؟؟ جب تم سے ملا۔۔ میں پاکستان کا ہو کے ہی رہ گیا۔ محبت کی راہیں کٹھن ہیں۔۔ جو آسکو تو ساتھ دو۔۔ یہ رشتہ نبھا سکو تو ساتھ دو۔۔۔۔! بہت مشکلیں سہنی پڑیں گیں۔۔ درد سہنا پڑے گا۔۔ جو یہ درد اٹھا سکو تو ساتھ دو۔۔۔ ! معاویہ۔۔۔؟؟؟ منہا نے جذب کے عالم میں اسے پکارا۔ ایم سوری۔۔۔۔! میری وجہ سے دل دکھا آپ۔۔۔ کا۔۔۔؟؟ وہ اتنی معصومیت سے بولی کہ معاویہ کے دل سے ساری رنجیشیں مٹ گٸ۔ آگے بڑھ کے اس کے ماتھے پے پیار کی پہلی مہر ثبت کی تو وہ مسکرا دی۔ اب حق ہے تم۔۔۔ پے۔۔ میرا۔۔ تا عمر۔۔اس کے گال کو چھوتا وہ اسے مسکرانے پے مجبور کر گیا۔ اسکی شرمیلی مسکراہٹ پے معاویہ کا دل پھر سے بہکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ایٹی ٹیوڈ کسے دیکھا رہی ہو ہاں۔۔؟؟ مونس نے پاس سے گزرتے ہانی کی کلاٸ تھماتے زور سے کھینچ کے خود سے قریب کیا۔ کہ وہ اس اچانک افتاد پے گھبرا اٹھی۔ نظر اچانک سے مونس کی نظروں سے جا ٹکراٸ۔ دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔ تم سے سیکھا ہے۔۔۔! منہ بگاڑا۔

کیا چاہتی ہو۔۔؟؟ اس کی کلاٸ کمر پے لے جا کے اسے خود سے مزد قریب کیا۔

اظہار محبت۔۔۔۔

ہانی نے اس کے پاس ہوتے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ زیرِ لب مسکرایا۔ سب سے مشکل کام ہے۔۔ یہ۔۔۔! تم سے نکاح کر لیا ہے۔۔ اب بھی یہ سب کہنے کی ضرورت ہے۔۔؟؟ مونس نے کان کھجایا۔ بالکل ہے۔۔۔ ہانی نے اپنی کلاٸ چھڑاٸ۔ اور اسکے سینے پے ہاتھ رکھتے اسے گھورا۔

اظہارِ محبت لازمی ہے۔۔ چلو۔۔ جلدی سے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے مجھے پرپوز کرو۔۔ اور اظہارِ محبت بھی۔ آرڈر دیا۔ یار۔۔۔۔ ؟؟ وہ سٹپٹیایا۔ لیکن ہانی آج اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھی۔ اس لیے اسے گھٹنوں پے بٹھا کے ہی دم لیا۔ ناٶ۔۔ سپیک۔۔! بولنے کا کہا۔ وہ بس مسکراتا رہا۔ کافی دیر یونہی گزر گیا۔ ہانی غصہ سے لال سرخ ہوتی واپس پلٹی کہ مونس نے اسے پھر سے کلاٸ سے پکڑ کے اپنی طرف موڑا۔

دعا بھی لگے نہ مجھے۔۔ دوا بھی لگے نہ مجھے۔۔ جب سے دل کو میرے تو لگا ہے۔۔ نیند آنکھوں کی میری چاہت باتوں کی تیری چہن کو بھی میرے تو نے یوں ٹھگا ہے۔۔۔ اب سانسیں بھروں میں بند آنکھیں کروں میں۔۔ نظر تو یار آیا۔۔ دل کو قرار آیا۔۔ تجھ پے پیار آیا۔۔ پہلی پہلی بار آیا۔۔۔!

اس نے جس انداز سے اظہار محبت کیا ہانی دل سے مسکراتی اس کے کشاہ سینے سے جا لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ۔۔۔ یہ کیا ہے۔۔؟؟ ملکہ نے زیشان کے ہاتھ سےپیپرز لیتے حیرت سے پوچھا۔ آج وہ کتنے دنوں بعد گھر آیا تھا۔ ولیمہ پے بھی وہ بالکل نارمل رہا ۔ یہاں تک کہ سب کو یقین ہو چلا کہ ان دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا لیا ہے۔ جب کہ حقیقت صرف یہ دونوں ہی جانتے تھے۔ جو ایک ہی چھت تلے اجنبیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ اور زیشان تو اس سے بات بھی نہیں کر رہا تھا۔ آج بات کی تو پیپرز ہاتھ میں تھما دیۓ۔

ڈاٸیورس پیپرز۔۔۔! تمہاری آزادی۔۔۔! زیشان نے مطمین انداز میں کہا۔ تو ملکہ نے اسے پتھراٸ نظروں سے دیکھا۔ وہ جو اپنے دل کی سنتے اس رشتے کو ایک اور موقع دینا چاہ رہی تھی۔ زیشان نے سب پے پانی پھیر دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو جگمگاۓ۔ جب چاہے ساٸن کر دینا۔۔ میں نہیں روکوں گا۔ ماموں کو بھی سمجھا لوں گا۔۔ سارا الزام خود لے لوں گا۔۔۔ تم پے کوٸ ۔۔۔؟؟

چپ کریں گے آپ۔۔۔؟؟ ملکہ نے غصہ سے ٹوکا۔ تو وہ نظریں اٹھا کے اسے دیکھنے لگا۔ ملکہ نے ان پیپرز کو دیکھا اور غصہ سے سارے پیپرز پھاڑ دثے ۔ زیشان کے اندر جیسے سکون سا اترا۔ وہ کس کرب سے یہ سب کہہ رہا تھا۔ وہہی جانتا تھا۔ یہ لیں۔۔۔ ! اور جاٸیں یہاں سے۔۔۔! پیپرز کے ٹکڑے اسکے ہاتھ میں تھماتی وہ مڑی۔ کہ زیشان نے کھینچ کے اسے اپنی طرف موڑا۔ وہ سیدھا اس کے سینے سے جا ٹکراٸ۔ تھینک یو۔۔۔! مسکرا کے کہتے وہ ملکہ کو سخت تپا گیا۔ ملکہ نے اسے زور سے دھکا دیا۔ اور غصہ سے گھورا۔ ایک بات یاد رکھنا مسٹر زیشان ارسل۔۔۔! میں خون بہا میں نہیں آٸ۔۔ آپ کے نکاح میں آٸ ہوں۔۔ انگلی اٹھا کے وارن کیا۔

زیشان اندر تک سرشار ہوا تھا۔ آگے بڑھ کے اسے بانہوں میں بھرا۔ کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔ کبھی نہیں۔۔ ! کہ تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔ اس کے ماتھے پے لب رکھتے وہ اسے بھی سکون بخش گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ماہ بعد۔

آج منہا معاویہ کی شادی اور ساتھ میں علیزہ کی وہاج کے ساتھ رخصتی تھی۔ سبی خوش تھے۔ غموں کے بادل چھوٹ گۓ تھے۔

کنول اپنے بچوں کو خوش و خرم دیکھ کے بہت مطمین تھی ۔ آفتاب اس کے پاس آیا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوٸ۔

فاٸنلی۔۔ سب ٹھیک ہو گیا۔۔۔! کنول نے آفتاب کا ہاتھ تھامے کہا۔ آفتب نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ ہمممم۔ سب پھر سے مل گۓ ہیں۔۔ اور اللہ کا شکر ہے۔ کہ وقت رہتے ساری سچاٸ پتہ چل گٸ۔۔۔۔ ! آفتاب نے بھی شکر ادا کیا۔ اگر۔۔ وہ غفار نہ مرتا تو۔۔ یہ سچاٸ بہت پہلے کھل جاتی۔۔۔! کنول کو دکھ ہوا۔ کیونکہ غفار کو بہت سال پہلے ہی جاوید خان نے مروا دیا تھا۔ سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔۔۔ !لیکن۔۔۔ سب ٹھیک ہو گیا۔ اللہ کی کرم نوازی ہے۔ صحیح کہا۔ کنول نے مسکرا کے اپنے مجازی خدا کو دیکھا۔ جو ہمیشہ سب کچھ ٹھیک کرنا جانتا تھا۔ ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔؟؟ کہیں پھر سے تو نہیں پیار ہو گیا۔۔؟؟ آفتاب نے اسے میٹھی نگاہوں سے دیکھتے شرارت سے پوچھا۔ مجھےتو اپنی آخری سانس تک آفتاب شیر خان سے ہی عشق رہے گا۔ کوٸ شک ہے آپ کو۔۔؟ کنول نے مڑ کے اس کے بالکل سامنے آتے مسکرا کے پوچھا۔ آفتاب نے اس کے دونوں ہاتھ تھامے۔ آگے بڑھ کے ماتھے پے لب رکھنے چاہے کہ۔۔

بابا۔۔۔۔؟؟ وہ دونوں ہی آواز پے چونکے۔

بابا۔۔۔ یہ پبلک پلیس ہے۔۔ پلیز۔۔۔! مونس اور ملکہ دونوں ایک ساتھ آۓ تھے۔ اور اب کھسیانی ہنسی ہنس رہے تھے۔ کنول۔۔۔؟؟ یہ ہماری اولاد کس پے چلی گٸ ہے۔۔۔؟؟ آفتاب نے مصنوعی ماتھے پے بل لاۓ پوچھا۔ تو وہ دونوں آکے کنول کے گلے لگے۔ کنول نے دونوں کے ماتھے چومے۔ میرے بچے میری جان ہیں۔۔ انہیں کچھ مت کہیے گا۔۔۔ خان۔۔! کنول کے لہجے میں ممتا بولی تھی۔ جی۔۔ جی۔۔ میری کیا مجال جو میس کچھ بھی کہوں۔۔۔ ! آپ کی اس ہونہار اولاد کو ۔ آفتاب طنزاً کہتا دوسری طرف بڑھا۔ تو ان تینوں کا قہقہہ بلند ہوا۔

ختم شد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *