Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 27)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 27)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
ام ہانی تیار ہوٸ بالکل پرہوں جیسی لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں پے ہلکی ہلکی سوجن تھی۔ جو مسلسل رونے کی وجہ سے ہوٸ تھی۔ لیکن اس کی صاف شفاف جلد کو مزید نکھار دے رہی تھیں۔ وہ بہت سمپل سا تیار ہوٸ تھی۔ آج اسے لڑکے والے دیکھنے آرہے تھے۔۔ فضا نے ان سے بات کر لی ہوٸ تھی۔ اور ہانی کو الٹی میٹم دے دیا تھا۔ کہ رشتہ پکا ہو جاۓ گا۔ اس لیے ماٸنڈ سیٹ کر لے۔ ان کا آنا جسٹ ایک فارمیلٹی ہے۔ رشتہ وہ طے کر چکے ہیں۔ ہانی نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ اور سر تسلیم خم کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں ماموں اور ممانی کی فیملی بھی پہچنے والی تھی۔ ان کا بھی بے صبری سے انتظار ہو رہا تھا۔ انہوں نے تو کل ہی آجانا تھا۔ لیکن جمیلہ خاتون کی اچانک طبعیت خراب ہونے کی وجہ سے وہ کل نہیں آسکے۔ اور آج آرہے تھے۔
ہانی۔۔۔؟؟ وہ اپنے کمرے میں اکیلی ہی بیٹھی موباٸل کو دیکھ رہی تھی۔ نجانے ابھی بھی اسے کس کا انتظار تھا۔۔؟؟ کہ آواز پے چونکی۔ منہا اور عشا اندر داخل ہوٸیں۔ انہوں نے باری باری ام ہانی کو گلے سے لگایا۔ ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔! بہت روپ آیا ہے۔۔ منہا نے اسے پیار سے کہا۔ شزا بھی اسی وقت اندر آٸ تھی۔ اس نے بھی ہانی کی نظر اتاری۔ اس وقت سبھی لڑکیاں ہانی کے کمرے میں جمع ہو گٸ تھیں۔ علیزہ کا تعارف منہا نے کروایا۔ ہانی بہت خوشی سے اس سے ملی تھی۔ چلو لڑکیو۔۔۔! ! آجاٶ۔۔ باہر لڑکے والے آنے والے ہوں گے۔۔ کچھ تیاری کروا دو پھپھو کے ساتھ۔ تابی نے اندر آتے ان سب کو کہا تو وہ مسکراتی ہوٸیں باہر نکلیں۔ جب کہ علیزہ وہیں بیٹھی رہی۔ اسے معصوم سی ہانی بہت اچھی لگی تھی۔ تابی اسے کچھ نصیحتیة کر رہی تھی ۔ جہنیة وہ چپ چاپ سن رہیت تھی۔ ایک ساتھ بیٹھے وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ کہ لصکے والے آگۓ ہیں ۔شور ہوا تھا۔ ہانی کا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔ اور اگلے ہی پل ایسا مٕحسوس ہوا جیسے کسی نے مٹھی میں داب لیا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاویہ آگے بڑھا آفتاب کے قریب آیا۔ آفتاب انکل۔۔۔؟؟ معایہ نے ہت ادبسے انہی پکارا۔
معاویہ۔۔۔؟؟؟ آفتاب نے اسے اپنے گلے سے لگایا۔ وہ بھی آفتاب کے گلے لگا سون سا محسوس کر رہا تھا۔ کنول نے دونوں کو میٹھی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ کیسے ہو۔۔؟؟ اور۔۔ سب۔۔؟؟ گھر میں۔۔؟؟ آفتاب اپنی عادت کے برعکس پیار سے بولا تھا۔ ورنہ۔۔۔۔ اسنے سوچ رکھا تھا نہ شہیر سے کوٸ تعلق رکھے گا نہ اس کی فیملی سے۔ پر وہ یہ سب صرف سوچ سکا۔ کر نہ سکا۔ سب ٹھیک ہیں۔۔ انکل۔۔۔! معاویہ سر جھکا تھا۔ جیسے اپنے باپ کے کیے پے وہ شرمندہ ہو ۔آفتاب اور کنول دونوں نے ھی محسوس کر لیا تھا ۔ کنول نے آفتاب کو اشارہ کیا کہ وہ اسے دلاسا دے۔ یہاس آٶ۔۔ میرے ساتھ۔۔! آفتاب اسے لیے ڈراٸینگ روم کی جانب بڑھا۔ اتنے میں مونس تیار ہو کے آتا دکھاٸ دیا۔ چلیں۔۔مما کافی دیر ہوگٸ ہے۔۔ !دادو۔۔ اور ملکہ کہاں ہیں۔۔؟؟ مونس عجلت میں بولا۔ وہ ملکہ کے تبسم بیگمکے ساتھ گھر سے جانے اور واپس آنے تک کے تمام حالات جان گیا تھا۔ اسے یقین تھ کہ اس کے بابا دی گریٹ نے ضرور ان کے اس معاملے کو حل کرنے کے متعلق کچھ اچھا ہی سوچا ہوگا۔ اس وقت اسے اپنے متعلق سوچنا تھا۔ ملکہ اور دادو نہیں جا رہے۔۔ بیٹا۔۔۔! دادو کی طبعیت نہیں ٹھیک۔اور ملکہ ان کے پاس ہی رکنا چاہتی ہے ۔۔ اسلے وہ پجر کبھی چلی جاۓ گی ۔کنول نے اسے رسان سے سمجھایا۔ مونس نے لب بھینچے ۔ لیکن جرح نہیں کی۔ اور بابا۔؟؟ وہ بھی جاٸیں گے۔؟؟ یا ان کابھی کوٸ مسلہ آگیا ہے۔۔؟؟ وہ تنک کر بولا۔وہ ہمیشہ ہی کنولکے ساتھ اکھڑے لہجے میں بات کرتا تھا۔ بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا۔ کہ وہ اپنا غصہ اور اپنی ساری فریسٹیشن اپنی ماں کے سامنے اتار دیتا تھا۔ بابا کے آگے زبان ہی نہیں کھلتی تھی ۔ نہیں۔۔ ان کو زیادہ تو نہیں۔۔ لیکن۔۔۔ ایک بات ہے۔۔ ان کا ایک بیٹا آیا ہے۔۔ معاویہ۔۔ آپ کا بھاٸ۔ باہر سے۔۔۔! آپ بھی مل لی۔۔۔کنولکے لہجے میں پیار ہی پیار تھا۔ واٹ۔۔۔۔؟ ؟بابا نے دوسری شادی کب کی۔۔؟مونس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گٸیں۔ کنول نے ماتھا پیٹا۔ اور اسے شہیر اور انابیہ کے بارے میں مختصراً بتا دیا۔ مونس نے لب بھینچے۔ وہی معاویہ۔۔ جس کے باپ کے گناہ کے جرم میں میری بہن کی قربانی دی جا رہی ہے۔۔۔؟؟ مونس کے الفاظ اندر آتے آفتاب اور معاویہ دونوں نے سنے تھے۔دونوں ہی کے قدم ٹھٹھکے تھے۔ آفتاب کے غصہ کا گراف بڑھا تھا ۔ مونس۔۔۔؟؟ باپ کی پکار پے وہ مڑا تھا۔کنول نے بھی ان کی طرف دیکھا۔ آفتاب کے غصہ کو وہ جانتی تھی۔ اشارے سے روکا۔ کیونکہ آج کا دن مونس کے لیے بہت خاص تھا۔ اور وہ کوٸ بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔ باپ بیٹے کے بیچ ۔۔۔ وہ بھی آج کے دن۔۔۔! جبسب کچھ اچھا ہو رہا تھا۔ میرا خیال ہیں۔۔ چلتے ہیں۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔ باقی باتیں واپس آکے کر لیجیے گا۔ کنول نے آفتاب کے قریب آتے اس کے بازو پےدباٶ ڈالتے سمجھانا چاہا۔ آفتاب نے گہرا سانس خارج کیا۔اور معاویہ کو بھی ساتھ لیے باہر کی جاب بڑھا۔ یہ بھی ساتھ جاۓ گا۔۔۔؟؟ مونس نے منہ بناتے پوچھا۔کنول نے آنکھیں دکھاٸیں۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ کے ان کے پیچھے ہی چل دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان سب کا بہت پرتپاک انداز میں استقبال کیا گیا۔ اور یہاں بھی معاویہ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب شاہ میر اور عبیر ممانی کو سامنے دیکھا۔ وہ بھی معاویہ کو سامنے دیکھ حیران تھے۔ شاہ میر نعاویہ سے ملتا آفتاب کی جانب بڑھا۔ آفتاب بہت سنجیدہ تھا۔ کیسے ہیں خان بھاٸ۔۔۔؟؟ شامی کے لہجے میں ایک تڑپ تھی۔ ایک کسک تھی ۔ اللہا کا کرم ہے بہت۔۔۔! سنجیدگی سے جواب آیا۔ آفتاب ناراض ناراض سا لگا۔ اور ہونا بھی چاہیے تھا۔ کسی نے بھی تو اسے نہ سمجھا۔ سب نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق کام کیا۔ کسی نے یہ نہ سوچا کہ سامنے آفتاب شیر خان ہے۔۔ جو اگر بہن کی موت کو بھلا نہیں سکتا۔ تو دوسری طرف بھی اس کے اپنے بہن بھاٸ ہی ہیں۔۔ اپنی فیملی۔ جو اسے بہت عزیز تھے۔ لیکن اس کے احساسات کسی نہ سمجھے۔ اور سب نے اپنے تٸیں فیصلے کیے۔ انابیہ شہیر ملک چھوڑ کے چلے گۓ تو شاہ میر نے بھی تو ناتا توڑ ہی لیا۔ اب اتنے سالوں بعد وہ ایک دوسرے کے سامنے تھے۔ وہ بھی صرف مونس کی وجہ سے۔ مونس کو فضق آپی کی سب سے چھوٹی بیٹی ہانی پسند تھی۔ اور بیٹے کی پسند پے انہوں نے بنا ایک پل کی دیری کیے بنا لبیک کہا تھا۔ وہ سب سے پہلے میکال سے ملا تھا۔ اس سے مل کے ساری بات کر دی۔ اور کنول کو فضا سے ملوایا۔ یوں وہ مل کے رشتہ تو پکا کر چکے تھے لیکن آفتاب مونس کے ہاں کہنے کا انتظار میں تھا۔ تا کہ باقاعدہ بات پآگے بڑھاٸ جا سکے۔ اور آج وہ اپنی طرف سے چھوٹی سی رسم کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ملکہ اور تبسم بیگم کی غیرموجودگی کی وجہ سے وہ صرف بات پکی ہی کرنے والے تھے۔ وہاج آفتاب کے ساتھ بیھا بزنس کی کوٸ بات کر رہا تھا۔ کہ مونس بھی ساتھ ہی تھا۔ اور معاویہ شاہ میر کے پاس کھڑا صفاٸیاں دے رہا تھا۔ جو بنا بتاۓ وہاں سے چلا آیا تھا۔ اسی لمحے ہانی کو علیزہ منہا اور شزا نیچے لے کے آٸیں۔ وہنازک سی لڑکی لرزے جا رہی تھی۔ ایک طرف منہا تو دوسری طرف شزا نے اسے سہارا دیا ہوا تھا۔ سب کے بیچ لا کے بٹھایا تو سب خواتین بھی وہاں پہنچ گٸیں۔ ہانی کی نظریں تو اٹھ ہی نہیں رہی تھیں۔ اگر نظر اٹھا کے دیکھ لیتی تو اپنے اللہ پے اسے پیار آجاتا۔ ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ کنول نے پیار سے کہا۔ تو مونس نے ایک چور نظر اس پے ڈالی۔ اس نے بھی تو اسے کچھ نہ بتایا تھا۔ لیکن اتنا آٸیڈیا لگا کے بیٹھا تھا۔ کہ اس کے والدین نے اسے بتا دیا ہو گا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ ہانی کے لیے سب سرپرٸز ہی ہے۔
سبھی نے باہمی رضا مندی سے رشتہ طے کر دیا۔
کنول نے ایک رنگ پہناٸ ہانی کو۔ تا کہ باقاعدہ اس کے بیٹے کے نام ہو جاۓ۔ دعاۓ خیر کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تو بے اختیار نظروں کی تپش محسوس کرتے ہانی نے سامنے پلکیں اٹھاۓ دیکھا۔ اپنے سامنے پوری آن بان شان کے ساتھ مونس کو بیٹھا دیکھ وہ پلک جھپکنا بھول گٸ۔ اب آمین کہہ طکے تھے۔ جب کہ ہانی کے ہاتھ ابھی بھی دعا ک صورت میں ہی تھے۔ مونس نے چپکے سے مسکراتے ہوۓ ایک آنکھ ونک کی تو وہ چونکی۔ سب مبارک باد دے رہےتھےایک دوسرے کو ہانی کو بھی مبارک باد دی۔جو ہونق بنی بیٹھی ب ک باری باری دیکھ رہی تھی۔ فضا نے اس کے پاس بیٹھتے اس کا ماتھا چوما تھا۔ کیا ہوا۔۔؟ کیسا لگا سرپراٸز۔۔؟ اشتیاق سے پوچھا۔اسے اپنی بیٹی کے چہرے پے کھلے رنگ دکھاٸ دے رہے تھے۔ مما۔۔۔؟ اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔ فضا نے اسے گلے سے لگایا ۔ تھینک یو مما جان۔۔۔؟؟ ہانی بہت زیادہ آسودگی محسوس کر رہی تھی۔ سبھی نے اسک امنہ میٹھا کروایا۔ دونوں کو ایک ساتھ بٹھا کے تصویریں بناٸیں۔ اس سب یمیں علیزہ کو مسلسل کسی کی نظروں کی تپش خود پے محسوس ہو رہی تھی۔ اور وہ کوٸ اور نہیں وہاج تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں تو علیزہ کا دل زوروں سے دھڑکا۔ اور فوراً منظر سے غاٸب ہوٸ وہاج کا دل بے چین ہوا تھا۔
معاویہ نے منہا کو دیکھتے ہی نظریں پھرمیر لیں تھیں۔ وہ اب بالکل ایسا بن گیا تھا۔ جیسے اسے جانتا ہی نہ ہو۔ اور یہ بات منہا کو کھل رہی تھی۔ کیا واقعی اس نے محبت کی تھی یا صرف۔۔ وقتی ایٹریکشن تھا۔۔۔إ؟ وہ خود سے سوال کر رہی
تھی۔ اس کا دل بہت بری طرح دکھا تھا معاویہ کا اسے نظر انداز کرنا اسے غصہ دلا گیا تھا۔ اور وہ اس محفل سے اٹھ کے باہر لان میں چلی آٸ۔ یہ محبت ہے۔ ؟ بھلا محبت ایسی ہوتی ہے۔۔۔؟؟ اتنی جلفی محبت کا بھوت اتر گیا ہوں۔ ہونہہہ۔۔۔۔۔! وہ تلخی سے سر جھٹکتی پودوں کو دیکھ رہی تھی۔ کہ ایک آنسو ٹوٹ کے گال پے گرا تھا
کہانی سنی۔۔۔ کہانی سنو۔۔۔ مجھے پیار ہوا تھا۔۔۔ اقرار ہو تھا۔ اچانک سے اپنے عقب سے معاویہ کی آواز سنتی وہ چونکی تھی۔ اور جھٹ سے پلٹی۔
۔۔۔۔۔
کیا خبر ہے۔۔؟؟ زیشان ارسل کو اس کے خاص آدمی نے فون کیا تھا۔ سر۔۔! سننے میں آیا ہے۔۔ آپ کا فشمن پاکستان آر ہا ہے۔۔۔ ! ان الفاظ کو سننے کو ہی تو وہ بے چین تھا۔ گہرا سناس لیتے سکون سے آنکھیں موند لیں۔ وہ ۔۔۔ جیسے ہی پاکستان کی زمین پے قدم رکھیں ۔ انہیں میرے پاس لے کے آٶ۔۔۔! زیشان ارسل کا اگلا آرڈر تھا ۔یس باس۔۔۔! زیشان ارسل نے موباٸل آف کرتے دور بستر پے اچھالا۔ ویکم بیک۔۔۔ آفٹر۔۔ فورٹین اٸیرز ۔۔۔! ہم کلامی میں وہ بولا تھا۔ گاڑی کی چابیاں اٹھاتا اب اس کا رخ اس کی منزل کی جانب تھا۔
