Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 16)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

منہا۔۔۔؟؟ منہا جو گاڑی کا ڈور اوپن کرتی بیٹھنے والی تھی۔ آواز پے رکی۔ اور پلٹی۔

کھانا کھاۓ بنا کیوں آگٸ۔۔؟؟ اگلا سوال داغا اور اس کے چہرے کے زاویے نوٹ کیے ۔ بھوک نہیں ہے۔۔ منہا نے نظریں پھیریں۔ کیوں۔۔؟؟ وہ بالکل اس کے سامنے ہی آن کھڑا ہوا۔ منہا کو اس کے دیکھنے کے انداز سے تھوڑی گھبراہٹ محسوس ہوٸ۔ پلیز۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔ گھر چلتے ہیں۔۔ مما کا تین بار فون آچکا ہے۔ ناراض ہو رہی ہیں۔ منہا نے بات کو ٹالا۔ معاویہ اچھی طرح سمجھ گیا۔

عمار کی وجہ سے اپ سیٹ مت ہوں۔۔ وہ۔۔؟؟

میں گاڑی میں ویٹ کر رہی ہوں۔ آپ ان کو لے آٸیے گا۔ منہا نے اب کی بار تیز لہجے میں بات کاٹی۔ تو معاویہ چپ سا ہو گیا۔ وہ جا کے پیچھے بیٹھ گٸ۔ اس کی آنکھوں میں نمی سی اتر آٸ۔ آج ۔۔ اس کے بھاٸ کے یہاں نہ ہونے کی صفاٸ کوٸ اور دے رہا تھا۔۔ وہ بہن تھی اس کی بڑی بہن۔۔؟؟ اور۔۔؟؟ اپنے بھاٸ کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ واپس آگۓ۔ لیکن معاویہ نے اس کے لیے کھانا پیک کر والیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے کچھ بھی نہ کھایا۔ اور سارے راستے خاموش رہی۔

🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙

کہا بھی تھا آپ سے انہیں باٸ روڈ ہی آنے دیں۔ نہیں۔۔ ہماری تو کوٸ سنتا ہی نہیں۔۔! اب ٹاٸم دیکھیں۔ کیا ہو گیا ہے۔۔؟ اب تک آچکی ہیں ہوتیں دونوں۔۔ عابی پورے گھرمیں چکر لگاتی ساتھ ساتھ شامی کو بھی سنا رہی تھی۔ جوکان بند کیے موباٸل پے لگا ہوا تھا۔ اسکی منہا سے بات ہو گٸ تھی۔ اوروہ بس پہنچنے والی تھیں۔ اس دوران عابی کا بولنا اسکے کانوں پے جوں بھی نہیں رینگ رہی تھی جس سے وہ مزید تپ رہی تھی ۔

آپ سن رہے ہیں۔۔؟ کب تک پہنچیں گیں۔۔؟ فون کریں ناں۔۔؟؟ انہی سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔ وہی نہیں ہیں۔۔ عابی اب تھک کے گہرا سانس خارج کرتی اداس لہجے میں بولی تھی۔

کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟ جان۔۔۔؟؟ ابھی تین دن ہی ہوۓ اور تم اداس ہو گٸ۔۔؟ جب رخصت کر دو گی۔۔؟تب کیا ہوگا۔۔؟؟ شامی نے محبت سے کہا۔ ابھی تو ایسی باتیں نہ کریں۔۔؟؟ عابی نے دہلتے ہوۓ کہا۔ ایک کام کرتے ہیں۔۔۔ کیوں نہ چوتھے کی ٹراٸ کریں۔۔؟؟ شامی نے آنکھ دبا کے پوچھا تھا۔ عابی اس کی بات پے بلش کرتی ایسا شأمی نے سوچا ۔ جب کہ وہ بلش کی بجاۓ خطرناک حد تک سنجیدہ ہوگٸ۔ مجھے یہ احساس کب ہوگا۔۔؟ کہ میں تین بچوں کی ماں ہوں۔۔؟ عابی کہتے ہی وہاں سے اٹھ گٸ۔ جب کہ شامی بھی یکدم سنجیدہ ہو گیا۔ وہ جانتا تھا۔ عمار کی وجہ سے وہ کافی اپ سیٹ رہتی تھی۔ اس کا یہاں نہ ہون ۔۔ بلکہ لاتعلق ہونا ۔۔ عابی کو تکلیف سے دوچار کرتا تھا۔ اسی لمحے شامی کے موباٸل پے منہا کی کال آٸ۔

اوپن دا ڈور۔۔بابا۔۔۔! آ بگ سرپراٸز فار یو۔۔۔! منہا کے میسج پے شامی فوراً اٹھا تھا۔ اور مین گیٹ کی جانب بڑھا۔ جہاں ایک گاڑی اندر داخل ہو رہی تھی۔ شامی نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ گاڑی پورچ میں کھڑی کرتے معاویہ گاڑی سے اترا۔ ساتھہی علیزہ اور منہا عشا بھی اتریں تھیں۔ شامیکو لگا اس کے سامنے شہیر خانزادہ آگیا ہو۔۔۔ وہ پل۔۔ جب شہیر خانزادہ باہر سے آیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا۔ وقت اپنے آپ کو دہرا رہا ہو۔۔۔؟؟

السلام علیکم ۔۔۔ ماموں۔۔۔! معاویہ نے ان کے پاس آتے کہا تو وہ ہوش میں آیا۔

معاویہ۔۔؟؟ شامیکا دل انتہا کا خوش ہوا تھا اسے اپنے روبرو دیکھ کے۔ فوراً آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ اور بہت محبت سے سنے میں بھینچا۔ آنکھیں بھیگ سی گٸیں۔

ماموں۔۔؟ لڑکیوں کی طرح رونے مت لگ جانا۔۔۔! معاویہ نے اسے چھیڑا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا۔ برسوں کی جان پہچان ہو۔ علیزہ نے بھی آگے بڑھ کے سلام کیا تو شامی نے اس کے سر پے شفقت بھرا ہاتھ پھیرا۔

جمیلہ خاتون اور عابی بھی باہر آچکی تھی۔س عابی اپنی بچیوں کو دیکھتے ان کی طرف دیوانہ وار بھاگی تھی۔ اور ان پے اپنا پیار نچھاور کرنے لگی۔ علیزہ نے اسے سلام کیا تو وہ ان کیطرف متوجہ ہوٸ۔ اور سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

شاہ میر تو معاویہ کو جانتا تھا پہلے سے۔ شہیر کی وجہ سے۔۔ کیونکہ شہیر سے اس کا رابطہ تھا۔ وہ بھی اچھی خاصی نوعیت کا۔ انابیہ سے چھپ کے ہی۔۔ شہیر نے شاہ میر سے رابطہ رکھا ہوا تھا۔ اور معاویہ سے بھی کبھی کبھار بات ہو جاتی تھی۔ لیکن عابی الکل انجان تھی۔ منہا نے تعارف کروایا تو جمیلہ خاتون کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

معاویہ۔؟ انہوں نے آگے بڑھ کے دونوں کو گلے سے لگایا۔ کب بات ہوتی تھی۔ ان سے۔۔؟؟ أنابیہ تو بالکل ہی انجان تھی۔ اس لیے بت بنی دیکھتی رہ گٸ۔

🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙

جاوید خان نے زیشان ارسل کو فون کر کے گھر بلوایا۔ اور انہوں نے آفتاب کے گھر سے آنے کے بعد کی ساری بات مرچ مصالحہ لگا کے زیشان ارسل کو بتاٸ تھی۔ تب سے وہ غصہ میں تھا۔ اسے رہ رہ کے آفتاب شیر خان پے غصہ آرہا تھا۔ وہ کیسے اس کے نانا کے ساتھ اتنا برا سلوک کر سکتا تھے۔۔؟ جب کہ گھر آۓ دشمن بھی مہمان ہو ہوتا ہے۔۔۔! اور۔۔ یہاں۔۔؟؟

ادھر سے ادھر چکر لگاتے اس کے دماغ کے گھوڑے بہت تیزی سے دوڑ رہے تھے۔ اس نے موباٸل پے کسی سے بات کی اور اب اس کے جواب کا ویٹ کرنے لگا۔ اتنی دیر وہ راکنگ چیٸر پے بیٹھا جھولتا رہا۔ پانچ منٹ بعد ہی اس کے سوال کا جواب اسے مل گیا۔ اب وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاۓ اپنی منزل کی طرف گامزن تھا۔

🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙

اے سنو۔۔۔! تم۔نے بھی آنا ہے۔۔ اور تم نے ۔بھی۔۔۔! اور ہاں۔۔ اس۔ ۔فرح کو بھی لے آنا۔۔۔! آفٹر آل ملکہ آفتاب شیر خان کی برتھ ڈے ہے۔ کوٸ عام ہستی نہیں ہوں۔۔ ملکہ نے فرضی کالر جھاڑے۔ سب اس کی دوستیں خوش تھیں۔ وہ تھی بھی اتنی پیاری کہ سبھی کے دل میں گھر کر جاتی تھی۔ ملکہ کون ہیں۔۔؟ آپ میں سے۔۔؟؟ ایک لڑکی نے آتے پوچھا۔ کیا مطلب۔۔؟ تم ملکہ کو نہیں جانتی۔۔؟؟ ملکہ نے اسٹاٸیل مارا۔ آپ سے کوٸ ملنے آیا ہے۔۔ ! اس طرف۔ وہ لڑکی ایک طرف کا اشارہ کرتی چلی گٸ۔ مجھ سے۔۔؟؟ ملکہحیران ہوٸ۔ اور ان سب سے ابھی آتی ہوں۔۔ کہتے بے وقوفوں کی طرف اس لڑکی کے بتاۓ ہوۓ راستے کی جانب بڑھی۔ یہاں کون ہے۔؟؟ یہ یونی کا سنسان ایریا تھا۔ یہاں کوٸ نہیں آتا تھا۔ یہ جگہ ویسے ہی کچھ وحشت سا محسوس کرواتی تھی۔ اور وہاں سب کا سختی سے جانا منع تھا۔ لیکن ملکہ کو کون سمجھاۓ یا روکے۔ وہاں کسی کو نہ پا کر کندھے اچاکتی وہ واپس مڑی تھی۔ کہ کسی نے اس کے منہ پے ہاتھ رکھے اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔ اس اچانک افتاد پے ملکہ سہم گٸ۔ وہ چلانا چاہتی تھی۔ لیکن اس کا منہ بری طرح جھکڑا ہوا تھا۔ اسے اس شخص نے وہاں سے لے جاتے ایک طرف گھنے درخت کے پیچھے دیوار سے لگایا۔ اب انہیں وہاں کوٸ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ملکہ نے لرزتے ہوۓ سامنے دیکھنا چاہا۔ جہاں زیشان ارسل کو پورے انہماک سے خود کو تکتا پا کے اس کی کالی آنکھیں مزید پھیلتی چلی گٸیں۔

تم۔۔۔؟؟ وہ منہ سے ہاتھ ہٹتے ہی چلاٸ تھی۔ اس کے تم کہنے پے زیشان نے اسے تیری چڑھاۓ گھورا۔ ایک تو پہلے سے ہی ماغ خراب تھا۔ مزید اس ملکہ کا انداز اسے طیش دلا رہا تھا۔ تم بے وقوف ہو۔۔ یا بنتی ہو۔۔؟؟ زیشان اس کے بہت قریب ہوتا دانت پیستے بولا تھا۔ اس وقت وہ بھول ہی گیا تھا۔ وہ یہاں کیوں آیا تھا۔ بس یاد تھا تو اتنا کہ سامنے کھڑی لڑکی نے ابھی کتنی بڑی بے وقوفی کی ہے یہاں آ کے۔

نہیں۔۔ ! آپ سے ملنے کے بعد ہی آپ کا رنگ چڑھا ہے۔ اسی کے انداز میں بنا ڈرے تنک کے جواب دیا اس کی بات پے زیشان نے اسے بہت گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ رنگ تو ایک ہفتے بعد چڑھے گا۔۔ اور پکا رنگ چڑھے گا۔۔۔ ! معنی خیزی سے کہتا وہ ملکہ کا دل بری طرح دھڑکا گیا۔ پیچھے ہٹیں۔۔ دور رہ کے بھی بات ہو سکتی ہے۔۔۔ اتنا قریب کیوں آتے ہیں۔؟ ملکہ نے ماتھے پے بل ڈالے اکتاتے ہوۓ کہا۔ کیونکہ حق ہے میرے پاس۔۔ ! تمہارے قریب آنے کا ۔زیشان نے اسے دونوں بازٶں سے پکڑتے خود سے مزید قریب کیا۔ کہ وہ اس کے سامنے ناچاہتے ہوۓ بھی سہم سی گٸ۔ ککککیسا۔۔ حق۔۔؟؟؟ ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

زیشان نے اسے بہت گہری نظروں سے نہارا۔ اور گہرا سانس بھرتا پیچھے ہٹا۔ نجانے کیوں وہ اسے چاہ کے بھی درد نہیں دے پا رہا تھا۔ ورنہ جب وہ یہاں آیا تھا۔ تو بہت کچھ سوچ کے آیا تھا۔ اور اب۔۔؟؟ اسے دیکھ۔۔ وہ اپنا اندر غصہ محسوس ہی نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ کیسے اس کے غصہ کو ٹھنڈا کر دیتی تھی۔ یہ ایک جادو کی طرح زیشان کو لگ رہا تھا۔ جسے وہ چاہ کے بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔ ایک ہفتہ۔۔ صرف ایک ہفتہ انتظار کرو۔۔ ! بہت بڑا سرپراٸز دوں گا۔۔ تمہیں۔۔ ! زیشان اس کے پاس ہوتا اس کے گال پے لب رکھتا پیچھے ہٹا تھا۔ ملکہ نے سانس روک کے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کہ اس کے ساتھ یہ سب اچانک ہو کیا رہا ہے۔۔؟ کہاں سے اس کا یہ کزن آگیا۔۔؟ جو اب تک تو پتہ نہیں کہاں گم تھا۔ اور اب اس پے حق جتا رہا تھا۔ لیکن سونے پے سہاگہ وہ اسے چاہ کے بھےی خود سے دور نہیں کر پا رہی تھی۔ زیشان اس کے ہرے پے پھیلے شرم و حیا کے رنگ دیکھ چکا تھا۔ وہ بلش کر رہی تھی۔ لیکن آنکھوں میں بے یقینی سی تھی۔ زیشان خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔

جاٶ۔۔ اس سے پہلے کے میری جسارتیں بڑھیں۔۔ اور تم سہن نہ کرپاٶ۔۔ ! یہاں سے چلی جاٶ۔۔۔! زیشان نے انتہاٸ سنجیدگی سے کہتے اسے ہوش کی دنیا میں لاپٹخا۔ اس کے جسم میں ہلچل سی ہوٸ اور وہ وہاں سے بھاگی نہیں بلکہ آگے بڑھ کے زیشان ارسل کو غصہ سے دیکھتی اس پے ہاتھ اٹھا چکی تھی۔ جسے زیشان ارسل نے ہوا میں ہی روک لیا تھا۔ وہ غصہ سے اسے نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ جبکہ اس کی کلاٸ کو زیشان نے جکڑا ہوا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *