Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 12)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 12)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
کہاں ہے عشا۔۔۔؟؟ منہا نے علیزہ کی پوری بات نہ سنی تھی۔ وہ۔۔۔ اسے۔۔ گولی۔۔۔؟؟ علیزہ نے کچھ کہنا چاہا۔
کیا فاٸدہ۔۔۔؟ پہلے گولی مارو پھر ہسپتال لے کے جاٶ۔۔۔؟؟ ایک خاتون غصہ سے بولی۔ تو منہا کو لگا اس پے ساتوں آسمان آن گرے ہوں۔۔
گولی۔۔۔؟؟؟ منہا کو اپنی آواز کھاٸ سے آتی سناٸ دی۔ علیزہ اسے اس قدر بپھرا دیکھ گھبرا سی گٸ۔
علیزہ۔۔ آپی۔۔۔؟؟ کونسے ہاسپٹل ہیں۔۔؟؟ منہا نے دبی دبی آواز میں چلاتے پوچھا۔ چلو۔۔۔ میں ساتھ چلتی ہوں۔۔۔ تمہیں لے جاتی ہوں۔۔ علیزہ اسے اکیلا جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لیے اسے لیے ڈراٸیور کے ساتھ وہ باہر نکلی ۔
ارے بیٹا کہاں جا رہی ہو۔۔؟؟ رمشا کی والدیہ کو پتہ چلا تو وہ ان کے پیچھے آ گٸیں۔
میری بہن ہاسپٹل میں۔۔۔؟ اسے گولی لگی۔۔؟؟ اور۔۔ آپ۔۔۔ ؟؟ نے چھپایا۔۔؟؟ منہا نے روتے ہوۓ کرب سے چھپایا۔
نہیں بیٹا۔۔ ایسی بات نہیں۔ وہ غلطی سے۔۔؟؟ وہ منمناٸ تھیں۔
غلطی سے۔۔۔؟ منہا نے تیز لہجے میں بات کاٹی۔ بہن ہے وہ میری زندہ۔۔ جیتی جاگتی انسان۔۔۔؟ اور۔۔ اسے گولی لگی ہے۔۔۔! اور آپاسے غلطی کہہ رہی ہیں۔۔ آپ کی اپنی بیٹی ہوتی تو میں پوچھتی آپ سے۔۔۔! منہا۔۔۔؟؟ رمشا کی ماں تژپ کے بولتی غصہ میں آٸیں۔
آنٹی۔۔۔! منہا آنسو پونچھتے ان کے قریب آٸ۔ اگر میری بہن کو کچھ بھی ہوا۔۔۔ تو ۔۔ میں۔۔ کیا کروں گی۔۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں۔۔ بس دعا کیجیے گا۔ اسے کچھ نہ ہو۔۔ ! سخت لہجے میں کہتی وہ وہاں سے علیزہ کے ساتھ باہر نکل گٸ۔
اف۔۔ اللہ کیا مصیبت ہے۔۔۔؟؟ اچھے بھلے ماحول کا ستیاناس ہو گیا۔۔ عجیب ہی بدشگونی ہوٸ ہے۔۔۔ رمشا کی والدہ منہ بناتیں اندر کی جانب بڑھ گٸیں۔
یہ تھی آج کل کے لوگوں کی بے حسی۔
____________
منہا جیسے ہی ہاسپٹل میں داخل ہوٸ۔ اس نے ریسپشن سے پوچھا۔ اوت آٸ سی یو کی جانب بھاگی۔ علیزہ بھی اس کے ساتھ ساتھ تھی۔
بھاٸ۔۔۔؟؟ علیزہ کے لب وا ہوۓ۔ منہا نے سامنے دیکھا۔ اس کا دماغ ساٸیں ساثں کرنےلگا۔
پہلے گولی مار دی۔۔ پھر ہاسپٹل لے گۓ۔۔؟ کیا فاٸدہ۔۔۔؟ ان عورتوں کی باتوں کی بازگشت منہا کے اردگرد ہونے لگی۔ معاویہ نے بھی انہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ قریب پہنچا تھا۔ کہ منہا نے اس کے کچھ بھی کہنے سے پہلے ایک زور دار تھپڑ اسکے چہرے پے جڑ دیا۔ معاویہ نے دانت پیستے اسے دیکھا اور پپنی مٹھیاں سختی سے بھینچیں۔ بمشکل خود پے ضبط کرتے اس نے کڑی نظروں سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا۔ وہاں موجود سبھی نے لوگوں نے مڑ کے یہ سب دیکھا۔ جب کہ علیزہ تو حیران پریشان کھڑی کبھی معاویہ اور کبھی منہا کو دیکھ رہی تھی۔
_____________
آخر۔۔۔؟؟ کیوں مجھے۔۔ وہ شخص یاد آرہا ہے۔۔؟؟ کیا سحر تھا اس کی زات میں۔۔؟؟ کہ ابھی تک وہ اسی کی زات میں کھوٸ ہوٸ تھی۔ ملکہ آٸینے کے سامنے بیٹھی ہاتھوں پے لوشن لگا رہی تھی۔ کہ
اسی لمحے اس کا موباٸل بجا۔
ان ناٶن نمبر۔۔ اس نے منہ ٹیڑھا کیا۔ پھر ساٸیڈ پے رکھ دیا۔ دوبارہ پھر سے کال آٸ۔ تو ملکہ نے اٹھا ہی لی۔ ہیلو۔۔۔؟؟ آگے سے گھمبیر خاموشی۔
ہیلو۔۔۔؟؟ کون ۔۔؟؟ ملکہ کے ماتھے پے بل پڑے۔
آپ کے مالک۔۔۔! آواز کانوں میں پڑی کہملکہ کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ موباٸل کو کان سے ہٹالیا۔ لیکن پھر ہمت کر کے دوبارہ کان سے لگایا۔
اپنی بکواس بند کرو۔۔ اور تم جو کوٸ بھی ہو۔۔ دوبارہ فون مت کرنا۔۔۔؟؟
ایک تو مجھے یاد کر رہی ہو۔۔ اور پھر مجھ سے ہی اجتناب بھی برت رہی ہو۔۔؟؟ کیا یہ غلط بات نہیں۔۔؟ آگے سے کہی گٸ بات پے ملکہکے تو چودہ طبق روشن ہوۓ۔
کیا یہ۔۔۔ زیشان ارسل ہے۔۔؟ اسکے دل نے سرگوشی کی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ ڈر گٸ۔۔؟ آگے سے محظوکو لہجہ نے ملکہ کو تپا ہی دیا۔
ملکہ آفتاب خانزادہ کسی سے نہیں ڈرتی۔ سمجھے تم۔۔۔! اور۔۔ ؟؟ فون مت کرنا دوبارہ مجھے۔۔ ورنہ۔۔میں بابا کو بتا دوں گی۔
کتنی بار کہا ہے۔۔ اپنے باپ کا ڈراوا مجھے مت دیا کرو۔۔ ! زیشان اپنی جگہ سے اٹھتا سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلتا ونڈو کے پاس آیا۔
میں تمہارے باپ سے نہیں ڈرتا۔ لہجہمیں غصہ اور سختی تھی۔
آپ۔۔؟م آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔؟ ملکہ کو اس کی بلا وجہ کی نفرت سمجھ نہ آٸ۔
افسوس۔۔۔؟؟ تمہارے باپ نے۔۔ تمہیں ساری سچاٸ نہیں بتاٸ۔ بٹ ڈونٹ وری۔۔ جب میرے پاس آٶ گی۔۔ سب کچھ بتاٶں گا۔۔ اور اچھے سے سمجھاٶں گا۔ اس کے گھمبیر لہجے میں کہے گۓ الفاظ پے ملکہ بری طرح بلش کرنے لگی۔
کیا ۔۔۔ کیا کہہ رہے ہو۔۔؟؟ میں کیوں آنے لگی تمہارے پاس۔۔؟؟ ملکہ اپنیجگہ سے اٹھتے ہوۓ بولی۔ اس کے ماتھے پے پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہوۓ تھے۔
اتنا گھبرا کیوں رہی ہو۔۔؟؟ ملکیت۔۔؟؟
ملکہ نام ہے۔۔ میرا۔۔۔! یہ۔۔ ملکیت کیوں کہہ رہے ہیں۔۔؟ ملکہ کو اس کا انداز برا لگا۔
کیونکہ ملکہ تم اپنے باپ کی ہو ۔۔ میری صرف ملکیت ہو۔ ! ایک ایک لفظ پے زور دیتے کہا۔
ملکہ نے فوراً سے کال بند کر دی۔
اور موباٸل کو دور اچھالا۔ ایسے جیسے وہ اچھوت ہو۔ اپنے دل کے مقام پے ہاتھ رکھا۔ ایسے ہی فضول میں۔۔ کچھ بھی بولے جا رہا ہے۔۔ ! اب اگر دوبارہ تنگ کیا تو بابا کو شکایت لگاٶں گی اس ک۔ ! ملکہ دل ہی دل میں سوچتی بڑبڑاٸ تھی۔ دوسری طرف زیشان نے موباٸل کو بیڈ پے اچھالا۔ بس چند دن۔۔۔!اسکے بعد تمہیں بتاٶں گا۔ کہ میں کون ہوں۔۔ اور کیا کیا کر سکتا ہوں۔۔ آفتاب شیر خان۔۔۔ آپ نے اپنی بیٹی کو خون بہا میں دے کے۔۔ اپنی بیٹی کے لیے خود کانٹے بچھاۓ ہیں۔ اب۔۔ دیکھنا۔۔ کیسے لہولہوان ہوتے ہیں۔۔ ہم۔۔ بھی۔۔ اور آپ بھی۔۔۔وہ تلخی سے سوچتے ہوۓ مسکرایا تھا۔
__________
تم ۔۔نے میری بہن پے گولی چلاٸ۔۔؟؟ اگر میری بہن کو کچھ بھی ہوا۔۔ تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔۔ سنا تم نے۔۔۔! منہا نے معاویہ کا گریبان پکڑتے غصہ سے کہا۔
منہا۔۔۔! علیزہ نے اسے پکارا تھا۔ پہلے تھپڑ مارا۔ اور اب گریبان۔۔ ! علیزہ اپنے بھاٸ کو جانتی تھی۔ کوٸ اس پے ہاتھ اٹھاۓ اور وہ چپ رہے۔ ناممکن تھا۔یہ اس کی ہمت ہی تھی۔ کہ وہ اب تک چپ خاموش کھڑا ضبط کر رہا تھا۔ بھاٸ کا گریبان چھوڑو۔۔۔ ! گولی انہوں نے نہیں چلاٸ۔
علیزہ تھوڑا سختی سے بولی تھی۔ علیزہ کے الفاظ پے منہا کے ہاتھ لرزے تھے۔وہ جو معاویہ کی آنھوں میں آنکھیں ڈالے نفرت اور غصہ سے دیکھ رہی تھی۔ دھیرے دھیرے اسکی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ۔ اور پھر ہاتھ ہٹا لیے۔ رخ پلٹ کے علیزہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔ گولی کسی اور نے چلاٸ تھی۔ بھیا نے تو عشا کو فوراً ہاسپٹل پہنچایا۔ نیکی کی ہے۔۔ انہوں نے۔۔۔! اور تم نےانہیں۔۔؟؟ علیزہ نے لب بھینچے۔ جب کہ منا کی پلکیں لرزیں۔ ار لزرتی پلکوں کو اٹھاتی وہ معاویہ کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی بنا پلک جھپکے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ منہا کی آنکھ سے آنسو بہے۔ اور نظریں جھکیں۔
ایم سوری۔۔بھیا۔۔؟؟ وہ۔۔؟؟
عشا ٹھیک ہے اب۔خطرے سے باہر ہے۔ عشا سے مل لو۔۔ اور باہر آٶ۔۔ میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔ ! معاویہ نے منہا سے نظریں ہٹا لیں۔ اور سپاٹ انداز میں علیزہ سے کہتے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
علیزہ نے دکھ سے معاویہ کی پشت کو دیکھا۔ اور پھر افسوس سے منہا کو۔ اور آگے بڑھ گٸ۔
منہا وہیں کھڑی رہ گٸ۔ اسی لمحے رمشا کے والد کو آتا دیکھا۔ جو معاویہ کے ہمراہ ہی آۓ تھے۔
بیٹا۔۔ فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ عشا بیٹی بالکل ٹھیک ہے اب۔۔ جاٶ۔ جا کے مل لو۔۔ بس ۔۔ ابھی تھوڑی دیر تک گھر چلتے ہیں۔۔ انہوں نے اس کے ار پے شفقت بھرا ہاتھ پھیرا۔ منہا سر جھاکاۓ آنسو پیتی وارڈ کی طرف گٸ۔
جہاں عشا علیزہ سے مسکرا مسکرا کے بات کر رہی تھی۔
منہا۔۔آپی۔۔!کیا یار اتنا لیٹ کر دیا۔۔؟؟ کب سے ویٹ کر رہی تھی میں۔۔ ؟؟ یہ دیکھیں۔۔ علیزہ آپی ہیں یہ۔۔۔! انابیہ پھوپھو کی بیٹی۔ وہ بازو پے پٹی باندھے اس کو گلے میں لٹکا کے بیٹھی تھی اور چہک چہک کے بتا رہی تھی۔ منہا نے آگے بڑھ کے اس کا ماتھا چوما۔ درد تو نہیں ہو رہا۔۔؟؟ منہا نے اس کے بازو کو دیکھا۔
نہ۔۔۔! بالکل نہیں۔۔ میں تو بہت بہادر فیری ہوں۔۔ اور۔۔ ٹینشن مت لیں۔۔ گولی بس چھو کے ہی گزری ہے۔۔ زیادہ چوٹ نہیں آٸ۔ عشا نے اس کی ڈھارس بڑھاٸ۔ میں تو ڈر گٸ تھی۔۔۔! منہا نے پھر سے آنسو بہانے شروع کر دیۓ۔
بس کردو۔۔ آپی۔۔ یار۔۔ ! اب میں ٹھیک ہوں ۔۔ عشا نے چڑتے ہوۓ کہا۔ اور یہ سچ تھا گولی ہلکی سے چھو کے گزری تھی۔ اسی پل ایک لڑکا اندر داخل ہوا۔ وہ شرمندہ شرمندہ سا لگا۔
اسلام علیکم۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔ میری غلطی اور لاپرواہی ہے۔۔ مجھے ۔۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ لڑکا بمشکل انیس بیس سال کا تھا۔ اور انتہاٸ شرمندہ تھا۔
آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔ میرے لیے یہی بہت ہے۔ لیکن۔۔ آپ سے ایک ریکوسٹ ہے۔ کہ پلیز۔۔ یہ شادیوں میں ہواٸ فاٸرنگ کرنا بند کر دیں۔ میری تو لک اچھی تھی۔ کہ میں بچ گٸ۔ ورنہ۔۔ لوگ مر بھی جاتےہیں۔ اور خوشی کے موقع پے صفِ ماتم بچھ جاتا ہے۔ عشا کی اتنی گہری باتوں پے ان تینوں نے اسے حیرت سے دیکھا ۔
ان شاء اللہ آٸندہ ایسا نہیں ہوگا۔ ایم سوری اگین۔۔۔ ! وہ لڑکا دھیمی سی مسکان سے کہتا اس فیری کو دیکھنے لگا جو اسے سب لڑکیوں سے ٹہ کے لگی تھی۔
اچھا۔۔ پھر ملاقات ہو گی۔۔؟؟ عشا۔۔ میں چلتی ہوں بھیا باہر ویٹ کر رہے ہوں گے۔ علیزہ نے ایک نظر منہا کو دیکھتے کہا۔
اور اس سے مل کے اٹھی تھی۔ عشا کچھ بولتی کہ۔
رکیں علیزہ آپی۔۔۔! منہا نے اسے روکا۔
آپ یہاں رکیں۔ میں۔۔ آتی ہوں۔۔ !منہا شرمندہ سی تھی۔ اور فوراً سے بیشتر باہر نکلی۔ اس کی نظروں نے معاویہ کو تلاشا تھا ۔ وہ اس سے مل کے اپنے رویے کی معافی مانگنا چاہتی تھی۔
وہ باہر نکل آٸ ۔ معاویہ سمنے ہی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاٸ دکھاٸ دیا۔ اس کے ہاتھ میں موباٸل تھا۔ وہ کسی سے بات کر رہا تھا۔ منہا کا دل زوروں سے دھڑکا۔
جاری ہے۔
