Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 13)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

منہا جیسےہی باہر آٸ۔ معاویہ کی نظریں بھی اس پے اٹھیں تھیں۔ لیکن دوسرے ہی لمحے نظریں پھیر لیں۔

منہا اس کے قریب پہنچی۔ وہ کچھ ڈر سی رہی تھی۔

آپ۔۔۔؟؟ آپ سے بات کرنی تھی۔ کچھ دیر پہلے جسے تھپڑ مارا۔ اب اسے ہی مخاطب کرنا بھی محال ہو رہا تھا۔

معاویہ پلٹا تھا۔ اسے وہ لڑکی شرمندہ سی لگی۔ لیکن وہ پھر بھی سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا رہا۔

وہ۔۔۔ سب۔۔ غلطی سے ہوگیا۔۔۔ ؟؟ میرا ایسا ارادہ نہیں تھا۔۔ اس کے لیے۔۔۔؟؟ منہا سے بولا ہی نہ جا رہا تھا۔

معاویہ نے ایک اچٹتی نگاہ اس پے أل کے وہاں سے قدم دور ہٹانے چاہے۔ اس کا یوں نظر انداز کرنا منہا کو نجانے کیوں ناگوار گزرا۔

ایم سوری۔۔۔! جھٹ سے اس کا ہاتھ تھامتے وہ بولتی معاویہ کو چونکا گٸ۔ معاویہ کے قدم رکے تھے۔ اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا۔ اور پھر دوسری نظر منہا پے ڈالی۔ منہا نے فوراً ہاتھ چھوڑ دیا۔

معاویہ اب کی بار اس کی جانب پلٹا۔

تھپڑ سب کے سامنے۔۔۔ او معفی۔۔۔ اکیلے میں۔۔؟؟ کچھ جچا نہیں۔۔ معاویہکی بات پے منہا نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں مزید پھیلا لیں۔

میں۔۔ آپ سے۔۔ ب کے سامنے بھی معافی مانگنے کو تیار ہوں۔۔ مجھے لگا۔۔ آپ نے۔۔؟؟ گولی چلاٸ۔۔؟؟ وہ سب۔۔ انجانے میں ہوا۔۔ مجھے آپ پے ہاتھ نہیں۔۔ اٹھانا چاہیے تھا۔ منہا دھیرے دھرے ٹھہرے لہجے میں کہتے سیدھا معاویہ کے دل میں اتر رہی تھی۔

ایک شرط پے معاف کروں گا۔ معاویہ چہرے پے خوبصورت مسکان لیے اس کے قریب ہوا۔ تو وہ غیر ارادی طور پے ایک قدم پیچھے لے گٸ۔ جس پے وہ خاصا محظوظ ہوا۔

کیسی شرط۔۔؟؟ اس کی گہری جھیل سی آنکیں معاویہ کو اپنا گرویدہ بنا رہی تھیں۔

دوستی کریں گیں مجھ سے۔۔۔! معاویہ نے آج تک کبھی کسی لڑکی سے خود سے دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔ او منہا کو دیکھتے وہ کیا بولے جا رہا تھا۔ اسے خود بھی اندازہ نہ تھا۔

منہا کچھ پل سوچتے قدم پیچھے لیتی مڑی تھی۔

جواب نہیں دیا۔۔؟؟ معاویہ نے روکا تھا اسے۔ اس کی بات پے وہ رکتی پلٹی۔

مما ۔۔۔ کہتی ہیں۔۔ لڑکا اور لڑکی دوست نہیں ہوتے ۔۔ ! اس کی بات پے اب کی بار معاویہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔

لیکن۔۔ کزن تو دوست ہو سکتے ہیں ناں۔۔؟؟ معاویہ نے دلیل دی۔ وہ اس تمام عرصہ میں پہلی بار مسکراٸ تھی۔

آپ جانتے ہیں۔۔؟؟ منہا نے اب تھوڑا نارمل ہوتے پوچھا تھا۔

اندر چلتے ہیں۔۔ عشا کو ڈسچارج کرانا ہے۔۔۔! معاویہ اسے لیے اندر ہاسپٹل کی جانب بڑھا۔

جہاں عشا علیزہ کے ساتھ باہر آرہی تھی۔

آپ ۔۔دونوں ایک ساتھ۔۔؟؟ عشا نے آنکھیں پھیلاٸیں۔

علیزہ بھی مسکراٸ۔ معاویہ بھاٸ۔۔۔! میں نے علیزہ آپی سے کہا ہے۔۔ شادی سے فری ہو کے آپ۔۔ ہمارے ساتھ لاہور جاٸیں گے۔ گھر میں سب سے ملنے۔۔! دادو ۔۔آپ دونوں کو دیکھ بہت خوش ہوں گیں۔ رٸیلی۔۔۔! عشا چہک رہی تھی۔

اب درد تو نہیں بازو پے۔۔؟؟ معاویہ نے اس کی بات کاٹی۔ نہیں تو۔۔۔! میں بہت بہادر فیری ہوں۔۔ ڈونٹ وری۔

عش نے مسکرا کے کہا۔ معاویہ انہیں گاڑی کی طرف جانےکا بولتا خود رمشا کے فادر کے پاس چلا گیا۔ اور ڈسچارج پیپر بنوانے لگا۔

🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙
🌙

مونس گھر واپس آ چکا تھا۔ لیکن اپنے ساتھ کچھ درد بھی لے آیا تھا۔ محبت کا میٹھا درد۔

کیا بات ہے۔۔؟؟ مونس۔۔؟ میں دیکھ رہی ہوں۔۔ جب سے آۓ ہو۔ گم صم ہو۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ کنول نے اسکا انداز نوٹ کیا و کہے بنا نہ رہ سکی۔ یس مام۔۔! سب ٹھیک ہے ۔ یہ۔ چڑیا نظر نہیں آرہی۔۔؟؟ کہاں ہے۔۔؟؟ مونس نے مکہ کا پوچھا۔

اپنے رو میں ہو گی۔ کالج سے آج کل چھٹیاں ہیں۔ تو گھر میں ہی پیپر کی تیاری کر رہی ہے۔

کنول نے مونس کے آگے کھانے کی ٹرے رکھی۔ اس وقت وہ دونوں ماں بیٹا ڈاٸننگ ٹیبل پے بیٹھ تھے۔ جب کہ تبسمبیگم آج طبعیت ناسازی کی وجہ سے باہر نہیں آٸیں تھیں آفتاب اور ملکہ بھیآج وہاں غیر حاضر تھے۔ جس وجہ سے کچھ زیادہ ہی خاموشی محسوس ہو رہی تھی۔

ہمیں ایسا کیوں لگ رہا ہے۔۔؟؟ جیسے کوٸ ہمیں شدت سے یاد کر رہا ہے۔۔؟؟ چانک سے ملکہ کی آمد پے وہ دونوں چونکے۔ مونس نے آگے بڑھ کے ملکہ کو گلے سے لگایا۔

بھیا۔۔۔! اتنا لیٹ۔۔؟؟ جا کے بھول ہی جاتے ہیں۔۔ آپ جانتے ہیں کتنا مس کیا آپ کو میں نے۔۔؟ ملکہ چٸیر گھسیٹ کر بیٹھتی نان سٹاپ شروع ہو چکی تھی۔

یہ ہماری بٹر سکاچ ہے۔۔ مونس نے جوس کا سپ لیتے ہوۓ مونس نے پیار بھری نظر سے ملکہ کو دیکھتے کہا۔

آپ مجھے ٹالیں مت۔۔ نیکسٹ ٹاٸل میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گھومنے پھرنے۔۔۔ سمجھے آپ۔۔۔! ملکہ نے اسے ٹوکا تھا۔

میرے ساتھ کیوں۔۔؟؟ شای کے بعد جانا اپنے ہسبینڈ کے ساتھ ۔ مونس نے مزاق اڑایا۔

ملکہ نے منہ بنایا۔ دیکھیں ناں مما۔۔۔ بھیا پھر ہمارا مزاق بنا رہے ہیں۔ ملکہ نے منہ بنایا۔

کیا غلط بولا میں نے۔۔؟؟ گلاس نیچے رکھتے نیپکن سے ہاتھ صاف کیے۔

میں نہ آپ کو چھوڑ کے جاٶں گی نہ ماں بابا کو۔! اس لیے میری شادی کو بھول جاٸیں۔

این اف۔۔۔! کیا شادی شادی کی باتیں لگا رکھیں ۔ ابھی اٹھارہ کی بھیبنہیں ہوٸ تم۔۔ اور شادی کی بات۔ فلولسوچیں مت لایا کرو۔۔ دماغ میں۔۔ اور چپ چاپ ناشتہ کرو۔۔۔ دونوں۔۔! میں آپ کے بابا کو دیکھ آٶں۔

ابھی تک آۓ نہیں۔۔؟؟ کنول ان کے پاس اٹھتی ہوٸ اپنے روم کی جانب بڑھ گٸ۔ جہاں آفتاب فون پے کسی سے بات کر رہا تھا۔

ٹھیک ہے وقت کا تعین کر لو۔۔۔ او مجھے بتا دینا۔ آفتاب نے کال بند کی۔ تو کنول کو اپنے پیچھے کھڑا پایا۔ آپ کے بچے آپ کا ناشتے پے انتظار کر رہے ہیں۔ آپ آجاٸیں۔ اب۔۔۔! کنول نے بہت اپناٸیت سے کہا۔

جی جو ۔۔ جناب کا حکم۔۔۔! آفتاب اسے نظروں کے راستے دل میں اتار رہا تھا۔ کنول چھینپ سی گٸ۔وہ آج بھی آفتاب کی تز نظروں ک تاب نہ لاپاتی تھی۔

🌙
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌

زیشان ارسل نے فاٸل اٹھا کے زور سے پرے اچھالی۔

کیسے ہو سکتا ہے یہ۔۔؟؟ اتنا بڑا پروجیکٹ ۔۔ ہاتھ سے نکل گیا رازق صاحب آپ کیا سیٹ پے بیٹھے جھک مار رہے تھے۔ اس وقت زیشان ارسل انتہا درجے پے آگ بگولہ ہوا ہوا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔ پورے آفس کو آگ لگا دے۔

سر۔۔! کوٹیشنز چوری ہوٸ ہیں۔ سر جھکاۓ کہا۔ وہی تو ۔۔ میں بھی یہی کہہ رہا ہوں۔۔ کہ کس نے کی ہے غداری؟؟کون ہے۔۔ ہمارا دشمن ہمارے بیچ بیٹھا ہوا ہے۔ اور ہمیں پتہ نہیں ۔۔؟؟ وہ اپنی چال کھیل گیا۔ اور ہم ہاتھ پے ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ میں بالکل اس بات کو چھوڑنے والا نہیں۔ مسٹر وقاص آپ اور مس نینا آپ۔۔! دو دن کے اندر مجھے رپورٹ کریں گے۔ یہ سب کیسے ہوا۔۔ میں لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں۔ اگر نہ پتہ چل سکا تو اپنا اپنا ریزاٸن لیٹر ٹاٸپ کرجاٸیے گا۔ زیشان غصہ ےکہتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا آفس سے باہر نکل گیا۔

اب کیا ہو گا۔۔؟ نینا سر پکڑ کے بیٹھ گٸ۔ زیشان ارسل نے انہیں اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا تھا اتنی بڑی کمپنی میں ۔ ایک غدار کو ڈھونڈنا جوۓ شیر لانے کے مترادف تھا۔

______________

شادی قپنے اختتام کو پہنچی تھی رمشا کے گھر والوں سمیت سب باراتیوں نے عشا سے معافی مانگی تھی اور وہ چھوٹی سی لڑکی سب کو معاف کر گٸ تھی۔ تھی وہ چھوٹی سی لیکن اس کا دل بہت بڑا تھا۔

آپی۔۔۔! کل ولیمہ ہے۔۔ پلیز۔۔ وہ اٹینڈ کر کے جاٸیس گے۔ عشا نے منت بھرے لہجے میں کہا۔

عشا۔۔۔! اب بس ہو گٸ ہے میری۔۔ صبح ہم واپس جا رہے ہیں۔ او مزید کوٸ بحث نہیں اب۔۔۔! منہا نے اسے ڈانٹ دیا۔

معاویہ بھاٸ او رعلیزہ آپی بھی ساتھ جاٸیں گے ہمارے۔۔۔! ضدی انداز تھا۔

ان کی مرضی ہے۔ بیگ کی زپ بند کرتے منہا نے سر جھکاۓ رد لہجے میں کہا۔

کیا مطلب۔۔؟؟وہ باہر ملک سے پاکستان آٸے ہیں۔۔ تو کیا اپنوں سے ملے بغیر ہی چلے جاٸیں گے۔۔؟؟

عشا۔۔ میرے پاس تمہارے کسی سوالکا جواب نہیں۔۔ جب صبح ہوگی تو خود پوچھ لینا۔ منہا نے ٹالا۔

میں ان سے کہوں گی۔ وہ میری بات کا مان رکھیں گے۔ ضرور ہمارے ساتھ لاہور جاٸیں گے۔

عشا کے لہجے میں پختہ یقین تھا۔ منہا سرد آہ بھر کے رہ گٸ۔

💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌
💌

زیشان ارسل کی گاڑی سیدھا پورچ میں آ کے رکی تھی۔ غصہ سے گاڑی سے اترتا لاک لگاتا وہ اندر آیا تھا۔ اس وقت وہ اپنا غصہ زرا بھی ٹھنڈا ہوتا محسوس نہیں کر پا رہا تھا۔ کہ اسی لمحے رمل سامنے آگٸ۔

ہاۓ ہینڈسم مین۔۔۔!ہاٶ آر یو۔۔؟؟ ورمل مسکرا کے ملی۔ زیشان نے بنا اسے دیکھے قدم اپنے روم کی جانب بڑھا دٸے۔

ارررے۔ رکیں۔۔ ! اتنی بھی کیا جلدی ہے جانے کی۔ بات تو سنتے جاٸیں۔ وہ تھوڑی بےباک انداز رکھتی تھی نہ صرف بولنے کا اسٹاٸل بے حیاٸ لیے ہوۓ تھا ۔ بلکہ اس کی ڈریسنگ بھی بہت معیوب تھی۔ زیشان نے ایک نگاہ غلط بھی اس پے ڈالنا حرام سمجھا تھا۔

کیا مسٸلہ ہے۔۔؟؟ وہ اکھڑے لہجے میں بولا۔

تم۔۔م؟ اس حویل کے درودیوا بہ اونچے ہیں۔ کیا۔۔؟؟ تم مجھے کہیں گھومانے لھاٶ۔

ایکسکوزمی۔۔۔! آٸ ایم۔ناٹ یقر سرونٹ اینڈ ڈراٸیور۔۔ اپنے آپ کو تھوڑا ٹھیک کرلو۔۔۔! زیشان ارسل کا طنز کا تیر چلاتا رمل کو سانپ سونگھا گیا۔ رمل نے لب بھینچتے اور اس کو پشت کو گھوری سے نوازا۔

آیا بڑا۔ مجھے لیکچر دینےوالا ۔۔۔ ! ہونہہ ۔۔۔۔! رمل ٹیڑھا منہ بناتی وہاں سے مڑ گی۔

زیشان ارسل چاور لیتا باہر نکلا۔ اور موابٸل اٹھاتا غر ارادی ہی سہی وہ ملکہ کو کال کرنے لگا تھا۔

جو دوسری بیل پے ہی اٹھا لیا گیا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *