Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 28)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 28)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
ملکہ بے چینی سے بار بار کروٹ بدل رہی تھی۔ کافی دیر تک وہ تبسم۔بیگم کے پاس ہی رہی تھی۔ ان کی طبعیت سنبھل تو چکی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی بیٹھی رہی۔ تبسم بیگم سے اسے ایک انسیت تھی۔ اپنے ماں باپ سے شاید زیادہ۔ انہوں نے اسے دو تین دفعہ جا کے آرام کرنے کا بھی بولا۔ جسے وہ سہولت سے ٹال گٸ۔ مونس آفتاب اور کنول کو بھی گۓ کافی وقت بیت گیا تھا۔کنول کا فون بھی آیا تھا۔اور مونس نے اسے ہانی کی پک بھی سینڈ کی تھی۔ ساتھ مسنگ یو بھی لکھا تھا۔ ملکہ کے چہرے پے ایک خوبصورت مسکراہٹ بکھری تھی۔ وہ جو بار بار کروٹ بدل رہی تھی۔اب اٹھ کے بیٹھی ہانی کی پک کو زوم کر کے دیکھ رہی تھی۔ اسے ہانی اچھی لگی تھی۔ فوراً ہی جوابی مسیج کیا۔ یو آر لکی۔۔ ون۔۔۔! کانگریجولیشنز۔۔ برو۔۔! میسج سین ہوا۔ اب ملکہ مونس کے جقاب کا ویٹ کر رہی تھی۔ جو ٹاٸپنگ پے تھا۔ کہ اسی لمحے لاٸیٹ بند ہو گٸ۔ ملکہ چونکی۔ یہ کیا ہوا۔۔؟إ گھر میں جنریٹر بھی تھا۔یو پی ایس بھی۔ سبھی سہولتیں مووجود تھیں۔ پھر۔۔؟؟ لاٸیٹ کا جانا۔۔؟؟ ملکہ کو کچھ صحیح نہیں لگا۔
کیسی ہو مسز۔۔۔؟؟ اپنے قریب سے ہی آواز سنتی وہ چونک کے اچھلی تھی۔ دل زوروں سے دھڑکا تھا تو ماتھے پے بے شمار بل پڑے تھے۔۔ لیکن لبوں سے کچھ نہ کہا۔
کیا مسٸلہ ہے آپ کو۔۔؟؟ کیوں آۓ ہیں یہاں۔۔؟؟ یوں چھپ کے آنا آپ کو شیوا نہیں دیتا مسٹر زیشان ارسل۔۔۔! تھوڑی شرم کریں۔۔ ! یوں اندھیرے میں۔۔؟؟
اپنی بکواس بند کرو۔۔۔! ملکہ کی بات ابھی پوری نہیں ہوٸ تھی۔ کہ زیشان نے اس کا منہ دبوچا۔ وہ درد سے کراہ اٹھی۔ بہت زبان چلنے لگی ہے۔۔ اب وقت آگیا ہے۔۔ کہ اس زبان کو کاٹ پھینکو۔۔۔! زیشان ارسل کو اس کے الفاظ نے سخت غصہ دلایا تھا۔ چھوڑیں مجھے۔۔۔! وحشی انسانوں کی طرح نہ مجھ سے بات کیا کریں۔ ملکہ خود کو چھڑاتی چار قدم دور ہوٸ تھی۔ نہ چاہتے ہوۓ بھی ملکہ کی آواز روندھ گٸ۔ اس کا منہ دکھنے لگا تھا۔ زیشان نے اتنی زور سے پکڑا تھا۔ تم۔۔۔؟؟ زیشان پھر سے آگے بڑھا۔ وہیں رک جاٸیں۔۔! انگلی اٹھا کے وارن کیا۔ لاٸیٹ آن ہو چکی تھی۔ ملکہ کی آنکھوں کے آنسو اور چہرہ کا لال پن واضح ہوا تھا۔ مجھے کمزور سمجھنے کی بھول مت کیجیے گا۔ یہ میرے باپ کا گھر ہے۔ یہاں آپ میرے ساتھ کوٸ زور زبردستی نہیں کر سکتے۔۔۔ سمجھے آپ۔۔۔! وارننگ دیتے وہ زیشان ارسل کے غصہ کا گراف مزید بڑھا چکی تھی۔ میں یہاں ایسا کچھ کرنے والا ہوں بھی نہیں۔۔ مسز۔۔۔! جہاں چودہ سال انتظار کیا۔ وہاں دو دن مزید انتظار بھی کر سکتا ہوں۔ اس کے بعد۔۔! تم صرف میری ملکیت ہو گی۔۔ ! میرے تمام اختیارات ہوں گے تم پے۔۔
بھول ہے تمہاری۔۔۔! میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی۔ ملکہ نے نازک سی دھمکی دی۔ جس پے زیشان استھزاٸیہ انداز میں ہنسا تھا۔ وہ تم سے پھر آپ پے آگٸ تھی۔ اور بے انتہا غصہ میں تھی۔ تمہیں ایسا لگتا ہے۔۔ کہ تم۔۔ یہ رخصتی روک لو گی۔۔؟؟
زیشان کی بات پے ملکہ ایک پل کو لرزی تھی۔ لیکن اگلے ہی پل مضبوط انداز میں اسے دیکھا۔
میں کبھی بھی تمہیں۔۔ قبول نہیں کروں گی۔۔زیشان ارسل۔۔! کبھی نہیں۔۔! وہ پوری قوت سے چلاٸ تھی۔ قبول کرنے کو کہہ کون رہا ہے۔۔؟؟ مسز۔۔ خانزادہ۔۔! میں تو تم پے مسلط ہوں۔۔ گا۔۔! تمہاری سزا بن کے۔۔ ! ہر دن ہر پل تڑپو گی۔۔! زیشان غصہ سے پھنکارا تھا۔ جب کہ اس نے نفرت سے اسے دیکھا تھا۔ تم خود کو خان کہلاوانے کے لاٸق ہی نہیں۔۔۔! اس کی بات پے زیشان کا ہاتھ اٹھا تھا۔ لیکن بروقت اس نے خود پے قابو کیا۔ ہاتھ ہوا میں ہی روکا تھا۔ تم۔۔ اور۔۔ تمہاری یہ زبان۔۔۔؟؟ بہت جلد اس کا بندوبست کروں گا۔۔ اور تمہیں۔۔ تمہارے باپ سمیت بتاٶں گا۔۔ کہ۔۔ خون بہا میں کیا ہوتا ہے۔۔؟؟ اس کا بازو سختی سے دبوچے وہ غرایا تھا۔ اس کی آنکھوں کا نیلا رنگ بدل کے سرخ ہوا تھا۔ وہیں اس لڑکی کی بس ہوٸ تھی۔ اور اس کے دل کا بچپن کا خوف پھر سے سر اٹھا گیا۔ آنکھوں سے ناچاہتے ہوۓ بھی دو آنسو چپکے سے بہتے رخساروں پے آگۓ۔ زیشان اس کی گہری کالی آنکھوں کو دیکھتا ایک پل کو سٹل ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں ایک عجیب رات کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔ آنسوٶں کو انگلی کی پوروں پے بے اختیار ہی وہ چھوتا۔۔۔ سب کچھ بھولا تھا۔ وہ ایک آنسو نجانے کیوں۔۔ ؟؟ اس کے دل کو بے قرار کر گیا۔۔۔ ! سختی سے آنکھیں میچے اپنے جذبات کو قابو میں کیا۔ اور دروازے کی جانب لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکلتا چلا گیا۔ ملکہ نے اپنا رکا ہوا سناس بحال کیا تھا۔ اپنے گال سختی سے رگڑتے اپنے آنسو پوچھے۔ چاہے کچھ بھی ہو جاۓ۔ میں مر جاٶں گی۔۔ لیکن۔۔ تمہارے ساتھ رخصت کبھی نہیں ہوں گی۔ زیشان ارسل۔۔۔! وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوتی آج اپنے اندر اس شخص کے لیے نفرت محسوس کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ۔؟؟ منہا معاویہ کو اپنے پیچھے دیکھ چونکی تھی۔ مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے۔۔ کہ میرے بارے میں سوچا جا رہا تھا۔۔۔؟؟ کچھ قدم کا فاصلہ رکھے وہ منہا کے قریب ہوا۔ ایسا تو کچھ نہیں۔۔ ! منہا نے رخ پھیرا اور نظریں چراٸیں۔ معاویہ زیرِ لب مسکراتا اس کے پاس آتا دو قدم کے فاصلے پے ہی رک گیا۔ لیکن آپ کی آنکھیں تو کچھ ارر ہی کہانی سنا رہی ہیں۔۔؟؟ منہا نے نظریں پھیر کے اسے دیکھا۔ اور ماتھے پے بل ڈالے وہ وہاں سے نکنلے لگی۔ کہ۔
مان جاٶ۔۔ تمہارے دل میں بھی میرے لیے جذبات ہیں۔۔ ! معاویہ کی بات پے اس کے قدم لرزے تھے۔ وہ کیسے جان گیا۔۔؟؟ پہلا سوال اس کا خود سے یہی تھا۔ اتنا بھی بھولا نہیں میں منہا۔۔ کہ تمہاری آنکھوں سے تمہارے دل کا راز نہ جان سکوں۔ ۔۔؟؟ اس کے سامنے آتے اس کے دماغ میں آۓ سوال کا جواب دیتے وہ اسے ٹھٹھکنے پے مجبور کر گیا۔ بہت مشکل ہے چہرے سے دل کا راز پڑھ لینا۔۔ جو گہرے ہوتے ہیں۔ وہ پہچانے نہیں جاتے۔۔۔ ! منہا نے ہمت کرتے اسے کہا۔ تو اس کی مکراہٹ مزید گہری ہوٸ۔ رٸیلی۔۔؟؟ لیکن۔۔ میں تو تمہاری اندر کی گہراٸ تک اتر چکا ہوں۔ وہ تھوڑا قریب ہوا تو منہا چار قدم دور ہوٸ۔ آپ پلیز۔۔ دور رہ کے بات کیا کریں۔ ورنہ۔۔ مت کیا کریں۔ ہاتھ اٹھا کے روکا۔ ایم سوری۔۔۔! میں۔۔ ؟؟ معاویہ کو بھی اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا تھا۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔ معاویہ نے اپنے آنے کی وجہ بتا دی۔ کیا بات۔۔؟؟ منہا کے ماتھےپے شکنیں نمودار ہوٸیں۔ میں نے ماموں سے ہمارے بارے میں بات کر لی ہے۔ ! معاویہ کی بات پے تو منہا کا دماغ ہی پھر گیا۔ کیسی بات۔۔؟؟ دانت پیستے پوچھا۔ یہی کہ۔۔۔! ہم۔۔ ایک دوسرے کو۔۔؟؟ کیا ہم۔۔؟؟ منہا نے اس کی بات کاٹی۔ معاویہ نے چپ ہوتے اسے دیکھا۔ نہیں۔۔ آپ کو شرم نہیں آٸ جھوٹ بولتے۔۔؟؟ منہا تھوڑا اونی آواز میں بولی تھی۔ اب۔ معاویہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔ کب۔۔ کب۔۔ اظہار کیا میں نے آپ سے ۔۔؟؟ کہ میں۔۔ آپ کو۔۔؟؟ منہا نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔ نجانے ۔۔؟؟ بابا۔۔۔؟إ کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔ میرے بارے میں۔۔! منہا کی آنکھوں میں آنسو بھر گۓ۔ کچھ غلط نہیں سوچا یار۔۔۔ انہوں نے۔۔۔! وہ بھی ہماری فیلنگز جانتے ہیں۔ سمجھتے ہیں۔۔ ماں باپ کبھی اولاد کا برا نہیں چاہ سکتے۔۔ ! معاویہ نے تیز لہجے میں اس کی بات کاٹی۔ یو نو۔۔۔! مجھے ماموں کو سمجھانا اتنا مشکل نہیں لگا۔ جتنا تمہیں۔۔؟؟ معاویہ نے گہرا سانس خارج کیا۔ مجھے ۔۔ نہیں پتہ تھا۔۔ یہ دل ایک ایسی لڑکی پے آۓ گا۔۔ جو انتہاٸ بزدل ہو گی۔ معاویہ کی بات پے منہا کو غصہ آگیا۔ جو لڑکیاں ماں باپ کے گیصلوں کے ساتھ چلیں۔ وہ بزدل ہیں۔ تو ٹھیک ہے ۔ میں بزدل ہی ٹھیک۔ ممنہا نے غصہ سے کہہ کے بات ختم کر دی۔ اوکے۔۔ دن فاٸن۔! گو ود یور پیرنٹس۔۔ ! محبت جاۓ بھاڑ میں۔ معاویہ اپنا غصہ بمشکل کنٹرول کرتا وہاں سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا۔ منہا نے اپنی آنکھوں میں آۓ آنسوٶں کو پرے دھکیلا۔ اور خود بھی سر جھٹکتی اندر کی جانب بڑھی۔۔
۔۔۔۔۔۔
مونس چاہ کے بھی ہانی سے اکیلے میں نہیں مل سکا۔ اور ہانی نے بھی اسے کوٸ موقع فراہم نہیں کیا تھا۔ اس لیے وہ اس سے ملے بنا ہی وپپس لوٹ آیا۔ گھر آکے بھی اس نے اسے میسج کیا۔ لیکن اس کی طرف سے کوٸ جواب موصول نہیں ہوا۔ تو مونس نے بھی غصہ سے اس سے دوبارہ رابطہ نہ کیا۔ اور چپ سادھ لی۔
۔۔۔۔۔۔۔
دو دن پلک جھپکتے ہی گزر گۓ ۔ کنولنے ملکہ کو ہر طرح سے یقین دلایا ۔ کہ اس کے بابا اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ آفتب شیر خان نے اسے اچھی طرح اپنے ساتھ کا اپنے ہوانے کا مان بخشا۔ لیکن ملکہ کی ایک ہی ضد تھی۔ کہ اسے زشان کے ساتھ رخصت نہ کریں۔ بھلے اس کی جان لے لیں۔ وہ دو دن سے رو رہی تھی۔ اور کنول اور آفتاب بری طرح اس کے رویے سے پریشان تھے۔ اور آج جب رخصتی کا دن آن پہنچا تھا تو اسے بہت تیز بخار نے جکڑ لیا تھا۔ کچھ دیر پہلے ڈاکٹر اسکا چیک اپ بھی کر کے گٸ تھی۔ اور اس بخار کی وجہ سٹریس بتاٸ تھینول اس کے ماتھے پے پٹیاں رکھتی مسلسل اس پے آیات کا ورد کر رہی تھی۔ اور اب جا کے بخار کا زور ٹوٹا۔ کنول نے اسے اٹھایا۔ اور زبردستی شادی کا جڑا پہنایا۔ وہ نہ نہ کر رہی تھی۔ اور کنول اسے حوصلہ دے رہی تھی۔ آفتاب اندر داخل ہوا۔ وہ بھی ملکہ کی کنڈیشن کی وجہ سے کافی پریشان تھا۔ تو مونس غصہ میں۔ آفتاب نے زیادہ لوگوں کو اس بار انواٸیٹ بھی نہیں کیا۔ میکال اور اس کے گھر والے تھے۔ شاہ میر اپنی فیملی کے ساتھ تھا۔ اس سب میں معاویہ کو ملکہ کے ساتھ یہ زیادتی بالکل بھی اچھی نہ لگ رہی تھی۔ وہ چاہتا تو بہت کچھ کر سکتا تھا۔ لیکن وہ باپ اور ماں کا انتظار کر رہا تھا۔ جہنوں نے کل تک آجانا تھا۔ لیکن وہ ابھی تک نہیں آۓ تھے۔ اور اب ان کا فون بھی نہیں لگ رہا تھا۔ معاویہ انہیں لے کے بھی کافی پریشان تھا۔کہ باہر سے بارات آنے کا شور اٹھا۔ ملکہ نے پھتراٸ نظروں سے باپ کو دیکھا۔ کنول کو دیکھتے نفی میں سر ہلایا۔ کنول نے ملکہ کو اپنے سینے میں بھینچا۔ اس سے پہلے کہ کوٸ باہر کی طرف پیش قدمی کرتا باہر سے گولیوں کی آواز نے سب کو بری طرح چونکایا تھا۔
جاری ہے۔
