Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 14,15)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 14,15)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
مونس سے گپ مار کے وہ جیسے ہی اندر داخل ہوٸ۔ موباٸل بری طرح چنگھاڑ رہا تھا۔ اس وقت کون کال کر رہا ہے۔۔؟ آگے بڑھ کے مواباٸل پے چیک کیا۔ بگڑا خانزادہ۔ ملکہ نے لب بھینچے۔ کلہی اس نے زیشان ارسل کا نام بگڑا خانزادہ کے نام سے سیو کیا تھا۔ اب اسی کی کال دیکھ وہ گہرا سانس بھر کے رہ گٸ۔
کیا ہے۔۔؟؟ کال اٹھاتے تھوڑا بد تمیزی سے مخاطب ہوٸ۔
والدین نے سلام دعا کرنا نہیں سکھایا۔۔؟؟ زیشان ارسل کو اس کی آواز سن کے اندر تک ایک انجان سا سکون محسوس ہوا تھا۔ جسے وہ خود بی نہیں سمجھ پایا تھا۔
نہیں۔۔ انہوں نے کہا تھا۔ کہاگر کوٸ فضول انسان تنگ کرے تو اسے بلاک کرنا ۔۔ تو اب وہی کروں گی میں۔ گے سے مزید تنک کے کہا گیا۔
زیشان نے موباٸل ایک کان سے ٹہاتے دوسرے پے لگایا۔
کردو۔۔ بلاک۔۔! مجھے بلاک کر کے۔۔۔ مجھ سے ملنے کا بہانہ اچھا ہے۔۔۔! زیشان نے مسکراہٹ لبوں پے لاتے کہا۔ جب کہ ملکہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گٸیں۔
کیا مطلب۔۔؟ اس بات کا۔ ۔۔؟؟
تمہارے گھر کا ایڈیس معلوم ہے مجھے۔ آجاٶں گا۔۔ ! لیکن ویلکم تم کرو گی۔۔۔! زیشان نے بہت سکون سے کہتے ملکہ کا سکون غارت کیا۔
تم۔۔؟؟ آپ۔۔؟؟ پاگل ہیں۔۔؟ تم کہتے کہتے وہ رکی۔ اور آپ کہہ گٸ۔
کرنا ہے۔۔ پاگل۔۔ کسی کو۔۔۔! زیشان نے اسے تنگ کیا۔ نجانے کیوں وہ اس سے فری ہو رہا تھا۔ جب کہ رمل نے اس سے فری ہونا چاہا تو وہ اسے سنا آیا۔ اب ملکہ سے وہ خود فری ہو رہا تھا۔ اور یہ بات وہ جانتا بھی نہ تھا۔ سب غیر ارادی فعل تھا۔
یو آر ٹوٹلی میڈ۔۔۔! اتنا کہتے ملکہ نے کال کٹ کر دی۔ زیشان نے موباٸل دور بستر پے گرایا۔ اور خود آٸینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ بالوں کو سنوارتے وہ اب پرفیوم کا چھڑکاٶ کر رہا تھا۔ کہ اسی لمحے دروازے پے ناک ہوٸ۔
یس۔۔۔! بنا مڑے ہی اجازت دی۔
خان۔۔! آپ کو بڑے خان بلارہے ہیں۔ سر جھکاۓ ببلو نے پیغام دیا۔
ٹھیک ہے۔۔ آرہا ہوں۔۔ سپاٹ انداز تھا۔ کوٸ دیکھ لیتا ملکہ سے بات کرتے خان کو شاید بے ہوش ہی ہو جاتا۔
______________
آپ۔۔۔؟؟ پلیز۔۔ معاویہ بھاٸ۔۔ چلیں ناں۔۔۔! یہ کیا بات ہوٸ۔۔؟ آپ پاکستان آۓ اور لاہور نہیں جاٸیں گے۔۔؟؟ عشا نے معاویہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ اور معوایہ مکراتا ہوا بس اسے دیکھ رہا تھا۔
اس بار جانے دیں۔۔ گڑیا۔۔ ان شاء اللہ اگلی بار آٸیں گے تو ضرور ملیں گے۔۔ لاہور جا کے۔۔! اس نے نرمی سے سمجھایا۔ جبکہ علیزہ اور منہا بالکل خاموش کھڑی تھیں۔ اس وقت سبھی اپنے اپنے گھروں کو مہمان جانے کو تیار تھے۔ رمشا کے والدین سے وہ اجازت لے چکی تھیں۔ وہیں معاوی کو فون کر کے عشا نے بلایا تھا۔ وہ علیزہ کو لیے پہنچ گیا تھا۔ اور اب وہ یہ نہیں جانتا تھا۔ کہ اس کی اگلی ڈیمانڈ یہ ہو گی۔
ہرگز ہرگز نہیں۔۔ اگر آپ ہمارے ساتھ لاہور نہیں گۓ۔ تو بس پھر ناراضی پکی۔ عشا نے روندھے لہجے میں کہا۔ منہا کو اس کا یوں معاویہ پے حق جتانا بالکل نہ بھایا۔ وہ بردستی کی قاٸل نہ تھی۔ او نہ ہی خوابوں کی نیا میں رہنے والی لڑکی تھی۔
مضبوط اور پریکٹیکل لڑکی تھی۔
عشا۔۔ گصیا سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ ! معاویہ نے پھر سمجھایا۔ جانا وہ خود بھی چاہتا تھا۔ اپنی نانی سے ملنے اپنے رشتوں سے ملنے۔ لیکن اسے انابیہ نے قسم دی تھی۔ وہ شادی والے گھر کے علاوہ کہیں اور نہیں جاۓ گا۔ او کہیں اور کا وہ مطلب بخوبی سمجھتا تھا۔
عشا۔۔! بس کرو۔۔۔! بچی نہیں ہو تم۔۔ جو یوں ضد لگا رہی ہو۔ چلو۔۔ اب۔۔ فلاٸیٹ ک ٹاٸم ہو رہا ہے۔ منہا نے لب بھینچتے بیگ کو گاڑی میں رکھوایا تھا۔ عشا کی آنکھوں میں نمی اتری۔ جسے ان تنیوں نے بخوبی نوٹ کیا۔
منہا۔۔! ڈانٹنے کی ضرورت نہیں۔۔ میں سمجھا رہا ہوں ناں۔۔! معاوی کو سخت ناگوار گزرا۔
یہ ایسے نہیں سمجھتی۔۔ اسے مں سمجھاتی ہوں۔۔ منہا غصہ سے آگے بڑھی۔ کہ عشا ایک دم سے معاویہ کے پیچھے چھپ گٸ۔ اور منہا نے قدموں کو بریک لگایا۔
آپ لوگ جاٸیں۔۔ ہماری وجہ سے آپ کو بھی مسٸلہ ہو گا۔ منہانے نظریں پھیرتے کہا۔
کیسا مسٸلہ۔۔؟؟ معاویہ نے اب اپنیتوجہ اس کی جانب مبذول کراٸ۔ منہا نے ایک سخت گھوری سے عشا کو نوازا۔ اور مڑ گٸ۔
میں جا رہی ہوں۔ آنا ہوا تو آجانا۔ منہا نے عشا کو لاسٹ وارننگ دیتے کہا۔ اور گاڑیکے بیک ڈور اوپن کرتی جا بیٹھی۔ وہ ان دونوں سے مل کے بھی نہیں آٸ تھی۔
آپ نہیں جاٸیں گے۔۔؟؟ عشا نے بہت مان سے پوچھا۔ معاویہ کا دلبری طرح پسیجا۔
بھیا۔۔۔؟؟ پلیز۔۔ چل پڑتےہیں۔ میرا بھی بہت جی چاہ رہا ہے۔۔ نانو سے ملنے کا۔۔ پلیز۔۔؟؟ علیزہ بھی منمناٸ ۔ معاویہ ایک پل کو سوچ میں پڑ گیا۔
اگر وہنہجاتا تو عشا کا دل ٹوٹ جاتا۔ اگر جاتا تو ماں کا بھروسہ۔۔۔! کسی ایک کو تو ٹوٹنا تھا۔ لیکن کسے۔۔؟؟ اور پھر معاویہ نے فیصلہ لےلیا۔
____________
جی۔۔ خاندادا۔۔ ؟؟ آپ نے بلایا۔۔؟؟ وہ ان کے سامنے تھا۔۔
خان۔۔! بس چھ دن ہی رہ گۓ ہیں۔ میں چاہتا ہوں۔۔ آفتاب شیر خان سے اب باقاعدہ اس سلسلے میں بات کر لی جاۓ۔ تا کہ سب معاملات طے ہو سکیں۔ اور ہم موقع کی مناسبت سے دن مقر کر لیں۔
خاندادا کی بات پے زیشان ارسل پرسوچ انداز میں ان کو دیکھنے لگا۔
آپ کو لگتا ہے وہ اتنی آسانی سے مان جاٸیں گے۔۔؟ کیوں نہیں مانے گا۔۔؟ بھری پنچاٸیت میں فیصلہ ہوا تھا۔ نکاح ہوا تھا۔
اگر انہوں نے انکار کر دیا۔ او اس رشتہ کو نہ مانا تو۔۔؟ زیشان نے بات کاٹی۔
نہ مانا مطلب۔۔۔؟؟ نکاح کے رشتے سے وہ کیسے انکار کر ستے ہیں۔۔؟ نکاح میں وہ ہے تمہارے۔ جاوید خان تھوڑا بھڑک ہی گۓ۔
نکاح۔۔۔؟؟ زیشان ارسل اپنی جگہ سے مسکراتا ہوا اٹھا۔ اس کے الفاظ پے جاوید خان کچھ شش و پنج کا شکار ہوۓ۔ وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے۔
ٹھیک ہے خاندادا۔۔۔! تیاری کریں۔ اور پوری تیاری کریں۔ کیونکہ۔۔ مجھے تو وہ چاہیے۔۔ ہر صورت۔۔! اس۔۔؟؟ دل کے مقام کی طرف اشارہ کیا۔ اس دلکو قرار تب ہی آۓ گا۔ جب۔۔ وہ ۔۔ یہاں آۓ گی۔ اس کے لفظوں میں چھپی پراساریت کو جاوید خان سمجھ نہ سکے۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے مردان خانے سے باہر جا چکا تھا۔ جب کہ جاوید چوہدری سچ میں پڑ گۓ۔ کہیں۔۔ انہوں نے زیشان کے اندر زہر انڈیلنے میں کوٸ کمی یا کوتاہی تو نہیں کر دی۔۔؟
___________
کتنا بے باک انسان ہے۔۔ اور بے شرم بھی۔ ملکہ ابھی تک پریشان حال بیٹھی تھی۔ زیشان کا نمبر چاہ کے بھی وہ بلیکلسٹ میں نہ ڈال سکی۔ نجانے کیوں۔۔ شاید اس سے کزن کا رشتہ ہے۔۔ لیکن ۔۔؟؟ وہ دور کیوں ہوگۓ۔۔؟ اور ہھوپھو۔۔؟ وہ کہاں ہیں۔۔؟ زیشان ارسل کیوں اتنا روڈ ہے۔۔؟ یہ وہ چند سوال تھے جن کے جواب ملکہ کو چاہیے تھے۔








اوچ۔۔۔! دیکھ کے۔۔۔؟ہانی شاپ سے باہر نکل رہی تھی۔ اور مونس اندر داخل ہو رہا تھا۔ کہ دونوں کی سخت ٹکر ہوٸ۔ مونس کو دیکھ وہ ماتھا مسلتے کچھ بولتی کہ ایک دم چپ ہی رہ گٸ۔ جب کہ دوسری طرف مونس بھی حیران کھڑا تھا۔
ایم سوری۔۔۔۔! نجانے کس احساس کے تحت منس کے من سے یہ لفظ نکلا۔
اٹس اوکے نہیں کہوں گی۔ مجھے واقعی۔۔ میں بہ زور کا لگا ہے۔ ہانی نے خفگی سے کہا۔ تو مونس کے چہرے پے دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔
کافی۔۔۔؟؟ مونس نے اسے آفر کی۔
کافی۔۔۔؟؟ کے لیے ہاں کہےمی تو پھر سے۔۔ کردار کا طعنہ مل جانا۔۔۔؟؟ اور میں اپنے کردار کی صفاٸ کے لیے سرٹیفیکیٹ ساتھ لے کے نہیں پھر کتی مسٹر مونس۔۔۔! ہانی نے سنجیدہ انداز میں کہا۔ مونس نے لب بھینچے۔
اگر کوٸ مواعی مانگ لے تو بار بار اس بندے کو اس کی غطی جتا جتا کے بے عزت نہں کرنا چاہیے۔ مونس نے دو لفظوں میں بات ختم کر دی۔ ہانی سوچ میں پڑ گٸ۔
اوکے۔۔۔! لیکن۔۔ میں کافی نہیں پیتی۔ چاۓ۔۔؟؟ ہانی نے دوستانہ انداز میں کہا۔
پلیز۔۔؟؟ مونس مسکراتے ہوۓ اسے پاس ہی ایک ریسٹورینٹ میں لے گیا۔ اپنے لیے کافی اور ہانی کے لیے چاۓ کا آرڈر دیتے ساتھ میں کچھ اسنیکس بھی منگوا لیے۔
کیسی طبعیت ہے اب۔۔؟ مونس نے دونوں کے بیچ کی خاموشی کی دیوار کو گرایا۔
پہلے سے کافی بہتر۔۔۔! اس رات۔۔؟آپ نے مجھے بچایا۔۔؟ مجھےبابا نے بتایا تھا۔ ہانی نے مزید بات کو بڑھایا۔
بس۔۔؟؟ وہاں پہنچ گیا۔۔ جہاں کار حادثہ ہوا تھا۔
ڈر گۓ تھے۔۔؟؟ اچانک سے ہانی کے لبوں سے ادا ہوۓ مونس نے اسے نظر اٹھا کے دیکھا۔ اسی وقت ویٹر آرڈر سرو کر گیا۔ سچ کہوں تو۔۔۔؟ واقعی ڈر گیا تھا۔ اور وہ بھی بری طرح۔۔۔! مونس نے سچے دل سے کہہ دیا۔ ہانی کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔
تم بہت جذباتی ہو۔ مجھے لگا صرف میری بہن ہی ایسی ہے۔۔ لیکن۔۔ اب لگتا ہے ہر لڑکی ہی جذباتی ہے۔ مونس بہت آرام سے آپ سے تمکا سفر طے کر گیا۔ آپ کی بہن ۔۔؟؟؟ ہانی نے دیکھا کہ بہن کے زکر پے مونس کے لہجہ میں بے تحاشا پیار تھا۔
ہممم۔ اکلوتی او ربہت پیاریبہن۔ اپنے نام کی طرح ملکہ۔۔۔۔۔! مونس دنیا میں سب سے زیادہ پیار اپنی بہن سے ہی کرتا تھا۔ اتنا پیار کے وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ اس کا ایک آنسو بھی اس کے دل پے گرتا تھا۔
شی از لکی۔۔۔! ہانی نے دل سے سراہا تھا۔
تمہارے ۔۔بہن بھاٸ نہیں ہیں کیا۔۔؟؟ مونس نے بات بڑھاٸ تھی۔ وہ مونس کو کافی چھوٹی لگ رہی تھی۔ اس لیے اسے آپ کہنا اسے عجیب سا لگا۔ اور تم ہی مناسب لگا۔
ہیں ناں۔ ای بھاٸ ہیں۔ اور ایک بہن۔ بالاج بڑھے بھیا۔۔۔ لیکن وہ بہت روڈ سے ہیں۔ کسی سے بات ہی نہیں کرتے۔ اور شزا آپی۔۔۔ وہ بھی بھاٸ کی طرح ہیں۔ دونوں ہی سخت مزاج ہیں۔
ہانی کے لہجے میں پیار تھا ان کے لیے۔ لیکن تھوڑی دوری سی محسوس ہووٸ۔
ابھی وہ بات کر رہے تھے۔ کہ ریسٹورینٹ میں اچانک سے فاٸرنگ اسٹارٹ ہوگٸ۔
جاری ہے۔
ہانی کی ابھی بات مکمل نہ ہو پاٸ تھی۔ کہ اچانک فاٸرنگ سے وہ دونوں بری طرح چونکے۔ مونس بنا کچھ سوچے سمجھے ہانیبکا ہاتھ تھامے دوسری طرف بڑھا۔ لیکن فاٸرنگ اس ریسٹورینٹ کے بالکل باہر ہو رہی تھی۔ ریسٹورینٹ میں افرا تفری مچ گٸ تھی۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔؟؟ ہنی گھبراتے ہوۓ بولی۔
معلوم نہیں۔۔؟؟ شاید کوٸ جھگڑا ہو گیا ہے۔۔؟ لیکن ہم سامنے سے نہیں جا سکتے۔۔ بیک سے جانا ہوگا۔
لیکن۔۔؟؟ میری گاڑی تو۔۔ فرنٹ پارکنگ میں ہے۔
ابھی نکلو یہاں سے۔۔۔! بعد میں گاڑی کو بھی دیکھتے ہیں۔ مونس اس کا ہاتھ تھامے بک ڈو سے باہر نکلا۔ جہاں سے کافی لوگ تعداد میں باہر جا چکے تھے۔لیکن ابھی بھی کافی لوگ اندر تھا۔ دھکم پیل میں مونس کے ہاتھ سے ہانیکا ہاتھ چھوٹا۔ وہیں ہانی اپنے ہاتھ کو دیکھتی آنکھوں میں آنسو بھر لاٸ۔ مو۔۔۔۔مونننسسس۔۔؟؟ وہ ہکلاتے ہوۓ بولی تھی۔ لیکن انے زیادہ لوگ تھے وہاں کہ کان پڑی آواز سناٸ نہیں دے رہی تھی۔ لوگوں کا ریلا اسے باہر کی جانب دھکیلنے لگا۔ وہ واپس پلٹ کے مونس کو ڈھونڈنا چاہتی تھی۔ لیک وہ واپس نہیں جا پا رہی تھی۔ اسی اثنا میں وہ باہر پہنچ گٸ۔ اردگرد دیکھا تو لوگ افراتفری میں بھاگے چلے جا رہے تھے۔ جب کہ وہ پتھر کی طرح وہیں کھڑی رہ گٸ۔ نہ آگےجا پا رہی تھی۔ نہ واپس ججنے کا رادتہ مل رہا تھا۔ جب کہ فاٸرنگ ابھی بھی ہو رہی تھی۔
اسی لمحے کسی نے اس کا ہاتھ تھاما۔ تو وہ کرنٹ کھاتی پیچھے ہٹی۔ سامنے منس کو کھڑے دیکھا تو اس کی سانس میں سانس آٸ۔ مونس اس کا ہاتھ تھامے اسے لیے وہاں سے آگے بڑھا۔
بہت دور جا کے دونوں نے سانس بحال کیا۔
آر یو اوکے۔۔؟؟ مونس نے اس سے فکرمندی سے پوچھا۔
یس ۔۔۔! نجانے کون لوگ تھے۔۔؟ اچنک سے ہی یہ سب۔۔؟؟ ہانی متفکر ہوٸ۔ موس نے گہرا سانس بحال کیا۔ چلو۔۔۔ گھر چھوڑ دوں۔۔؟؟ مونس نے اسے آفر کی۔ ویسے بھی شام بہت گہری ہو رہی ہے۔۔ اور تم۔۔؟؟ اکیلی۔۔؟؟
ڈراٸیور ساتھ تھا۔ وہ گاڑی میں۔۔۔؟؟ ہانی نے صفاٸ دیننی چاہی۔
اس وقت وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔ میری گاڑی یہاں بیک پے ہے آٶ۔۔ میرے ساتھ۔ مونس اسے لیے آگے بڑھا۔ وہ بھی ناچار پیچھے چل دی۔
_________
تمام راستے منہا خاموش رہی۔ عشا چہکتی رہی۔ اس کی من مراد جو پوری ہو رہی تھی۔ اس وقت وہ دونوں معاویہ اور علیزہ کے ساتھ لاہور جا رہے تھے۔ فلاٸیٹ سے جانے کا ارادہ کینسل کرتے وہ اب باٸ روڈ جا رہے تھے۔ معاویہ کے ساتھ۔ فیصل آباد (درستگی) سے وہ اس وقت اپنی منزل کی جانب گامزن تھے۔ معاویہ نے باآخر فیصلہ لے ہی لیا۔ وہ عشا کا معصوم دل نہ توڑ سکا۔
راستے میں وہ ایک ریسٹورینٹ پے رکے۔
چلیں۔۔ جی۔۔ آرڈر کریں۔ معاویہ نے منہا کو ایک نظر دیکھتے عشا اور علیزہ سے پوچھا۔ وہ اپنا آرڈر سوچتی بتانے لگیں۔ ایوری تھنگ از اوکے۔۔؟ مس منہا۔۔؟؟ معاویہ نے اسے اس قدر خاموش دیکھا تو پوچھ بیٹھا۔
جی۔۔؟؟ جی۔۔۔! منہا زبردستی مسکراٸ۔
آپی آرڈر پلیز۔۔۔۔؟؟ عشا نے چہکتے ہوۓ کہا ۔ منہا نے جسٹ ایک کپ کافی منگوایا۔
آپ پاکستان کیوں نہیں آجاتے ہمیشہ کے لیے۔۔؟ پپ سے مل کے اتنا اچھا لگا۔۔۔/ آپ عمار بھیا کو بھی ساتھ لے آتے۔۔؟؟ عشا کے اندر جتنے سوال تھے۔ اسے سب کے جواب چاہیے ہوتے تھے۔
عمار تو جانتے ہیں نہیں۔۔ کہ ہم پاکستان آۓ ہیں۔ وہ یونی کے فیرینڈز کے ساتھ گھومنے گۓ ہیں۔۔ علیزہ نے مسکرا کے کہا۔ تو ایک پل کو منہا کے چہرے پے سایہ لہرایا۔ مطلب۔۔؟ أس کے لیے دوست اہم ہیں۔۔ لیکن ماں باپ اور دوسرے رشتے اہم نہیں۔۔؟؟ اداس ہونے کی ضرورت نہیں۔۔ ! بھاٸ ہے وہ آپ کا۔۔ ضرور آۓ گا۔ یہاں نہیں آۓ گا تو کہاں جاٸیا گا۔۔ ؟ معویہ نے بات سنبھالی۔
کبھی کبھار اپنے رشتے بھی ڈس جاتے ہیں اپنوں کو۔ کہ پھر کچھ باقی نہیں رہتا۔۔ پھر کوٸ آۓ یا نہ آۓ۔۔۔ کوٸ فرق نہیں پڑتا۔
منہا تلخ سی ہوٸ تھی۔ اور وہاں سے اٹھتی گاڑی کی جانب بڑھ گٸ ۔ علیزہ اور عشا نے افسردگی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
آپ دونوں لنچ کرو۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔! معاویہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔
معاویہ بھاٸ کتنے اچھے ہیں۔۔ ناں۔۔! کاش وہ منہا آپی سے شادی کر لیتے۔۔ ! کتنا مزہ آتا۔۔؟ عشا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ علیزہ چونکی تھی۔ اور پھر خود بھی مسکراٸ۔ دعا مانگو۔۔ کیا پتہ ایسا ہو ہی جاۓ۔۔۔؟؟ علیزہ نے ڈرنک کا سپ لیتے ہوۓ شرارت سے کہا۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔ آٸ نو۔۔۔! عشا اداس ہوٸ۔ کیوں۔۔؟؟ علیزہ نے حیرت سے اسے دیکھتے پوچھا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی منہا آپی کا بالاج بھاٸ کے ساتھ بابا نے رشتہ پکا کر دیا ہے۔۔۔! اور وہ۔۔ انتہٸ سڑو انسان ہیں۔۔ سچی۔۔۔! عشا نے منہ بنا کے کہا۔ کبھی بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔
وہ کون ہیں۔۔؟؟ علیزہ کا دل ایک دم سے اداس ہوا وہ بھی معاویہ اور منہا کو ایک ساتھ دیکھنے کی خواہش مند ہوٸ تھی۔
وہ۔۔؟؟ وہ۔۔ بڑی پھپھو کے بیٹے۔۔؟ ہاۓ اللہ آپ نہیں جانتیں۔۔؟ عشا نے اونچی آواز میں کہا۔ عشاکو دھچکا لگا۔ اوہ۔۔کبھی بات نہیں ہوٸ ان سے۔۔ علیزہ کو شرمدنگی ہوٸ ۔ اس کی مما نے کبھی اپنوں سے فون پے بھی رابطہ کرنے نہیں دیا اور اب جب انہیں پتہ چلے گا کہ وہ لاہور جا رہے ہیں۔۔نجانے کیا کر دیں۔۔؟؟ عیزہ نے جھرجھری لی۔




آفتاب شیر خان سیڑھیاں نیچے اتر رہا تھا۔ کہ ڈھیر ساری مٹھاٸ اور فروٹس کے ٹوکرے لیے ملازمین اندر داخل ہوۓ۔ وہ ٹھٹھکا تھا۔ ترچھی نظر سے سب کو دیکھا۔
کول بھی پیچھے اتر رہی تھی۔ وہ دونوں اس وقت کسی پارٹی میں جا رہے تھے۔
یہ سب۔۔؟؟ کنول نے حہرانی سے آفتاب کی جانب دیکھا۔ خان۔۔۔! جاوید خان آۓ ہیں۔۔ اندر آنے کیا جزت چاہتے ہیں۔ باسط نے آکے سر جھکاۓ پوچھا تھا۔ وہ گھر کا سیکویرٹی انچارج تھا۔ آفتاب نے لب بھینچے تھے۔ جس بات کا ڈر تھا۔ وہی ہوا۔ آفتاب نے مڑ کے کنول کو دیکھا جس کا رنگ خطرناک حد تک پیلا پڑا تھا۔ اندر جاٶ۔۔ اور ملکہ کو باہر مت آنے دینا۔۔ آفتاب کا انتہاٸ سنجیدہ لہجہ۔ کنول بنا کچھ کہے واپس مڑ گٸ۔ آفتاب نے جاوید خان ک اندر آنے کی اجازت دے دی۔ کچھ ہی دیر میں وہ ملازماٶں کے ساتھ مزید چیزیں لاتا بڑے کروفر سے چلتا اندر آیا تھا۔ ایک جیت کی سیسر شاری تھی ۔ اس کے چہرے پے۔
آفتاب شیر خان نگ پے ٹنگ جماٸے بیٹھا بنا پلک جھپکے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
کیوں آۓ ہو۔۔؟؟ آفتاب کے الفاظ پے جاود خان نے ایک آٸ برو اٹھاتے اسے دیکھا ۔
وہسے یہ سوال صحیح تو نہیں۔۔۔ لیکن۔۔ اب اگ پوچھ ہی لیا ہے تو ۔۔۔؟؟ بتاۓ دیتا ہوں۔۔ دو قدم آگے بڑھا۔ یہ شگون کی چیزیں ہیں۔۔ ایک ہفتہ بعد۔۔ ہم۔۔ بارات لے کے آٸیں گے۔۔ اپنی امانت لےجانے کےلیے۔ بہت ہی پراعتمادی سے کہا۔ آفتاب کا تو دماغ ہی گھوم گیا۔ اپنی جگہ سے اٹھتا ہ ہتھ مار کے ٹیبل سے ایک بڑا ٹوکرا نیچے پھینک چکا تھا۔جاوید خان نے حیرت اور غصہ اے اسے دیکھا۔ کیاحرکت ہےیہ ۔۔ ؟ وہ بھڑکا ۔
حرکت۔۔؟؟ کس کی اجازت سے تم۔۔۔ میرے گھر آۓ ہو۔۔؟؟ اور وہ بھی یہ سب لے کے۔۔۔؟ تمہیں کی لگتا ہے۔۔؟؟ آفتاب شیر خان کزور ہو چکا ہے۔۔۔؟ آفتاب کی آواز پورے ہال میں گونج رہی تھی۔ جاوید خان لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
اٹھاٶ۔۔ اپنا یہ سامان اور نکلو یہاں سے۔۔۔! غراتے ہوۓ کہا۔ تم بھول رہے ہو۔۔ آفتاب۔۔ تمہاری بیٹی میرے نواسے کے نکاح میں ہے۔۔ و بھی خون بہا میں۔ اور پنچاٸت کے فیصلے کو تو تم نے بھی مانا تھا۔ آج کیے مکر سکتے ہو۔۔؟؟ جاوید خان کا لہہجہ دھیما تھا۔ وہ آفتاب کے سامنے اونچا نہ ہول سکا۔
سب یاد ہے مجھے۔۔۔ ! لیکن۔۔ تم کسی بھول میں نہ رہنا۔۔ کہ میں اپنی بیٹی تم جیسے بھیڑے کے گھر میں بھجیوں گا۔ وہ میری بیٹی ہے۔۔ آفتاب شیر خان کی۔۔۔! میں خود فیصلہ کروں گا۔ ج بھی کرنا ہو گا۔۔۔ تم باپ نہ بنو۔ آفتاب کے لہجے میں حقارتکا عنصر تھا۔ جسے محسوس کرتے جاوید خان مزید بھڑکے۔ تم حد سے بڑھ رہے ہو۔۔ آفتاب شیر خان۔۔ میں بہت عزت کے ساتھ پیش آرہا ہوں تم سے۔۔۔! اور تم۔۔؟م؟
تو کس نےکہا ہے ۔۔۔؟؟ عزت سے پیش آٶ۔۔۔؟؟ اپنے اصل روپ میں ہیمجھ سے بات کرو۔ مجھے منافقت نہ کل پسند تھی نہ آج۔ اور تم سے تو ۔۔؟؟
بس بہت ہو گیا آفتاب۔۔۔! میں مزید اپنی بے عزتی برداشت نہیں کروں گا۔ ہاتھ اٹھ کے وارن کیا۔ تو آفتاب طنزیہ ہنسی ہنسا۔ بہتر ہو گا۔۔ اپنی بچی کچی عزت بچا کے یہں سے نکل جاٶ۔ ورنہ آفتاب شیر خان کا قہر تو دور کی بات۔ تم س کی ایک دھاڑ بھی سہہ نہیں سکو گے۔۔۔ آفتاب نے اس کے قرب ہوتے غصہ ضبط کرتے غراتے کہا۔ جاوید خان نے دانتپیستے ہوۓ اسے دیکھا ۔ اور آنکھوں میں شدید نفرت لیے واپس مڑ گیا۔ آفتاب اس کے جانے کے بعد گہری سوچ میں ڈوبا۔ ان سب چیزوں کو دیکھتے۔جو جاوید خان لایا تھا۔ شگون کے طور پر۔۔۔ ! ایک ہفتے بعد ملکہ کی سالگرہ تھی۔ اور اسی دن۔۔ زیشان ارسل کی بارات آنی تھی۔ وہ کیسے اپنی نازوں پلی بیٹی کو جخون بہا یں جاوید کے گھر بھیج دیتا۔ جس نے ابھی تک زیشان کی برین واشنگ کی ہوٸ تھی۔ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ کچھ برا کرے یا نہ کرے۔ لیکن جاوید خان سے کچھ بعید نہیں تھا۔ وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔ اسے اب زیشان ارسل سے بات کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔ وہ وہیں بیٹھے بیٹھے کافی کچھ سوچ چکا تھا۔ اب بس عملی جامہ پہنانا باقی رہ گیا تھا۔ ![]()
![]()
![]()
![]()
جاوید خان جیس ہی حویلی میں داخل ہوا۔ سب کچھ تہس نہیس کر دیا۔ زرگل بھاگتی ہوٸ باہر آٸ۔ رمل بھی ساتھ ہہی تھی۔ خان بابا۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟ آپ۔۔؟ اس قدر۔۔؟؟ زرگل نے ہمت کرتے پوچھ ہی لیا۔ وہ آفتاب شیر خان۔۔۔سمجھتا کیا ہے خود کو؟ میری بے عزتی کر کے رکھ دی۔۔۔ عزت کے ساتھ گیا تھا۔ آپ کے کہنے پے۔۔ وہ سب لے کے۔۔ آگے سے کیا ہوا۔۔؟؟ اتنی باتیں سناٸیں ہیں اس نے۔۔ ! لیکن۔ وہ یہ نہیں جانتا۔۔ کہ میں بھی جاوید خان ہوں۔۔ میرے اندر بھی خان کا خون ہے۔۔۔ اب ایک ہفتے بعد ہی ملوں گا۔ اس سے اپنے طریقے سے۔۔ ! اپنے اصل روپ میں۔۔۔ دانت پیستے کہتے وہ اوپر کی جانب بڑھ گۓ۔
زرگل کو محسوس ہوا۔ جیسے کوٸ بہت بڑا طوفان آنے والا ہے۔ اور یہ طوفان سب کچھ بہا کے ساتھ لے جاۓ۔۔ اس سے پہلے انہیں کچھ کرنا ہوگا۔ اور اس کے لیے ان کا آفتاب شیر خان سے ملنا اور بھی ضروری ہو گیا تھا۔
جاری ہے۔
