Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 18)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 18)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
مونس۔۔۔؟؟ ہانی کو تو جیسے دنیا جہان کی خوشی مل گٸ ہو۔ موباٸل پے مونس کی آواز سنتی وہ چہکی تھی۔
کیسی ہو۔۔؟ مونس بھی خوش اخلاقی سے بولا تھا۔ میں ٹھیک ہوں۔ آج کیسے یاد کر لیا۔۔؟؟؟ وہ پرسکون ہوتی بولی۔ مجھے لگا کوٸ مجھے یاد کر رہ ہے۔۔ تو میں بھی یاد کر لوں۔۔؟ مونس کی بت پے ہانی کا دل دھڑکا۔ اسے کیسے پتہ چلا ۔۔؟ جادوگر۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ کہاں گم ہو گٸ۔۔؟ مونسنے اس کی خاموشی کو نوٹ کیا۔ نہیں۔۔وہ ۔۔ میں۔۔ یہیں۔۔۔۔۔ ہوں۔۔۔ ہانی تھوڑا گھبرا گٸ۔ اچھا سنو۔۔۔! تمہیں انواٸٹ کرنا تھا۔ کل۔۔۔ کے لیے۔۔! مونس جلد ہی مدعے پے آیا۔ انواٸٹ۔۔۔ ؟ وہ حیران ہوٸ۔ ہاں۔ وہ کل مہری انگیجمنٹ ہے۔۔ ناں۔۔ تو۔۔؟؟؟ مونس نے زبان دانتوں تلے دباٸ۔ تو وہیں دوسری طرف ہانی کا دل بہت سخت ڈوب کے ابھرا۔ انگیجمننٹ۔۔۔؟؟ اسے پپنیآواز کھاٸ سے آتی سناٸ دی۔ ہممم۔۔ تو کل تمہیں لازمی آنا ہے۔۔ اوکے۔۔۔! میں ایڈریس سینڈ کر دوں گا۔۔ میں نہیں آسکتی مونس۔۔! ی م اے ہانی کا لہجہ دھیما پڑا۔ اور جلدی سے بولی۔ جب کہ آنسو آنکھوں کی باڑ توڑ کے بہنے کو تیار تھے۔ کیوں۔۔؟؟ مونس نے مسکراہٹ دبا کے پوچھا۔ وہ۔۔ بس۔۔ ؟؟؟ ہانی سے بات نہ بن پاٸ۔ دیکھو۔۔ تم میری سب سے اچھی دوست ہو۔۔ اور دوست دوست کی خوشی میں شریک ہوتا ہے۔تو تم آرہی ہو۔۔ سمجھی۔۔؟؟ مونس نے دھونس جماتے کہا۔ دوست۔۔۔؟؟ خوشی۔۔۔؟؟ ہانی نے دھیرے سے زیرِ لب دہرایا۔ اور اپنے آنسو پونچھے۔ اوکے۔۔ آٶں گی۔۔ ضرور۔۔! دل بڑا کر کے بول ہی دیا۔
گڈ ڈیٹس لاٸیک کا گڈ فرینڈ۔ مونس نے خوشی سے کہا۔ جب کہ دوسری طرف ہانی کا دل کٸ ٹکڑوں میں تقسیم ہوا۔ کال بند ہو چکی تھی۔وہ وہیں بستر پے ڈھے سی گٸ۔ آنھوں سے آنسو بہہ کے تکیہ میں جذب ہونے لگے۔کیا ۔۔۔؟؟ ایسا ہی ہونا تھا۔۔؟؟ ابھی تو پہلی بار۔۔ دل نے کسی کے ساتھ کی خواہش کی تھی۔۔؟ اور۔۔۔اچانک سے ہی۔۔؟؟ گرم سیال مادہ آنھوں سے بہتا چلا جا رہا تھا۔ دوست کی خوشی۔۔۔؟؟ مونس کے الفاظ یاد آۓ تو کروٹ بدلی۔ مونس ۔۔۔ تم۔۔ دوست نہیں۔۔ دوست سے بڑھ کر ہو۔۔ اور تمہاری خوشی۔۔ مجھے بہت عزیز ہے۔۔ اپنے آنسو صاف کیے۔ لیکن پھر بھی آنکھیں بھیگی چلی جا رہی تھیں۔
شیشہ ہو یا دل ہو آخر ٹوٹ جاتا ہے۔
لب تک آتے آتے ہاتھوں سے ساغر چھوٹ جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماموں۔۔۔؟؟ ایک بات کرنی تھی آپ سے۔۔۔؟؟ ساری رات معاویہ سو نہ سکا۔ وہ صبح ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ وہیں دوسری طرف منہا کا دل زوروں سے دھڑکا۔ نجانے وہ کیا کہنے والا تھا۔
ہاں۔۔ بولو۔۔؟؟ ناشتے کے دوران شامی کم ہی بولتا تھا لیکن معاویہ کے چہرے کی الجھن وہ نوٹ کر چکا تھا۔ اس لیے اسکی طرف متوجہ ہوا۔ جو ناشتہ نہیں کر رہا تھا۔ بس پلیٹ میں چمچ ہلاۓ جا رہا تھا۔ ماموں۔۔؟؟ آخر ایسا کیا ہوا۔۔ ک مما۔۔۔ نے پاکستان سے آپ سب سے اپنا تعلق ختم کر لیا۔۔؟؟ اس کی یہی عادت اپنے باپ پے گٸ تھی۔ وہ بہت صاف گو انسان تھا۔ جو دل میں ہوتا صاف صاف بول دیتا۔ بیٹا۔۔۔! وجہ تو آج تک مجھے بھی سمجھ نہیں آٸ۔۔ شامی نے گہرا سانس خارج کیا۔ وجہ سب کو پتہ ہے۔۔ آپ اس سے چھپاٸیں نہ۔ عابی نے چاۓ رکھتے ہوۓ واشگاف الفاظ میں کہا تو شامی نے اسے ایک گھوری سے نوازا۔ پلیز۔۔ ماموں۔۔ مجھےجاننا ہے۔۔؟؟ ہم بچپن سے ۔۔ ان رشتوں کو ترس گۓ ہیں۔۔ جن سے مما نے نجانے کیوں ہمیں دور کر رکھا ہے۔۔؟؟ معاویہ کے لہجے میں پریشانی تھی تجسس تھا۔ بس سب کچھ جان لینا چاہتا تھا۔ بیٹا۔۔ یہ سب آپ اپنی مما سے پچھیں تو زیدہ بہتر ہو گا۔ شامی نے بات کو ٹالنا چاہا۔ ویٹ آمنٹ ۔۔۔! معاویہ۔۔؟ آپ دونوں بہن بھاٸ۔۔؟؟ انابیہ آپی کو بن بتاۓ آۓ ہو۔۔؟ عابی نے ایک دم ماتھے پے بل ڈالے پوچھا تھا۔ معاویہ اور علیزہ نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا۔ لیکن خاموش رہے۔ عابی نے تنبیہہ نظروں سے شامی کو دیکھا۔ کہ دیکھ لو۔۔۔ان کے حالات۔ کی ۔۔۔؟؟ شہیر بھاٸ کو بھی نہیں بتایا تم لوگوں نے۔۔؟؟ شمی نے آگے ہو کے بیٹھتے پریشانی سے پوچھا۔ بابا کو پتہ ہے۔۔ اور انہیں کوٸ اعتراض نہیں تھا۔ معاویہ نے دفعتاً کہا۔ تو شامی خموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔ جب کہ معاویہ کی بے چینی وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا۔ اور اسے اس حیقت سے بھی روشناس کرانے کا فیصلہ لے چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وت وہ باربی کے ڈریس میں تیار ہوٸ بالکل باربی ڈول لگ رہی تھی۔ خود کو آٸینے میں تیار ہوا دیکھ وہ دنگ رہ گٸ۔ کچھ ن پہلے جس طرح زیشان ارسل س کے ساتھ پیش آیا تھا۔ وہ بہت اپ سیٹ ہوگٸ تھی۔ ایک دل کیا بابا سے یا بھاٸ سے سب کچھ کہہ دے لیکن۔۔ نجانے کیوں۔۔؟ وہ چہ کے بھی کسی سے کچھ نہ کہہ سکی۔ اور پھر۔۔ اس دن کے بعد سے نہ زیشان ارسل اسے دکھاٸ دیا نہ اس کا کوٸ فون آیا۔ تو ملکہ نے بھی اسے اپنے دماغ سے نکال دیا۔ دروازے پے ناک ہوٸ۔ ملکہ نے چونکتے ہوۓ اجازت دی۔ مونس تیار ہوا اندر داخل ہوا۔ میری باربی تیار ہوگٸ۔۔؟مونس نے ملکہ کو اپنے ساتھ لگایا۔ یس ماٸ چیمپ۔۔۔! وہ بھی جواباً مسکراٸ ۔ بای بہن بھاٸیوں سے ان دونوں کا پیار ہمیشہ سب کو ہٹ کے ہی لگتا تھا۔ دونں ہی ایک دوسرے کے آٸیڈیل تھے۔ اور ایک دوسرے میں جان بستی تھی۔ دونوں کی۔
چلو۔۔ جلدی سے بتاٶ۔۔۔؟؟ کیا گفٹ چاہیے۔۔ میری باربی کو۔۔ مجھ سے۔۔؟؟ مونس نے بہت پیر سے پوچھا۔ ہمیشہ ہر لمحے آپ ک ساتھ۔ سر اٹھا کے بھاٸ کی آنکھوں میں دیکھا۔ مونس نے ایک پیاری سی سماٸل دی۔ وہ تو ہے۔۔ مر بھی جاٶں گا۔۔ تو تمہاری ایک پکار پے بھاگا چلا آٶں گا۔ اللہ نہ کرے۔ بھاٸ۔۔۔؟؟ ملکہ نے اس کے ہونٹوں پے ہتھ رکھ۔ آنکھوں میں آنسو لے آٸ۔ اللہ آپ کو میری عمر بھی لگا دے۔۔۔ ابھی تو میں نے آپ کی دلہن لانی ہے۔۔ آپ کی شادی کا بہت زیادہ ارمان ہے مجھے۔ ملکہ نے حسرت سے کہا۔ اس کی بات پے ایک لمحے کو مونس کی آنکھوں کے سمنے ہانی ک چہرہ لہرایا۔ آج تمہیں ملوانا ہے کسی خاص ہستی سے۔۔ ! مونس کے کہنے کی دیر تھی۔ ملکہ کی آنکھوں کی چمک ایک دم سے بڑھی۔ اس کی گہری کالی آنکھیں سنہری چمک لیے انہیں بھی انہر کر رہی تھیں۔ مطلب۔۔۔؟؟مم میری ہونے والی بھابھی۔۔؟ کون ہے۔۔؟؟ کہاں۔ ہے۔۔؟ پلیز۔۔ جلدی اے ملوا دیں۔۔ ایم سو ایکساٸٹڈ۔۔۔ ملکہ نے خوش ہوتے کہا۔ چلو۔۔۔ آجاٶ۔۔ پہلے کیک کٹ کرتے ہیں۔ مونس اس کا ہاتھ تھامے باہر لایا۔ سب طرف اندھیرا چھا گیا۔ ایک سپوٹ لاٸیٹ تھی۔ ان دونوں بہن بھاٸ پے۔ میوزک آن ہوا۔ آفتاب اور کنول نیچے کھڑے ایک ساتھ پرفیکٹ کپل لگ رہے تھے۔ اپنے بچوں کو ایک ساتھ نیچے آتا دیکھ ان کا خون سیروں بڑھا تھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں کنول نے ان کی نظر اتاری۔ یا اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھنا۔ انہیں ہر بری نظر سے بچا کے رکھنا۔ آمین۔۔ آفتاب نے کنول کا ہاتھ تھامے دل سے کہا۔ وہ دونوں سیڑھیاں اترتے نیچے آرہے تھے۔ اور اسی وقت ام ہانی اندر داخل ہوٸ تھی۔ مونس کو ایک بہت ہی ےخوبصورت لڑکی کے ساتھ نیچے سیڑھیاں اترتا دیکھ اس کے قدم لڑکھڑاۓ تھے۔ آنکھوں میں نمی اتری تھی۔ جب کہ رات بھر روتے گزری تھی اس کی۔ اس کی آنکھوں کی سرخی نے اس کے چہرے ک مزید دلکش بنا دیا تھا۔ قسمت ایسے بھی کھیل کھیلے گی ۔
دل میرا توڑ دیا اس نے برا کیوں مانوں۔
اس کو حق ہے وہ مجھے پیار کرے یا نہ کرے۔
اس نے مسکراتے ہوۓ اپنے آنسو پونچھے اور آگے بڑھی۔ جہاں فل والیوم میں میوزک آن تھا۔
یہ پل۔۔۔ ہمیں یاد آٸیں گے۔۔۔
وہ کل یاد آٸیں گے۔
ہمنے کیا یہاں جو بھی کیا۔ رو کے کبھی ہنس کے جیا ۔ خوشیاں کبھی غم بھی لیا ۔ روکے کبھی ہنس کے جیا۔۔۔۔ یہ پل۔۔۔؟؟
تالیوں کی گونج میں ملکہ نے بھاٸ کے ساتھ مل کے کیک کٹ کیا۔
شکریہ۔۔۔ یارو شکریہ۔۔۔ پیار جو ۔۔۔ اتنا دیا۔۔
ہیپی برتھ ڈرے ماٸ ڈول۔ آفتاب نے اسے گلے سے لگایا اور ماتھا چوما۔کنول نے بھی اسکے ہاتھ سے کیک کا باٸیٹ لیتے اسے اپنے گلے سے لگایا۔ تبسم بیگم نے بھی اسے اپنے گلے سے لگا کے دعا دی۔ ملکہ اپنے ماں باپ دادی اور بھاٸ کے ساتھ گروپ فوٹو کھینچوا رہی تھی۔ کہ اسی لمحے گیٹ سے ڈھول باجے کی آوازوں نے سب کا دھیان کھینچا۔ آوازیں کافی اونچی تھیں۔ کنول نے دہلتے دل سے آفتاب کو دیکھا۔ آفتاب نے لب بھنچے تھے۔
مونس نے حیرانی سے انہیں دیکھا تھا۔ ڈھول باجوں کی آواز اونچی ہوٸ تھی۔ ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے سب اندر داخل ہو رہے تھے۔ مما۔۔؟؟ ایسے لگ رہا ہے۔۔ جیسے کوٸ بارات آٸ ہے۔۔؟؟ لیکن یہ۔۔ ہمارے گھر کیوں۔۔؟ ملکہ نے حیرت سے کنول کو دیکھتے پوچھا۔ کنول کے دل نے جیسے کسی انہونی کا خدشہ ظاہر کیا۔ وہاں موجود سب سے آگے جاوید خان تھے۔ ان کے ساتھ اور بھی معزز لوگ تھے۔ پنچاٸت کے بھی دو لوگ شامل تھے۔ آفتاب انہیں پہچان گیا تھا۔ وہ آج سے چودہ سال پہلے زیشان ارسل اور ملکہ کے نکاح میں شامل تھے۔ کچھ خواتین بھی اندر داخل ہوٸیں۔ سبھی انہیں حیران ہوتے دیکھ رہے تھے۔ اسی لمحے پوری آن بان شان کے ساتھ۔ زیشان ارسل بھی دلہا بنا اندر داخل ہوا۔ ایک پل کو آفتاب کا دل اسے دیکھ کھل اٹھا۔ آج عظمی ہوتی تو کتنا خوش تھی۔ ۔۔؟؟ آفتاب کی آنکھوں کے سامنے اپنی بہن ک چہرہ لہرایا۔
کیا۔۔ سسر جی۔۔؟؟ مجھے تو لگا آج آپ ویلکم کریں گے۔۔؟ لیکن۔۔؟؟ زیشان ارسل کےا دھورے الفاظ نے جہاں آفتاب نے ایک گھوری سے اسے نوازا۔ وہیں مونس کے ماتھے پے بھی بل پڑے تھے۔
اور ملکہ کا ل اچھل کے حلق میں آیا۔ ایک پل کے لیے وہ پورے وجود کے ساتھ کانپی تھی۔ سسر جی۔۔؟؟ زیرِلب دہراتی وہ یک ٹک زیشان کو دیکھے جا رہی تھی۔ جس کی نظروں کا محور آفتاب شیر خان تھا۔
جاری ہے۔
