Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 26)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

معاویہ نےاندر جانے کی اجازت چاہی ۔ جو اسے کچھ دیر بعد مل گٸ تھی اندر داخل ہوتے ہی اس کا سامنا کنول سے ہوا۔ وہ ان کو پہچان گیا تھا۔ کیونکہ تصویروں کی البم میں وہ ان سب کو دیکھ چکا تھا۔ جو اس کی مما نے چھپ کے اپنی کبرڈ میں رکھی تھی۔ اور کچھ حد تک تجسس بھی تھا۔ اور اس کے بابا نے بھی اسے گاٸیڈ کیا تھا۔ اندر آٶ۔۔۔! کنول نے اسے وہیں جما ہوا دیکھا تو پیار سے پکارا۔ وہ چونکا۔ اور کنول کے پاس چلتا ہوا آیا۔ اپنا بیگ اس نے کندھے سے نیچے اتارا تھا۔ بالکل شہیر بھاٸ کی دوسری کاپی ہو۔ کنول نے اس کو بالکل سن دیکھا تو خود ہی بات کرنے لگی۔ آپ۔۔۔۔؟؟ کنول ۔۔آنٹی ہیں۔۔؟؟ معاوہ نے تصدیق چاہی۔ کنول نے مسکرا کے اثبات میں سر ہلایا۔ معاویہ کے سر پے ہاتھ پھیرا تو وہ جیسے سکون محسوس کرنے لگا۔ اپنوں میں اپنے رشتوں میں کیا کشش تھی۔۔ کتنا سکون تھا۔۔ اسے زرا ایسا نہ لگا کہ وہ ان سے کب کا دور ہو۔۔؟ اکیلے آۓ ہو۔۔؟؟ کنول کے اگلے سوال پے معاویہ کے دماغ میں سارے سوال پھر سے گردش کرنے لگے۔ کہ اسی لمحے ۔۔۔؟؟

مما۔۔۔؟؟ ملکہ کی آواز پے کنول چونکی۔ وہ آتے ہی سیدھا کنول کے گلے جا لگی۔ کنول اسے یوں اچانک فیکھ تھوڑا گھبرا گٸ۔ ساتھ تبسم بیگم بھی تھیں۔ مما۔۔۔؟؟ یوں ۔۔ اچانک۔۔ واپسی ۔۔؟؟ سب ۔۔ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ کنول کو تشویش ہوٸ۔

ہاں۔۔! سب ٹیک ہے فکر نہیں کریں۔۔۔! اور آگے بھی ٹھیک رہے۔۔ اسی لیے واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ تبسم بیگم نے بیٹھتے ہوۓ کہا۔ میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔؟؟؟ ملکہ ۔۔! آپ روم میں جاٸیں۔ اچانک تبسم بیگم کی نظر کسی انجان شخص پے اٹھیں۔ جو انہیں ہی بہت پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اور تبسم بیگم کو تھوڑا عجیب سے لگا۔ ملکہ وہاں سے فوراً اپنے روم کی جانب بڑھی۔ اسے اپنے گھر اپنے کمرے کے علاوہ نیند ہی کہاں آتی تھی۔ کہیں۔۔۔ ! بس ۔۔ وہ اور اس کا کمرہ۔۔۔! اپنے کمرے میں آتے ہی اس نے سکون کا گہرا سانس خارج کیا۔ اور بیڈ پے نیم دراز ہوٸ۔ اپنا گھر اپنی جنت۔ سکون سے آنکھیں موندتے اس نے دل میں کہا۔ کہ تبھی موباٸل پے بیل بجی۔. تو وہ چونکتے ہوۓ آنکھیں کھولتی موباٸل کان سے لگا گٸ۔ ہیلو۔۔۔؟؟ ویلکم بیک ۔۔۔۔! اس کے ہیلو کہنے پے آگے سے اسے جو سننے کو ملا۔ اس کے چودہ طبق روشن ہو گۓ ۔۔ زیشان۔۔۔۔۔؟ کیا بات ہے۔۔۔؟؟ آواز سے ہی پہچان گٸ اس بار تو۔۔۔؟ زیشان نے سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگاٸ۔ کیوں فون کیا ہے۔۔؟؟ ملکہ تڑخ کے بولی۔ پرسوں۔۔ آرہا ہوں۔۔ تیار رہنا ۔شادی کا جوڑا بھیجوں گا۔۔۔ مجھے تم بالکل دلہنوں کی طرح تیار چاہیے۔۔۔ ! زیشان نے اسے اچھا خاصا تپایا تھا۔ میرے چہرے پے کیا بے وقوف لکھا ہے۔۔؟؟ جو۔۔ تمہارے لیے۔۔ دلہن بنوں گی۔۔؟؟ اپنی جگہ سے اٹھتی غصہ سے کہتی وہ تمیز کے داٸرے سے نکل گٸ۔ یہ احساس کہ۔۔۔ وہ اپنے گھر ہے۔۔ اس شیرنی بنا گیا تھا۔ دلہن تو تم میری ہی بنوں گی۔۔۔ ! وعدہ ہے تم سے۔۔۔! اب شرافت سے بنوں گی۔۔ یا۔۔ بدمعاشی سے۔۔۔ ؟؟ یہ وقت ہی طے کرے گا۔ زیشان نے بھی غصہ سے جواب دیا۔ فضول۔! ملکہ نے کال کاٹ کے موباٸل ہی آف کر دیا۔ آیا۔۔ بڑا مجھے دلہن بنانے والا۔۔ ہونہہ ۔۔۔۔! سر جھٹک کے وہ باتھ روم میں گھس گٸ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنول نے معاویہ کو ساری بات بتا دی۔ تبسم بیگم نے بھی اسے بہت پیار اور مان دیا۔ وہ متاثر ہوۓ بنا نہ رہ سکا۔ مجھے نہیں تھا پتہ۔۔ کہ یہاں اتنا سب کچھ ہو گیا۔۔ یقین کریں۔۔ بابا کو بی نہیں پتہ ہو گا۔ کہ ان کی غیر حاضری میں اتنا سب کچھ ہو گیا۔۔۔؟؟ وہ کبھی بھی اتنا وقت نہ لگاتے اور فوراً واپس آجاتے۔۔۔! معاویہ شرمندہ سا لگا۔ اب ان باتوں کا کیا فاٸدہ۔۔۔؟؟ جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔۔۔! ملکہ۔۔۔؟؟ ؟ملکہ۔۔۔ میری بھی بہن ہے۔۔ آنٹی۔۔۔! معاویہ ایک دم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور میں اتنی بڑی زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔ ایک عزم کے ساتھ کہتا وہ دروازے کی جانب بڑھا۔ کنول اور تبسم بیگم ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گۓ ۔اسے روک بھی نہ پاۓ۔

۔۔۔۔۔۔۔

یہ کہاں جانے کی تیاری ہو رہی ہے۔۔۔؟؟ علیزہ نے سب کو سامان پیک کرتے دیکھ اشتیاق سے پوچھا۔ ہم سب۔۔ بڑی پھوپھو کی طرف جا رہے ہیں۔۔ فضق پھپھو۔۔۔! عشا نے پرجوش انداز میں بتایا۔ اچھا۔۔۔؟؟ علیزہ تھوڑا چپ سی ہوگٸ۔ کیا ہوا۔۔۔؟؟ علیزہ آپی آپ بھی چل رہی ہیں ساتھ ۔ اوکے۔۔۔! عشا نے پاس آتے پیار سے کہا۔ میں۔۔۔؟؟ میں وہاں جا کے کیا کروں گی۔۔؟؟ علیزہ کو کچھ سمجھ نہآیا کہ کیا کہے۔۔ کیا کیا کرنا۔۔؟؟ فضا آپی ۔۔ ہانی کا رشہتہ طے کر رہی ہیں۔ لڑکے والوں نے آنا ہے۔۔ کل۔۔ تو آج ہم سب وہاں جا رہے ہیں۔۔ سب مطلب۔۔۔ سب۔! عابی نے اندر آتے تنبیہہ کیا۔ تو وہ مسکرا دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معاویہ کی فون پے شہیر س ساری بات ہو گٸ۔وہ ازحد پریشان ہوا۔ اسے یقین نہ آیا۔ کہ آفتاب شیر خان اس کے لیے ۔۔ اسے بچانے کی خاطر۔۔ اتنا بڑا فیصلہ لے لے گا۔۔ کہ اپنی بیٹی کو۔۔ہی۔۔؟؟ شہیر کو آج دل سے افسوس ہوا۔۔ کہ وہاں سے کیوں چلا آیا۔۔؟؟ وہ بےقصور ہوتے ہوۓ بھی قصور وار ٹھہرا۔ ہم۔۔۔ پہلی فلاٸیٹ سے پاکستان آرہے ہیں۔۔ معاویہ۔۔۔! تب تک سنبھال لو گے۔۔؟؟ بہت مان سے بیٹے سے پوچھا۔ آپ کا بیٹا۔۔ ہوں۔۔ ڈیڈا۔۔۔! یقین رکھیں۔ معاویہ نے ایک یقین کی ڈور تھماٸ تھی۔ شہیر کو۔ اور شہیر فون بند کرتے پلٹا۔ کہ سامنے ہی انابیہ کھڑی نظر آٸ۔ جس کی نظروں میں بے یقیینی سی تھی۔ آپ۔۔ پاکستان جانے کی بات کر رہے تھے۔۔؟؟ آپ کا معاویہ کے ساتھ رابطہ بھی ہے۔۔ لیکن۔۔ مجھ سے چھپایا۔ کیوں۔۔؟؟ انابیہ کی آنکھیں جھلملا أٹھیں۔ ہاں۔۔ جا رہا ہوں۔ پاکستان۔۔! میری وجہ ے وہقں جو کچھ ہو چکا ہے۔۔ اس کے لیے شاید میں خود کو کبھی معاف نہ کرپاٶں۔۔ انا۔۔! لیکن۔۔ اس سب کی سب سے زیادہ زمہ دار تم ہو۔۔! شہیر غصہ سے دبا دبا چلایا۔ جانتی ہو۔۔ آفتاب شیر خان نے۔۔ کیا قربانی دی۔۔؟؟ صرف ایک سچ سامنے نہ آنے پے۔۔۔؟؟ میرے وہاں سے بھاگنے پے۔۔۔ آفتاب شیر خان نے اپنی بیٹی کو دان کر دیا۔ خون بہا میں اپنی بیٹی کو ہی دے دیا۔۔ ! شہیر کا لہجہ ٹوٹا تھا۔ انابیہ نے حہرت سے اسے دیکھا۔ اسے اپنی سماعت پے یقین نہ آیا۔ اس دن۔۔ میں بے گناہ تھا۔۔ لیکن۔۔۔ آج میں خود کو سب سے بڑا گناہ گار محسوس کر رہا ہوں۔۔ اور اس سب کی وجہ۔۔ تم ہو۔۔ انا۔۔۔ تم۔۔۔! کہتے کہتے وہ صوفے پے ڈھے سا گیا۔ میرے کیے کی سزا۔۔ اس معصوم کو سہنی پڑ رہی ہے۔۔۔! کیوں۔۔؟؟ کیوں۔۔؟؟ کاش اس سے اچھا تھا۔ میں وہیں ان کی کسی گولی کا نشانہ بن جاتا ۔۔ کم سے کم ۔۔ اس ازیت سے تو نہ دوچار ہوتا۔۔۔! شہیر آج شدید کرب میں مبتلا تھا۔ انابیہ اس کی بات پے تڑپی تھی۔ اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھتی روتے ہوۓ اس کا جھکا سر اوپر اٹھایا۔ شششہہہییررر۔۔۔۔۔! مججھے۔۔ معاف۔۔ کر دیں۔۔۔؟؟ انابی کو بھی آج اپنی غلطی کا احساس ہو ہی گیا۔۔ اب کیا کروں میں اس سوری کا۔۔۔؟ کیا۔۔؟؟ سب کچھ واپس موڑ سکتی ہو۔۔؟؟ وہ وقت۔۔؟؟ جب ۔۔ ؟؟ پاکستان سے ہم نکلے۔۔؟؟ کیا۔۔؟؟ شہیر نے ازیت سے کہا۔ تو انابیہ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کی کشکول میں لیا۔ سب غلطی میری ہے۔۔ میں جاٶں گی۔۔ وہاں۔۔ خان بھاٸ سے۔۔ میں معافی مانگوں گی۔۔ میں گناہ گار ہوں۔۔ آپ نہیں۔۔ ! آپ نہیں۔۔ ہیں۔۔ شہیر۔۔ آپ ۔۔۔ نہیں۔۔! وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ کہ اس سے بات بھی مکمل نہ ہو پا رہی تھی۔ شہیر نے اس کے ہاتھ تھامے تھے۔ اور اس کے ہاتھوں کو چومتے آنکھیں بند کیں تھیں۔ ہم ضرور جاٸیں گے۔۔ ضرور۔۔ اور۔ اپنی غلطی سدھاریں گے۔۔۔! شہیر نے پرعزم انداز میں کہا۔ تو انا اس کے کشادہ سینے سے جا لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفتاب مسلسل ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔ کنول نے اسے معاویہ کے آنے کے متعلق بتا دیا تھا۔ اور وہ اس وقت سے پریشان تھا۔ ہر جگہ پتہ کرا لیا۔ لیکن ۔۔۔ معاویہ کا اسے کہیں پتہ نہ چلا تھا۔ اب تک۔۔ اور وہ اس کے لیے کافی پریشان تھا۔

فکر نہ کریں۔۔ آجاۓ گا۔۔ وہ۔۔! کنول نے تیار ہوتے آفتاب کو کن اکھیوں سے دیکھتے کہا۔ اس نے بہت کم ہی آفتاب کو یوں پریشان حال دیکھا تھا۔ وہ یہاں آیا ہی کیوں۔۔؟؟ اسے نہیں آنا چاہیے تھا۔ اگر ۔۔ اسے کچھ بھی ہو گیا۔۔؟؟ تو۔۔؟؟ آفتاب کی پرشانی کی اصل وجہ سامنے آگٸ ۔ کنول نے گہرا سانس خارج کیا۔ اور اس کے پاس آٸ۔ کچھ بھی برا نہیں ہوگا۔ نجانے کیوں۔۔ مجھے میری سکس سینس کہہ رہی ہے۔ کہ اب سب کچھ ٹھیک ہونے والا ہے۔۔ اللہ سے نیک گمان رکھیں۔۔ اب کچھ برا نہیں ہوگا۔ کنول نے رسان سے اس کے کندھے پے ہاتھ رکجتے پیار سے کہا۔ آفتاب نے اس کا آج سجا سجا روپ دیکھتے دل میں گدگدی سی محسوس کی۔ کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود سے قریب کیا۔ سجا سجا سا یہ روپ۔۔؟؟ کیا میرے لیے ہے۔۔؟ آفتا کی پریشانی ہوا ہوٸ تھی۔

ہمیشہ آپ کے لیے ہی سجتی سنورتی ہوں۔۔ خان۔۔! لیکن آپ بھول رہے ہیں۔ آج بہت ہی خاص موقع ہے۔۔ ہمارے بیٹے کے لیے۔۔ اس سے پہلے کہ مزید دیر ہو۔۔ اب چلیں۔۔۔! کنول نے اسے کہتے باہر کی طرف دھکیلا تھا۔ دونوں ہی مسکراتے باہر آۓ تھے۔ کہ سامنے سے معاویہ اندر داخل ہوتا دکھاٸ دیا۔ آفتا کو لگا شہیر خانزادہ لوٹ آیا ہو۔ بالکل اپنے باپ کی کاربن کاپی تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *