Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 11)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 11)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
بے ہوش ہوگٸ تھی۔۔ اس لیے ۔۔۔؟؟
کیسے۔۔۔؟؟ کیوں۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔؟؟ آفتاب نے زیشان کی بات کاٹی۔ وہ جو بہت پرسکون انداز میں بول رہا تھا۔ ایک گال سے مسکراہٹ دی۔ آفتاب کو یوں لگا آٸینہ کے سامنے کھڑا ہو۔
ایک فاٸر سے ڈر گٸ۔۔۔! آپ کی نازک مزاج بیٹی۔۔۔! ویسے سوچ رہا ہوں۔۔ جب خون بہا میں جاۓ گی۔۔ تو خون بہا کیسے برداشت کرے گی۔۔؟؟
زیشان۔۔۔؟؟ اپنی زبان کو لگام دو۔۔۔! وہ تمہارے نکاح میں ہے۔ آفتاب نے لب بھینچے غراتے کہا۔
جی۔۔۔! وہ نکاح جو خون بہا میں ہوا تھا۔ میری ماں کے خون بہا میں۔ زیشان نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔
اس سب۔۔۔ میں۔۔ ملکہ کا کوٸ قصور نہیں۔۔ تم۔۔؟؟
ہونہہ۔۔۔! قصور۔۔۔! میری ماں کا کیا قصور تھا۔۔؟؟ انہیں کس بات کی سزا دی گٸ۔۔؟؟ زیشان کے سوال کا جواب آفتاب کے پاس نہیں تھا۔ صرف ایک شخص ایک شخص اسے اس سچاٸ تک پہنچا سکتا تھا۔ اور وہ تھا اس کا خاص آدمی غفار۔۔ ! جو زخمی حالت میں ہاسپٹل پہنچا اور پھر وہیں سے ایسا غاٸب ہوا کہ آج تک اس کا پتہ نہ چل سکا۔
وہ ایک حادثہ تھا۔ آفتاب کا لہجہ لڑکھڑایا۔
حادثہ ہوتا ۔۔ تو آفتاب شیر خان اپنی بیٹی ونی نہ کرتا۔ زیشان کے سخت نداز میں کہے گۓ الفاظ نے آفتاب کو چپ ہی کرا دیا۔ سیڑھیاں نیچے اترتی کنول نے بھی وہ الفاظ بآسانی سنے تھے۔ اور اس کا دل سخت دکھا تھا۔
ٹھیک بیس دن بعد۔۔۔! آپ کی بیٹی کے اٹھارہ سال کا ہونے پے۔۔ زیشان ارسل کی بارات آۓ گی۔ اور وہ ۔۔ آپ کی بیٹی کو ونی میں اپنی دلہن بنا کے ساتھ لے کے جاۓ گا۔ آفتاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ بنا پلک جھپکے بولا تھا۔ وہیں کنول نے دل پے ہاتھ رکھا تھا۔
ایسا۔۔۔ نہیں ہو سکتا زیشان ارسل۔۔۔ بھول جاٶ۔۔! آفتاب نے سرخ آنکھوں سے اسکی پشت کو دیکھا تھا۔
زیشان پلٹا۔ لیکن پھر رکا۔ نظر کنول کی جانب اٹھی۔ اور پھر آفتاب کو دیکھا۔
آج جس طرح آپ نے۔۔ میرے ہاتھ سے اپنی بیٹی کا ہاتھ چھڑایا۔ ٹھیک بیس دن۔۔ بعد۔۔ خود اس کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیں گے۔۔ یہ وعدہ ہے میرا آپ سے۔ زیشان ارسل خانزادہ کا۔
زیشان کے پراعتماد انداز پے آفتاب اور کنول نے سانس روکے اسے دیکھا تھا۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے جا چکا تھا۔ کنول مرے مرے قدموں سے چلتی آفتاب کے پاس آٸ۔ آنکھیں آنسوٶں سے تر تھیں۔
میں نے کہا تھا ناں۔۔ ! دیکھ لیا آپ نے۔۔۔؟؟ کنول کے دکھی انداز پے آفتاب نے ایک نظر اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں کے آنسو آج بھی آفتاب نے دل پے گرتے تھے۔ آگے بڑھ کے اسے اپنے سینے سے لگایا۔
سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔ ! بس ۔۔تم ملکہ کا خیال رکھو۔۔۔! آفتاب نے اسے حوصلہ دیا۔ جب کہ خود وہ گہری سوچوں میں ڈوب رہا تھا۔
اس وقت سامنے کوٸ دشمن ہوتا تو وہ آفتاب کے قہر سے بچ نہ پاتا۔ لیکن وہ مجبور تھا۔ سامنے کھڑا شخص اس کی بہن کا بیٹا تھا۔ اس کا اکلوتا لخت جگر۔ وہ اسے چاہ کے بھی کوٸ نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔








ارے آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔؟؟ علیزہ کا پاٶں مڑا تھا۔ کہ منہا نے اسے گرنے سے بچایا۔ اور اسے سہارا دیا۔
تھینکس۔۔۔! علیزہ بھی مسکراٸ۔ وہیں ان کی آپس میں نظریں ملیں تو نظروں میں شناساٸ سی ابھری۔ ایک پل کو دونوں کا ہی دل دھڑکا تھا۔
علیزہ۔۔۔۔آپی۔۔؟ منہا کی بہت ہی دھیمی آواز کانوں سے ٹکراٸ ۔ علیزہ بھی منہا کو پہچان گٸ تھی۔ اور اب پریشان سی اسے دیکھ رہی تھی۔
بھلے انابیہ نے کسی سے بھی رابطہ نہ رکھا تھا۔لیکن کبھی کبھار ہی وہ اپنے گھر والوں سے بات کر لیتی تھی۔ اسے بس یہی ڈر تھا۔ کہ کہیں وہ لوگ ان تک پہنچ گۓ۔۔ اور شہیر سے قتل کا بدلہ لینے تو۔۔؟؟ وہ کیا کرے گی۔۔؟ وہ اپنی دانست میں کوٸ سراغ نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ اور وہ اس میں اپنوں کو بھی کھوتی چلی گٸ۔ اس نے اپنے شوہر اور بچوں کی سیفٹی کے لیے خود بھی قربانی دی۔ لیکن اس سب کے باوجود ۔۔ شہیر نے نہ ہی پاکستان سے تعلق توڑا۔ نہ ہی شامی اور سلطان فیملی سے رابطہ ختم کیا۔ بلکہ عمار کو بھی اس نے اپنے پاس بلا لیا تھا۔ وہ انہی کا ہو کے رہ گیا تھا۔ عمار سے یہ سب پیار کرتے تھے۔ اور ان دنوں وہ یونی کے دوستو کے ساتھ گھومنے گیا ہوا تھا۔ شہیر نے منہا کو بیٹی مانا۔۔ ہمیشہ۔۔ اس لیے علیز ہ اور منہا کا آپس میں رابطہ بھی اسی نے کروایا تھا۔ اور ان کی آپس میں اچھی سلام دعا تھی۔ لیکن ایک دوسرے کے بہت کلوز پھر بھی نہ ہوٸیں تھیں۔ شاید میلوں کا فاصلہ دلوں میں بھی آگیا تھا۔ منہا نے اپنی فیملی تصویر بھیجی تھی اسے۔ لیکن علیزہ نے صرف اپنی ہی دی تھی۔ جس کے بعد دونوں میں کچھ حد تک اپناٸیت بڑھی تھی۔ اب پاکستان آنے کے بارے میں سلطان فیملی کو نہیں بتایا گیا تھا۔ بلکہ انابیہ کی خواہش پے ہی یہ بات چھپاٸ گٸ تھی۔ وہ حیدرآباد سے شادی اٹینڈ کرتے واپس ترکی جاتے۔ لیکن یہاں منہا سے ملاقات ہوجاۓ گی۔ علیزہ نے سوچا بھی نہ تھا۔ اب علیزہ پریشان تھی کہ کیا جواب دیتی وہ منہا کو۔۔؟ جب کہ منہا کی آنکھوں میں بے یقینی سی تھی۔
کیسی ہو۔۔؟؟ علیزہ نے زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پے سجاٸ جس میں شرمندگی کا عنصر نمایاں تھا۔
منہا نے رخ پلٹا۔ ایک پل کو اسے لگا ہر طرف ہی دھوکا ہو۔۔ مطلب۔۔؟؟ یہ ان کے اپنے تھے۔ لیکن اپنے اتنے پراۓ ہو گۓ۔۔ کہ وہ۔۔۔؟؟ اپنوں کو ہی فراموش کر بیٹھے۔ منہا نے اس کی بات کا کوٸ جواب نہ دیا۔ اور وہاں سے چلی گٸ۔
علیزہ سر پکڑ کے رہ گٸ۔ بہت بڑی گڑبڑ ہو چکی تھی۔ نجانے اب آگے کیا ہونا تھا۔ کچھ بھی کر کے وہ یہ بات معاویہ کو بتانا چاہتی تھی۔ وہ منہا کے روپ میں ایک بہن نہیں کھونا چاہتی تھی۔
_______________
خان۔۔۔؟؟ کہاں گۓ تھے تم۔۔؟؟ جاوید خان کو ساری بات کی اطلاع مل گٸ تھی۔ اور اس وقت زیشان کے گھر واپس لوٹنے پے وہ اس کا انتظار کر رہے تھے اور اسے آڑے ہاتھوں لینا چاہا ۔ لیکن بھول گۓ آگے کوٸ عام انسان نہیں زیشان ارسل خانزاہ تھا۔ ۔ اپنے سسرال۔۔۔! پرسکون انداز میں جواب دیتا وہ آگے بڑھا۔
کس کی اجازت سے۔۔؟؟ اگلے سوال نے زیشان کے قدموں میں زنجیر ڈال دی۔
مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت تو نہیں۔ خاندادا۔۔! اس نے ایک سیڑھی اوپر ایک نیچے قدم رکھے پلٹ کے تیکھے انداز میں کہا۔
بھولو۔۔ مت خان۔۔! وہ ونی ہو کے آۓ گی۔۔۔ وہ بھی آپ کی ماں۔۔؟؟؟
یاد ہے مجھے سب۔۔۔! زیشان نے غصہ سے ان کی بات کاٹی۔ وہ ششدر سے زیشان کو دیکھتے رہ گۓ۔ بار بار یہ الفاظ بول کے میرے زخموں پے نمک نہ چھڑکا کریں۔۔ ! اور ایک بات اور۔۔ تلخی سے کہتا وہ ان کے پاس آیا تھا۔
بچہ نہیں ہوں۔۔ میں۔۔ ! سب سمجھتا ہوں۔۔۔! اور یہ بھی جانتا ہوں۔۔ کہ کب کیا کرنا ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔۔ ! ایکسکیوزمی۔۔۔۔ وہ سپاٹ انداز میں کہتا اوپر جا چکا تھا۔ جاوید خان اپنی مٹھیاں بھینچتے رہ گۓ۔۔ _______________
آج بارات تھی۔ سبھی تیاریوں میں مصروف تھے۔ منہا بھی بے دلی سے تیار ہو رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی عابی کا فون آیا تھا۔ اور وہ ہر آدھے گھنٹے بعد فون کر کے ان کا حال پوچھتی تھی۔ منہا کو سادگی سے تیار ہوتا دیکھ عشا نے اسے منہ بنا کے دیکھا۔ کیا آپی۔۔؟؟ تھوڑی سی لپ اسٹیک تو لگا لیں۔
یار لگی تو ہے۔۔۔! ٹھیک ہے۔۔ جلدی کرو۔۔ ابھی پہنچ جاۓ گی بارات۔ منہا نے اسے ٹالا آج وہ اسپشل باربی فراک پہنے باربی لگ رہی تھی۔ جب کہ منہا بالکل سادگی میں تھی۔ اس کا دل جیسے بہت اداس ہو گیا تھا۔ علیزہ کو دیکھ وہ اندر ہی اندر دکھی تھی۔ ابھی تک دوبارہ ملاقات تو نہیں ہوٸ تھی۔ اور وہ چاہتی بھی نہیں تھی۔ کہ دوبارہ ملاقات ہو۔ اور اگر سامنا ہو بھی گیا تو وہ راستہ بدل لے گی۔ منہا آگے کی سوچ چکی تھی۔ جب کہ اللہ نے اس کے لیے کیا کیا پلان کیا تھا وہ تو وہ جانتی ہی نہ تھی۔ انسان جتنی مرضی پلاننگ کر لیتا لیکن اصل پلانر تو وہ اوپر بیٹھا تھا۔ جس کے ہاتھ میں سب کی ڈور تھی۔
ایک بار وہ پھر سب بارات کے استقبالیہ میں کھڑے تھے۔ منہا کا فل دھڑک رہا تھا وہ تھوڑا پیچھے چھپ کے کھڑی تھی۔ جب کہ عشا ہر رسم میں پیش پیش تھی۔ ڈھول اور بینڈ باجے کے ساتھ بارات شادی ہال میں انٹر ہوٸ۔ اتنا زیادہ شور تھا کہ کان پڑی آواز سناٸ نہ دے رہی تھی۔ منہا کے موباٸل پے عابی کی کال آرہی تھی۔ عہ اسے پک کرتے وہاں سے ہٹی تھی۔ اور ان سے دور نکلتی چلی گٸ۔ بات کرتے کرتے اسے یہ بھی احساس نہ ہوا۔ کہ وہ شادی ہال کے احاطہ سے بھی کافی دور نکل آٸ ہے۔ کال بند کرتی وہ اردگرد نگاہ دوڑاتی تھوڑا گھبراٸ تھی۔ ہواٸ فاٸرنگ اور ڈھول کی تھاپ کی آوازیں ہر طرف گونج رہی تھیں۔ ایک پل کو منہا کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔ اور اسے کسی انہونی کا احساس جاگا۔ وہ بھاگتی ہوٸ واپس اسی راستے آٸ تھی۔ جہاں سبھی خوشیاں منانے میں مصروف تھے۔ کسی کو کسی کا کوٸ ہوش نہ تھا۔ کون کیا کر رہا ہے۔ ایک طرف کھڑے منہا کی نظروں نے لیڈیز میں عشا کو ڈھونڈنا چاہا۔ جو کہیں بھی دکھاٸ نہ دی۔ اس کا دل عجیب سے انداز میں دھڑک رہا تھا۔
وہ آگے بڑھی۔ سب جگہ اسے ڈھونڈا۔ لیکن وہباہر کہیس نہ ملی ۔ اسے سمجھ نہ آرہی تھی۔ کہ سب یہیں ہیں۔ تو وہ کہاں ہے۔
اللہ پوچھے ان سے۔۔۔! ہواٸ فاٸرنگ کرتے ہیں۔۔ نہیں۔۔ دیکھتے کسی کو گولی لگ جاۓ۔۔؟؟
بہن میں تو کہتی ہوں۔ یہ بند کیوں نہیں کرواتے۔۔؟؟ دوسری نے لقمہ دیا۔ منہا سانس روکے کھڑی سن رہی تھی۔۔ اس کی نظروں نے بے اختیار عشا کو ڈھونڈا۔
منہا۔۔؟؟؟ تبھی اسے اپنے عقب سے علیزہ کی آواز سناٸ دی وہ پلٹی تھی۔ علیزہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ کیا ہوا۔۔؟؟ منہا کا دل بری طرح لرز رہا تھا۔ عشا۔۔۔؟؟؟ علیزہ منہ پے ہاتھ رکھے اپنے آنسوٶں کا گلا گھونٹا۔
