Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 06)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

ارے۔۔ آپ یہاں۔۔؟؟ میں کب سے آپ کو اندر ڈھونڈ رہی تھی۔۔ اور آپ تو یہاں باہر ۔۔ ہیں۔۔! ہانی مونس کو ڈھونڈتی باہر آگٸ تھی۔

کیوں۔۔؟؟ کوٸ کام تھا۔۔؟؟ سگریٹ کا کش لیتے گہری نظروں سے اس کا دلکش سراپا دیکھا۔

نہیں۔۔ تو۔۔؟؟ یونہی آپ سے بات کرنی تھی۔۔ ہانی نے ادھر ادرھ دیکھتے مسکرا کے کہا۔ اسے باہر آتے ہی ٹھنڈ لگنے لگی تھی۔ اندر ہوٹل کا ماحول کافی گرم تھا۔ ہیٹر آن تھے۔ لیکن یہاں باہر اچھی خاصی ٹھنڈ تھی۔

کیا بات۔۔؟؟ سگرثیٹ پھینکتا اسے جوتے سے مسلتا ایک آٸ برو اچکاتے تیکھے انداز میں پوچھا۔ ایک پل کو ہانی کی مسکراہٹ سمٹی۔ شاید۔۔۔؟؟ مجھے چلنا چاہیے۔۔۔! ہانی نے واپس اندر کی جانب قدم بڑھاۓ کہ اسی لمحے مونس نے اسکی کلاٸ کھینچ کے اپنے قریب کیا۔ اچانک سے کھینچے جانے پے ہانی اس کے چوڑے سینے سے جا ٹکراٸ۔ اس کی غصیلی آنکھوں کا مطلب وہ سمجھ نہ سکی۔ لیکن دل کی دھڑکن زوروں سے بڑھی تھی۔

ہر لڑکے سے ایسے ہی فری ہو جاتی ہو۔۔؟؟ مجھے بھی ان عام لڑکوں کی طرح سمجھ لیا ہے کیا۔۔؟؟ جو تم جیسی لڑکیوں کے آگے بچھے جاتے ہیں۔۔ ؟؟ اور۔۔ تم فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔۔؟؟ مونس کے الفاظ نے ہانی کو بہت برے طریقے سے ہرٹ کیا تھا ۔کہ اس کی شربتی آنکھیں نم ہوٸ تھیں۔ کیا بکواس۔۔؟؟ بکواس۔۔؟؟ مونس نے اس کی بات کاٹی ۔ اور مزید خود سے قریب کیا۔ کہ وہ سہم گٸ۔ اس وقت وہ دونوں ہی وہاں اکیلے تھے۔ اور ہانی کو اس سے ڈر لگا تھا۔ اسے اپنا یہاں اکیلے آنا بالکل صحیح نہ لگا۔ تم۔۔ ایسی بے حیا ڈریسنگ کر کے۔ رات کو ایسے ۔۔ ہوٹل میں سر عام لڑکوں کے ساتھ کھڑی پارٹی انجواۓ کر رہی ہو۔۔ ؟؟ کیا تمہیں میں ایک شریف لڑکی سمجھ سکتا ہوں۔۔؟؟ اگر سمجھوں گا تو۔۔ یقیناً وہ بکواس ہوگی۔ مونس کے لہجے میں حقارت تھی۔

چھوڑیں۔۔۔ مجھے۔۔۔! ہانی اس سے کوٸ بھی بات کرنے کے موڈ میں نہ تھی۔ اس وقت وہ اکیلے میں وہ اس سرپھرے سے پنگا نہیں لے سکتی تھی۔ اس لیے خاموشی سے وہاں سے جانا ہی مناسب سمجھا۔

خود کو یوں پلیٹ میں سجا کے پیش کرو گی۔۔ اور پھر سوچو گی۔۔ کہ اگلا تمہیں چھوڑ دے گا۔۔؟ تو یہ تو بہت بڑی بکواس ہے۔۔ ! اس کے چہرے پے اپنی پرتپش سانسیں چھوڑتا وہ اسے پاتال میں دھکیل رہا تھا۔ اگر۔۔ آپ نے مزید کوٸ بدتمیزی کی۔۔ تو۔۔ میں ؟؟ ہانی باوجود ضبط کے اسے سختی سے وارن کر گٸ۔

اوہ۔۔ ہیلو۔۔۔! مونس نے اسے جھٹکے سے چھوڑا۔ کہ وہ گرتے گرتے بچی۔ پلٹ کے پتھراٸ نظروں سے اسے دیکھا۔

نکلو یہاں سے۔۔۔! میرا ٹیسٹ اتنا برا نہیں۔۔ کہ کسی بھی راہ چلتی کے جال میں پھنس جاٶں۔۔ ! تم جیسی چیپ لڑکیاں۔۔؟؟ مونس کی بات ابھی پوری نہیں ہوٸ تھی۔ کہ ہانی کا ہاتھ اٹھا۔ لیکن وہیں ہوا میں معلق رہ گیا۔ ہانی کی آنکھوں میں آنسو تو تھے ہی لیکن وہ انتہاٸ غصہ کے عالم میں مونس کو دیکھ رہی تھی۔ جب کہ مونس اس کی کلاٸ سختی سے تھامے دانت کچکچاتے اسے حقارت سے دیکھ رہا تھا۔ آج تو یہ بھول کر دی۔۔ اگر دوبارہ کبھی یہ بھول کی تو۔۔ ہاتھ توڑ دوں گا۔۔۔! جھٹکے سے اسکی کلاٸ چھوڑی۔ کہ وہ کراہ کے رہ گٸ۔ اپنی کہتا اسے سخت غصہ سے گھورتا وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ جب کہ ہانی گالوں پے آۓ آنسو پونچھتی مڑ کے دیکھتی ایک پل کو ہی ٹھہری تھی۔ ماحد وہاں آنکھوں میں شرمندگی لے کھڑا تھا۔ وہ پلٹی تھی۔ گرم سیال مادہ پھر بہا تھا۔ اور وہ اپنی گاڑی کی جانب تیزی سے بڑھی۔ وہ اب روتے ہوۓ واپس اندر جا کے اپنا تماشا نہیں بنوا سکتی تھی۔ آنسو بہتے چلے جا رہے تھے۔ جھٹکے سے گاڑی وہاں پارکنگ ایریا سے باہر نکالی۔ اور جس قدر غصہ سے اس نے گاڑی نکالی تھی۔ اور زن سے بھگا کے نکلی تھی۔ مونس نے بس ایک نظر ہی دیکھا۔ اس کا دل ایک پل کو رکا تھا۔ کیا کچھ زیادہ بول گیا۔۔؟؟ خود سے مخاطب ہوا۔۔ نو۔۔ شی ڈیزروڈ۔۔! منہ بنا کے کہتا وہ واپس اندر چلا گیا۔ جہاں رونقیں عروج پے تھیں۔ جب کہ ماحد نفی میں سر ہلاتا رہ گیا۔

✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅
✅

باٸیک ریسنگ کرنا اسے بچپن سے پسند تھا۔ اس کی ماں نے تو کبھی اس کا ساتھ نہ دیا۔ لیکن اس کے بابا نے ہمیشہ اسے ایپریشیٹ کیا تھا۔ یہی وجہ تھی۔ کہ وہ باپ کے سپورٹ کی وجہ سے یہاں موجود تھی۔ وہ یہاں اپنے بابا کے ساتھ آٸ تھی۔ اور انہی کے ساتھ ایک ریزوٹ میں ٹھہری تھی۔ اس ہوٹل کے اونر اس کے بابا کے دوست تھے۔ انہیں اپنے دوست سے کچھ کم تھا۔ اور وہ انہی کے ساتھ پارٹی اٹینڈ کرے آگٸ۔ جب کہ اس کا ارادہ بالکل بھی اس پارٹی میں آنے کا نہیں تھا۔ لیکن اس کی دوست سارہ نے اسے بتایا کہ جو لڑکا تم سے ریس ہارا۔ وہ بھی آۓ گا۔ اس پارٹی میں۔ تو بس۔ مونس سے دوبارہ ملنے کی غیر ارادی خواہش کی خاطر وہ اس پارٹی میں آگٸ تھی۔ وہیں اسے کوٸ اور جاننے والا لڑکا مل گیا جس نے اس کی ریس میں جیتنے پے خوشی سے اسے مبارک باد دی تھی۔ اسی پل مونس پے اس کی نظرں جا ٹھہریں۔ لیکن اگلے ہی پل وہ وہاں سے غاٸب ہو گیا۔ دل کے کہنے پے وہ پہلی بار کسی لڑکے کے پیچھے یوں اسے ڈھونڈتی باہر آٸ تھی۔ کہ اسے اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو سکا۔ کہ ایسی لڑکیوں کو لڑکے کس نظر سے دیکھتے ہوں گے۔۔۔ لیکن۔۔ پہلی بار ہی وہ یہ غلطی۔۔ غلط انسان کے ساتھ کر گٸ تھی۔ کتنی بے عزتی کر گیا تھا وہ اس کی۔۔۔! کتنی باتیں سنا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ اسے کریکٹرلیس بول کے گیا تھا۔ اس بات سے ہانی بہت بری طرح ہرٹ ہوٸ تھی۔ ابھی بھی آنسو بہتے چلے جا رہے تھے۔اور وہ اپنی گاڑی کی سپیڈ کو بڑھاتی جا رہی تھی۔ اس بات سے انجان کے وہ ایک کھاٸ کے پاس پہنچ گی ہے۔ تبھی اس کی گاڑی ان بیلنس ہوٸ اور لڑھکتی ہوٸ پتھریلے راستے سے نیچے لڑھکنےے لگی۔ اچانک سے اس افتاد پے ہانی گھبراٸ ۔ اس نے بریک لگانی چاہی۔ لیکن بریک نہیں لگ رہی تھی۔ اور گاڑی آگے ہی آگے لڑھکتی ہوٸ جا رہی تھی۔ اسی پل۔۔ ہانی نے کچھ سوچتے ہوۓ گاڑی کا دروازہ کھولتے بنا مزید کچھ بھی سوچے سمجھے سڑک کے ایک طرف چھلانگ لگا دی۔ وہ اندھیرے کی وجہ سے جان نہ سکی کہ کونسی جگہ ہے۔ لیکن وہ جھاڑیوں پے گری تھی۔ اور بہت مشکل سے خود کو نیچے گرنے سے بچایا تھا۔ جب کہ اس کی گاڑی کھاٸ سے نیچے گر کے بلاسٹ ہو چکی تھی۔ اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں اپنی گاڑی کو بلاسٹ ہوتا دیکھ سخت ڈری تھی۔ اور وہیں بے ہوش ہوتی ایک طرف گر گٸ تھی۔

⭐
✅
⭐
⭐
⭐
⭐
✅
✅

ابھی بھی وقت ہے روک لیں انہیں۔۔ مت جانے دیں۔۔ پلیز۔۔۔! انابیہ نے ایٸرپورٹ پے دونوں بچوں کو الوداع کرتے شہیر سے کہا۔ جب کہ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔

شہیر نے علیزہ اور معاویہ سے نظریں ہٹاٸیں۔ جو چیک آٶٹ کر چکے تھے۔

پلٹ کے انابیہ کو دیکھا۔ انہیں جانے دو۔۔ انا۔۔! اپنے رب کے حوالے کرو۔۔ ! اور بھروسہ رکھو۔۔ وہ ہمارے بچوں کی حفاظت کرے گا۔ شہیر نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھامے سہلایا تھا۔

انا نے سر جھکاٸے دھیرے سے اپنے آنسو پونچھے تھے۔ اور نامحسوس انداز سے شہیر کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا۔ اور واپس پلٹ گٸ تھی۔

شہیر اپنا ہاتھ ہی دیکھتا رہ گیا۔ کتنی دوری آگٸ ہے ہم میں۔۔ انا۔۔! کاش۔۔۔؟؟ یہ وقت رہتے دور ہوجاۓ۔۔ ورنہ۔۔ کہیں ہم۔۔ ہمیشہ کے لیے نہ دور ہوجاٸیں۔ شہیر نے کرب سے سوچا تھا۔

💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗
💗

شامی اور عابی منہا اور عشا کو حیدر آباد چھوڑ کے ان سے مل ملا کے سب تالی ک کے اب واپس لوٹ رہے تھے۔ شام ہو چکی تھی ان کی واپسی پے عابی اداس سی ہوگٸ۔ جاتے وقت گاڑی میں اچھا خاصا ہلا گلہ کیا ہوا تھا۔ دونوں چڑیا ہی چہک رہی تھیں۔ اب وپس پے بالکل ہی خاموشی چھا گٸ تھی۔

کیا ہوا۔۔؟؟ میرا پانڈہ۔۔ کیوں اداس ہو گیا۔۔؟؟ شامی کو عابی کی خاموشی کھلی تو مزید برداشت نہ کر سکا۔ اور اسے چھیڑ گیا۔ مزاج کے برخلاف عابی دھیما سا مسکراٸ ۔ تو شامی کے لب بھی مسکرا دیے۔ ہم سوچ رہے ہیں۔۔ کیا دن ہو گاوہ۔۔؟؟ جب ہماری بیٹیاں دلہن بنیں گیں۔۔ اور۔۔ ہمیشہ ہمشیہ کے لیے اپنے سسرال رخصت ہو جاٸیں گیں۔ زندگی کتنی بے رونق ہوجاۓ گی۔۔ناں۔۔؟ ان کے بنا۔۔؟؟ کیسے رہیں گے ہم۔۔؟؟ عابی کے لہجے میں اپنی بچیوں کے لیے بے پناہ محبت اور اداسی تھی۔ فکر کیوں کرتی ہو۔۔؟؟ ہم۔۔ اور پلاننگ کر لیں گے۔۔ بہت ہی محبت سے عابی کا ہاتھ تھامے وہ دھیرے اندز میں گویا ہوا۔ عابی کو لگا شاید وہ کوٸ بہت اچھی اور خوبصورت بات کرنے جا رہا ہے۔۔ لیکن اس کی بات انتی وہ منہ کھولے شاک سے اسے دیکھ رہی تھی۔ منہ بند کر لو۔۔ مکھی چلی جاۓ گی۔۔! شامی نے آنکھ ونک کرتے ماکرا کے اسے دیکھا۔ تو وہ اسے آنکھیں دکھاتی اب ونڈ اسکرین کے پار دیکھنے لگی تھی۔ کافی پیو گی۔۔؟ شامی کو کافی کی طلب ہوٸ۔ تو عابی سے بھی پوچھ لیا۔ مجھے۔۔ آپ چاۓ پلا دیں۔ عابی نے تھکے ہوۓ انداز میں کہا۔ تو شامی نے گاڑی ایک ہوٹل کے پاس روکی۔ اور آرڈر دینے لگا۔ اسی لمحے شانی کی نظر سامنے اٹھی۔ جہاں اس سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ وہ ایک لمحے کو روکا تھا۔ آفتاب۔۔؟؟ بھاٸ۔۔إإ زیرِلب دہرایا ۔ عابی۔۔ تم یہیں رکو میں ابھی آیا۔ عجلت سے کہتا وہ گاڑی سے اترا۔ اور اس جانب بڑھا جہاں آفتاب اپنی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔ وہ وہاں پہنچتا کوٸ بات کرتا۔ کہ وہ ایک پیاری سی لڑکی سی باتیں کرتا اپنی گاڑی میں بیٹھتا جا چکا تھا۔ شامی وہیں کھڑا رہ گیا۔ آفتاب بھاٸ۔۔؟؟ شامی وہیں دل مسوس کے اپنی گاڑی کی جانب واپس بڑھ آیا۔ کیا ہوا کون تھا۔۔؟؟ عابی کو اسے اداس دیکھ اچھا نہ لگا۔ آفتاب بھاٸ کا دیکھا۔۔؟؟ اتنے عرصے بعد۔۔؟؟ نجانے کیوں۔۔ ؟؟ سب تعلقات ختم کر دیٸے ہیں۔۔ انہوں نے آپس میں۔۔؟ نہ آج تک انا یا شہیر بھاٸ نے بتایا نہ آفتاب بھاٸ نے۔۔؟؟ سب ایک۔۔۔ راز ہی رہ گیا۔۔ آج اتفاق سے۔۔ آمنا سامنا ہو ہی گیا۔۔؟؟ سوچا پوچھ لوں۔۔ بات کر لوں۔۔ ؟؟ آپ۔۔؟؟ ان کے گھر چلے جاٸیے گا ناں۔۔؟؟ عابی نے اسے گاڑی اسٹارٹ کرتے مشورہ دیا۔ ایک نظر عابی کو دیکھا۔ چلا جاتا۔۔ اگر انا نے قسم نہ دی ہوتی۔ وہ دل ہی دلمیں جقاا دیتا لب سے خاموش ہی رہا۔ جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *