Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan Season 3 NovelR50507 Dill Ko Qaraar Aya (Episode 24)
Rate this Novel
Dill Ko Qaraar Aya (Episode 24)
Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan
اللہ معافی۔۔۔ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔؟؟ شرم۔نہیں آتی آپ کو۔۔؟؟ ملکہ انوں تک سرخ ہوٸ تھی۔ زیشان کی بات پے۔ اس میں شرم کی کیا بات ہے۔۔۔؟؟ تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔! اتنا حق تو بنتا ہے میرا۔ زیشان اس کے چہرے کے خدو حال میں کھویا سب کچھ بھول گیا تھا۔ آپ۔۔۔ فضول باتیں نہ کریں میرے ساتھ۔۔ نیچے اتاریں مجھے۔۔۔! ملکہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی سعی نہ کی۔ وہ گھبرا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے امڈتے جذبوں کو محسوس کرتی۔ بھلے اس کی ایج زیادہ نہ تھی۔ لیکن وہ مخالف کھڑے شخص کی جذابات محسوس کر سکتی تھی۔ اور اسے ڈر لگنے لگا تھا۔ کیونکہ آج تک کبھی اسے کسی نے یوں نہیں چھوا تھا۔ جس طرح زیشان اس کے ساتھ پیش آرہا تھا۔ اگر میری بات نہیں ماننی تو چلو ۔۔ پھر ایک ساتھ نیچے چلتے پیں۔۔۔ ! زیشان بھی اپنے نام کا پکا تھا۔ پھر سے لاک کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ نننہییں۔۔ پلیز۔۔۔! ملکہ نے اس کے گلے کے گرد بانہوں کا حصار سخت کیا۔ اس کے مزید قریب ہوتی وہ اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ مسز۔۔۔زیشان خانزادہ۔۔۔! آپ جتنا میرے قریب آرہی ہیں۔۔ میری ڈیمانڈز بڑھ سکتی ہیں۔۔۔! اس کے کانوں کی لو کو چھوتا وہ اسے سر تا پیر کانپنے پے مجبور کر گیا۔ ایک دم سے ملکہ نے اسے چھوڑا۔ اور اپنی بانہوں کا حصار توڑا۔ لیکن وہ زیشان کی مضبوط بانہوں میں تھی۔ یہ وہ بھول گٸ۔ مجھے نیچے اتاریں۔ ورنہ بابا سے آپ کی شکایت کر دوں گی۔۔۔ ؟؟ خفگی سے دیکھتے دھمکی دے ڈالی۔ زیشان اسکی معصوم دھمکی پے ایک لب سے مسکرایا تھا۔ ہاں۔۔ میں تو ڈر گیا۔۔۔ ویسے کیا کہو گی۔۔؟۔ مسٹر آفتاب شیر خان سے۔۔؟؟ اب وہ اسے چھیڑنے لگا۔۔ ملکہ اس کی بات پے سوچنے لگی۔۔ کہ تبھی دروازہ پے دستک ہوٸ ۔ بی بی جی۔؟؟ آپ کو نیچے ناشتے پے بلا رہے ہیں۔۔ ملازمہ کی آواز پے ملکہ کا رنگ سفید پڑا۔ آآآ۔۔۔۔ آ رہی ہوں۔۔ آپ جاٸیں۔۔ ! ملکہ نے آنکھیں بند کیے جواب دیا۔ لگتا ہے سبھی کو ہم سے ملنے کا بہت اشتیاق ہو رہا ہے۔۔ انہیں زیادہ انتظار نہیں کرواتے۔۔ چلو۔ آٶ۔۔ چلیں۔۔ ! زیشان نے سنجیدگی سے کہتے قدم دروازے کی جانب بڑھاۓ۔ نہیں۔۔ اتنا کہتے ہی ملکہ نےجھٹ سے زیشان کے گال پے لب رکھ دیۓ۔ اور فوراً سے پیچھے ہوٸ۔ زیشان اس کے اس انداز پے ایک پل کو ٹھٹھک ہی گیا۔ اسے یقین نہ آیا ملکہ اس طرح بھی کر سکتی ہے۔۔ پلیز۔۔ اب نیچے اتار دیں۔۔ میں نے آپ کی بات مان لی ہے۔۔۔! بلش ہوتے کہتی وہ سیدھا زیشان کے دل میں اتر رہی تھی۔ زیشان نے دھیرے سے اسے نیچے اتارتے اپنے مقابل کھڑا کیا۔ وہ زیشان کے کندھے تک ہی آرہی تھی۔ زیشان نے اس کی کمر کے گرد بازو حماٸل کرتے اسے اپنے شوز پے کھڑا کیا۔ تو وہ اس کے ہرے تک پہنچ گٸ۔ وہ لرز رہی تھی۔ اور اس کا کپکپانا زیشان سے چھپا نہ رہ سکا تھا۔ ایک گولی کی آواز سے بے ہوش ہوگٸ۔۔ پجر ایک چھوٹی سی کس لی۔۔ اس پے بے ہوش ہوگٸ۔۔ اتنی نازک کیوں ہو یار۔۔۔؟؟ تمہارا یہ نازک پن مجھے تمہارا۔۔ دیوانہ بنا دے گا۔۔؟؟ اور پھر۔۔ تم ہی روٶ گی۔۔ میرے جنون کے آگے۔۔۔! وہ اس کے بالوں میں ایک ہاتھ ڈالے اس کے ماتھے پے محبت کی مہر ثبت کرتے بے بسی اور جنونیت سے بولا تھا۔ کہ ملکہ کچھ پل اس کے چہرے کو دیکھتی ہی رہ گٸ۔ وہ انتہا کا خوبصورت انسان تھا۔ جسے اللہ نے اس کے لیے چنا تھا۔ کیا اس کا دل بھی خوبصورت ہے۔۔؟ أس نے خود سے سوال کیا۔ لیکن۔۔ یہ تو قاتل ہے۔۔ اس نے قتل کیا ہے۔۔ کیا ۔۔ایک قاتل سے ملکہ پیار کرے گی۔۔؟ کبھی نہیں۔۔ وہ خود کو باور کروا رہی تھی۔ جب کہ زیشان اب وہاں نہیں تھا۔ اپنے ماتھے پے اس کا دیا لمس محسوس کرتی وہ اپنی دھڑکنوں میں ارتعاش محسوس کر رہی تھی۔ یااللہ یہ مجھے کیا ہور ہا ہے۔۔؟؟ میں کیوں ۔۔ا س شخص کے لمس پے برا محسوس نہیں کر رہی۔۔؟ وہ غیر ہے۔۔ میں کیوں۔۔؟؟ تم میرے نکاح میں ہو۔۔۔
وہ جو خود کو باور کروا رہی تھی۔ کہ زیشان اس کے لیے غیر ہے۔۔ اسی کے کہے الفاظ یاد کرتی وہ اس کا دل پھر سے دھڑکا۔ کیا نکاح مں اتنی طاقت ہوتی ہے۔۔۔؟ کہ دلوں میں محبت گھر کر جاۓ۔۔؟ وہ خود سے سوال کرتی بے بس ہوٸ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بات ہے۔۔۔؟ طبعیت ٹھیک ہے ناں۔۔؟؟ فضا کو ہانی کی حالت ٹھیک نہ لگی۔ آج وہ یونی بھی نہیں گٸ تھی۔ اور لیٹ اٹھی تھی۔ چہرے سے صاف پتہ چل رہا تھا۔ کہ وہ سوٸ نہیں۔ اور آنکھیں بتا رہی تھیں۔ کہ بہت دیر تک وہ روتی رہی ہے۔ جی۔۔ ٹھیک ہوں۔۔ مما۔۔؟؟ صرف ایک گلاس جوس۔۔۔! فضا جو اس کے سامنے ناشتہ رکھ رہی تھی۔ اس کی بات پے ٹھٹھکی۔ اور جوس اس کے سامنے رکھا۔ جسے وہ ایک ایک سپ کر کے غاٸب دماغی سے پینے لگی۔ رات کو کافی دیر سے آٸ تھی کیا۔۔؟؟ جان بوجھ کے سوال ادھورا چھوڑا۔ جب کہ وہ اس کے گھر میں آنے کی ٹاٸمنگ جانتی تھی۔ لیکن۔۔ کس طرح آٸ یہ نہیں جانتی تھی۔ نہیں تو۔۔ وقت پے ہی آگٸ تھی۔۔ ہانی نے اب کی بار مما کی جانب مڑ کے تصحیح کی۔۔۔ ہمممم! فضا اب کی بار خاموش رہی۔
مما۔۔۔؟؟ ہانی نے دل پے جبر کر کے ماں کو پکارا۔ تو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
مما۔۔۔! مجھے آپ کے بتاۓرشتے سے کوٸ اعتراض نہیں۔۔ آپ جہاں کہیں گیں۔۔ میں شادی کرنے کو تیار ہوں۔ ہانی نے کس کرب سے یہ الفاظ کہے تھے یہ وہی جانتی تھی۔ اتنا کہہ کے وہ اٹھ کے جانے لگی۔ کہ فضا کے الفاظ نے اس کے قدم روک لیے۔
کیوں۔۔؟؟ انکار کر دیا اس لڑکے نے۔۔؟؟ وہ ماں کے الفاظ پے سر سے پیر تک کانپی تھی۔۔ آنسو پھر سے بہہ نکلے۔ فضا اٹھ کے اس کے پاس آٸ۔ اور اس کا ہاتھ تھاما۔۔ بیٹا۔۔ آج کل کے دور میں کوٸ بھی سچا پیار نہیں کرتا۔۔ سب ٹاٸم پاس کرتے ہیں۔۔ اور لڑکیاں اتنی معصوم ہوتی ہیں۔ کہ زرا سی دوستی اور ہنس کے بول لے کوٸ تو اسے محبت سمجھنے لگتی ہیں۔ جب کہ ماں باپ کا اپنی اولاد کے لیے کیا گیا فیصلہ ہمیشہ درست ثات ہوتا ہے۔۔ فضا کی بات پے ہانی کی پلکیں جھک گٸ تھیں۔ نیکسٹ ویک اینڈ پے لڑکے والے آٸیں گے۔ امید کرتی ہوں۔ آپ اپنا ماٸنڈ سیٹ کر لیں گیں۔ تب تک۔۔ اور یہ بات ہم دونوں ماں بیٹی کے بیچ میں ہی رہے گی۔ فضا نے اسے اعتماد بخشا تھا۔ہانی نے گہرا سانس خارج کرتے اثبات میں سر ہلایا۔ اور اپنے کمرے کا رخ کیا۔ کہیں ناں کہیں۔۔ فضا کو دکھ ہوا تھا۔ اس کی بیٹی کا دل ٹوٹا تھا۔ فضا کی آنکھیں بھی نم ہوٸ تھیں۔
۔۔۔۔۔۔
ہانی کمرے میں آتے ہی دروازہ الک کر کے وہیں بیٹھے پھر سے گھٹ گھٹ کے رو دی۔
خطا ہو گٸ مجھ سے۔۔ کہا کچھ نہیں تجھ سے۔
زلفوں کی گھٹا لہراٸ۔۔ پیغام وفا کے لاٸ۔۔
تو نے اچھی پریت نبھاٸ۔۔ کسی سے اب کیا کہنا۔۔
تجھے یاد نہ میری آٸ۔۔ کسی سے اب کیا کہنا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں راستہ روکا ہے میرا۔۔؟؟ ہٹیں راستے سے۔۔ منہا نے غصہ سے معاویہ کو دیکھتے کہا۔
کل ہم جا رہے ہیں۔۔ ! معاویہ کی بات پے ایک پل کو منہا کا دل زوروں سے دھڑکا۔ تو۔۔۔؟ خود کو کمپوز کیا۔ کچھ کہو گی نہیں۔۔؟ منہا کا لاپرواہ انداز معاویہکو تھوڑا دکھی کر گیا۔ اس کی بات پے منہا طنزیہ ہنسی ہنسی۔ آپ کو لگتا ہے۔۔؟ کچھ کہنے سننے کو بچا ہے۔۔؟؟ جب کہ ۔۔؟؟ اب ۔۔ سب ختم ہو چکا ہے۔۔ آپ جانے کے لیے آۓ تھے۔ آپ جا رہے ہیں۔۔ اس لیے۔۔ الله حافظ میرے خیال سے مجھے یہی کہنا چاہیے۔ کہتے ہوۓ منہا کی آنکھیں نم ہوٸیں۔ وہ چاہ کے بھی خو پے قابو نہیں رکھ پا رہی تھی۔ اپنے دل کے باغی پن سے بری طرح گھبرا رہی تھی۔
مطلب۔۔؟؟ صرف میں ہی اس محبت کی بارش میں اکیلا بھیگ رہا ہوں۔۔؟ ؟مجھے لگا اس محبت کی بارش کے کچھی چھینٹے تم پے بھی گرے ہوں گے۔۔؟؟ تمبھی بھیگی ہو گی۔ معاویہ نے دکھ سے کہا۔ ایسا کیوں سوچا آپ نے مسٹر معاویہ۔۔؟؟ وہاس کی طرف دیکھتے سنجیدگی سے بولی تھی۔ جب کہ معاویہ کے اظہار محبت پے وہ اندر ہی اندر سرشار ہوٸ تھی۔ کیوں۔۔؟ یہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ لیکن۔۔ ؟؟ وہ یہ بھی جانتی تھی۔۔ کہ ان کا جوڑ اللہ نے نہیں بنایا۔ وہ کسی اور کی امانت ہے۔ اور اسے ابھی ہی معاویہ کے بڑھتے قوں کو روکنا ہوگا۔ معاوہ نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا۔ جب کہ آپ کو میں پہلے دن ہی وارن کر چکی ہوں۔۔ کہ میں سراب کے پیچھے بھاگنے والوں میں سے نہیں۔۔ میں ایک حقیقت پسند لڑکی ہوں۔ اور بہتر ہو گا۔آپ بھی خیالی دنیا سے باہر آجاٸیں۔ اور حقیقت کو تسلیم کریں۔ منہا اتنا کہہ کے جانے لگی۔ کہ اس بار معاویہ نے سختی سے اس کی کلاٸ تھامی۔ وہ بری طرح لڑھڑاتی اس کے کندھے سے جا ٹکراٸ۔موعاویہ کی آنکھوں میں غصہ جنون اور نجانے کیا کچھ تھا۔وہ بری طرح گھبراٸ۔ کچھ زیادہ نہیں بول گٸ۔۔۔؟ ماتھے پے بل ڈالے پوچھتا وہ اس کا دل دھڑکا گیا۔ لب ایک دوسرے میں پیوست ہو چکے تھے۔ وہ اردگرد کا ہوش بھلاۓ بس اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔ وہ بھی تو اس سے پیار کرتی تھی۔۔ اب سے نہیں۔۔ نجانے کب سے۔۔؟؟ اور اب تو وہ عشق کی راہ کی مسافر بن چکی تھی۔ لیکن یہ بات اسے کیسے سمجھاتی ۔۔؟ کہ اس نے آنے میں بہت دیر کر دی ہے۔۔ اب۔۔ساۓ پچھتاوے کے کچھ نہیں بچا ۔
میرے ہاتھوں میں نہ تیری لکیریں۔۔
ہیں بہت الگ سی اپنی تقدیریں۔۔۔
