Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dill Ko Qaraar Aya (Episode 21)

Dill Ko Qaraar Aya by Muntaha Chohan

خان۔۔۔؟؟ کنول کے صرف لب ہلے تھے۔ جب کہ آواز نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ آفتاب نے رخ بدل لیا۔ آج بھری محفل میں۔۔ سب کے سامنے سر جھکے گا۔۔ اور وجہ۔۔؟؟ صرف تم ہو گی۔ اتنا کہتے وہ جا چکا تھا۔ جب کہ کنول کی آنکھ سے دو آنسو بہہ نکلے تھے۔ وہ ؒفتاب کی تکیلف سمجھتی تھی۔ لیکن کیا کرتی وہ اپنی معصوم بچی کو خون بہا میں کیے دے دیتی۔۔إإ اس کا دل اتنا بڑا نہیں تھا۔ کہ دل پے پتھر باندھ لیتی۔ اس لیے انے شوہر کی ناراضی مول لے لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا۔۔۔؟ أتنا وقت کیوں لگ رہا ہے۔؟ جاوید خان نے منہ بناتے گھڑی پے وقت دیکھتے پوچھا۔کہ تبھی آفتاب شیر خانمردان خانے میں داخل ہوا۔ سب کی نظریں اس پے اٹھیں۔

جیسا آپ سب نے چاہا ۔۔ ویسا ہی ہوا ہے۔۔ نکاح دوبارہ کروایا لیکن۔۔ رخصتی کے لیے مکھے تھوڑا وقت چاہیے۔۔ !آفتاب کمر پے ہاتھ باندھے ایک ایک لفظ پے زور دیتے بولا تھا۔ کیسا وقت۔۔؟؟ جب چودہ سال پہلے طے ہو چکا ہے ۔۔ تو پھر اب بھی وقت چاہیے۔۔؟؟ نہیں خا۔ن۔۔۔! رخصتی آج ہی ہو گی۔۔ ابھی ہو گی۔۔ اسی وقت ہو گی۔ جاوید خان بھڑک اٹھا تھا۔ جب کہ زیشان آفتاب کے چہرے کے زاویے نوٹ کر رہا تھا۔ کیونکہ ابھی تک جو شخص رخصتی کے لیے راضی تھا۔ اچانک سے کیسے وہ پیچھے ہٹ سکتا تھا۔۔؟؟ یقیناً کوٸ اور وجہ تھی۔

بیٹی میری ہے۔ تو یہ فیصلہ بھی میرا ہوگا کب رخصتی کرنی ہے۔۔ ! سمجھے تم۔۔۔! آفتاب خان کہاں کی کی سننے والا تھا۔ جو جاوید خان کی سن لیتا۔ جاویدخان نے پہلو بدلا۔ اور پنچاٸیت کے آدمی سے بات کرنے لگا۔ سبھی میں چہ مگوٸیاں شروع ہو گٸیں۔ لیکن آفتاب شیر خان کو پرواہ کب تھی۔۔؟؟ وہ اپنا ہرفیصلہ اپنی من منشا سے لینے والا تھا۔ زیشان ارسل اپنی جگہ سے اٹھ تھا۔ اور دھیرے دھیرے چلتا آفتاب شیر خان کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ دونوں کی نظروں کا تصادم ہوا۔

بھاگ گٸ ہے یا بھگادی ہے۔۔۔؟ زیشان ارسل کے الفاظ نے آفتاب کو زمین پے لاپٹخا۔ وہ کیسے جان گیا تھا۔۔؟؟ کیا ہوا جھٹکا لگا۔۔؟؟ زیشان کے چہرے میں تمسخر تھا۔ آفتاب شیر خان۔۔ اپنی بیٹی کے بھاگنے کی خبر محفل میں نہ دے سکا۔۔۔؟؟ ڈر گیا اپنی عزت کی نیلامی سے۔۔۔؟؟ اپنی زبان کو لگام دو۔۔زیشان ارسل۔۔۔ خانزادہ۔۔۔!آفتاب نے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا۔ ورنہ جسطرح یشان بات کر رہا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا۔کہ وہ اس کیزبان کھینچ لیتا ۔

کیوں۔۔؟؟ حقیقت بتاٸیں سب کو۔۔۔! آپ کی بیٹی۔۔؟؟ نے کیا کیا۔۔ زیشان کا لہجہ بھی تیز ہوا تھا۔کیا یہ سچ ہے۔۔؟خان؟؟ پنچاٸیت کے آدمی نے پوچھا۔ وہ ابھی اس سب کو نہیں سمجھتی۔۔ اور نہ میں نے اسے بتایا۔ اسلیے مجھے تھوڑی مہلت دی جاۓ۔۔ تا کہ میں سب ٹھیک کر سکوں۔۔۔! آفتاب نے اب کی بار دھیمہ لہجے میں کہا۔ ہونہہ پہلے کہا ہوتا یہ۔۔ تو میں یقین بھی کر لیتا۔۔۔ لیکن ۔۔ اب۔۔جبکہ رخصتی کی ہامی بھرلی۔۔ اپنی بات سے پیچھے ٹہ سکتے ہیں آپ؟؟ زیشان اب بھی نہیں مان رہا تھا۔ کتنی مہلت چاہیے آپ کو؟؟

ظہیر صاحب نے پوچھا۔ ایک ہفتے کی۔۔! آفتاب جیسے سب سوچ کے وہاں آیا تھا۔ ویسے اصولاً تو بارات ک خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چاہیے۔ لیکن۔۔اب جب کہ آپ نے کہا کہ بنا اطلاع کے یہ یہاں آۓ ہیں۔ تو اس صورت میں اتنی گنجاٸش نکلتی ہے۔ کہ آہ کو ایک ہفتے کی مہلت دی جاۓ۔ ظہیر صاحب کے کہنے پے جاوید خان نے غصہ سے مٹھیاں بھینچیں ۔ یہ سراسر۔۔ غلط۔۔؟؟

جاوید خان۔۔۔!ہمیں انہیں مہلت دینی ہو گی۔ ظہیر صاحب انہیں رلیفہ لے جا کے سمجھانے لگے۔ جب کہ زیشان کے فون پےاسے اب چھ میسج کے زریعے بتایا جا رہا تھا۔ اور ملکہ ٹریسنگ بھی ہو چکی تھی۔ وہ اس وقت کہاں تھی۔وہ سب جان گیا تھا۔کیونکہ وہ پہلے سے ہی ملکہ پے اور خان حویلی پے پوری پوری نظر رکھے ہوۓ تھا۔ اس لیے جیسے ہی ملکہ اپنی دادی کے ساتھ خان حویلی سے نکلی۔ اسی وقت زیشان ارسل کو پتہ چلگیا تھا۔لیکن وہ ضبط کیے بیٹھا رہا۔ پر اسکے آدمیوں نے ملکہ کی گاڑی کا پیچھا کیا۔ اور اب اسکی لوکیشن سینڈ کر دی ۔

زیشان کے چہرے پے ایک مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔ موباٸل اس نے ایک طرف رکھا۔ اور اٹھا۔ مجھے منظور ہے۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔ زیشان کی بات پے سبھی اس کی طرف متوجہ ہوۓ۔ میں ایک بار اپنی بیوی سے ملنا چاہتا ہوں۔۔ کمر پے ہاتھ باندھے اس نے آفتاب کے چہرے کی طرف استھزاٸیہ انداز میں دیکھتے کہا۔ کل مل لینا۔۔۔ ! آفتاب نے ناک سے مکھی سے اڑاٸ۔ کل کس نے دیکھا ہے۔۔۔ ؟ اس کے برجستہ جواب پے آفتاب نے اسے لب بھینچے دیکھا۔ کیا پتہ کل آپ ۔۔ مجھے مروا دیں۔۔؟؟ زیشان۔۔۔؟؟ ہوش میں تو ہو۔۔۔؟؟ بہن کے بیٹے ہو تم میرے ۔۔ اور۔۔ ایسا۔۔؟؟ سوچا بھی کیسے۔۔۔۔؟؟؟ آفتاب تڑپ ہی گیا اس کی بات پے۔ اسی بہن کا بیٹا ناں ؟؟ جن کے قتل کی سزش ک آپ بھی حصہ بن گۓ۔۔۔؟؟ زیشان ان کے پاس آتے نفرت اور دکھ سے بولا۔ بیٹا۔۔۔! تمہیں جتنا بتایا گیا۔ تمنے اس پے ہی یقین کرلیا۔۔۔ کبھی ساری سچاٸ جاننے کی کوشش کی۔۔۔؟؟ جو بہن ۔۔مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری تھی۔۔۔ میں اس کے قتل کی ساش کا حصہ بنوں گا۔۔۔؟؟ آفتاب کی بات پے زیشان ارسل کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا۔ وہیں جاوید خان بری طرح سٹپٹایا۔

بس ۔۔ بہت ہو گیا۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد ہم آ جاٸیں گے رخصتی کے لیے۔ اور اس دن کوٸ ڈرامہ نہیں ہونا چاہیے ۔۔سمجھے آپ۔۔۔! چلو۔۔ زیشان بیٹا۔۔۔ چلیں۔۔ ان کے لہجے میں مٹھاس تھی۔ آفتاب نے سر جھٹکا۔ جاٶ۔۔ بیٹا۔۔۔! لیکن ۔۔ اتنا ضرور کہوں گا ۔۔ بڑے ہو۔۔ سمجھدار ہو۔۔۔ دماغ بھی رکھتے ہو۔ خود سوچو۔۔ سمجھو۔۔ اور سچاٸ تلاش کرو۔۔۔ اور اگر ۔۔ پھر بھی لگے۔۔ میں اس سب میں شامل تھا۔ تو جان سے مار دینا۔۔ اف تک نہیں کہوں گا۔ آفتاب نے وہ باتیں آج زیشان ارسل سے کہہ دیں۔ جو اس سے پہلے کبھی نہ کہہ سکے۔ زیشان لب بھینچے وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا۔ جاوید خان نے غصہ کی نظر آفتاب پے ڈالی جو ابھی بھی پشت پے ہاتھ باندھے ایک آٸ برو چڑھاۓ جاوید خان کو دیکھ رہا تھا۔ تمنے اچھا نہیں کیا آفتاب شیر خان۔۔۔! جاوید خان کی دھمکی پے آفتاب کو سخت طیش آیا۔ جو کھیل تم نے کھیلا ہے ۔ جاوید خان۔۔ اس کا انجم بہت بھیانک ہونے والا ہے۔۔ یاد رکھنا۔۔ تم نے آج رخصتی نہ دے کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔۔ اس غلطی۔۔۔؟؟

جاوید خان۔۔! آفتاب اس کی دھمکی پے للکار اٹھا۔ اور اس کے قریب ہوا۔ میرے گھر پے اگر۔۔ زرا سی بھی غلط نظر ڈالنے کی جرات کی۔۔ تو یاد رکھنا۔۔ آفتاب شیر خان۔۔ سامنے کھڑا ہے۔۔ اور اس سے ٹکرانا تمہارے بس کی بات نہیں۔۔۔!بھول گۓ۔۔ وہ لمحہ۔ جب تم نے۔۔ گاڑی میں بم رکھوایا۔۔؟؟ اس کے باوجود۔۔۔ یہ شیر بچ کے نکل آیا۔۔؟؟ آفتاب نے اسے ماضی یاد کروایا۔ یقیقناً۔۔ اپنے نواسے کو اپنے اس کرتوت کے بارے میں نہیں بتایا ہوگا۔۔۔؟؟ آفتاب نے طنزاً پوچھا۔ اس ایک پل۔۔ جاوید خان کے چہرے پے مسسراہٹ ابھری۔ اور آفتاب کے کان کے قریب ہوا۔ اس میں تمہاری بہن۔۔ کا بھی ہاتھ تھا۔ اتنا کہتے وہ پیچھے ہوتا آفتاب شیر خان کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو دیکھتا وہاں سے قدم باہر بڑھا چکا تھا۔ سب براتی آہستہ آہستہ جا طکے تھے۔ صرف چند افراد ہی رہ گۓ تھے۔ آفتاب مرزا صاحب سے کہہ کے خود اندر آگیا ۔ اندرون حویلی میں اس وقت خاموشی تھی۔ ملازم بھی سب جا چکے تھے۔ شاید کنول نے سب کو واپس بھیج دیا تھا۔ آفتاب شیر خان نے مونس کا نمبر ملایا۔ جو بند آرہا تھا۔انہیں اس کی فکر ہوٸ۔ حد درجے جذباتی اور غصہ والا ثابت ہوا تھا۔ گارڈ کو کال کر کے مونس کا پتہ لگانے کا کہا۔ وہ جہاں بھی جاتا گارڈز ساتھ لے کے نہیں جاتا تھا۔ تھکےہارے قدموں سے وہ اوپر کی جانب بڑھا۔ اپنے روم کی بجاۓ اس نے اسٹڈی کا روم کی طرف قدم بڑھاۓ۔کہ کنول راستے میں آگٸ۔ اس کی آنکھوں کی سرخی اس کے رونے کا راز کھول رہی تھی۔ آفتاب نے ایک نظر اسے دیکھا اور ساٸیڈ سے ہو کے نکلنا چاہا۔۔ کہ کنول پھر سے سامنے آگٸ۔ آفتاب نے قدم روکے ۔ لیکن اب کی بار اسے نہیں دیکھا۔ اور یہی بات کنول کو چبھی تھی۔ خان۔۔۔۔؟؟؟ کنول نے اسے پکارا۔ تو آفتاب نے اہاتھ کے اشارے سے اسے چپ رہنے کا کہا۔ اور قدم آگے بڑھاۓ۔ وہ بہت سخت دکھی تھا۔ آج۔۔ اس پے ایک اور سچاٸ کھلی تھی۔ اسے مارنے میں اس کی بہن بھی شامل تھی۔ وہ ٹوٹ سا گیا تھا۔ اس کا جھکا سر دیکھ کنول اس کے سینے سے جا لگی اور سختی سے اسے بھیچ لیا۔ آفتاب نے آج اس کے گرد بانہوں کا حصار نہ بنایا۔ کنول رو دی۔ اور بری طرح روٸ۔ کہ آفتاب کو اس پے توجہ ینی پڑی۔ اس بم بلاسٹ میں وہ بھی تو تھی اس کے ساتھ۔۔۔ اور۔۔ اس نے بھی تو وہ مشکل وقت دیکھا تھا۔ آفتاب نے اسے سینے سے الگ کرتے اسے اپنے سامنے کیا۔ اس کے آنسو پونچھے۔ جب جانتی ہو۔۔ کہ تمہاری آنکھ کے آنسو مجھے درد دیتے ہیں۔۔ تو پھر ۔۔ کیوں بہاتی ہو انہیں۔۔؟؟ آفتاب نے اس کے آنسو انگلیوں کی پوروں پے اٹھاۓ۔ آپ۔۔۔ مجھ سسسسےےے۔۔۔؟؟ خفاا۔۔۔۔؟؟؟ وہ ہچکیوں سے بول رہی تھی۔

نہ تو کیا۔۔ راضی ہوں۔۔؟؟ جو تم نے۔۔ کیا۔۔؟؟ اس پے داد دینی چاہیے تمہیں۔۔؟؟ آفتاب نے نروٹھے پن سے کہا۔ بالکل۔۔۔! دینی چاہیے۔۔ میں نے اپنی بیٹی کو بچایا۔۔۔ اس رسم سے۔۔۔! آپ جانتے ہیں ناں۔۔ زیشان سے مجھے کوٸ مسٸلہ نہیں۔۔ لیکن۔۔ اگر یہ نارمل رخصتی ہوتی تو میں کبھی بھی اسے نہ روکتی۔۔ لیکن۔۔۔ ؟؟۔۔ یہ سسب۔۔سزاش۔۔ ہے۔۔ وہ میری بچی کو مار۔۔۔؟؟ کسی میں اتنی جرات نہی۔۔ کہ آفتاب شیر خان کی بیٹی کا بال بھی بیکا کر سکے۔۔ آفتاب لب بھینچے بولا تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *